عمران خان کو سازش کے ذریعے رجیم چینج کر کے اقتدار سے ہٹایا گیا، اس کی جماعت کے احتجاج پر قدغنیں لگیں، اسے زندان میں ڈالا گیا۔ الیکشن چوری کرلیا۔ یہ سب کوئی نئی بات نہیں، سیاستدانوں کے ساتھ ہوتا رہا ہے، اور وہ اپنی جماعت اور حامیوں کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں۔
لیکن گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ بدسلوکی، اور قید میں لے جانے کے بعد ان کی آواز، اس کا چہرہ، اس کی آئینی شخصی آزادی چھین لینا، یہ پوری قوم کا معاملہ بن گیا اور ایک شخص تک محدود نہ رہا، اس سے قوم کو ایک گہرا اور منفی پیغام گیا۔
خدا کی قسم، اکثریت کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان تو ہے، مگر اس کی روح نہیں رہی۔ ملک ایک زندہ لاش کی طرح دکھائی دیتا ہے۔ نہ کوئی امید، نہ کوئی دلچسپی، نہ وہ قومی جذبہ۔ عجیب احساس ہے جو شاید موضوع الفاظ میں بیان بھی نہی کیا جاسکتا۔
قید یا اغوا کہیں تو بہتر ہے، اغوا کیا جانے والا عمران خان صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھا، وہ اس قوم کا پاکستان اور دنیا بھر میں فخر تھا، دہائیوں سے ایک ہیرو تھا۔ وہ تین نسلوں کی پسند تھا۔
وہ ورلڈ کپ نہ بھی جیتتا تو بھی لوگ اسے عظیم مانتے، وہ شوکت خانم اسپتال نہ بھی بناتا تو بھی اس کے لیے دلوں میں محبت ہوتی۔ وہ نمل یونیورسٹی کا قیام نہ بھی کرتا تو لوگ اسے عشق کرتے۔ اس کا تعلق صرف کارناموں سے نہیں تھا، ایک احساس سے تھا۔ کیونکہ اس نے ہمیشہ ملک کا نام روشن کیا تھا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان تھا۔
جن لوگوں نے یہ فیصلے کیے، انہوں نے شاید ایک حکومت بدلی اور ایک سیاسی رہنما کو نظروں اور سماعتوں سے دور کردیا، مگر ہمارے اندر سے پاکستانیت کا ایک حصہ بھی کاٹ دیا۔
ایسا نہیں کہ ہم غدار ہو گئے یا وطن سے نفرت کرنے لگے۔ نہیں! کبھی نہی! مگر اپنے ہی ملک میں ایسے رہنے لگے ہیں جیسے کوئی پردیس میں رہتا ہے۔
جہاں اس بات سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا کہ کس کی حکومت ہے۔ بس کمانا ہے، وسائل استعمال کرنے ہیں، بچوں کی تعلیم دیکھنی ہے، کھانا پینا ہے، کہیں گھوم پھر لینا ہے۔
پردیس میں رہنے والے عموماً اس زمین سے محبت یا نفرت کے رشتے میں بندھے نہیں ہوتے، وہ صرف اپنی سہولت اور آرام دیکھتے ہیں۔ کچھ ایسا ہی احساس پاکستان میں رہتے ہوئے ہونے لگا ہے۔
آگے کیا ہوگا، کیا قومی جذبہ دوبارہ جاگے گا، کیا پہلے جیسی پاکستانیت لوٹ آئے گی، کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جین زی تو ویسے ہی اس سب میں کوئی خاص دل چسپی نہیں رکھتی، ان کی ترجیحات مختلف ہیں۔
شاید ہم ہی آخری نسل تھے جو قومی نغمے سنتے تھے، جہاں بھی دنیا میں ہوں، دل میں پاکستانیت لیے پھرتے تھے۔ نئی نسل کو اس میں کشش نظر نہیں آتی۔
جو فیصلے کرنے والے تھے، انہوں نے ہمارے اندر سے پاکستانیت کو جیسے مٹا دیا، ہمیں بھی اسی بے حسی کا حصہ بنا دیا۔
آپ نے صرف عمران خان کو قید نہیں کیا، اس کے حقوق سلب نہیں کیے، آپ نے کروڑوں دلوں میں بسے ایک جذبے کو زخمی کیا ہے، اور ایک پوری قوم کو یہ احساس دیا ہے کہ اس کی آواز کی کوئی حرمت باقی نہیں رہی۔
شاید یہ موضوع حساس ہو، مگر اسے بیان کرنا ضروری ہے، تاکہ یہ احساس، یہ درد، اس دور کی ڈیجیٹل تاریخ میں محفوظ ہو جائے۔ کبھی نہ کبھی، کوئی اسے پڑھے اور سمجھے کہ اس زمانے میں ناانصافی اور لوگوں کے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ ۔
گلگت ہو، کشمیر یا پاکستان، اسٹیبلشمنٹ کا پرانا فارمولا یہی ہے کہ کوئی ایک جماعت اکیلے حکومت نہ کرے۔ بیساکھیوں کے بغیر اقتدار نہیں ملتا۔ بعید نہیں کہ گلگت میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت تشکیل دیں۔ اگر ایسا ہوا تو یہ پاکستان کی فارم47 حکومت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہوگی۔
