ایک صوبے میں ایک وزیر کو اٹھایا جا سکتا ہے، ایک دوسرے وزیر کو اٹھانے پر جب سیلف ڈیفنس میں گولی چلائی جاتی ہے تو اس پر ایف آئی آر درج کی جاتی ہے اور اس کی ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی۔ منتخب ایم این ایز کو گھروں اور سڑکوں سے اٹھایا جا سکتا ہے، ایم پی ایز اور ایم این ایز کے گھروں میں جا کر توڑ پھوڑ کی جا سکتی ہے۔
ڈی پی او کی تبدیلی صرف اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ آپ نے چیف منسٹر کو پروٹوکول کیوں دیا۔ جہاں چیف منسٹر کی مرضی کا ڈی پی او نہیں لگ سکتا، جہاں ڈپٹی کمشنر کسی کی مرضی کے تبادلے پر چارج نہیں لے سکتا، وہاں کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
بھائی جان! ہمارے گھروں میں گھسنے پر ہم نہ آپ کو روک سکے اور نہ آپ نے ہم سے اجازت لی، تو باقی بھی خود کریں۔ ہماری اجازت کی کیا ضرورت ہے؟
یہ تو پھر ڈرافٹ تھا یہ سارے جمہورے ٹُچے تو ٹٹی بھی پوچھ کر کرتے ہیں
ایک ڈرافٹ میں لکھا تھا کہ پی ٹی آئی کے جن اسیران کو کوئی بیماری لاحق ہے وہ رحم کی اپیل کریں گے ہم نے کہا کہ وہ رحم کی اپیل کیوں کریں گے یہ تضحیک آمیز الفاظ ہیں انہیں نکالیں تو کہا گیا اچھا " میں پوچھ لیتا ہوں " ! سلمان اکرم راجہ ۔۔
دعا ہے کہ بے گناہ اسیروں کی بیماری کو اپنی انا کو تسکین پہنچانے کے لیے استعمال کرنے کی خواہش رکھنے والا یہ نطفہ نا تحقیق ایڑیاں رگڑے لیکن اسے موت نہ آئے۔ پروردگار اسے بدترین انجام سے دو چار کرے اور اسے نشانِ عبرت بنا دے۔ ہر دور کے ہر یزید پہ لعنت بیشمار۔
سہیل آفریدی کو فورا کنٹنیر سے عمران خان کے بلڈپریشر کی حکومت وفد کی رپورٹ کو عوام تک پہنچانا چاہیے اس کا زکر کریں اور انہیں بتاہیں وہ خدشات کہ ان کا کیا حشر ہوسکتا ہے انہیں اس وقت کی تصویر دکھا دیں تاکہ یہ سوچ لیں اپنا پرامن سیاسی انجام بھی
@SohailAfridiISF
بیرسٹر گوہر
سلمان اکرم راجہ
اسد قیصر
تینوں مذاکرات میں موجود تھے۔ تینوں کو عمران خان کی خراب صحت کا بتایا گیا۔ تینوں مختلف میڈیا پروگرامز میں موجود رہے۔ تینوں نے عمران خان کی صحت کا تیسرے دن تک کہیں ذکر نہیں کیا۔
مراد سعید بار بار خیبر، پشاور سے کراچی، لاہور، کوئٹہ، گلگت اور کشمیر تک چلاتا رہا کہ یہ آگ لگے گی تو اس کی چنگاری سب کے گھر گرے گی، اس آگ کی تپش پورا پاکستان محسوس کرے گا لیکن کسی نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔اب بھی وقت ہے روکو اس آگ کو ورنہ مزید لاشیں گریں گی
@MuradSaeedPTI#Bajawar
عمران خان کی صحت اور زندگی سب سے اہم ہے لیکن ٹاؤٹوں راویوں منوں اور سالوں کے طرز عمل سے یہی لگتا ہے کہ انہیں پکی گارنٹی دی گئی ہے کہ زندہ باہر نہیں آنے دیا جائے گا اسی لئے سب کھل کے کھیل رہے ہیں لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے؟
