عمران خان کی تقریباً 29 سال پہلے کی ویڈیو ❤️
نادیہ خان کے ساتھ Morning Show میں عمران خان کی گفتگو سنیں!!
عمران خان ہیرو تھا, ہیرو ہے, اور ہیرو رہیگا!!
عمران خان لیڈر تھا, لیڈر ہے, اور لیڈر رہیگا!!
“Jemima knew that. She did not marry a lounge lizard; my drive was one of the things that had attracted her to me. I think I would have been diminished in her eyes if I had lost that drive.”
This is why she is his biggest supporter in this struggle till this day. ❤️🩹
A regret.
I only started knowing Imran Khan after his fall out with the military establishment.
Cannot imagine what it must have been like to have known Imran Khan before, not from my clouded lens of viewing him as politically expedient, but as who he really was - a dreamer who bows before no one but Allah.
Now when I try to rewrite his narrative of the years I viewed him as politically expedient, I am left bewildered at how I can come to admire someone so passionately whom I once despised - perhaps equally fervently.
What feels unfair is that Imran Khan was plastered on TV screens all the time when I disliked him.
But now that I find myself in awe of his heroism, he is nowhere to be seen and his incarceration has no end in sight.
The longer he stays hidden, the more intense the longing to hear the conviction in his voice grows.
May I get to see you again, Imran Khan.
And this time as a believer who feels the intensity of your faith reverberate through my being when you resurface with a resounding:
“Iyya ka na’budu
Wa’iyya ka nasta’een”
Today, I had the honour of speaking to the 47 countries that comprise the @UN#HumanRightsCouncil urging the immediate release of my father @imrankhanpti and all #Pakistan’s #politicalprisoners. Along with this, I want to be very clear. Like my father, I fully support maintaining GSP+ as the people of #Pakistan should never be punished for the actions of its leaders. But the Pakistani regime must also fully comply with the 27 treaties it committed to follow to obtain this benefit, including the International Covenant on Civil and Political Rights and Convention Against Torture. @UN@ptiofficial #HumanRights #ImranKhanUnlawfullyDetained
شعور کبھی مہنگی سٹوڈیو لائٹس، مہنگے مائیک اور مہنگے برینڈڈ سوٹ اور مہنگے ترین کیمروں کا محتاج نہیں ہوتا۔
میں نہیں جانتا یہ لڑکا کون ہے۔
لیکن یہ ہزاروں حسن ایوب، منیب فاروق، جاوید چوہدری، سہیل وڑائچ اور ریحان طارق جیسوں سے زیادہ باشعور ہے اور اس کی باتیں سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔
عمران خان اپنی جماعت کے لوگوں کیساتھ بیٹھے ہیں۔ بالکل ساتھ شاہ محمود قریشی بیٹھے ہیں۔ پریس کانفرنس شروع ہونے والی ہے۔ میڈیا چینلز کے مائکس سامنے پڑے ہیں۔ عمران خان لانگ مارچ کا اعلان کرنے جارہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی کے فون پر کسی کی کال آتی ہے۔ وہ عمران خان کے کان میں سرگوشی کر��ے ہیں “ وہ کہہ رہے ہیں ہم ٹریپ کرلیں گے “ عمران خان جواب دیتے ہیں “ کرلو کرلو “۔ یہ مختصر سی گفتگو مائکس میں ریکارڈ ہوجاتی ہے ملک بھر میں پھیل جاتی ہے۔ لانگ مارچ یعنی احتجاج کے اعلنا سے عین قبل آخری آپشن کے طور پر بھی پریس کانفرنس میں بیٹھے ہوئے رہنماؤں کو دھمکی لگا کر ٹالنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے معلوم نہیں کتنی کوششیں کی گئی ہوں گی۔ بنیادی نکتہ؟ احتجاج کو ٹالنا کسی بھی قیمت پر ٹالنا۔
تھوڑا پیچھے چلیں ، رجیم چینج سے اگلی رات عوام سڑکوں پر تھے کچھ لوگوں نے فورا ٹھنڈی ہوائیں چلا دیں۔ کہا فوج کو سمجھ آگئی ہے۔ فوج سب ٹھیک کرنے والی ہے۔
اب ساتھ ساتھ آگے چلیں۔ کچھ سیاسی چالوں ، عمران خان پر بے تحاشا مقدمات اور قاتلانہ حملے کے بعد پچھلا آرمی چیف چلا جاتا ہے موجودہ ��جاتا ہے ، اسکے آنے سے قبل کئی صحافی جن میں سر فہرست چچا صابر شاکر ہیں ٹھنڈی ہواؤں کی خبریں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے فورا بعد ایک تاریک دور کا آغاز ہوجاتا ہے۔ طاقت ، وحشت اور خوف ہتھیار بن جاتا ہے۔ نومئی اس کا نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خونی ریڈ لائن پورا ملک لہولہان کردیتی ہے اور اس سب کا ردعمل آٹھ فروری کو ریڈ لائن اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ اسی رات ، شکست کی پہلی رات ہی حامد میر اور اسد طور بتانا شروع کردیتے ہیں کہ فوجی جرنیل عمران خان سے جیل میں ملاقاتیں کررہے ہیں۔ عادی مجرم ٹھنڈی ہوائیں چلانا شروع کردیتے ہیں۔