جب کہا جاتا ہے کہ اسی یا نوے فیصد عوام عمران خان کے ساتھ ہے، تو اس کا منطقی مفہوم یہ بھی ہے کہ ان کی مخالفت کرنے والے محض ایک قلیل اقلیت ہیں۔ خواہ وہ سرکاری عہدیدار ہوں، سیاسی رہنما ہوں یا مخالف صحافی۔ تعداد میں کم سہی، مگر فی الحال اقتدار اور اختیار کے ایوانوں پر انہی کا قبضہ ہے
آج پاکستان میں یومِ تکبیر منایا جا رہا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان نے اپنی دفاعی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل عبور کیا اور ایٹمی طاقت بن کر دنیا کے نقشے پر ایک نئی حیثیت اختیار کی۔
اس موقع پر جب ہم اس عظیم قومی سفر کو یاد کرتے ہیں تو ان تمام سائنسدانوں اور ماہرین کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری ہے جنہوں نے اس راستے کی بنیاد رکھی اور اسے آگے بڑھایا۔
انہی درخشاں ناموں میں ڈاکٹر رفیع محمد چودھری بھی شامل ہیں، جنہوں نے پاکستان میں جدید طبیعیات اور سائنسی تحقیق کی بنیادوں کو مضبوط کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ان کی علمی کاوشوں نے ایک ایسا سائنسی ماحول تشکیل دینے میں مدد دی جس نے بعد میں آنے والی نسلوں کے لیے ایٹمی تحقیق کا راستہ ہموار کیا۔
پاکستان کا ایٹمی پروگرام کسی ایک فرد کا کارنامہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی قومی جدوجہد کا نتیجہ ہے۔ اس جدوجہد میں مختلف ادوار کے سائنسدانوں نے اپنی اپنی صلاحیتوں کے مطابق اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے یورینیم افزودگی کے میدان میں بنیادی پیش رفت کی، ڈاکٹر منیر احمد خان نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کی قیادت کرتے ہوئے اس پروگرام کو منظم سمت دی، جبکہ ڈاکٹر اشفاق احمد اور دیگر سینئر سائنسدانوں نے تحقیق اور تکنیکی ترقی میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ اسی طرح ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے تجرباتی اور عملی مراحل میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ تمام کوششیں ایک ہی قومی عزم کی عکاس ہیں، جس نے پاکستان کو ایک مضبوط دفاعی حیثیت دی۔ یومِ تکبیر صرف ایک کامیابی کا دن نہیں بلکہ ان تمام محنت کش ذہنوں کو یاد کرنے کا دن ہے جنہوں نے خاموشی سے مگر پوری لگن کے ساتھ اس سفر کو ممکن بنایا۔
اس موقع پر ڈاکٹر رفیع محمد چودھری سمیت تمام ابتدائی اور بعد کے سائنسدانوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جانا چاہیے جنہوں نے پاکستان کے سائنسی اور دفاعی مستقبل کی بنیاد رکھی۔
جناب، گزشتہ الیکشن میں یہ تاثر بھی ختم ہوگیا کہ صرف نوجوان اور خواتین ہی عمران خان کے ووٹر ہیں۔ ہر طبقۂ فکر اور سماجی حیثیت سے تعلق رکھنے والے مرد حضرات اور بزرگوں نے بھی نشان تلاش کرکے عمران خان کو ووٹ دیا۔ کراچی نوے فیصد تحریکِ انصاف کا شہر ہے۔
کراچی میں الطاف حسین سمیت جملہ اقسام کی ایم کیو ایمیں قصہ پارینہ بن چکیں الطاف حسین کاایک دور تھا عوام ساتھ تھے اب وہ ماضی کی کہانی ہے الطاف حسین50 برس کے کارکن کا سیاسی کرش ہے نوجوانوں اور خواتین کی اولین ترجیح عمران خان ہیں، اسکے باوجود الطاف حسین کو سیاست کی اجازت دینی چاھیئے
Being the last man standing is a strategy, not just an approach. I keep fighting until the end because most people either give up, burn out, or fall along the way. You can see it in every part of life, sometimes success simply comes from outlasting everyone else.
