سینیٹر مشتاق صاحب فلسطین پر ڈھاۓ جانے والے مظالم کی بات کر کے رو پڑے۔
یہ ہے ہر مسلمان کے دل کی وہ تکلیف جو سینیٹر مشتاق کے ایک ایک لفظ سے عیاں ہے کہ ہم رسول ﷺ کی امت ہو کر خاموش کیوں ہیں؟ 😭😭
اور اسلام آباد پولیس کا ان سے بدتمیزانہ رویہ ملاحظہ ہو۔
پاکستان میں جنگل کا قانون نافذ ہے، اپ��ے حق کے لیے اٹھنے والی ہر زبان پر قفل لگایا جارہا ہے، غریب طبقہ کسمپرسی کی زندگی بسر کر رہا ہے۔ سر زمین پاکستان کو سرزمین بے آئین کر دیا گیا ہے۔
#عوام_کی_بس_ہوگئی_ہے
”جو میں کرسکتا تھا، میں نے کیا، یہ میں نے کِسی پر احسان نہیں کیا، اللّٰہ نے دیا مجھے اِتنا زیادہ، میری ذمہ داری تھی کہ میں اپن�� قوم کیلئے کچھ کروں۔“
#ImranKhanNeedsJustice
کارل مارکس نے کہا تھا
“جب غریب لوگ مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کرنے لگیں گے تو سرمایہ دار رسی بنانے اور بیچنے کا دھندہ شروع کر دیں گے”
#PakistanUnderFascism
عمران خان اسی خزانےکے ساتھ صحت کارڈ بھی چلا رہا تھا لنگر خانے بھی چلا رہا تھا احساس پروگرام بھی چلا رہا تھا سبسڈی بھی دے رہا تھا قرض اتار رہا تھا ،ڈیم بنوا رہا تھا ڈرون حملے بھی نہیں ہونے دے رہا تھا سب سے بڑھ کر اپنی قوم کی غیرت وعزت کو مقدم رکھا ہوا تھا۔
#عمران_خان_ضروری_ہے
ارشد شریف کا بینایہ ان کے پورے صحافتی کیرئیر پر حاوی رہا ان کے ناظرین کبھی نہ بھول پائیں گے اس سے پہلے کہ یہ الزامات عدالتی تصدیق یا تردید کی سند پاتے متعلقہ افراد حکومت میں آگئے اور اناً فاناً تمام کیسز لپیٹ دئے گئے ڈاکٹر ر��وان مقصود چپڑاسی اور اب ارشد شریف اللہ کو پیارے ہوگئے