پھر ان ٹھنڈی ہواؤں ک�� ضرورت اچانک ختم ہوجاتی ہے اور عمران خان کے اگست میں احتجاج کے اعلان کے بعد پھر شروع ہوجاتی ہیں۔ ستمبر اکتوبر اور انہی “ طے ہوتے معاملات “ اور “ بہتری “ کی نوید کے درمیان گزر جاتے ہیں۔ درمیان میں کبھی نجم سیٹھی تو کبھی صدیق جان ، کبھی مظہر برلاس تو کبھی کوئی اور ہرکارہ عمران خان کی رہائی اور معاملات طے ہونے کی نوید سناتا رہتا ہے۔ کمی کو لطیف کھوسہ اور بیرسٹر گوہر جیسے لوگ پورا کرتے ہیں۔
امریکہ میں حکومت بدلنے کا وقت آتا ہے تو فورا سے پہلے امریکی ڈاکٹرز کو بلوا کر بتایا جاتا ہے کہ تین ہفتے میں سب ٹھیک کردیں گے بس ہمارے اوپر کسی طرح تنقید بن کردیں۔ اسی دوران ٹرمپ کی تشریف چوم چوم کر معاملات طے کرلیتے ہیں۔ پھر اگلی ضرورت پیش تب آتی ہے جب انڈیا حملے شروع کردیتا ہے۔ علی امین سے پیرول کی درخواست ڈلوائی جاتی ہے اور میاں علی اشفاق جیسے اکاونٹس سیاسی سیز فائر کی خوشخبریاں سنانا شروع کردیتے ہیں۔
عمران ��ان علی امین کو ہٹا کر سہیل آفریدی کو وزیراعلی بناتے ہیں تو رکی ہوئی ٹھنڈی ہوائیں ایک بار پھر چل پڑتی ہیں۔ عمران خان کی بیماری کے ایام میں کارکنان میں غم و غصہ پھیلتا ہے تو بیرسٹر گوہر اور سہیل آفریدی محسن نقوی کی ٹھنڈی چھاؤں میں جا بیٹھتے ہیں۔
یاداشت کی کمزوری اور وقت کی قلت کے سب کئی بدلتے موسموں اور کن من کن من برستے صحافیوں کی خبروں کا تذکرہ رہ گیا۔ جب کب فوج کہیں پھنستی ہے یا تحریک انصاف کی طرف سے احتجاج کی کسی چنگاری کا امکان پیدا ہوتا ہے تو فورا کچھ نئے کچھ پرانے ، کچھ باخبر کچھ بے خبر میدان میں کود پڑتے ہیں۔
اب پھر وہی موسم ہے۔ وہی خبریں ہیں اور وہی دعوے ہیں۔ عمران خان واپس آسکتا ہے۔ ہزار بار آسکتا ہے۔ عاصم منیر ایک بار چلا گیا تو جنرل کونسلر بن کر بھی واپس نہیں آسکتا۔ یہ بات اسے سب سے زیادہ بہتر پتہ ہے۔ فوج کو راتوں کو گیزر ٹھیک کروا کر دینے والے تابعدار وزیر اعظم چاہییں۔ فوج کو دفتر کے باہر انتظار کروانے والا وزیراعظم نہیں چاہیے۔
وہ آئے گا ، وہ فوج کے شکست تسلیم کرنے اور بیرکوں کی واپسی کے بعد آئے گا۔ وہ کسی ڈیل یا کسی ٹھنڈی ہوا پر سوار نہیں آئے گا۔ کیونکہ وہ کہتا ہے مر جاؤں گا یزید کی بیعت نہیں کروں گا۔
As my X account has been “throttled” acc to @grok - after a deal was done between @elonmusk & the Pakistani government to lift their x ban, this is a request to UK based Pakistanis an any of those who are able to read this tweet (unlike those in Pakistan) to please RT and help get this message out.
جیو نیوز کی سکرین ہیک کر کے دنیا بھر میں جیو نیوز پر یہ پیغام چلا دیا گیا
تمہاری فوج کے مخصوص حلق�� نے پورے ملک کو تباہی سے دوچار کر دیا ہے اس کے خلاف کھڑے ہو جاؤ
ان کے سامنے کھڑے ہو جاؤ
ویسے جس مرد مجاہد نے یہ کام کیا ہے اسے سویلین نشان حیدر ملنا چاہیے
آئی ایس پی آر کی پروڈکشن”عہدِ وفا“ کے ہیرو نے بھی عمران خان اور شوکت خانم کے حق میں بول دیا۔ آخری پانچ سیکنڈز میں عوام کا پیار اور بھروسہ چیک کریں!
افسوس کا مقام ہے ادارے کے لیے اور اس سے جڑے ہر شخص کے لیے کہ جس بندے نے ملک کو تین شوکت خانم اسپتال دیے اور ملک کا دنیا میں وقار بڑھایا اس کو اغواہ برائے غلامی منظور کر کے رکھا ہے!
اداکارہ کی زندگی کی بڑی خواہش🚨
واسع چوہدری !! آپ کی کبھی سیاست دان سے ملاقات ہوئی ہے؟
اداکارہ !! نہیں میری کبھی نہیں ہوئی میری وش ہے کہ میری کبھی عمران خان سے ملاقات ہو لیکن کبھی ہوئی نہیں میری فیملی میں سب انکے بہت بڑے فین ہے
Legend of Pakistan, Prisoner of Conscience … Imran Khan!
Indeed, “he is more than this”.
AI video credits: Murtaza Yousuf’s Instagram Account (in response to DG ISPR’s Who are You Question)
My reply to ISPR & attempts by PDM & their handlers to arrest me for two reasons: 1. To prevent me from campaigning bec InshaAllah when elections are announced I will be doing jalsas. 2. To prevent me from mobilising the masses for street movement in support of Constitution if PDM govt & their handlers refuse to obey the SC & violate Constitution on holding of elections.