If zionist lobby wanted Imran Khan out, he would be out in 30 minutes. You, your current fathers and your forefathers would lay down under every step Imran Khan would take out of jail.
The very U.S cypher which ousted and jailed Imran Khan was zionist lobby at work. Next time you open your mouth like this, remember, your Army Chief is the favourite General of Trump. You think that alleviation comes without Zionist lobby's approval?
As my X account has been “throttled” acc to @grok - after a deal was done between @elonmusk & the Pakistani government to lift their x ban, this is a request to UK based Pakistanis an any of those who are able to read this tweet (unlike those in Pakistan) to please RT and help get this message out.
We have been informed that my father, Imran Khan, has lost most of the vision in his right eye, with reports indicating only 15% eyesight remains. This is the direct consequence of 922 days of solitary confinement, medical neglect (denied blood tests) and the deliberate denial of proper treatment in jail.
The responsibility lies squarely with the regime in power, the Army Chief and the puppets enabling this cruelty. This physical deterioration is happening under their orders, their watch and their responsibility. They have manipulated and warped the justice system in order to keep my father in solitary confinement.
My brother and I are still being denied visas to see our father as his health deteriorates. History will record this injustice.
We urge human rights bodies, legal institutions and democratic nations to confront this persecution and ensure those responsible face consequences.
جب آپکی عمران خان سے فون پر جو بات ہوتی ہے تو آپ انکو موقف میں نرمی لانے کا مشورہ دیتے ہیں؟ مہدی حسن کا سوال
تاریخی طور عمران خان ہمیشہ خطرے سے لڑتے آئے ہیں، ہم نے چھوٹی عمر میں یہ تسلیم کرلیا تھا کہ ہمارے والد خطروں سے لڑتے رہیں گے۔ قاسم خان
جب میں چھوٹا تھا تو مجھے اپنے والد کا سیاست میں ہونا پسند نہیں تھا کیونکہ وہ کرپٹ لیڈرز کے خلاف بہت سخت گفتگو کرتے ہیں تو انکی زندگی خطرے میں رہے گی۔ سلیمان خان
ہمارے والد ہمیشہ مشکل حالات سے نکل آتے ہیں اس سے ہمارا یقین بڑھا ہے۔ وہ ایمان والے انسان ہیں اور کہتے ہیں اللہ میری حفاظت کرتا ہے۔ قاسم خان
My full interview with Kasim and Sulaiman Khan is out now on YouTube.
We spoke about their childhoods, what Imran was like as a father, as well as what they now want from the international community. And I ask, do they ever think they’ll see their father again?
https://t.co/BGkabbKrTK
@ImranKhanPTI's sons speak to @SkyNews about their father's prison conditions in #Pakistan. Pakistanis and the International community should be appalled. I am.
https://t.co/ZkxgCbX93Q
A personal plea to @elonmusk
My two sons have not been allowed to see or speak to their father Imran Khan who has been held unlawfully (acc to the UN) for 22 months of solitary confinement.
X is the only place left where we can still tell the world he is a political prisoner without basic human rights.
Yet every time I post about him, the reach inside Pakistan (and often globally) is throttled to almost zero.
You promised free speech, not “speech but no one hears it”.
Please fix the visibility filtering on my account so we can get the message out! @MarioNawfal
.@elonmusk
Elon, you may recall we have met before.
I am Jemima Goldsmith (Khan), former wife of Imran Khan — Pakistan’s democratically elected Prime Minister, removed in 2022 and now held 22 months in brutal solitary confinement as a political prisoner.
Our two sons have not seen him in all that time, have not spoken to him in months, and are not even allowed to send him letters. His name is banned from every Pakistani TV and radio station. X was therefore our only independent platform to highlight this injustice. However acc to Grok- your own AI- “Every time you post anything about Imran’s jail conditions, solitary confinement or your son’s access to their father, the algorithm limits the post…. The Pakistani authorities have made criticism from Imran Khan’s immediate circle one of their top online enforcement priorities, and X is quietly complying just enough to keep the platform alive in the country.”
You have repeatedly pledged that X will protect free speech and will not silence lawful political expression.
Yet Grok has examined my X analytics (3.56 million followers) and concluded my account is subjected to what Grok calls “secret throttling” (the algorithm deliberately hides my posts from almost everyone even though the account is not suspended).
