Three women. Three worlds. Three stories that stand entirely on their own.
Different lives. Different battles. One undeniable spirit.
Presenting the official poster of SHEROES - three powerful stories of women who refuse to be defined by the world around them.
Project by Sindh Information Department.
Presented by Tamasha Films.
Directed by Saqib Khan & Badar Mehmood.
Written by Mohsin Ali, Hashim Nadeem & Amna Mufti.
Produced by Imran Hussain.
Starring Ushna Shah, Kinza Hashmi & Zara Noor Abbas.
#Sheroes #UshnaShah #KinzaHashmi #ZaraNoorAbbas #SindhFilms #SindhGovt #Sindhinfo #GeoFilms
Get ready to meet the SHEROES.
You have seen the poster. Now, it’s time to step into their stories.
The official teaser of SHEROES arrives on August 30, 2026.
Three women. Three worlds. Three stories waiting to be told.
Project by Sindh Information Department.
Presented by Tamasha Films.
Directed by Saqib Khan & Badar Mehmood.
Written by Mohsin Ali, Hashim Nadeem & Amna Mufti.
Produced by Imran Hussain.
Starring Ushna Shah, Kinza Hashmi & Zara Noor Abbas in lead roles.
#Sheroes #UshnaShah #KinzaHashmi #ZaraNoorAbbas #SindhFilms #GeoFilms #SindhGovt #Sindhinfo
#OrientDistributionClub
مجھ سمیت کسی بھی صوبائی وزیر کی چیئرمین صاحب سے ملاقات ہوتی ہے تو ان کا یہی سوال ہوتا ہے کہ لوگوں کی مشکلات کس طرح کم کی جا رہی ہیں؟ پاکستان پیپلز پارٹی چیئرمین صاحب اور زرداری صاحب کے وژن کے تحت اس شہر کی تعمیر کر رہی ہے۔
@murtazawahab1
صوبہ سندھ میں کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہیں، بے شمار جاری ہیں اور بہت سے ابھی شروع ہوں گے۔ چیئرمین صاحب کے وژن کی روشنی میں وزیراعلیٰ سندھ سے لیکر کابینہ کے اراکین اور پارٹی عہدیداروں تک اس ترقی کے سفر کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
@SyedNasirHShah
اس خطے کا سب سے بڑا آٹیزم سینٹر کورنگی میں بن رہا ہے جس میں دی جانے والی سہولیات دنیا کے دیگر ممالک سے زیادہ ہیں۔ کورنگی اور لانڈھی کے صنعتی ایریا کیلئے وزیراعلیٰ کی جانب سے 4 ارب روپے دیئے گئے ہیں تاکہ یہاں مقامی سطح پر ملازمتیں دی جا سکیں اور لوگوں کو بھلا ہو۔
@SyedNasirHShah
شہر بھر میں ترقیاتی کام تیزی سے جاری ہیں۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق حکومتِ سندھ اور بلدیاتی ادارے باہمی تعاون سے عوام کو بہتر سفری و شہری سہولیات فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔
کورنگی نمبر 5 فلائی اوور بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کی تکمیل سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی، شہریوں کا قیمتی وقت بچے گا اور علاقے میں آمدورفت مزید آسان ہو جائے گی۔
@BBhuttoZardari@SyedNasirHShah@murtazawahab1
حکومتِ سندھ کے انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ (EDF) کے تحت میرپورخاص میں نوجوانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے ذریعے ٹیکسٹائل یونٹس کے قیام اور روزگار کے مواقع پیدا کیے گئے ہیں، جہاں تیار ہونے والے ملبوسات یورپ، امریکہ اور دیگر ممالک کو برآمد کیے جا رہے ہیں۔
میرپورخاص میں اب تک مجموعی طور پر 45 چھوٹے بڑے ٹیکسٹائل یونٹس قائم ہو چکے ہیں، جہاں سینکڑوں ہنرمند کاریگر روزگار سے وابستہ ہیں۔ میرپورخاص سینٹرل جیل میں بھی گارمنٹس سیکشن قائم کیا گیا ہے، جس سے قیدی کاریگروں کو ہنر کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے اور اپنے خاندانوں کی کفالت کا موقع ملا ہے۔ اس کے علاوہ میرپورخاص میں خواتین کاریگروں کے لیے بھی ایک الگ ٹیکسٹائل یونٹ قائم کیا گیا ہے، جہاں انہیں مستقل اور باعزت روزگار فراہم کیا جا رہا ہے۔
