جیو کی وضاحت میں بہت خامیاں ہیں یہ کہنا کہ یہ غیر ارادی تھا ادارے کی پالیسی کے خلاف تھا تو اتنی حساس ترین ڈاکیومینٹری جو نبی کریم ﷺ کی ذات بارے تھی اس پر اس قدر غفلت کیسے ہو گئی ؟
پھر لکھا ہم کاروائی کر رہے جیو اس رپورٹر اور ایڈیٹورل بورڈ کے نام سامنے لائے قانونی کاروائی کے لئے پیش کرے جیو اس سلسلہ میں خود منصف نہی ہو سکتا ہے
جن لوگوں کے مزہبی جذبات کی دل آزاری ہوئی ان کو حق حاصل وہ ان لوگوں ان کے عقائد کو جان سکیں ساتھ ہی عوام کو پتہ ہو کیسے لوگ حساس چیزیں چیک کرتے ان کو نشر کرنے کی اجازت دیتے ہیں معاملہ صرف اس ویڈیو کا نہی بلکے جیو میں اہم عہدوں پر کن مشکوک عقائد لوگوں کو بٹھا رکھا یہ جاننا لازم ہے
وزارت اطلاعات جیوکے تمام سرکاری اشتہارات بند کرنے کا اعلان کرے ورنہ لوگ یہی سمجھیں گے ان کو علامتی سزا دے کر بچا رہے ہیں
نبی کریم ﷺ اور مقدس ہستیوں کے AI سے جو خاکے اور واقعات کو دوبارہ عکس بند کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ہے کیا آپ کو اندازہ ہے اس سے کیا طوفان آئے گا ؟ کیسی کیسی گستاخیاں شروع ہوں گی ؟ ان ہستیوں کے خاکوں کی اشاعت پر تو مسلمانوں نے عالمی سطح پر احتجاج کر رکھے ہیں آپ اس کو normalise کیوں کرنا چاہتے ہیں ؟
🚨🚨 جیو کی چند دن کی نمائشی معطلی کافی نہیں ہے۔
جیو نے “سفر عشق” کے نام سے ایک ڈاکیومنٹری چلائی جس میں AI کی مدد سے نبی کریم ﷺ کا جسم اطہر، حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جسم اور تمام اہل بیت کے تصوراتی جسم بنائے۔ پاکستان میں جیو نے شروع سے ہی مذہب میں خرابی کی بنیاد رکھی ہے۔ مشرف دور میں انہوں نے حدود قوانین کے خلاف لمبی اشتہاری مہم چلائی، وہ قوانین پھر تبدیل ہو گئے۔ رمضان میں کھیل تماشے والی ٹرانسمیشن، عالم آن لائن کے نام پر عامر لیاقت جیسے کردار جیو کی ہی عطا ہیں۔ غرض مذہب کے حوالے سے باریک وارداتوں کی لمبی تاریخ ہے، چند دن کی معطلی سے کیا ہوگا؟ یہ یوٹیوب پر چلتے رہیں گے۔ انہیں پاکستان میں سب سے زیادہ سرکاری اشتہارات ملتے ہیں، وہ بند ہونے چاہییں ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ وزارت اطلاعات انہیں بچا رہی ہے۔
آپ موبائل فون میں ایک ہزار کا ریچارج کرتے تو کو کتنا بیلنس ملتا ہے؟؟ 655 روپے
جی ہاں 655 روپے ۔ کیونکہ 15 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس اور 5۔19فیصد۔ GST الگ دونوں ملاؤ تو 345 روپے بنتے ہیں اور تو اور پٹرول لیوی کی صورت میں سب سے بڑا کانچا بنک سے پیسے نکالو تو withholding tax
اور یہ ٹیکس سب سے غریب اور مڈل کلاس طبقہ ادا کرتا ہے ۔ کیا اس کے خلاف آواز نہیں اٹھانی چاہیے ؟؟
بالکل اسی کیلئے آواز اٹھانی پڑتی ہے اپنے حقوق کی حفاظت خود کرنا سیکھین ۔
ورنہ ان چمکتے دمکتے گھروں اور دفتروں میں بیٹھی اشرافیہ خود سے آپ کے یہ حقوق سرینڈر نہئں کرے گی ۔۔
جاگو پاکستانیو جاگو!