The damning evidence Grok found is as follows :
• In 2023–early 2024, I averaged 400–900 million impressions per month (normal reach for my follower count).
• But in the entire 2025, impressions dropped to only 28.6 million total — a 97% crash to <3% of expected reach.
• The turning point was May 2025: one post spiked to 4 million impressions the day Pakistan’s X ban ended (proving my audience was still engaged), thereafter impressions were instantly crushed to near zero and stayed there. These numbers & assessments are all verbatim from Grok.
I am asking you to honour the free-speech promises you have made for this platform.
Please remove the “secret throttling” Grok identified on @Jemima_Khan
Thank you.
عمران خان کے بہنوں پر تشدد۔۔۔دسمبر کے مہینے میں رات کے 2 بجے اڈیالہ جیل کے سامنے اپنے بھائی کی ملاقات کیلئے آئے نہتے بزرگ خواتین پر بدترین تشدد سے ثابت ہوگیا کہ یہ حکومت اور اس کے سرپرست ذہنی مریض ہیں،عمران خان کی بہنوں کا اپنے بھائی سے ملاقات کا مطالبہ ایک آئینی، قانونی انسانی حقوق پر مبنی مطالبہ ہے،عمران خان کی بہنوں ہر واٹر کینن سے حملہ کرنا،سڑک یر گرانا،پتھر پھینکنا اور تشدد کرنا بدترین فسطائیت اور حکومتی دہشتگردی ہے،بندوقوں والے نہتے خواتین سے ڈر رہے ہیں، ظلم اور جبر کیخلاف جدوجہد میں عمران خان اور ان کے خاندان کا ساتھ دیتا رہوں گا۔
Please stop harassing & offloading people who are travelling abroad for work or studies. Why authorities are showing policies to them only at the airport? Why aren’t they informed before the ticket booking or visa? This is unfair, poor people can’t afford this. Stop this.
Strongly condemn the shameful treatment of my aunts outside Adiala Jail last night. The Pakistani government and its handlers have crossed every moral and legal line.
Attacking unarmed women, dragging them on the road and unleashing police force in darkness is the behaviour of a regime terrified of accountability. This fascist approach will not break our family and it will not silence the nation standing for justice.
"عاصم منیر کی جانب سے پاکستان میں "ہارڈ سٹیٹ" کا ج�� تصور فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ بالکل غلط ہے۔ ہارڈ سٹیٹ کا اصل مطلب ہے ایسی ریاست جہاں آئین کی بالادستی، قانون کی عملداری، عدل و انصاف کا نظام، اور جمہوری آزادی ہو، جہاں ذاتی مفاد نہیں بلکہ ملک و قوم کا مفاد مقدم ہو۔
جبکہ عاصم منیر کی "ہارڈ سٹیٹ" سے مراد ایسی ریاست ہے جہاں جمہوریت کے تمام ستونوں کو کچل کر "عاصم لاء" نافذ ہو۔ یاد رکھیں، عوام کی تائید اور حمایت کے بغیر کسی بھی ملک میں کسی “ہارڈ سٹیٹ” کا قیام ناممکن ہے۔ جو مظالم عاصم لاء کے تحت ڈھائے جا رہے ہیں، ان سے ریاست "ہارڈ" نہیں بلکہ اس کی جڑیں مزید کمزور ہو رہی ہیں۔ 26 نومبر اور مریدکے کی طرح اپنی ہی فوج، رینجرز اور پولیس کے ذریعے اپنی ہی عوام پر گولیاں برسانے سے کوئی ری��ست مضبوط نہیں ہو سکتی۔
خیبرپختونخوا کے عوام نے تحریکِ انصاف کو بھرپور مینڈیٹ دیا ہے۔ اس مینڈیٹ کے تحت یہ میرا آئینی اور جمہوری ��ق ہے کہ صوبے کی پالیسیاں خود مرتب کروں، کیونکہ میں براہِ راست عوام کو جوابدہ ہوں۔ وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا بھی یہ حق ہے کہ وہ میرے ساتھ مشاورت سے صوبے میں ان پالیسیوں کا نفاذ یقینی بنائیں، جن کے لیے عوام نے ہم پر اعتماد کر کے ہمیں ووٹ دیا ہے۔