حکومتِ سندھ اس کامیاب ماڈل کا دائرۂ کار مزید وسیع کرتے ہوئے صوبے کے دیگر شہروں میں بھی ایسے روزگار اور ہنرمندی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔ یہ کامیاب اقدامات نہ صرف صوبہ سندھ کی معاشی ترقی، روزگار کے نئے مواقع کے فروغ اور ہنرمند نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں بلکہ ملکی معیشت کی مضبوطی میں بھی مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے وفاقی وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے ملاقات کی، جس میں ڈیجیٹل نیشن پاکستان فریم ورک، نیشنل ڈیجیٹل کمیشن اور نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفاقی وزیر آئی ٹی نے وزیراعلیٰ سندھ کو ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ 2025 اور پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کے کردار پر بریفنگ دی۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان، ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر اور ڈیٹا گورننس پر کام کرے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت نے 50 سے زائد ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور ای سروسز متعارف کرائی ہیں، سندھ زمین، ای پے سندھ، ای آفس، سندھ جاب پورٹل اور سیف سٹی منصوبے اہم ڈیجیٹل اقدامات ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان کے وژن اور قومی ڈیجیٹل ایجنڈے کی مکمل حمایت
کرتے ہیں، سندھ قومی ڈیجیٹل اہداف سے ہم آہنگ اپنا ڈیجیٹل ماسٹر پلان تیار کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اپنے ڈیٹا، ڈیجیٹل نظاموں اور عملدرآمدی فیصلوں پر مکمل اختیار برقرار رکھے گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے محکمہ آئی ٹی کو نیشنل ڈیجیٹل ماسٹر پلان کا جائزہ لے کر سندھ کی تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت کی۔ ملاقات میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ڈیجیٹل گورننس، مصنوعی ذہانت اور عوامی خدمات میں تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
وزیر برائے اوقاف، مذہبی امور، زکوٰۃ و عشر سندھ سید ریاض حسین شاہ شیرازی کی جانب سے بوہرہ برادری کی تنظیم دعوتِ ہادیہ کے ممتاز و معتبر شخصیت اور موجودہ (53ویں) داعیِ مطلق سیدنا مفضل سیف الدین کے بھائی شہزادہ قُسائی وجیہ الدین کی کراچی آمد پر اُنہیں پھولوں کا گلدستہ پیش کر کے ان کا پُرتپاک خیرمقدم کیا گیا۔
شہزادہ قُسائی وجیہ الدین تین روزہ دورے پر نجی پرواز کے ذریعے کراچی پہنچے۔ کراچی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی نے ان کا استقبال کیا اور کراچی آمد پر نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
اس موقع پر محمد مکی شاہ شیرازی بھی صوبائی وزیر کے ہمراہ موجود تھے، جبکہ بوہرہ کمیونٹی کے نمائندگان، معززین، متعلقہ افسران اور حکام نے بھی استقبال میں شرکت کی۔
اس موقع پر ہونے والی ملاقات میں باہمی احترام، مذہبی ہم آہنگی، رواداری، بین المذاہب روابط کے فروغ اور مختلف برادریوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم کرنے سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
The Government of Sindh is set to inaugurate the Korangi No. 5 Flyover today, marking a major step towards better mobility in Karachi. The project will help ease traffic congestion, save time and fuel, and improve connectivity for the citizens of Karachi.
With the support of the Government of Sindh, women are being empowered through entrepreneurship and economic opportunities. In Shikarpur, Mahnaz Mehar has successfully built and runs Sariya Restaurant, turning her hard work and determination into a successful example of women’s entrepreneurship.
The Government of Sindh remains committed to empowering women to contribute meaningfully to the development of Sindh and Pakistan.