پی ٹی آئی کو سب سے پہلے بیرسٹر گوہر کی یقین دہانیوں کا علاج کروانا چاہئے ۔۔۔ پوری پارٹی میں واحد شخص ہے جس پر فوج بھی اعتماد کرتی ہے اور جو ہمیشہ عمران خان کی صحت سے متعلق یقین دہانیوں پر یقین کر لیتے ہیں اور جب جب عمران خان کی صحت کا معاملہ آیا تو بیرسٹر صاحب نے فوج کے بیانیہ اپنایا کہ عمران خان بالکل ٹھیک ہیں کیونکہ پہلے دن سے بئرسٹر گوہر کو عمران خان کے علاج سے متعلق آگاہ کیا جاتا رہا ہے ۔۔۔ اگر عمران خان کی صحت بالکل ٹھیک تھی تو پھر پہلے آنکھ اور اب بلڈ پریشر کا مسئلہ کیسے بن گیا؟؟؟
یعنی سلمان اکرم راجہ کو مذاکرات کے دوران عمران خان کے بلڈ پریشر کے بارے میں بتایا گیا اور سلمان اکرم راجہ آج وہ بات تیسرے دن میڈیا اور عوام کو بتا رہے ہیں؟
راجہ صاحب آپ کی زبان نستعلیق سہی ۔ آپ کے اعصاب موم ہیں۔ آپ میں یہ بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں۔
ہیلو سہیل آفریدی بھائی ، آپ سے درخواست ہے کہ اگلی تقریر میں عمران خان کے بلڈ پریشر ، خرابی صحت کا بھی ذکر کریں اور ذمہ داران کو اس پر اپنی تشویش سے بھی آگاہ کریں۔
ہیلو سہیل آفریدی بھائی ، آپ سے درخواست ہے کہ اگلی تقریر میں عمران خان کے بلڈ پریشر ، خرابی صحت کا بھی ذکر کریں اور ذمہ داران کو اس پر اپنی تشویش سے بھی آگاہ کریں۔
بیرسٹر گوہر
سلمان اکرم راجہ
اسد قیصر
تینوں مذاکرات میں موجود تھے۔ تینوں کو عمران خان کی خرابی صحت کا بتایا گیا۔ تینوں مختلف میڈیا پروگرامز میں موجود رہے۔ تینوں نے عمران خان کی صحت کا تیسرے دن تک کہیں ذکر بھی نہیں کیا۔
یہ بھی سلمان اکرم راجہ صاحب نے سوال پوچھنے کے بعد بتایا ہے حالانکہ ان کی پریس کانفرنس کا آغاز ہی اسی نقطے سے ہونا چاہیے تھا، اس معاملے پر تو پی ٹی آئی کو ہنگامہ کھڑا کر دینا چاہیے تھا لیکن ہر چیز بالکل نارمل ہے
تُن کر رکھتے ہوئے
مقدمہ عوامی عدالت میں ہے اب
”اسٹیبلشمنٹ کا کارندہ پریس کانفرنس میں مجھے کہتا ہے کہ میں ناسمجھ ہوں اور امیچور ہوں۔
1. تو فرض کریں میں یہ بیان دوں کہ مجھے انڈیا سے نہیں، باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے، تو میں آپ کے لیے سمجھدار ہو جاؤں گا؟
2. جو مجھے کہتا ہے میں ناسمجھ ہوں، جن کے جلسوں میں وردی کے خلاف نعرے لگے، کیا میں وہ نعرے لگاؤں کہ آپ مجھے سمجھدار سمجھیں؟
3. اگر میں اسمبلی کے فلور پر کہوں (جیسے خواجہ آصف نے کہا) کہ فوج نے ہماری ہڈیاں نوچ کھائی ہیں، پھر میں آپ کے لیے سمجھدار ہوں؟
4. اگر میں انٹرنیشنل میڈیا میں کہوں کہ فوج ڈرٹی گیمز کا حصہ ہے، کیا میں آپ کے لیے سمجھدار ہوں گا؟“ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا اسٹیبلشمنٹ کے کارندے سے سوال۔