آج بھی راھبہ بننے والی عورتوں کی پاسنگ آؤٹ پریڈ پوپ کے قدموں میں لیٹ کر ھوتی ھے، لیکن عورت کی تحقیر کا الزام اسلام پر لگایا جاتا ہے۔
حالانکہ سب سے زیادہ عزت عورت کو اسلام نے دی ھے
پردہ_شریعت_پردہ_تحفظ
ہمارے بعد کی نسل��ن قومی ترانے کیلئے کھڑی نہیں ہوں گی، ہمارے بعد کی نسلیں پاکستان کا جھنڈا نہیں اٹھائیں گی سہیل آفریدی۔
یہ الفاظ اس شخص کے ہیں جو خود کو ایک صوبے کا وزیراعلیٰ کہتا ہے اور ایسی آزادی بھی صرف پاکستان میں ہے جہاں ٹھہر کر آپ پاکستان کو توڑنے اور نفرت پھیلانے کا کام کر سکتے ہیں۔
اس لانگ مارچ میں یا اس سے پہلے کسی موقع پر سہیل آفریدی نے دہشتگردوں کی مذمت کی جو آئے روز پاکستانیوں کو مار رہے، جو آئے روز مسجدوں، بازاروں، حجروں، چیک پوسٹوں پر دھماکے کر رہے۔
جب سے سہیل آفریدی وزیراعلیٰ بنا ہے کیا اس نے کبھی دہشتگردوں کی مذمت کی؟ کیا اس نے کبھی سیکیورٹی فورسز پر حملوں کی مذمت کی؟ کیا یہ کبھی سیکیورٹی فورسز کے جنازوں میں گیا؟
لیکن یہ پاکستان ہے جہاں آپ ٹھہر کر پاکستان کو گالی بھی دے سکتے، پاکستان کو توڑنے کی بات بھی کر سکتے، پاکستان کے جھنڈے کی ت��لیل بھی کر سکتے کیونکہ یہاں سب کو لامتناہی شتر بے مہار نام نہاد آزادی حاصل ہے۔
13 سال سے KP میں انکی حکومت ھے۔ چار سال وفاق میں یہ حکمران رھے۔ یہ اسی پاکستان کی نوازشیں ھیں جس کو یہ گالی دے رھے ھیں ۔ اسی پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ انکی ملی بھگت ھے۔ انکی وفاداری اقتدار اور صوبے اور وفاق کے وسائل کی لوٹ مار کے ساتھ ھے۔ یہ لوٹ مار اور اقتدار کے لئے وطن کی مٹی جس کو شہیدوں کے لہو نے سینچا ھے اس سے غداری کرنے کو ھر وقت تیار ھیں۔
پاکستانی حوثی نے تازہ ترین بکواس میں سعودیہ پاکستان اور ترکی کے اتحاد کو یہود و نصاری کا جانشین اتحاد قرار دے دیا :) یہودیوں کے گدھے دوسروں پر جھوٹ اور بہتان اسی طرح باندھ رہے جسطرح سیدنا ابوبکر و عمر پر باندھتے ہیں
جب ایران پر حملہ ہوا تو پاکستانی حوثیوں نے ملک کے امن و امان کو تباہ کرنے کی کوشش کی، لیکن میری جماعت نے پُرامن احتجاج کیا اور دفاعِ حرمین شریفین کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب!
