سرکاری سکولز کی نجکاری روکیں۔ سکولز چلانے کے لئے استاد دیں یا کونسل میں فنڈ دیں ۔
جو پرائیوٹ بندے کو فنڈ دینا اس سے آدھا سکول کو دیں۔ کیسے نہیں چلتے سکول۔
#سرکاری_سکولز_قوم_کا_اثاثہ
سرکاری سکولز پرائیوٹ پبلک پارٹنر شپ کے نام پر EMO یعنی پیما کے ذریعے بندر بانٹ کرنا سرکاری خزانے پر ڈاکے کے ساتھ ساتھ طلبا واساتذہ کا استحصال ہے
سرکاری سکولز کی نجکاری نامنظور ہے اور نامنظور رہے گی۔
@naziagoraya 2018 میں جب میں بھارتی ہوئی تھی ایک شہری سکول میں اور کرونا ٹائم ��یں بنا ہے گئے واٹس ایپ گروپس 90% تک کامیاب رہے
2022 میں گائوں کے سکول میں ٹرانسفر ہوا بارڈر ایریا میں جہاں موبائل نیٹ ورک شاذ و نادر آ تے مٹھی بھر بچوں کا ایک واٹس ایپ گروپ بھی کامیابی سے نہیں چلا
اسلام علیکم ۔
محترمہ جناب وزیراعلی صاحبہ۔
آپ جانتی ہونگی کہ پنجاب کے تقریبا 15000 سکولز میں اس وقت zero ٹیچر ، ایک ٹیچر یا دو ٹیچر ہیں۔ جن سکولز کو آپ کے پاس شاید نا��ام سکولز یا پھر ایسے سکول کے طور پر پیش کر دیا جائے کہ ان پر گورنمنٹ کا خرچہ 3000 روپے فی بچہ آتا ہے اور پرائیوٹ کرنے سے گورنمنٹ کا خرچہ 1000 یا 600 فی بچہ آجائے گا۔
میری آپ سے گذارش ہے کہ یہ معاملہ ایسا نہیں ۔ میں پنجاب بھر کے آفیسران کی رائے لے کر پوسٹ کر رہی ہوں کہ وہ یہ سکول 400 روپیہ فی طالب علم لے کر سکول کونسل میں پہلے موجود نظام PTC سے چلا دیں گے۔ اور ٹیچرز کو تنخواہ بھی ppp کے مجودہ ماڈل سے ڈبل دینگے۔
لیکن گورنمنٹ جہاں دوسرے سیٹ اپ کو 600 یا 1000 دینے جا رہی اپنے ہی سیٹ اپ کو 400 روپیہ فی بچہ دے دے۔ ایک تو گورنمنٹ کی رٹ قائم رہے گی دوسرے سیٹ اپ کی آپریشنل کاسٹ نہیں دینا پڑے گی۔
میں یہ ٹویٹ مکمل ذمہ داری سے کر رہی ہوں آپ کو نام بھی بتا سکتی ان افراد کے جو یہ ابھی سے فیلڈ میں کہہ رہے کہ 100 سکول میں نے لینا ماہانہ اتنے کڑور آ جائے گا۔ کوئی 200 کا کہہ رہا۔
اور پنجاب بھر کے تعلیمی آفیسراں کی رائے ہے کہ اگر ہم نہ چلا سکے تو گورنمنٹ بے شک ان کے علاؤہ اور بھی پارٹنر شپ میں دے دے۔
لیکن خدارا اس معاملے کی چھان بین کر لیجئے گا کہ 3000 فی بچہ جن کا بتایا جا رہا ان میں جب ٹیچر ہی نہیں تو ان پر تو خرچہ نہیں آرہا۔ ٹیچر دیں گے تو خرچہ آئے گا۔