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ آئی ورک فار سندھ سندھ کے نوجوانوں کے لیے ایک مکمل ڈیجیٹل کیریئر ایکو سسٹم بن چکا ہے، جہاں نوجوانوں کو روزگار کے مواقع، جدید کورسز اور اپنی صلاحیتوں کو عالمی مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ پلیٹ فارم پر فعال ملازمتوں کے مواقع 16 ہزار 200 سے بڑھ کر 19 ہزار 973 ہوگئے ہیں، جبکہ رجسٹرڈ امیدواروں کی تعداد ایک لاکھ 21 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح جابز پوسٹ ہونے کی تعداد 23 ہزار 400 سے بڑھ کر 26 ہزار 890 ہوگئی ہے، جو پلیٹ فارم کی مسلسل ترقی اور نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا واضح ثبوت ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ آئی ورک فار سندھ پر اب تک 4 لاکھ 57 ہزار سے زائد جاب اپلیکیشنز جمع ہونا سندھ کے نوجوانوں کی عملی شمولیت اور روزگار کے حصول کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد صرف نوجوانوں کو ملازمتیں فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں جدید معیشت کے تقاضوں کے لیے تیار کرنا ہے۔ لرن اینڈ ارن پروگرام کے تحت کورسز مکمل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد بھی 2 ہزار 735 سے بڑھ کر 3 ہزار 270 ہوگئی ہے، جبکہ ایک ہزار 200 سے زائد بین الاقوامی کورسز کے ذریعے سندھ کے نوجوانوں کو عالمی روزگار کی مارکیٹ کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا مقصد نوجوانوں کو صرف نوکری تلاش کرنے والا نہیں بلکہ نوکری کے قابل بنانا ہے۔ اسی سلسلے میں اے آئی آٹو سی وی کریئٹر جیسی جدید سہولت متعارف کرائی گئی ہے، جو نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو مؤثر انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کر رہی ہے۔ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت مواقع نوجوانوں تک پہنچا رہی ہے اور ان کی صلاحیتوں کو روزگار سے جوڑنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا عزم ہے کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کا راستہ صرف روایتی دفتر تک محدود نہ رہے بلکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے بھی روزگار کے مواقع ان کی دہلیز تک پہنچیں۔ آئی ورک فار سندھ اسی وژن کے تحت نوجوانوں کو تعلیم، تربیت، ہنر اور روزگار کے مواقع سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کورنگی لانڈھی فلائی اوور کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کا وژن عوام کی خدمت ہے، اسی وژن کی تکمیل کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی پوری ٹیم دن رات کام کررہی ہے۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا جذبہ عوام کی خدمت کرنا ہے اور سندھ حکومت اسی جذبے کے تحت کراچی سمیت صوبے بھر میں ترقیاتی کام کررہی ہے۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں بھی سندھ حکومت کی جانب سے نمایاں اقدامات کیے جارہے ہیں اور انڈس اسپتال کیلئے سندھ حکومت سب سے بڑا ڈونر ہے، جبکہ کورنگی شاہراہ بھٹو کے علاقے میں خطے کا ایک بڑا آٹزم سینٹر تعمیر کیا جارہا ہے جس کا نام ’’انکلوژیو سٹی‘‘ رکھا جائے گا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ صنعتی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی بہتری کیلئے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر وزیراعلیٰ سندھ نے فنڈز فراہم کیے ہیں، صنعتکار اور صنعتی علاقوں کے مالکان قابل احترام ہیں اور حکومت کی کوشش ہے کہ صنعتوں کو بہتر انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے تاکہ صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ کورنگی اور لانڈھی کے دونوں صنعتی علاقوں کیلئے مجموعی طور پر 4 ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں، جن میں دونوں علاقوں کیلئے 2،2 ارب روپے شامل ہیں۔
سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کا نعرہ ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ تھا اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اسی عوامی خدمت کے فلسفے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
صوبائی وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کورنگی نمبر 5 پر تعمیر کیے گئے کورنگی لانڈھی فلائی اوور کا افتتاح کردیا۔ 515 میٹر طویل فلائی اوور کی تکمیل سے کورنگی، لانڈھی اور ملحقہ صنعتی علاقوں کے درمیان ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی اور شہریوں کو آمدورفت میں آسانی ہوگی۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور صدر آصف علی زرداری کا وژن عوام کی خدمت ہے، اسی وژن کی تکمیل کیلئے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور ان کی پوری ٹیم دن رات کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا جذبہ عوام کی خدمت کرنا ہے اور سندھ حکومت اسی جذبے کے تحت کراچی سمیت صوبے بھر میں ترقیاتی کام کررہی ہے۔
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے خوراک کا اجلاس صوبائی وزیر خوراک و کنوینر کمیٹی مخدوم محبوب الزماں اور چیف سیکریٹری سندھ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں کمیٹی کے اراکین صوبائی وزراء جام خان شورو، سردار محمد بخش مہر اور وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر گیان چند ایسرانی شریک ہوئے۔ اجلاس میں گندم کی درآمد کے لیے مجوزہ سہ فریقی معاہدے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ مخدوم محبوب الزماں نے کہا کہ سندھ کابینہ کے فیصلے کے مطابق صوبائی حکومت تین لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرے گی۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے مجوزہ سہ فریقی معاہدے کی مختلف شقوں سمیت انتظامی، مالی اور عملی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاسکو سے صرف معیار کے مطابق اور قابلِ استعمال گندم ہی خریدی جائے گی۔ صوبے بھر میں گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف جاری کارروائیوں کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے کہا کہ گندم کی ذخیرہ اندوزی کے خلاف بلاامتیاز اور جامع کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی