لباس ہے پھٹا ہوا، غُبار میں اٹا ہ��ا
تمام جسمِ نازنیں، چھدا ہوا کٹا ہوا
یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے
کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا
یہ بالیقیں حُسین ہے، نبی کا نُورِ عین ہے
حفیظ جالندھری
🌼❤️✨
" پرسہ "
غم حسین ہے ؟ اس سے بڑا تو غم ہی نہیں
گزر گئیں کئی صدیاں ہوا یہ کم ہی نہیں
یتیم شاہ کے ، بھائی جواں ، پسر نہ رہے
تھا وقت ایسا ستم بیبیوں نے کیا نہ سہے
جوان لاشوں نے لبیک اپنے رب کو کہا
میں اپنے دل کو کہاں سے صبر دلاؤں گی
نبی کے جیسی جو اذان کہنے والے ہیں
خبر یہ سب کو تھی حلقوم کٹنے والے ہیں
خدا کے نام پہ یہ چاند مٹنے والے ہیں
ہے ذکر ان کا بلند ہر قدم پہ مجلس ہے
سلام پہنچے گا ان کو کیا ہے جس جس نے
ہے آرزو مری میں پرسہ دینے آؤں گی