baby sis called me to get permission to lie to mom after she failed in one of her subj cuz this is the only thing mom cant stand after her maid takes leave. so i said 'ofc u shud'
now guess whos going home with her fav matilda cake to cheer her up and celebrate her first lie
بلآخر آج فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر نے اقبال جرم کر لیا کہ پختونخواہ میں جان بوجھ کر دہشت گردوں کو جگہ دی گئی۔ اس اقبالی بیان کے بعد فوج کی موجودہ اور سابق قیادت بشمول پروپیگنڈا سیل آئی ایس پی آر کو ہمارے ہر شہری اور جوان کی شہادت کی وجہ بننے پر سخت سے سخت سزا دینی چاہئے۔
اکتوبر ۲۰۲۱ میں فوجی قیادت کی جانب سے بہت کوشش کی گئی کہ اپنے پیش کیے، مذاکرات کے نام پر آبادکاری کے منصوبے کی منظوری لی جائے اور نئی جنگ کی خواہش کا سارا ملبہ عمران خان پر ڈال دیا جائے لیکن ہم نے دلائل سے بات کی اور وزیراعظم نے آپ کا منصوبہ مسترد کردیا۔
رجیم چینج کے اگلے مہینے پی ڈی ایم کو اس منصوبے پر بریفنگ دی گئی، وینٹی لیٹرحکومت کی بحث کی مجال۔ حکومتی وزراء بشمول وزیر داخلہ نے باہر آ کر اس منصوبے کے حق میں ٹویٹس کیے، بیانات دیے اور عسکری سرپرستی میں افغانستان وفد بھیجا گیا۔
⁃وفد کی خبر ملتے ہی پانچ سوال کیے کہ ۸۰ شہدا کی قربانی دینے کے بعد پھر کیوں امن برباد کر رہے ہیں؟ کس مینڈیٹ کے تحت اس وفد کو بھیجا گیا کیا بات چیت ہو رہی ہے؟ وغیرہ۔
⁃اگست ۲۰۲۲ میں افغانستان سے ان کو لانے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے میں آواز اٹھاتا ہوں، ڈی جے صاحب آپ کا ہی ادارہ فون کرکے کہتا ہے ”stay out of it“ جواب دیا کہ ۸۰ ہزار شہدا کے بعد اپنا امن تباہ نہیں ہونے دوں گا۔آج جس طرح انسانی جانوں پر آپ بیانیہ بنا رہے تھے بالکل اسی طرح آپ کے ادارے نے پریس ریلیز جاری کی کہ دہشت گردی کی واپسی کی خبر جھوٹ ہے، وزیر داخلہ نے بھی اس کو پروپیگنڈا قرار دیا۔
⁃میں نے عوامی تحریک چلائی، مجھے آپ ہی کے ادارے نے فون کیا کہ ۴۸ گھنٹے دیجئے واپس چلے جائیں گے اور حیران کن طور پر آپ کے زیر سایہ وہ سوات سے نکل گئے۔
⁃دیر کے پہاڑوں تک پہنچے تھے کہ میں نے پھر احتجاج کی کال دی پھر آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کا فون آیا کہ سوات سے نکل تو گئے ہیں اب ملک کے ٹھیکدار تو نہ بنو۔لیکن میں امن کا ٹھیکدار بنا اور آخری بندہ نکالنے تک سڑکوں پر رہا۔ امن قائم ہوگیا میری زندگی عذاب بنا دی گئی، یہ بھی تفصیلاً بتا چکا ہوں۔
⁃پھر دوبارہ کوشش کی گئی اور اس دفعہ ساتھ ہی ان کو پھیلایا بھی جانے لگا، جیسے آج ہو رہا ہے۔ آئی ایس آئی، ایم آئی، آئی ایس پی آر اکٹھے مجھے ریاست دشمن قرار دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔
⁃طالبان غصہ آپ غصہ۔۔ وہ اس لیے غصہ کہ آپ نے ان کو لانے اور آباد کرنے کا وعدہ کر رکھا تھا۔ آپ اس لیے غصہ کہ ریاست تو ہم ہیں، ہم نے نئی جنگ کا فیصلہ کیا ہے تو یہ کون ہے راستے میں رکاوٹ بننے والا؟ منت کی جھولی پھیلا کر التجا کی کہ نہ کریں یہ، ہمارے اپنے لوگ اس کا ایندھن بنیں گے ہمارے جوان شہید ہوں گے لیکن ”آپ” نہیں مانے۔۔!