اگر موجودہ سیٹ اپ کم خرچے میں چلانے پر رضامند ہے تو آپ یہ لازمی کریں۔ ایک سال میں پرائیویٹ ٹیچر کوچ رکھ کر ہم چلا دیں گے پھر آپ اساتذہ دے دیں۔ پہلے بے شک نہ دیں۔ ایک کڑوربچہ سکول سے باہر یہ جو سب گورنمنٹ کے سکولز کو کامیاب کرنا چاہتے ان کا اپنا سیٹ اپ وہ بچے لانے میں کیوں ناکام ہے۔ پرائیوٹ پارٹنر شپ تو تب ہے کہ یہ بھی رقم خرچ کریں اور پھر گورنمنٹ سے فی بچہ پیسے لے لیں۔ یہ گورنمنٹ کے بنے ہوئے سیٹ اپ پر نظر کیوں جمائے بیٹھے ہیں۔
ایسے تمام پارٹنر اداروں کے سکول جن کا سیٹ اپ انہوں نے کھڑا کیا اور گورنمنٹ اب نا کو فی بچہ پیسے دے رہی میں ان کے خلاف نہیں آپ اس سسٹم کو مزید پروموٹ کریں۔
و ما علینا الاالبلاغ المبین
استاد : ارسلان آپ علی کے گھر جا کر سبق یاد کرنا وہ آپ کی مدد کرے گا۔
ارسلان: ٹیچر جی میں سکول کے بعد گھر ہی نہیں جاتا ابوکی مدد کے لیے چودھری صاحب کے ڈیرے چلے جاتا ہوں۔
😢😢
آپکے گھر دس مہمان آ جائیں..!!
تو
فوراً سے نت نئے برتن
صاف ستھرے بستر
اور
ہر طرح کا انتظام ہو جاتا۔
مگر
جب ایک اکیلی لڑکی بیاہ کر آتی ہے
تو
اسکے لیےصرف ایک سرہانہ
کمبل
بستر
چمچ
پلیٹ
ایک گلاس میسر نہیں کر سکتے
کہ
اسے ٹرک بھر کر سامان لانا پڑتا۔
تو مرد بنو اور جہیز پر لعنت بیجھو۔
ہمارے م��اشرے میں سب سے مظلوم بیٹی وہ ہے جو آج بھی چار پانچ ہزار روپے ماہانہ پر پرائیویٹ سکول میں ملازمت کرنے پر مجبور ہے،
کہ چلو اور کچھ نہیں تو ہر تنخواہ پر ک��ھی ایک بیڈ شیٹ کبھی کوئی برتن جہیز کیلئے تیار ہو جائے گا،
اور ظالم ترین طبقہ ان سکولوں کے مالکان ہیں،
آج ایسی ہی ایک بیٹی سے بات ہوئی ایک سکول والوں نے اسکی دو ماہ کی تنخواہ تک نہیں دی، اسکے آنسو کلیجہ چیر گئے😭
آرمی کے افسران ،ججز ،بیورو کریسی ،وزیروں اور مشیروں کی صرف ایک دن کی مراعات ختم کریں تو سرکاری سکولوں کے بچوں کی کتابوں کا مسئلہ حل ہو جائے اور انہیں مکمل کتابیں مل جائیں گی،اب تو بچوں کو لارے لگا لگا کے بھی تھک گئے ہیں،بیٹا کل انشاء اللہ آپکو کتابیں مل جائیں گی۔بچوں کے آنسو🙏
اسلام علیکم
1۔ زلزلہ زدگان کی تمام سکولز مدد کریں لیکن سکولز میں پیسے اکٹھے نہ کریں۔ یہ ہمارا نوٹیفکیشن ہے لیکن آپ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ روز بتائیں کہ کتنے پیسے جمع کر لئے یہ ہمارا پروفارمہ ہے۔
کرنے کے کام
1۔ کسی بے روزگار کے روزگار کا سبب بننا
آپ ورکنگ ہیں تو لوگوں کو ضرور طریقہ کار سے آگاہی دیں اور کوشش کریں کہ اپنے گھر میں ضرور ہیلپر رکھیں آپ اس کو پے منٹ تو اس کی محنت کی دیں گے ہی لیکن آپ کے گھر میں خوراک ��ا ضیاع بھی ختم ہو جاتا یہ آپ کا بچا ہوا کھانا پرانی چیزیں