میرا خیال ہے کہ مروت اب اپنی درخواست واپس لے لیں گے۔ انہیں جو توجہ درکار تھی، وہ مل چکی ہے، جبکہ مومنہ اور مروت نے سائفر کے معاملے سے بھی توجہ ہٹا دی ہے۔ مقصد حاصل ہو چکا، اب غالباً دونوں معاملات خوش اسلوبی سے نمٹا دیے جائیں گے۔
مروت کا مؤقف ہے کہ سابق وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ایک سزایافتہ اور نااہل فرد، عمران خان، کی ہدایت پر لیا گیا، اور علی امین گنڈاپور اپنے اس سوشل میڈیا بیان (پہلا پیراگراف) میں شاید غیر ارادی طور پر اسی بات کی تصدیق بھی کر رہے ہیں۔
"میں نے اپنے لیڈر عمران خان کے حکم کے مطابق بلا کسی تاخیر کے اپنی وزارتِ اعلیٰ کے استعفے کی ہدایات پر عمل درامد کروا کر اپنا فرض ادا کیا.
کسی بھی طرح کے کیس یا عدالتی کاروائی کے ساتھ نہ میرا تعلق ہے اور نہ میرا کوئی عمل دخل ہے"
علی امین خان گنڈاپور
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف کو اس نظام میں کہیں نہ کہیں سے کوئی امید، کوئی آسرا ضرور ہے، یا شاید انہیں کوئی ٹائم لائن دی گئی ہے کہ فلاں وقت تک کچھ بھی ہو، یہی سیٹ اپ چلے گا۔ اس کے بعد شاید کچھ گنجائش نکلے۔ ممکن ہے یہی وجہ ہو کہ احتجاج اور مزاحمت ایک محدود دائرے میں نظر آتی ہے۔ دوسری طرف، شاید آئینی عدالت کا خوف بھی ایک عنصر ہے۔ بہرحال، کچھ نہ کچھ ضرور ہے جو انہیں سیاسی سطح پر اور سڑکوں پر بھرپور مزاحمت یا طاقت کے مکمل استعمال سے روکے ہوئے ہے۔
فیلڈ مارشل ایوب خان کے زمانے سے آج تک امریکہ نے پاکستان میں غیر جمہوری قوتوں کے مقابلے میں اسٹیبلیشمنٹ کو سپورٹ کیا اور جمہوری حکومتوں کو گرانے کی حمایت کی۔ خان صاحب کی حکومت کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ سائفر اس کا تحریری ثبوت ہے
میچ وہیں سے شروع ہوگا جہاں ختم ہوا تھا، 7 مارچ، سائفر کی تاریخ۔ جب عمران خان اور عوام ڈٹ گئے تھے اور سابقہ اسٹیبلشمنٹ خوفزدہ ہوگئی تھی۔ سابقہ امریکی انتظامیہ اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ وقت کے ساتھ ماضی کا حصہ بنتی چلی گئی، جبکہ عمران خان آج بھی موجود اور ایک بڑی سیاسی حقیقت ہے!
