باقی سب تو ٹھیک ہے لیکن اگر ایف آئی اے کے بجائے خاکی وردی والے ہوتے تو کیا اقرار الحسن صاحب کا ردعمل اسی طرح کا ہوتا ؟
ایک معصومانہ سوال 😅۔۔
#iqrarulhassan#lahoreairport#fia#اقرارالحسن
جہاں قانون سازی ہونی تھی، صوبے کے مستقبل کے فیصلے ہونے تھے…
وہاں پچھلے تیرہ سالوں سے صرف کھیل جاری ہے۔اور جہاں کھیل ہونا تھا…
وہاں اب اسمبلی لگا کر عوام کے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔
یہ صرف جگہوں کا بدلنا نہیں…
یہ ترجیحات کا بدل جانا ہے۔
#kpkgovernment#reality#pakistan
شام امریکہ و غیر ملکی افواج سے مکمل خالی ہونے والا پہلا عرب ملک بن گیا ۔
کہاں ہے وہ ��وگ کہتے تھے جولانی (احمد الشراع شامی صدر) امریکہ کا ٹاؤٹ اور دہشت گرد ہے؟؟
#syria #america #حافظ_قوم_کا_محافظ #aljolani
فلسطین کے لیے سفارتکاری اس لیے کبھی مؤثر نہ ہو سکی کیونکہ دنیا مفادات پر چلتی ہے، انصاف پر نہیں۔ نہ فلسطین کے پاس اسٹریٹجک طاقت ہے،نہ آبنائے ہرمز ہے نہ بڑے ممالک کے مفادات اس سے جڑے ہیں۔ جب طاقت خاموش ہو اور مفاد نہ ہو، تو ڈپلومیسی صرف بیانات تک محدود رہ جاتی ہے۔
#FREEPALESTİNE
امریکہ ایران جنگ بندی کے بعد دنیا بھر میں پاکستان کی تعریفیں ہو رہی ہیں مگر کچھ لوگ برداشت نہیں کر پا رہے یاد رکھیں یہ صرف وزیر اعظم یا فیلڈ مارشل کی نہیں بلکہ پاکستان کی جیت ہے۔ عہدے آتے جاتے رہتے مگر ملک ہمیشہ قائم رہتا ہے سیاسی اختلاف رکھے مگر ملک کی ساکھ کو نقصان نہ پہنچائیں
دنیا بھر میں پاکستان کی جو عزت افزائی ہو رہی ہے، تعریفوں کے پل باندھے جا رہے ہیں وہ بہت سارے لوگوں کیلیے بدہضمی کا باعث بن رہا ہے
انڈین میڈیا کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی کچھ لوگوں کا بس نہیں چل رہا کہ ��ہ کیسے پاکستان پہ کیچڑ اچھال کے ملک کے قد کو چھوٹا ثابت کر دیں،
یاد رکھیں یہ عاصم منیر یا شہباز شریف کی نہیں بلکہ پاکستان کی جیت ہے، پاکستان کا کریڈٹ اور عزت ہے، شہباز و منیر رہیں نہ رہیں لیکن پاکستان ان شاءاللہ ہمیشہ رہے گا اور شاد و آباد رہے گا اس لیے سیاسی بغض و عناد میں اپنے ملک کو بےتوقیر مت کریں
ایران نے امریکہ اسرائیل سے جنگ روکنے کے لیے 6 سٹریٹجک شرائط ٹرمپ کو پیش کردئیے ہیں تاہم ان 6 شرائط میں فلسطین اور حماس کا ذکر کہیں نہیں ہے ۔
#trump#IranWar#پاکستان#palestine#ceasefire
اسرائیل ایران کے توانائی تنصیبات پر حملے کرتا ہے جواب میں ایران عرب ممالک کے توانائی تنصیبات پر حملے کرتا جس سے نقصان نہ تو اسرائیل کو ہوتا ہے نا امریکہ کو۔۔
ایران کا دعویٰ تو امریکی اڈوں پر حملے کا تھا لیکن توانائی تنصیبات اور سویلین مقامات پر حملے کرنے کا کیا جواز؟؟
#IranWar
ایک تو یہ پڑھے لکھے نہیں اور اوپر سے پڑھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ایک طرف ایران کا وزیر خارجہ عباس عراقچی پاکستان کا شکریہ ادا کررہا ہے اور یہ ایک نام نہاد جعلی عالم پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہا ہے اور انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے ۔۔
طوفان الاقصیٰ کے بعد پاکستان نے جو پالیسی اختیار کی، وہ نہ صرف نامعقول اور نادرست ہے بلکہ پاکستان کی عزت، وقار، مستقبل اور قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔ غزہ جنگ بندی کے نام پر جو ڈراما رچایا گیا اور ٹرمپ نے جس معاہدے میں پاکستان سمیت چند اسلامی ممالک کو شامل کیا، وہ ایک بڑی ��سٹرٹیجک غلطی تھی۔ اس سے بھی بڑی غلطی یہ ہے کہ آج رمضان کی اس جنگ میں، جب صہیونیت اور امریکہ ایران پر حملہ آور ہیں، پاکستان سعودی عرب کے دفاع اور دفاعی معاہدے کے بہانے عملاً ٹرمپ کی جنگ میں کود گیا ہے اور اپنی بحریہ بھیج کر خود کو اس جنگ کا حصہ بنا رہا ہے۔