@realrazidada رضی سر ہم گجومتہ کے قریب گاؤں میں رہتے اور فری لانسنگ کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے گاؤں میں انٹرنیٹ تو دور فون کال بھی صحیح سے نہیں ہوتی۔ جاز کا انٹرنیٹ چلنا تو نا ممکن ہے۔ اور ہم ان کے CEO کو ستارہ امتیاز دے رہےہیں اتنی گھٹیا سروسز کے لئے۔ مہربانی کرکے اس
مسلئے کے لئے آواز اٹھائیں۔
@SupariKhan یہ پریکٹس بہت پہلے سے آرہا ہے۔ اس طرح نہیں ہونا چاہئے ۔ کم سے کم سہیل آفریدی کی اس فعل سے آگاہی لوگوں میں آجائیں گی۔ کہ سکیم کی منظوری کرنا اور اس کے لیے پیسے دینا الگ چیزیں ہے
ہت دفعہ لکھا کہ نون لیگ کی موجودہ حکومت مکمل عوام دشمن ہے ان سے جو مرضی کروا لیں یہ شوق اقتدار میں کر لیں گے اب نون کی وزیر شزا فاطمہ صاحبہ نے قومی اسمبلی سے قانون منظور کروا لیا کہ کسی کے گھر ذاتی جائداد سے فائبر تاریں گزار سکتے اگر کوئی کھمبا جرنیٹر لگانا تو تیس دن میں گھر خالی کرنا ہو گا اگر نا کیا تو پانچ کروڑ جرمانہ اس فون کمپنی کو دیں گے
یہ آپ سب کے گھروں کا سودا ہے اور قومی اسمبلی کے انگوٹھا چھاپوں نے بغیر پڑھے یہ بل پاس بھی کر دیا تھا
اب کیا اس کام پر نون کی حکومت کی تعریفیں کریں ؟
بالکل صحیح آسٹریلین پاسپورٹ کی برکت ہے کہ آج پوری CCD ملزوم خاندان کے دروازے پر ماتھا ٹیک رہی ہے، مجھے یاد ہے کہ زمان پارک پر چھاپہ پڑا اور کئ MPA اور سینیٹر اعجاز چوہدری گرفتار ہوئے، رات کو سب لوگ تھانہ ریس کورس کے فرش پر بیٹھے تھے کہ گبھرایا ہوا تھانیدار اندر آیا “آپ میں شاھد کون ہے”، جی میں ہوں شاھد نے جواب دیا ۔۔ تسیں برٹش نیشنل اؤ؟ جی میں برٹش نیشنل آں۔۔۔ پہلاں نہیں دسیا۔۔۔ اب اعجاز چوہدری سینیٹر اور MOA صاحبان فرش پر بیٹھے رہ گئے اور شاھد بھائ برٹش نیشنل ہونے پر نہ صرف چھوڑ دئیے بلکہ معافی بھی مانگی!! جو ملک اپنے شیہریوں کا اتنا احترام کرتا ہو اس کا مستقبل کیا ہو گا؟ ہمارے سرکاری دفاتر میں باقاعدہ کوڈ کے تحت اپنے شہریوں کی بے عزتی کو فخر سمجھا ھمجاتا ہے، اللہ ہی ان لوگوں کو عقل دے کہ مضبوط ملک اس ملک کے شہریوں کو عزت دے کر بنتا ہے بے عزت کر کے کوئ ریاست قائم نہیں رہُ سکتی!!