آپ کے قدموں پہ میرے جیسے طالبِ علم کی یہ ٹوپی رکھنا اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتا ہوں، لیکن آپ کی ساری زندگی کی عظمت، ساری زندگی کی نیکیاں، سیدنا معاویہؓ کے ایک ہاتھ کے گندم کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
قائدِ ملتِ سلفیہ ڈاکٹر علامہ ہشام الٰہی ظہیر کا سِلَانوالی ختمِ نبوت کانفرنس سے خطاب
امن و سلامتی کے سب سے بڑے علمبردار سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے شہر پر حوثیوں کے حملے کی خبر سے دل رنجیدہ اور زخمی ہے،مدینۃ الرسول پر حملہ ایک شہر پر نہیں بلکہ عالم اسلام کے دلوں اور عقیدے پر حملہ ہے۔
مسلم حکمرانوں اور امت مسلمہ کو مصلحتیں بالائے طاق رکھتے ہوئے یکجاں ہوکر حملہ آوروں کا مقابلہ کرنا ہوگا،آج اگر حرمین شریفین کے لئے متحد نہیں ہوں گے تو پھر کب ہوں گے،حرمین شریفین ہماری وحدت کی علامت ہیں،جس کی حرمت کے لئے اپنی جان و مال اور اولاد کی قربانی کو باعث فخر سمجھتے ہیں،یہی چیزیں جمعیۃ علماء اسلام کے اغراض و مقاصد کا حصہ ہیں۔
مملکت سعودیہ کے عوام،خادم الحرمین شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ حملہ صرف آپ کے شہر اور ملک پر نہیں،امت مسلمہ پر حملہ ہے،امت مسلمہ اور بالخصوص پاکستان کے عوام حرمین شریفین کے تحفظ و حرمت کے لئے مملکت سعودیہ اور عوام کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
*مؤتمر حماية الحرمين الشريفين يعلن خطة عمل موحّدة للدفاع عن المقدسات*
*لاهور –* شاركت جميع جماعات أهل الحديث، وفي مقدمتها رئيس جمعية أهل الحديث في باكستان الدكتور العلامة هشام إلهي ظهير، في مؤتمر حماية الحرمين الشريفين، الذي أُعلن خلاله عن خطة عمل موحّدة للدفاع عن الحرمين الشريفين.
وأكد المشاركون لخادم الحرمين الشريفين الملك سلمان بن عبد العزيز، ولولي عهده الأمير محمد بن سلمان، تجديد العهد بأن مئات الآلاف من شباب جمعية أهل الحديث على أتمّ الاستعداد لبذل النفس والمال فداءً لحرمة الحرمين الشريفين، مطالبين في الوقت ذاته بفتح قضايا قانونية ضد من وصفوهم بـ"الحوثيين الباكستانيين".
وفي أجندة من بند واحد، أعلن المؤتمر الجامع والدكتور هشام إلهي ظهير تأييدهم الكامل للسياسة الخارجية الباكستانية، مشيرين إلى أن وزير الدفاع خواجة آصف ورئيس الوزراء شهباز شريف قد أكدا، في ��طار اتفاقية الدفاع المشترك، أنه سيتم القضاء على مواقع الحوثيين. وتساءل المشاركون: "إن الذين لم يراعوا قدسية المسجد الحرام، كيف لهم أن يراعوا سائر مقدسات المسلمين؟"
كما طالب المشاركون بالإجماع بتسجيل قضية ضد جواد نقوي، ملوّحين بتصعيد الحراك في حال عدم الاستجابة لمطلبهم، ومتّهمين إياه بالقول إن باكستان وقفت إلى جانب الطاغوت، وبوصف قائد الجيش بأنه "عميل لليهود والنصارى"، دون أن يُحاسَب على ذلك.
من جانبه، أكد رئيس جمعية أهل الحديث في باكستان أن مئة ألف شاب من أهل الحديث مستعدون للتوجّه دفاعاً عن الحرمين الشريفين متى ما دعاهم قائد الجيش والأمير محمد بن سلمان، معتبراً أن العداء لآل سعود نابع من تمسّكهم بعقيدة التوحيد. وحذّر من أنه إذا لم يُكبَح جماح جواد نقوي فستنطلق حركة احتجاجية على مستوى البلاد، مضيفاً أن الذين يشك��ون في إيمان الصحابة هم أنفسهم الذين يكفّرون المسلمين اليوم بلا انقطاع.
@KSAMOFA
@modgovksa
@MOISaudiArabia
@Dr_alqarnee
@Badermasaker
@rbalsaud
@Dr_Abdullatif_a
@SaudiNews50
@AlArabiya_Brk
@MWLOrg_en
@MWLorg_Ur