تحریکِ انصاف کے دور حکومت میں بہتر پالیسیوں کے باعث خیبرپختونخوا سمیت ملک بھر میں امن قائم ہوا، مگر رجیم چینج کے بعد سے حالات مسلسل بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں تین سال سے مسلسل کہتا آیا ہوں کہ ہمیں دانشمندی اور دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ پرامن انداز میں معاملات آگے بڑھانے چاہییں۔ افغانستان سے ��شیدہ صورتحال نہایت تشویشناک ہے۔ نفرت اور تصادم کسی کے مفاد میں نہیں، عوام کے حقیقی نمائندوں کی بنائی ہوئی پالیسیاں ہی دہشتگردی کا دیرپا حل نکال سکتی ہیں۔
میرے خلاف قائم جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات کو جان بوجھ کر لٹکایا جا رہا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں گزشتہ دس ماہ سے انصاف کا قتل ہو رہا ہے۔ مشکل سے 10 ماہ بعد کیس کی سماعت کی تاریخ ملی، مگر ضمانت کا فیصلہ تاحال تاخیر کا شکار ہے۔ میں تحریکِ انصاف کے تمام سیاسی قائدین، اراکینِ اسمبلی، اور وکلاء کو ہدایت دیتا ہوں کہ اب سے میرے تمام کیسز کی عدالتی کارروائیوں میں باقاعدگی سے شرکت کریں، سماعت کے موقع پر عدالت میں موجود رہیں، اور انصاف کے حصول تک اپنی موجودگی برقرار رکھیں۔ اوپن کورٹ کے کیسز میں شرکت آپ کا قانونی و جمہوری حق ہے۔
تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں نواز شریف کو جیل میں روزانہ کثیر تعداد میں سیاسی رہنماؤں سے ملاقات کی اجازت تھی، فیملی کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل تھی، بلکہ جیل میں دعوتوں تک کا اہتمام کیا جاتا تھا۔ اس کے برعکس آج مجھے مکمل تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اس سے بڑی سیاسی انتقام کی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
مجھے جیل مینول کے مطابق بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ پچھلے دس مہینوں میں صرف ایک بار میرے بیٹوں سے بات کروائی گئی، وہ بھی تین تین منٹ کے دو مختصر وقفوں سے۔ مجھے ناصرف بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے بلکہ بطور پارٹی لیڈر، اپنے سیاسی ورکرز سے ملاقات کی اجازت بھی نہیں دی جا رہی۔ وکلاء، سیاسی رفقاء اور اہلِ خانہ سے ملاقات میں بھی مسلسل رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔ یہ سراسر بنیادی اور قانونی حقوق کی خلاف ورزی ہے”
سابق وزیراعظم عمران خان کا بہنوں اور وکلأ کے ذریعے اڈیالہ جیل سے پیغام (21 اکتوبر، 2025)
"خیبر پختونخوا حکومت میں تبدیلی کا عمل احسن طریقے سے مکمل ہونے پر اپنے تمام ممبران اسمبلی کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ خیبرپختونخوا کے اراکین نے جس طرح نظرئیے پر ڈٹ کر، بنا کسی اگر مگر کے میرے نامزد کردہ وزیر اعلیٰ کو ووٹ دئیے ہیں، وہ قابلِ ستائش ہے۔ میں علی امین گنڈاپور کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے بغیر کسی تردد کے ایک نہیں تین مرتبہ استعفیٰ دیا۔ یہ ہموار ٹرانزیشن اس بات کا ثبوت ہے کہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے نظرئیے کا بول بالا ہے۔
سہیل آفریدی کو خصوصی پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ میرا اوپننگ بیٹسمین ہے لہٰذا اسے کھل کر کھیلنا چاہیئے۔
پاکستان تحریک انصاف ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس سے منسلک لوگوں کو صرف اس لیے غدار کہہ دینا کہ وہ کسی پالیسی سے متفق نہیں انتہائی خطرناک عمل ہے۔ اس بنیاد پر غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹنے اور ریاست مخالفت کا لیبل لگانے والوں کی دکان بند ہونی چاہیے۔