⁃پھر ہم نے پنڈی میں مظاہرے کی کال دی اور وہ دیکھتے ہی آپ نے ان کو گاڑیوں میں بٹھا کر واپس بھجوایا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس دفعہ لائیں گے لیکن پہلے آپ کو ٹھکانے لگائیں گے۔ اسی عزم کا اظہار آپ کے بھائیوں نے بھی کیا کہ برف پگھلے گی تو آئیں گے اور پہلے آپ کا بندوبست کریں گے۔ ۲۴ اپریل ۲۰۲۳ کو سوات سی سی ڈی تھانے پر حملہ کرنے والے اسی مقصد سے آئے تھے، میں نہیں ملا تو تھانے پر حملہ کردیا۔
⁃واضح تھا کہ اب جنوبی اضلاع سے ان کو لایا جائے گا لہذا میں نے وہاں امن تحریک کی کال دی اور اس کے اگلے ہی روز مجھے زندہ یا مردہ پکڑنے کا حکم صادر ہوا،تب تک ۹ مئی کا فالس فلیگ نہیں ہوا تھا تو آپ کو میں کس جرم میں مطلوب تھا؟
⁃نگران حکومت میں جنوبی اضلاع سے ان کو آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا ان کو مقامی آبادی کے بیچوں بیچ لا کر بسایا گیا۔
⁃ابھی سیلاب کے دنوں میں جب قوم سیلاب سے نمٹنے میں مصروف تھی ان کو باجوڑ سے کاٹلنگ اور دیر سوات کے پہاڑوں پر پہنچانے کا بھی کام بخوبی نبھایا جا رہا تھا۔آئی ایس آئی مقامی انتظامیہ کو ان کے روٹس بتا کر اس رات اپنے دفتر یا پولیس اسٹیشن کی لائٹس بند کرکے نہ نکلنے کا حکم دیتی رہی۔
تفصیلات بہت ہیں کیا کیا بتاؤں آپ کی آج کی حواس باختہ گفتگو سے بیرونی طاقتوں سے کی گئیں کمٹمنٹس کا دباؤ اور طاقت کو طول دینے کے لیے ان کمیٹمنٹس کی جلد از جلد تکمیل کی جھنجھلاہٹ ��و واضح ہے۔ پھر تم جنازوں پر جذباتی بیانیے بناو، جھوٹ بولو، مگرمچھ کے آنسو بہاؤ مگر یہ میری قوم تمہاری حوس کی بھینٹ چڑھتے چڑھتے تھک چکی ہے۔ یہ میرے لوگ تمہاری طاقت کو دوام دینے کے لیے بہت بلی چڑ چکے۔ میرے ہر پاکستانی شہری، ہر جوان کا خون تمہارے ہاتھوں پر ہے، مزید ہم غریبوں کے بچے تمہاری جنگوں کا ایندھن کیوں بنیں؟
جن قدموں سے لے کر آئے ہو، ان ہی پیروں واپس بھجوا دو۔ جیسے پھیلایا ہے ویسے سمیٹ بھی لو۔
بہت ہوگئی یہ اداکاریاں تمہاری ریاکاریاں!
ذرا شہید ولی محمد کے گھر پر غور کریں اور سوچیں عمران خان کا پیغام ملک کے کن کن کونوں میں پہنچ چکا ہے اور کن دور دراز علاقوں میں عمران خان کے دیوانے پائے جاتے ہیں ۔
ضلع پشین کے دور دراز گاؤں کے ایک کچے گھر میں رہنے والے اس جوان کی اللہ مغفرت کرے۔ امین
بیشک میرا رب، میرا اللہ ”الحق“ ہے!
