کل جنید جمشید کے ایک گانے کی دو چار لائنز لکھی تھی مشکل وقت کے بارے میں۔ آج کسی سوشل میڈیا ٹایگریس نے اسی گانے پر یہ IK Edit بنا کر بھیجی۔
کافی لوگ سامنے آکر اپنے نام سے پوسٹ نہیں کر سکتے آجکل مگر دل اب بھی عمران خان اور پاکستان کے لیے فکر مند ہے اور سب سوشل میڈیا کنزیوم کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ وڈیو ایڈٹ ان سب کے لیے جو خاموش کروا دیے گئے مگر جہاں موقعہ ملتا ہے وہاں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
#ReleaseImranKhan
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر ا��ر پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Our family has appealed to all party office holders, senior leadership, MNAs, MPAs, and Senators to come to Adiala Jail this Tuesday to build pressure on the government to:
1. Allow immediate access for Imran Khan’s lawyers and family.
2. Transfer Imran Khan to Shifa International Hospital for proper medical examination and treatment, in the presence of specialists, his personal doctor, and family.
3. Ensure Chief Justice Dogar takes up the bail applications of Imran Khan and Bushra Bibi so they can be released from this illegal imprisonment without delay.
Imran Khan and Bushra Bibi are being held in solitary confinement, one of the harshest forms of treatment in violation of Pakistani law and international human rights standards.
ھمیں اپنی قید اپنی آزادی لگتی ھے
پنجرے اپنے گھر لگتے ھیں
وہ گھر جو ھمیں جان سے بھی پیارے ھیں
ھم وہ پرندے ھیں کہ
پنجرہ کھول بھی دیا جائے تو بھی نہیں اڑیں گے
ھم جسمانی طور پہ تو مکمل ھیں
لیکن زھنی طور پہ اپاھج ھیں
غلام ھیں!
#sahilaizazadeemhashmi♥️
حبا بخآری نے دل جیت لیا ♥️
حبا بخآری نے اہم وقت میں عمران خان کی تقریر دوبارہ پوسٹ کردیا, ساتھ میں کھل کر حقیقت بتادی!!
"آج معلوم ہؤا عمران خان کیوں ناحق قید ہے"
بہنیں اپنے بھائی کے لیے ہر ہر لفظ ادا کرتی ہیں
بہنیں اپنے بھائی کی خاطر سخت سردی گرمی میں سڑکوں پر ذلیل و خوار ہو رہی ہیں
بہنیں تشدد برداشت کرتی ہیں ظلم برداشت کرتی ہیں انڈے برداشت کرتی ہیں دھمکیاں برداشت کرتی ہیں تو صرف بھائی کے لیے کرتی ہیں
بزرگ بہنوں کو عزت دو
عمران ریاض نے24نیوز کا مائیک اٹھا کر کہا کہ ایسے مائیک غریب کےمنہ میں فٹ کر دیتے تھے ،بتائیں جی کتنے کا آٹاہے
وہ صحافی بھی زندہ ہیں یہ مائیک بھی ہے وہ دکان دار بھی ،غریب عوام بھی زندہ ہے ،لیکن آج کوئی صحافی نہی پوچھ رہا آٹے کی قیمت ۔
عمران ریاض خان����
اگر عمران خان کے ساتھ کوئی آخری بندہ رہ جائے گا تو وہ میں ہوں گی، کیونکہ ند میں مایوس ہوئ ہوں اور نہ ہی میں نے حوصلہ ہارا ہے
🚨Repost, copy, post it again
نو گیارہ کے بعد پاکستان امریکی جنگ کا حصہ بنا تو وہ اسکے خلاف تھا
برطانیہ کی عراق جنگ میں شمولیت کے خلاف لندن مظاہروں میں شریک تھا
پاک فوج نے ملک کے قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن شروع کیے وہ مخالف تھا
بدترین حالات میں وہ لانگ مارچ ل�� کر ٹانک تک گیا کہ شاید امن قائم ہوجائے
حکومت میں آیا تو فوجی آپریشنز کا سلسلہ روکا اور امن کی پائیدار کوششیں کیں
روس اور یوکرین کی جنگ میں بے تحاشا دباؤ کے باوجود جنگ کی مخالفت کی اور نیوٹرل رہا
اقتدار سے نکالا گیا تو جیل سے بیٹھ کر فوجی آپریشنز کی مخالفت کرتا رہا
شاید اس قدر مستقل مزاجی سے جنگوں کی مخالفت اور مذاکرات و امن کی حمایت اس کی سطح کے کسی لیڈر نے گزشتہ کچھ دہائیوں میں نہیں کی ہوگی۔
‼️ اہم ‼️
پاکستانیو
کیا 10 اپریل 2022 کی طرح ایک بار پھر آپ بغیر کسی کال کے اپنے لیڈر کے لئے آنے والی 10 اپریل کو نکلیں گے؟
کیا آپ آج بھی بالکل ویسے ہی خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں جیسے تب کھڑے تھے؟ حوصلہ ٹوٹا تو نہیں؟ ہار تو نہیں گئے؟
اگر آپ آج بھی خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں تو اس 10 اپریل کو ثابت کریں۔
کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں، بس اپنے اپنے علاقوں میں نکل کر خان صاحب کے ساتھ یکجہتی کی تجدید کر دیں۔