کیا زمانہ آگیا ہے
9 لاکھ سے زائد آبادی کا نمائندہ بھی محصور ہے
ایوان میں تقریر کرکے عوامی مسائل اجاگر کررہا ہے لیکن اسے اپنی آواز پہنچانے کیلئے اپنی ہی ریکارڈنگ کرنی پڑرہی ہے
قومی اسمبلی کا یوٹیوب چینل اب سرکاری یوٹیوب چینل بن گیا ہے
بجٹ پیپلز پارٹی کی سیاسی بلیک میلنگ کی کامیابی کی دستاویز ہے، جہاں BISP جیسے غیر ضروری اور غیر شفاف ہروگرام کو آٹھ سو ارب روپیہ مل گیا وہیں پنجاب کا 650 ارب روپیہ حصہ کم کر دیا گیا اس کا مطلب پنجاب کے ترقیاتی پروگرام جو پہلے ہی لاہور سے باہر نہیں نکلتے اب عملی طور پر بالکل ہی ختم ہو گیا ہے، 3500 ارب روپے کی کمی ترقیاتی منصوبوں کو ختم کر کے پوری کی جا رہی ہے، دفاع کے اخراجات میں اضافہ بھی معاشی حالات سے مطابقت نہیں رکھتا، عدلیہ پر غیر ضروری اخراجات تعلیمی بجٹ پر کٹ لگا کر کرنا کیسے عقلمندی ہے ؟ پنجاب اور خیبر ہختونخواہ میں صحت اور تعلیم کے بجٹ پہلے ہی کم ہوئے ہیں ان میں مزید کمی مستقبل کیلئے تباہ کن ہے، سائنس اور تعلیم کی وزارتوں نے پانچ سال سے نہ کوئ منصوبہ دیا نہ کوئ لائحۂ عمل جو مستقبل کیلئے تباہ کن ہے! پاکستان کو بڑی ایڈمنسٹریٹو اصلاحات چاہئیں جو کہیں نظر نہیں آ رہیں ۔
ہم سب اتنے بے شرم ہیں کہ ایک سال میں پاکستان کے غریب ترین عوام سے بھی بدمعاشی کے ذریعے ٹیکس وصول کر کے ایک برس میں 8.7 ارب ڈالر کی سبسڈی اشرافیہ اور مافیا کو دینے کے عمل پر کہہ رہے ہیں کہ وفاقی حکومت نے بہترین بجٹ پیش کیا۔
ہم سب سے بڑا بے شرم بھی شاید ہی کبھی پیدا ہوا ہو۔۔
18 سال سے سندھ کے مطلق العنان حکمران اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم یافتہ بلاول بھٹو کو خبر ہو کہ اکنامک سروے 2026 کے مطابق سندھ کے 68 فیصد سرکاری سکولوں میں بجلی کی سہولت نہیں ہے، 49 فیصد سکولوں کی چار دیواری ہی موجود نہیں اور 37 فیصد سکولوں میں پینے کا پانی نہیں ہے۔۔۔
بالکل وقت آگیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو فتح کر کے پورے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنایا جائے۔ اگر کوئی صرف آزاد کشمیر کا سٹیٹس بدل کر متنازعہ حیثیت ختم کرنے کا مشورہ دے رہا ہے تو وہ پاکستان کے 78 سالہ موقف کی نفی کر کے مقبوضہ کشمیر ہمیشہ کیلئے بھارت کو سرنڈر کرنے کا کہہ رہا ہے۔ وہ مودی کے پانچ اگست 2019کے موقف کی حمایت کر رہا ہے کہ کشمیر اب حل شدہ مسئلہ ہے۔ ایک طرف ہم کہہ رہے ہیں مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے کیلئے بارہ مہاجر نشستیں ختم نہیں کریں گے اور دوسری جانب یہ رائے کہ مقبوضہ کشمیر کو چھوڑ ہی دو اور اقوام متحدہ والی قراردادوں سے بھی پیچھے ہٹ جاؤ صرف آزاکشمیر کا سٹیٹس بدل لو ؟ اتنے بھی برے حالات نہیں آئے کہ پاکستان کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے دستبردار ہو جائے ۔ آزاکشمیر پرامن ترین خطہ رہا ہے اس وقت بھی جب دوہزار چھ سات سے پندرہ سولہ تک پورا پاکستان بدترین دہشتگردی کا شکار رہا، آزادکشمیر میں سکیورٹی فورسز پر ایک بھی حملہ نہیں ہوا، دو چار دن کا احتجاج ہونے سے تھوڑی افراتفری مچ گئی ہے تو کیا اس کو جواز بنا کر مودی والا کام کر گزریں؟ بھول جائیں لاکھوں قربانیوں کو؟ سید علی گیلانی کے آخری الفاظ ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے بھول جائیں؟ سبز پرچم میں سینہ ٹھوک کر بچوں کو دفن کرتے والدین سے آنکھ چرا لیں کیونکہ اسلام آباد میں بیٹھے کچھ صحافیوں کے دل میں اس خواہش نے انگڑائی لے لی ہے؟ اور کیا کاغذوں پر لکھی عبارتیں بدلنے سے مسائل حل ہوجاتے ہیں؟ کیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے بعد امن قائم کر لیا ہے؟ پہلگام سے سنبھلے نہیں کہ راجوری میں بیس دن سے ہزیمت اٹھا رہے ہیں (گوگل سرچ کر لیں کیا چل رہا ہے)