بھیڑ بکریاں اٹھارہ برس کی ہوں، پچیس کی یا پچاس کی، آخر کیا فرق پڑتا ہے؟ محض ووٹ ڈال دینا ہی تو شعور کی معراج نہیں۔ اصل امتحان تو اپنے ووٹ کی حفاظت ہے، اور اگر وہ چرایا جائے تو اس کے خلاف مزاحمت کرنا۔
مگر خیر، یہ سب کام انسان کیا کرتے ہیں، بھیڑ بکریاں نہیں۔ انہیں اپنے حقوق کی پہچان کہاں، اپنے اختیار کی قدر کب؟ وہ تو بس ہانکی جاتی ہیں، اور ہانکے جانے کو ہی تقدیر سمجھ بیٹھتی ہیں.
آٹھ فروری سے پہلے بھیڑ بکریوں کو شعور کا سبق پڑھایا گیا، انہیں انتخابی نشانات ازبر کروائے گئے۔ آٹھ فروری کو وہ یکایک انسان بن گئے، اپنے حقِ رائے دہی کو شعور اور امید کے ساتھ استعمال کیا۔ مگر نو فروری طلوع ہوتے ہی وہ پھر بھیڑ بکریاں بن گئے۔
کیونکہ انسان اپنے حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، جدوجہد کرتا ہے، آواز بلند کرتا ہے، حتیٰ کہ قربانی بھی دیتا ہے۔ مگر یہاں شعور صرف ایک روزہ ثابت ہوا، انسانیت محض ایک دن کی مہمان نکلی۔ ووٹ چوری ہوا، امیدیں روند دی گئیں، مگر قیادت سمیت سب پھر بھیڑ بکریوں کی مانند گھروں میں دبک گئے اور روزمرہ کے معمولات میں کھو گئے۔
Political differences aside, I genuinely feel bad for Shazia Marri @ShaziaAttaMarri . No senior colleague of Benazir Bhutto deserves this treatment, especially at the hands of an inexperienced political heir. If I were her, I’d resign on the spot and leave politics with dignity.
After a long silence, seeing Murad Saeed back on screen feels like a moment of relief for many who never stopped believing. A loyal voice of Imran Khan’s vision and a reminder that some convictions don’t fade with time.
اللہ آسانیاں پیدا فرمائے۔ ایک والد کے لیے ایسی تحریر لکھنا آسان نہیں ہوتا۔ مجھے گمان نہیں کہ حفیظ اللہ نیازی یہ لکھتے ہوئے آبدیدہ نہ ہوئے ہوں گے۔ حسان خان نیازی اب اس ملک کی سیاست کا ایک اہم ستارہ ہے، جو وقت آنے پر چاند بن کر چمکے گا اور عمران خان کی طرح نوجوانوں کی قیادت کرے گا۔
ایک ہزار دن گزر گئے باقی 2653دن رہ گئے۔
میرے بیٹے بیرسٹر حسان خان نیازی کو دس سال قیدِ بامشقت کی جو سزا سنائی گئی ہے وہ مجموعی طور پر 3653 دن بنتی ہے، جو 13 اگست 2033 تک یا موجودہ مقتدرہ کی مدتِ اقتدار کے خاتمے تک، جو بھی تاریخ بھی پہلے آئے، پوری ہوگی۔ آج حسان کی قید کے ایک ہزار دن مکمل ہو چکے ہیں۔ اگر ان ایک ہزار دنوں کو کل مدت سے منہا کیا جائے تو باقی 2653 دن کی قید ابھی باقی ہے۔ زندگی کے اس موڑ پر اور عمر کے اس حصے میں اگر میں زندہ رہا اور حسان اپنی قید مکمل کرتا رہا تو اس وقت تک میں عمر کے اس مرحلے تک پہنچ چکا ہوں گا جہاں وقت اپنی معنویت بدل چکا ہوگا اور یہ پورا سفر میرے لئیے میری آزمائش نہیں بلکہ آئین یا قانون یا عدالتی نظام بلکہ مملکت کی ایک طویل آزمائش کی صورت اختیار کر چکا ہوگا۔