کر حق ادا اُس کا رضائے الٰہی کے لیے
اسی میں بندے کی عزت، اسی میں عبادت ہے
کیوں بھٹکتا ہے دور دور جنت کی تلاش میں
جنت کا دروازہ تو ماں کے قدموں کی زینت ہے-
Passion is often cast as chaos measured by scales of hardship but I have been wondering about peace in stillness, where even silence turns to story when they arrive
وہ ملے تو ویرانی میں بھی سکون اتر آئے، خاموشی بھی بن جائے کہانی
بس کوئی ان کی نگاہوں کو یہ سچ سمجھا دے دل کا
ہے نہیں مضبوط بننے کی ضرورت تمہیں
یہ زندگی سخت سہی، پر تم تنہا نہیں
جلے ہم کئ مشعلوں کی آگ میں،
تب جاکے سمجھی یہ روشنی کی زباں کہیں
نہ مجبور ہو تم، نہ جلنے کو پیدا ہوۓ
بس چلنا ہے تمہیں اپنی ہی راہ پے-
سمجھے تھے ہم، دل پتھر سا بے اثر ہے
خبر نہ تھی کہ آگ ہر بار سرخ نہیں جلتی
کبھی لال کی چمک میں، کبھی سفید روشنی میں چھپتی ہے،
سنا تھا دریا ہے، بس ڈوب کے جانا ہے
ہر موج کے شور نے بتایا، یہ سمندر ہے، اور موجیں بھی خلاف-
ہے متفکر ہم، یہ کیسی جستجو ہے،
ہر راہ پے تیرا ہی خیال روبرو ہے
کِھل اٹھتی ہے زندگی، تیری ایک تبسم سے،
جیسے ویرانے میں اچانک بہار کی گفتگو ہے
تو ہی توقع، پناہ، آسرا اور تو ہی آزمائش،
دل سہم جاۓ پھر بھی کہتا ہے: تو ہی آرزو ہے-
نکلے سفر پہ ہم، راہیں تھیں سب بے نشاں
خوابوں کی انجمن میں، تھی ہر منزل نا آشنا
ٹھوکروں نے راہ میں یوں دل کا چراگ کر دیا نم
مقصد تو مل ہی گیا، مگر گُم ہوا گھر کا ہر دم۔
Silence is fascinating to me,
Layered, complex, yet so easily understood,
I find people its complete opposite,
Just as layered, yet never truly understood.
ہم چلے اکیلے، مگر سفر ضروری ہے
شدتِ عشق ہماری، تمہیں محسوس کرنا ضروری ہے
یقین ہے ہمیں قدرتِ کائنات پہ، کہ ملنا مقدر ضرور ہے
یہ بادل ہیں لمحاتی، اِن کا ہٹ جانا ضرور ہے
خوابوں کی راہ میں کچھ فاصلے آئین گے ضرور
پر دل گر سچا ہو، تو راستے مڑین گے ضرور~
دل فریبی ہے، فریب خود ہی سے کرتا ہے
کمبخت حق جتاتا ہے، اپنا ہی جھوٹ سچ بتاتا ہے
آنکھوں کے آگے الفاظ کا جال بچھاتا ہے
اور ہر درد کو خوشی کہ کر مسکرا جاتا ہے~
اک تم سے چند دن مانگے تھے ہم نے
سفر پہ نکل پڑے تم بغیر ہمارے
نہ پائ تم نے اپنی منزل کہیں
تو لوٹ آۓ پرانی راہوں کے سہارے
اور اک وہ جو خود پیچھے رہ گۓ
ہمیں راہ دکھا گۓہماری منزل کی طرف
چھوڑ گۓ اپنا سفر ادھورا
بس امید تھی کہ ہم پہنچ جاۓ ہم سے-