یہ جواز پیش کیا جا رہا ہے کہ پاکستان اپنے تیل اور گیس کے ٹینکروں کو محفوظ راستہ دینے کے لیے یہ قدم اٹھا رہا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران نے کبھی اعلان نہیں کیا کہ وہ پاکستانی پرچم کے تحت آنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنائے گا۔ ایران کا اعلان صرف یہ تھا کہ وہ امریکی کمپنیوں کے تیل اور امریکہ کے اتحادیوں یا مخصوص فریقوں کی طرف جانے والی سپلائی کو روکے گا۔ پاکستان اس دائرے میں شامل ہی نہیں تھا۔ اگر کوئی عملی خدشہ بھی تھا تو اسے نہایت آسانی سے سفارتی سطح پر حل کیا جا سکتا تھا۔ ایران کے پاکستان میں سفیر رضا امیری مقدم جیسے سمجھدار اور پاکستان دوست سفیر موجود ہیں؛ ان سے بات کی جاتی، وزیر خارجہ، وزیر دفاع، وزیر خزانہ یا کوئی سینیٹر، پارلیمنٹیرین یا ذمہ دار شخصیت ایران سے براہِ راست رابطہ کرتی، تو یہ مسئلہ سادگی سے حل ہو سکتا تھا۔
اصل مسئلہ یہ بھی نہیں ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کو شدید توانائی بحران درپیش ہے اور ایران پہلے ہی پاکستان کے ساتھ گیس اور تیل کے معاہدے کر چکا ہے۔ ایران نے اپنی طرف سے توانائی بارڈر تک پہنچا رکھی ہے، مگر پاکستان نے خود اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ آج اگر واقعی پاکستان کو تیل و گیس کی ضرورت ہے تو دھمکی آمیز خطوط لکھنے یا جنگی صف بندی کا حصہ بننے کے بجائے سیدھا ایران سے کہا جا سکتا تھا کہ جنگی حالات میں پاکستان کی توانائی ضروریات پوری کی جائیں۔ میرا یقین ہے کہ اگر پاکستان کے وزیراعظم رہبرِ معظم یا ایران کی قیادت کو یہ لکھتے کہ ہمیں تیل و گیس کی فوری ضرورت ہے، تو ایران اسی جنگی حالت میں بھی پاکستان کی ضروریات پوری کرنے پر آمادہ ہو جاتا۔
لہٰذا مسئلہ راستے کا نہیں، نیت اور اختیار کا ہے۔ پاکستان کے فیصلے پاکستان کے مفاد میں نہیں ہو رہے، بلکہ ایک ایسی عالمی صف بندی کے تحت ہو رہے ہیں جس میں خود امریکہ تنہا کھڑا ہے۔ یورپ کا ایک ملک بھی اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ نہ انہوں نے اڈے دیے، نہ شرکت کی، بلکہ جنگ کی مذمت کی اور اسے روکنے کا مطالبہ کیا۔ حتیٰ کہ برطانیہ بھی پوری طرح ساتھ کھڑا نہیں ہوا۔ جب خود امریکہ کے روایتی حلیف اس جنگ سے فاصلے پر ہیں، تو پاکستان کیوں اپنی قوم کو اس ذلت، شرمندگی اور خطرناک مہم جوئی میں دھکیل رہا ہے؟
پاکستان کو فوری طور پر اس گندگی سے نکلنا چاہیے۔ ملک کو اس غلط صف بندی سے باہر لایا جائے، قوم کو اس شرمندگی سے نکالا جائے، اور پاکستان کے مفاد، توانائی سلامتی اور عزت و وقار کے مطابق آزاد، باوقار اور دانشمندانہ پالیسی اختیار کی جائے۔
#pakistan #iran
#ناموس_رسالت_پر_کوئی_سمجھوتہ_نہیں
15thMarchNamooseRisalatDay
اگر تم پاکستان میں عزتِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتے تو نظامِ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقدمہ خود بخود تم سے منہ موڑ لے گا!
وہ دانشور حضرات جو ایران کے مسلم ممالک پر حملوں کو درست کہ رہے ان سے سوال ہے کہ امریکہ افغانستان جنگ کے دو��ان پاکستان نے امریکہ کو اپنی سرزمین پر اڈے فراہم کئے، اگر افغانستان یہ کہ کر پاکستان پر حملہ کرتا کے ہم امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں تو کیا آپ ان حملوں کو درست کہتے ؟
1 مخصوص طبقے کے سیاسی راہنما و خطیب جو یہ کہ رہے ہیں کہ پاکستان کا کوئی بھی اقدام جو ایران کے خلاف ہوگا اس کے نتائج خطرناک ہوگے یہاں تک کہ ملک توڑنے کے مترادف ہوگا ان سے کوئی پوچھے Who The Hell Are You جو پاکستان توڑنے کی بات کرتے ہیں
#IsraelIranWar#jawadnaqvi #paknavyoperation