میں نے چیف الیکشن کمشنر کے اپنے اور پاکستان تحریک انصاف کے خلاف بغض و تعصب کی بار بار نشاندہی کی ہے اور اس باب میں پیہم تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے آج کے فیصلے، جس نے تحریک انصاف کے خلاف الیکشن کمیشن کی بدنیتی اور تعصب کو ثابت کیا ہے، سے ہمارے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت ہوئی ہے۔ ہم کروڑوں پاکستانی ووٹرز اور پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے حمایتوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنے کے ذمہ داروں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت فوجداری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہیں۔
سکندر سلطان راجہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اراکین فی الفور مستعفیٰ ہوں۔
اس کے ساتھ میں ایک مرتبہ پھر دہراتا ہوں کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ لازماً خود کو میرے اور پاکستان تحریک انصاف سے متعلق تمام مقدّمات سے الگ کریں۔
28 years of struggle with ups and downs, standing with the truth still strong and fearless. Happy Youme tasees of PTI to all insafians.
A great leader Imran Ahmad Khan Niazi said:
"مجھے ڈرا ہوا دیکھنا انکا ادھورا خواب رہ جائے گا۔"
#28YearsOfStruggle
عمران خان کے دورِ حکومت م��ں کسی کی جرات نہیں تھی آپ کے گھروں پر ڈرون حملے ہوں۔ آپ کے گھروں کی بہو بیٹیاں، ننگے سر ننگے پیر گھروں سے نکلنے پر مجبور ہوں اور آئ ڈی پی کیمپس میں رُلیں۔ یہاں تک کہ جب پوری دنیا میں وبا پھیلی اور آپ کے آس پاس کےملکوں سے لے کر دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں کے باسی تک سانس لینے تک کو محتاج ہوگئے اُس نے سب کے مخالف جاکر آپ کی عزتِ نفس کو ترجیح دی۔ اپنے احساس سے آپ کو سر ڈھانکنے کی جگہ دی، آپ کا پھیلا ہاتھ سمیٹ کر اپنے ہاتھوں سے آپ کے لیے رزق پروسا۔ دنیا میں آپ کا سر اونچا رکھنے کے لیے وہ سب سے لڑ گیا۔
آج وہی عمران خان جس کے لیے آپ کی خوداری، آپ کی عزتِ نفس اپنی جان سے مقدم تھی اُس کے گھرپر قبضہ کرکے اُس کو اذیت دینے کے لیے اُس کی پردہ دار اہلیہ کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر، وکلاء، رشتہ داروں تک کو ان تک رسائی نہیں دی جارہی۔ صرف اُس شخص کو توڑنے کے لیے کہ جس کا واحد قصور آپ کے حق کے لیے کھڑا ہونا ہے ایک پردہ دار عورت پر بہتان تراشیاں کی گئیں۔ اس کی عبادت کو جادو ٹونا، اس کے صدقات کو عملیات کہا گیا۔ اس کے کردار پر رقیق حملے کیے گئے اس کا وہ رشتہ کہ جو اللہ کا نام لے کر جوڑا گیا ہو اس پر بھری عدالت میں نا��یبا سوال اٹھائے گئے اور اب اس کی زندگی بھی داؤ پر لگا دی گئی ہے۔ عمران خان اور بشری بی بی تو اس قربانی سے بھی گریزاں نہیں ہیں۔ اُن کے سامنے جو مقصد ہے وہ اُن کی زندگیوں سے بہت بڑا ہے۔ وہ اُن ہتکھنڈوں سے بہت آگے جا��کے ہیں جو انہیں توڑنے کے لیے اپنائے جارہے ہیں۔ مگر ہم اس بے انصافی پر چُپ رہ کر خاموش تماشائی بن کر کل کو اُس شخص سے نظریں کیسے ملایں گے؟ وہ جو دنیا کی ہر طاقت کے سامنے آپ کی چادر چاردیواری، آپ کی زندگی، آپ کی خوداری، آپ کے عقیدے تک کا محافظ تھا۔۔ چاہے اِس دنیا میں ہو یا اُس دنیا میں، ہم اُس شخص سے نظریں کیسے ملائیں گے؟
سوچ رہا ہوں ارشد شریف کی سالگرہ کی شام عمران ریاض خان کو ایک مرتبہ پھر اغوا کرکے کیا پیغام دینا مقصد تھا؟ ایک کیک اُس کی موت (شہادت) والی شام بھی کٹا تھا۔۔ ایک کٹنے کی تیاری آج بھی تھی۔ ہر کیک کٹنے کے لیے ایک گردن کٹنا بھی لازمی ہے کیا؟
جو آج اُس نے عدالت میں کہا اُس پر بھی غور کررہا ہوں اور یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ کیا ایک ارشد شریف کو مار کے، ایک عمران ریاض کی زبان کھین�� کے اِن کی رگوں میں گونجتی سنسناہٹیں چُپ ہوجائیں گی؟ چند گردنیں کٹ گئیں تو کیا پیروں تلے تھرتھراتی زمیں ساکت ہوجائیگی؟
“ہمیشہ ہی نہیں رہتے کبھی چہرے نقابوں میں۔۔
سبھی کردار کھلتے ہیں کہانی ختم ہونے پر”
۱۲ دسمبر ۲۰۲۲ کو اسلام آباد میں پانچ رُکنی جے آ��ی ٹی کو یہ بیان جمع کروایا تھا جس کے صرف دو صفحات یہاں ڈال رہا ہوں۔ اس بیان میں لکھی ہر بات۔ ارشد بھائی کی کہی ہر بات؛ وہ جو انہوں نے دُنیا کے سامنے کی۔ وہ جو انہوں نے مجھے امانتاً سونپی درست ثابت ہوئی۔ عمران خان نے جو جنگ اپنی قوم کی خوداری اور حمیت کےلئے لڑی اُس میں اُس کے خلاف کھڑے ہونے والے ہر کردار نے اپنے ہاتھوں سے اپنے نقاب نوچے ہیں۔ جو ابھی پردے کے پیچھے ہیں وقت کے ساتھ انہوں نے اپنے چہروں کے خدوخال بھی نوچنے ہیں۔ ہاں مگر وہ کہ جنہوں نے سب جانتے بوجھتے اُسے بھیڑیوں کے سامنے پھینکا، جو اُس کے خون سے آنکھیں پھیر گئے وہ شاید ساری عمر اب اپنے لیے نقاب بُنیں مگر عری��نی اُن کی بھی کم نہیں ہونی۔
گذشتہ دنوں میں نے مقتدرہ کی طرف سے ایک ملاقات میں رکھی گئی شرائط کا ذکر کیا تھا، جنہیں جھٹلانے کی صورت میں دو دھمکیاں دی گئی تھیں کہ جن کا الیکشن سے پہلے کے ماحول میں تذکرہ مناسب نہیں ہوتا۔
ایک کا نقطۂ آغاز وہ کردار کُشی کی مہم تھی جو بشری بی بی کے خلاف چلائی گئی تاکہ اُن پر پریشر ڈالا جاسکے اور وہ خان صاحب کو ڈیل پر آمادہ کر��ں اور اُس کے لیے دباؤ اُن کی ذات تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ اُن کے بچوں تک کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ وہی سلسلہ ہم زیر حراست ان پر ذہنی تشدد اور اُن کو جسمانی طور ہر کمزور کرنے کے لیے روا رکھے گئے سلوک کی صورت دیکھ رہے ہیں۔ مقصد ان کو توڑنا اور انہیں تکلیف دے کر خان صاحب کو مجبور کرنا ہے۔