مسئلہ کشمیر استصواب رائے سے کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جائے گا، یہی آج دن تک ریاست پاکستان کا سرکاری، سفارتی اور حقیقی موقف ہے ، اس موقف سے انحراف پاکستان کے اصولی موقف سے انحراف ہے
تجویز تو اچھی ہے لیکن عوامی ایکشن کمیٹی الیکشن نہیں لڑتی مہاجرین کی نشستوں پر اعتراض کی اہم وجہ یہ ہے کہ مہاجرین کا کوئی مستند ڈیٹا میسر نہیں مہاجرین کی ووٹر لسٹیں غیر مصدقہ ہیں ان نشستوں پر الیکشن صوبائی حکومتیں کراتی ہیں جن پر آزادکشمیر الیکشن کمیشن کا کنٹرول برائے نام ہوتا ہے اور ٹرن آؤٹ بھی بہت کم ہوتا ہے آخر میں ان نشستوں کو پولیٹکل انجینیئرنگ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے
وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر فخر سے بتا رہے کہ سرکاری سکول ناکارہ اور پرفارمنس نہی دے رہے ہیں اس لیے ٹھیکے پر دے دیے ہیں
آپ کو پتہ پنجاب میں سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی محکمہ تعلیم کی Hierarchical Structure کیا ہے ؟
پنجاب میں محکمہ تعلیم صوبے ،ضلع تحصیل سے ہوتا ہوا سکول تک جاتا ہے
سب سے اوپر وزیر ہے پھر سیکٹری سکول ایجوکیشن ہے اس کے نیچے سپیشل سیکٹری ہے پھر ہر ونگز کے ایڈیشنل سیکٹری ہیں پھر ڈائریکٹر ہیں نگرانی کے مختلف یونٹ ہیں ضلع کی سطح پر ڈسٹرک ایجوکیشن اتھارٹی ہے جس کا سربراہ ڈی سی ہوتا ہے ڈسٹرک ایجوکیشن آفیسرز ہیں DDEO ہیں اس کے بعد اسسٹنٹ ایجوکیشن آفیس اس کے بعد ہیڈ ماسٹر اور پھر وائس ہیڈ ماسٹر ہے ان سب کا سٹاف ہے ان سب کی تنخواہوں مراعات پینشن پر چھ سو ارب روپیہ لگتا ہے ان سب کا ایک کام ہے سرکاری سکولوں میں تعلیم کا نظام بہتر کرنا اگر سکول پرفارم نہی کر رہے تو یہ سب کس بات کی تنخواہیں مراعات لے رہے ان سب کو گھر بھیج دیں ٹھیکدار نے ہی کام سنبھالنا ہے تو ان سب کی ضرورت ؟
یہ ایک نواز شریف سکول آف امیننس کا اشتہار ہے جسے وزیر تعلیم نے بہترین ماڈل بتایا ہے ٹیچر کی تنخواہ 30ہزار سے شروع ہو رہی ہے جبکہ حکومت کی مزدور کی کم سے کم اجرت بھی 37 ہزار ہے اس سے آپ حالات کا اندازہ لگا لیں
کوئی وزیر صاحب کو بتائے کہ خوشامدی اور پیسے دے کر کروائی پوسٹ سے تعلیم کی حالت بہتر نہی ہو گی
وفاقی حکومت نے 1000 ارب کی ترقیاتی سکیموں میں خیبرپختونخوا کے لیے صرف 2.2 ارب مختص کیے وفاق کی 786 سکیموں میں سے صرف 6 سکیمیں خیبرپختونخوا کے لیے ہیں میں نے اس پر وفاقی وزیراحسن اقبال کو کہا کہ جب یہ 6 سکیمیں ختم ہوجائیں گی تو وفاقتی PSDP میں خیبرپختونخوا کی کوئی جگہ بھی نہیں ہوگی تو یہ آپ عوام کو کیا میسج دینے جارہے ہیں؟
دوسری جانب NHA کے ٹوٹل 264 ارب روپے میں سے خیبرپختونخوا کے لیے صرف 8.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
مشیرخزانہ مزمل اسلم
پیپلز پارٹی نے وفاق کے 4 بجٹ میں ووٹ دیا ہے، 5 ویں میں اب دیں گے۔ بجٹ چن صاحب کی پارٹی کی منظوری سے لاگو ہوتے ہیں، لیکن ذمہ دار صرف نواز لیگ ہے؟ ایسے کیسے بھلا ؟ حکومت آپ کے ووٹوں سے بنی ہے، قائم ہے، صدر، چیئرمین سینیٹ، گورنر، ڈپٹی اسپیکر، 2 وزیراعلٰی ہیں۔ لیکن یہ معصوم ہیں