🚨 اسلام آباد ایئرپورٹ
اسلام آباد پولیس کی جانب سے مسافروں کے ساتھ طاقت اور تشدد کا یہ رویہ انسانی وقار کی کھلی توہین ہے۔
وہ ادارے جو عوام کے تحفظ کے لیے بنائے گئے تھے، آج خود عوام کے لیے ایک ناسور بن چکے ہیں۔
”میں ”لا الہ الا اللہ“ کا ماننے والا ہوں، یہ کلمہ انسان کو ہر قسم کے خوف اور غلامی سے آزادی دیتا ہے! میری زندگی اللّہ کے ہاتھ میں ہے، عاصم منیر کے ہاتھ میں نہیں۔“- @ImranKhanPTI#FreeImranKhan
پروفیسر صاحب۔ انسان ہی رہیں۔ فرعون نہ بنیں۔
اور اگر فرعون بننے کا اتنا شوق ہے تو اس بدبخت کا انجام بھی ذہن میں رکھیے۔
آپ کے ساتھ اپنے گھر میں TV پر LIVE پروگرام کے دوران ہاتھا پائی ہوئی تھی تو آپ کے اوسان خطا ہو گئے تھے۔
آج آپ عمران خان پر ریاستی جبر پر جشن منا رہے ہیں؟ افسوس۔
میرے ساتھ جو ظلم ہوئے ہیں وہ میں نے کبھی بتائے نہیں ہیں،
میری ایک حافظِ قرآن بہن ہے، آج تک اس کے پاس بٹنو�� والا موبائل فون بھی نہیں ہے،
اس رجیم نے کیا کیا کہ نادرا سے میری اس بہن کی تصویر نکالی، اور لسبیلا ہیلی کاپٹر سانحے کی انوسٹیگیشن میں اسے ڈالا ہوا ہے، صابر شاکر
عمران خان اور بشریٰ بی بی، دونوں کی آنکھوں کی بینائی جانا یہ غفلت سے زیادہ سازش لگتی ہے۔ جو کچھ بشریٰ بی بی کے ساتھ ہوا ہے، اس میں اڈیالہ جیل کی انتظامیہ، وفاقی حکومت اور، میں تو کہوں گا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز ذمہ دار ہیں! مطیع اللہ جان
#pakistan@Matiullahjan919
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
ایک طرف وزیرستان سے لوگوں کو نکالا اور وہاں سے تمام معدنیات نکال کے بڑے بڑے ٹرکوں میں بھرے گئے ہیں
اور دوسری طرف تیرا ہ کے پورے کے پورے جنگلات کاٹے گئے ہیں
ثبوت اپ کے سامنے ہے
"ہم انصاف مانگنے سپریم کورٹ کے باہر آئے ہیں اگر یہاں سے انصاف نہیں ملتا تو پھر ہم مجبور ہونگے کہ ایسا احتجاج ہو جس کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہ ملے ۔ ہم کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں، سینیٹ سے استعفے بھی دئیے جا سکتے ہیں"۔ نورالحق قادری
سردار لطیف کھوسہ نے کفن پھاڑ دیا 💥
ہر ایک ضلے پر سیکٹر کمانڈر مسلط ہے,
وہ سیکٹر کمانڈر صرف ایک پارٹی کے پیچھے لگائیں گئے ہیں, ان سیکٹر کمانڈرز کا کام ہے فارم 47 کے زریعے جعلی لوگو کو عوام۔پر مسلط کرنا!!
ٹٹو اینکر کہہ رہا ہے، فوج پر الزام لگا رہے ہو, سردار لطیف کھوسہ نے دوبارہ کہہ دیا بلکل میں ٹھیک کہہ رہا ہوں!!
میری خبر دینے کے بعد کہ عمران خان نے مشال یوسف زئی کو فارغ کرنے کا کہا تھا اس کے بعد میری پیاری بہن ذاتیات پر اتر آئیں اور مجھ پر الزامات لگانے لگیں اور کہا کہ تم پارٹی لیڈرشپ کے کہنے پر ٹویٹس کرتے ہو
"قسم کھاؤ"
میں نے قسم کھائی اور کلمہ پڑھ کر قسم کھائی کہ میں کسی پارٹی قیادت کے ایما پر نہیں ہوں
پھر میں نے کہا کہ آپ بھی قسم کھائیں کہ آپ صحافیوں کے ساتھ مل کر آڈیو لیکس نہیں کرواتیں تو محترمہ پھر ادھر اودھر کی باتیں کرنے لگیں اور صاف جواب دینے سے گریز کرتی رہیں
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
غیر آئینی حراست میں عمران خان کی صحت سے جڑے خطرات بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ اس وقت ہر عام پاکستانی، ورکر، سیاست دان اور لیڈر کی توجہ و کوششوں کا مرکز صرف عمران خان ہے۔ کسی بھی قسم کی غفلت مجرمانہ فعل کے مترادف ہے۔
#ImranKhanHealthMatters
سب سے پہلے مجھے ایوب کے خان کے دور میں اٹھایا گیا تھا کہ میں مارشل لاء کے خلاف بات کرتا تھا۔ میری شکایت میرے ایک ہم جماعت نے کی کہ یہ سرخا ہے۔ جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو میں نے فوج کے احتساب پر زور دیتے ہوئے ایک اخبار کے ایڈیٹر کو قارئین کے صفحے پر چھاپنے کے لیے خط لکھ دیا۔ جواباً ایڈیٹر یا اس کے سٹاف نے مجھے خط لکھا کہ اگر دوبارہ ایسا کچھ لکھا تو تمہارا نام پتہ ایجنسیوں کو بھجوا دیں گے۔
دوسری مرتبہ مجھے میری یونیورسٹی سے اٹھا کر سیدھا ایک فوجی میس میں لے گئے تھے۔ الزام تھا کہ میں نے بھٹو کی موت سے سبق نہیں سیکھا اور طالبعلوں کے سامنے اس پر اپنی بھڑاس نکالی تھی۔ مجھے زیادہ تکلیف اس بات پر ہوئی تھی کہ میری شکایت بھی میرے ایک طالبعلم ایک مولوی کے لونڈے نے کی تھی۔
میں تب میس میں پڑا سارا دن ساری رات کڑھتا رہتا تھا کہ چلو یہ طاقتور ہی سہی ، چلو یہ ظالم ہی سہی ، چلو عوام کمزور ہی سہی ، لیکن کسی طرح عوام یہ تو مان لیں کہ انہیں لوٹا جارہا ہے۔ عوام کو یہ تو پتہ چل جائے کہ محافظ نہیں غاصب ہیں۔ زیادہ نا سہی یہ چوری چھپے دل ہی دل میں ان سے نفرت تو کریں۔
آج میں جب سوشل میڈیا پر دیکھتا ہوں ، فوجی اکاونٹس کے بند رپلائیز دیکھتا ہوں ، فیس بک اور ایکس پر فوجی پراپگنڈہ ریشو ہوا دیکھتا ہوں ، جب نجی محفلوں میں عوام کی فوج سے متعلق بیہودہ اور فحش خواہشات پر مبنی گفتگو سنتا ہوں تو مجھے وہ رات یاد آجاتی ہے جب میں نے باوضو ہوکر دو نفل پڑھ کر روتے ہوئے اللہ سے دعا کی تھی کہ یا اللہ میری زندگی میں ایک دفعہ ان ظالموں کو انہی لوگوں کے ہاتھوں ذلت و رسوائی سمیٹتا تو دکھا دے۔ آج ایسا لگتا ہے ساری دعائیں قبول ہوگئی ہیں۔
عمران خان ک�� بطور وزیراعظم یہ ظرف تھا کہ نواز شریف کو ایک دن جیل میں بیمار نہیں ہونے دیا،
اور فوری طور پر علاج معالجے کا بندوبست کیا۔
جبکہ آج کی بےحس، سفاک چمگادڑوں کی سفاکی اور بربریت کا عالم یہ ہے کہ عمران خان سے سیاسی مقابلہ ہار کر اب عمران خان کو جیل میں اذیت دے رہے ہیں۔
اللّه عمران خان کے دشمنوں کو غرق کرے۔ آمین۔
میں نے عمران خان کو ہمیشہ خود سے بڑھ کر غریب سے محبت کرتے دیکھا۔ انشاللہ میرا اللہ غریبوں کو انکے ساتھی دوست سجن سے محروم نہیں کرے گا۔ میرا اللہ عمران خان کی حفاظت کرے گا۔ انشاللہ
میرا ایک دوست ہے وہ ہمیشہ سے کہتا ہے کہ جب فوج یا انکے اثاثے کہیں پھنستے ہیں تو ایک سیٹ پیٹرن ہے جو دوہرایا جاتا ہے۔
ٹھنڈی ہوائیں شروع ہوجاتی ہیں
مزمل اسلم ، مشال یا فواد چوہدری سے کوئی فضول بحث شرو�� کروا دی جاتی ہے
کسی صحافی پر مقدمہ درج کروا کے باقیوں کو مذمت پر لگادیا جاتا ہے
کسی ٹک ٹاکر کا ٹوٹا لیک ہوجاتا ہے
دو چیزیں ہوچکی ہیں تیسری کا انتظار ہے چوتھی سے اللہ ��چائے۔ عمران خان کی صحت کو لیکر فوج دباؤ میں ہے۔ ادھر ادھر الجھنے سے گریز کریں۔
عمران خان کی قید کے پیچھے بندہ ایک ہی ھے جو عاصم منیر پر مسلسل دباؤ ڈال رہا ھے کہ عمران خان کو ہر حال میں ختم کرو۔۔۔ اور اس بندے کا نام ھے “نواز شریف” جو اپنی بیٹی کے ہاتھوں بلیک میل ھورہا ھے
🚨اہم ترین یقین دہانی اور اعلان
عمران خان کی فیملی کی کل عمران خان سے ملاقات کروا دیں " ہم پی ٹی آئی لیڈرشپ اور فیملی گارنٹی دیتے ہیں کہ وہ باہر کوئی سیاسی بات نہیں کریں گے "
اگر ملاقات نا کروائی گئی یہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہے تو پھر جمعرات کو رات 10 بجے پاکستان کا ہر چوک D chowk بنا دیا جائے گا، وزیر اعلی سہیل آفریدی