اُس وقت شرائط پر آمادہ نہ ہونے کی صورت میں خان صاحب، اُن سے وابستہ افراد اور پارٹی پر سختیاں بڑھانے کا عندیہ بھی دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ہی کاغذاتِ نامزدگی چھیننے، مسترد کرنے، پارٹی سے انتخابی نشان لینے اور امیدواروں کو جبراً انتخابات سے دستبردار کرنے جیسی کاروائیں کی گئیں۔
دوسری دھمکی (معدے کی خرابی کے حوالے سےاُن دنوں چلنے والی خبروں کا حوالہ دے کر دی گئی) کہ طبیعت تو اُن کی (خان صاحب کی) ویسے بھی ناساز رہتی ہے۔ مزید طبی مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔ بعد ازاں یہ مستند معلومات موصول ہوئیں کہ اگر عمران خان ڈیل پر آمادہ نہیں ہوتے تو اُن ک�� مصر طرز پر کوئ بندوبست کیا جائے۔ صاحبِ علم یہ اشارہ باآسانی سمجھ سکتے ہیں۔
بشری بی بی کی جانب سے تب اسلام آباد ہائیکورٹ میں خان صاحب کی صحت اور تحفظ کے حوالے سے پٹیشن دائر کی گئی (جسے تقریباً دو ماہ سے زیادہ عرصہ گزرنے کے بعد بھی چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ عامر فاروق سماعت کے لیے نہیں مقرر ہونے دے رہے)۔
انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی سے ہواس باختہ قوتیں جہاں دیگر سازشیں اور چالیں چل رہی ہیں وہاں بشری بی بی کے ساتھ حراست میں روا رکھا گیا سلوک, ان کے حوالے سے موصول ہونے والی خبریں اور ڈیل نہ کرنے کی صورت میں ان کو دی گئی دھمکی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں اُن کے وکلاء سے استداء کرتا ہوں کہ اُن کی زندگی کو لاحق خطرات اور اُن سے روا رکھے گئے غیر انسانی سلوک سے فوراً عدالت کو آگاہ کریں۔
میں نہایت اخلاص اور تحمل سے مقتدرہ کو بھی متنبی کردوں کہ اپنی انا کی جنگ اور طاقت کے نشے میں خدانخواستہ کوئ قدم ایسا نہ اٹھالیں کو جو ناقابلَ تلافی ہو کیونکہ نا یہ مصر ہے اور نا عمران خان محمد مُرسی! آپ کی ہر دھمکی اور ہر چال سے آگہی ہے۔
بہتر ہوگا کہ آگ سے کھیلنے سے اجتناب کریں۔
آپ کو کیا لگتا ہے جس عورت کو آپ کردار کشی سے نہیں جھکا سکے آپ اُسے موت کا خوف دلا کر توڑ دیں گے؟ اور جس شخص کو موت کا خوف نہیں ڈرا سکا اُسے گھر توڑ کے ڈرا دیں گے؟
مسئلہ ہی یہی ہے کہ نہ آپ عمران خان کو سمج�� سکے، نہ اُس سے دل اور نظریے سے بندھے لوگوں کو اور نہ اُس کی قوم کو۔
اور جسے آپ سمجھ نہیں سکے اُسے ہرانے کی کیا اوقات ہوگی آپ کی۔۔ بس صرف اپنے منہ پہ کالک ملنی ہے ایک بے گناہ عورت کو اذیت دے کر سو ملتے جاؤ کہ جسے خوفِ خدا نہ رہے اُسے خوفِ خمیازہ کیا دلانا۔ مگر وہ دیکھ رہا ہے اور حساب بھی لے گا!
میرے پاکستانیو!