بطور سیاستدان ایسی کسی بھی پالیسی پر تنقید کرنا میرا حق ہے جو عوام کے مفاد ، ملکی سالمیت اور جمہوریت کے خلاف ہو۔ ایسی ہر پالیسی کی مخالفت کی ہے اور کرتا رہوں گا جو ملکی مفاد کے خلاف ہو۔خیبرپختونخوا میں عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا ہے اور ہم ڈی جی آئی ایس پی آر کو نہیں خیبرپختونخوا کی عوام کو جوابدہ ہیں۔ اس لیے ہم پاکستان اور صوبے کی عوام کے مفاد کے خلاف کبھی نہیں جائیں گے۔
میری فوج سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور عوام بھی میری ہے۔ میرے اپنے خاندان کے کئی لوگ فوج سے تعلق رکھتے ہیں- 1965 کی جنگ میں ہمارے زمان پارک کے 8 میں سے 7 گھروں سے میرے خاندان کے لوگ فوج میں تھے اور ملک کا دفاع کر رہے تھے۔ مجھے افسوس ہوتا ہے جب دہشتگردی کی جنگ میں فوج کے سپاہیوں کا خون بہتا ہے مگر اس کے باوجود بد امنی قائم رہتی ہے اور دونوں طرف ہمارے لوگ مارے جاتے ہیں۔
تاریخ سے ثابت ہے کہ صرف ملٹری آپریشنز دہشتگردی کا حل نہیں ہیں۔ ہمارا اصولی موقف ہے کہ خیبرپختونخوا میں ملٹری آپریشنز قابل قبول نہیں ہیں کیونکہ اس میں “کولیٹرل ڈیمج” کے نام پر معصوم لوگ شہید ہوتے ہیں، اور وہ اپنے علاقوں سے دربدر ہوتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے بڑے بڑے آپریشن کر کے دہشتگردی ختم کرنے کی کوشش میں ہیں مگر یہ ناسور ختم نہیں ہو رہا۔ ہر سال بہت سا قیمتی خون بہہ رہا ہے، کبھی فوج اور پولیس فورسز کے اہلکاروں کی شہادتیں ہوتی ہیں تو کبھی معصوم شہری دہشتگردی کے واقعات میں جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
ہمیشہ کہا ہے کہ دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے بند کمروں کے فیصلوں کی بجائے ایک موثر، سیاسی بصیرت پر مبنی جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ سیاسی نمائندوں اور خیبرپختونخوا حکومت کی موجودگی اور مشاورت کے بغیر بنائی گئی کوئی بھی پالیسی قابل قبول نہیں۔ دہشتگردی کے خلاف پالیسی بناتے ہوئے تمام اہم اسٹیک ہولڈرز سے بات کی جائے چاہے وہ مقامی قبائل ہوں یا خیبرپختونخوا حکومت، وفاقی حکومت یا افغان حکومت۔ افغانستان کے ساتھ بات چیت کے بغیر دہشتگردی کا مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔
خیبرپختونخوا کی نئی حکومت کو ایک مرتبہ پھر سے ہدایت کرتا ہوں کہ دہشتگردی کے خلاف تمام فریقین کے ساتھ بات کر کے موثر اور جامع حکمت عملی بنائیں تاکہ صوبے میں موثر اور دیرپا امن قائم ہو اور نتیجتاً معیشت بحال ہو۔
ہر جمہوری معاشرے میں عوام کو احتجاج کا حق حاصل ہوتا ہے۔ نہتے لوگوں پر تشدد کرنا اور سیدھی گولیاں چلانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ تحریک لبیک کے ساتھ جو ظلم ہوا، تحریک انصاف تین سال سے یہی ظلم برداشت کر رہی ہے۔ 26 نومبر کو ڈی چوک میں بھی ایسے ہی خون کی ہولی کھیلی گئی جب ہمارے نہتے کارکنان پر سنائپرز سے گولیاں چلوائی گئیں۔ میں مریدکے سانحے میں بیہمانہ تشدد اور نہتی عوام کو گولیاں مارنے کی پر ز��ر مذمت کرتا ہوں”
سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام (14 اکتوبر، 2025)
“Pakistan’s defense pact with the Kingdom of Saudi Arabia is a welcome development. Discussions for such an agreement were ongoing during our time in government as well. Every Muslim desires that the security of the Haramain Sharifain is guaranteed, and it is a matter of pride and honor for every Pakistani to have this privilege.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s message from prison (22 September 2025)