لامعنی بحثوں میں اُلجھ کر اپنے مقصد سے نظر نہیں ہٹائیں نہ کسی کو آپ کی توجہ بٹانے دیں۔ کون وزیر اعلی بنے گا، کون سپیکر۔ کس کو اپوزیشن لیڈر بنانا چاہئے، کون کونسی وزارت کیسے چلائیگا۔ ان پر بحث اور میمز ہم تب بنا لیں گے جب عمران خان انہیں دیکھ کر اور آپ کی رائے کو مدنظر رکھ کر یہ فیصلے کرنے کی پوزیشن میں ہوں۔ فی الحال قوم نے مینڈیٹ عمران خان کو دیا ہے اور اس بھروسے دیا ہے کہ وہ جیل میں ہوتے ہوئے بھی جو بھی فیصلہ کریگا ہماری بہتری کے لیے کریگا۔ اِس وقت افواہوں کا بازار گرم ہے، کئی ساتھی نیک نیتی میں ہی سہی، مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ یاد رکھیں عمران خان کی ٹیم آپ ہیں۔ آپ کا فوکس آپ کے مینڈیٹ پر رہنا ضروری ہے۔ آپ کی دو دن کی بے توجہی کا فائدہ اٹھا کر جو ورداتیں ڈالی گئی ہیں اُن کی سنگینی کا اندازہ آپ کو آنے والے دنوں میں ہوگا۔
ہم نے ان انتخابات میں دیکھ لیا ہے کہ کیسے پاکستانی قوم نے ذات، زبان، ب��ادری، طبقات سے بالاتر ہو کر عمران خان کے نام پر ووٹ دیاہے۔ کوئ ایک نشان نہ ہونے کے باوجود شہروں سے لے کر دیہاتوں تک ہر بچے، بوڑھے، جوان نے سینکڑوں نشان ازبر کر کے ان کو کامیاب کرایا ہے۔ ہم کہتے تھے کہ عمران خان پاکستان کی بقا کاضامن ہے قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ واقعی پاکستانیت کا علمبردار ہے۔ آج اسی خوف سے وہ تمام قوتیں جنہوں نے پاکستان کو تقسیم کرکے اپنی سیاست چمکائ۔ جنہوں نے پاکستان کی عوام کو اُن کے حقوق سے محروم رکھ کر اپنی دولتیں بڑھائیں۔ جنہوں نے پاکستانی قوم کی زندگیوں کا سودا کرکے اپنی ناجائز طاقت کو دوام دیا وہ سب مل کر اگر ایک عمران خان کو جھکانے کے لیے ہر ح�� تک جا رہی ہیں تو کسی کو کوئ گمان نہیں رہ جانا چاہئیے کہ عمران خان پاکستان کے لیے کیا معنی رکھتا ہے۔ استقامات سے، تحمل سے اپنی نظر منزل پر رکھیں۔ اپنا مینڈیٹ واپس لینا۔ اپنے لیڈر کو آزاد کرانا اِس وقت ہماری بقا کے لیے لازم ہے۔ آر او دفاتر کے باہر اپنا پرامن احتجاج جاری رکھیں۔ دنیا کے توجہ اِس وقت پاکستان پر مرکوز ہے ��وشل میڈیا کے ذریعے اُن کو آگاہ کریں کہ آپ کے مستقبل کے ساتھ کس قدر گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ کے پی اور پنجاب کی عوام جیسے ڈٹ کر اپنی لیڈرشپ کے ساتھ کھڑی ہے، میں سندھ اور بلوچستان میں تحریک انصاف کی مقبولیت خود دیکھ کر آیا ہوں۔ وہاں کے لوگوں کی اگرچہ مین سٹریم میڈیا تک اس قدر رسائ نہیں ہے تو ہماری لیڈرشپ اور شہری علاقوں کے عوام پر دُگنا ذمہ داری ہے کہ جو ڈاکہ اُن کے مینڈیٹ پر ڈالا گیا ہے وہ اُس کا حساب لیں۔ بیرون ملک پاکستانی ہزاروں کی تعداد میں اپنے خرچ پر پاکستان ووٹ ڈالنے آئے تھے۔ آپ مہذب معاشروں کا نظام دیکھ چکے ہیں آپ جانتے ہیں اس وقت آپ کے ملک کے ساتھ جو کیا جارہا ہے دنیا کا کوئ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔ آپ پر لازم ہے کہ آپ اس بدترین دھاندلی اور ڈاکہ زنی کے خلاف متحرک ہوں یہ ملک آپ کی پہچان ہے آپ کی جڑیں گڑی ہیں یہاں۔
یاد رکھیں آج جس مقام پر ہم کھڑے ہیں یہاں تک دوبارہ پہنچنے میں ہمیں اگلی بار ۷۵ سال نہیں لگیں گے۔ ایک مرتبہ ہم نے غلامی تسلیم کرلی تو کوئ گمان نہ رکھیں اگلی بار یہ سفرہمیں ۱۹۴۷ سے دو سو سال پیچھے جاکر شروع کرنا پڑے گا۔