مہاجرین کی بارہ نشستیں ختم کرنے کیلئے دو تھائی اکثریت درکار ہے لاسٹ ٹائم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں بھی یہی ڈسکس ہوا تھا کہ آپ اپنی سیاسی جماعت بنائیں اکثریت میں آ کر قانونی طریقے سے ان نشستوں کو ختم کر دیں۔ مگر وہ چاہتے ہیں کہ یہ سیٹیں حکومت ایسے ختم کرے جیسا انڈیا نے مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمان نشستوں کو کم کیا ہندوؤں کو آباد کیا۔ آرٹیکل 370 کو معطل کر دیا۔ یعنی اپنی پاور کا استعمال کرتے ہوئے تمام اقدامات یکطرفہ کئے اور یہی اقدامات پاکستان سے کروا کر عوامی ایکشن کمیٹی نے کشمیر کے حق خود ارادیت سے دستبردار کروانا ہے۔
آزاد جموں کشمیر کی حکومت نے آزاد کشمیر کی سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے کہ یہ نشستیں بغیر کسی قرارداد منظور کئے کیسے ختم کر سکتے ہیں۔ کوئی ایسا قانونی راستہ نہیں کہ حکومت اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ان نشستوں کو ختم کر دے۔ پاکستان نے اگر یہ کام کر دیا تو پاکستان اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جائے گا اور کشمیر کا مقدمہ جو کئی سالوں سے لڑا جا رہا ہے وہ ہار جائے گا۔ ان نشستوں سے ضرور پولیٹیکل انجینرنگ ہوتی ہے مگر ان کو قانونی حیثیت سے ختم کیا جائے گا تو عالمی سطح پر پاکستان کے پاس جواز ہوگا کہ اسمبلی نے دوتھائی اکثریت سے ختم کیا ہے جبکہ انڈیا نے ایسے نہیں کیا۔ تو اس سے فرق نہیں پڑے گا۔ عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ عوام ہے تو وہ جولائی میں الیکشن لڑیں دو تھائی اکثریت لیکر آئیں اور نشستیں ختم کر دیں۔
ایکس پر ان کمیٹی کو انڈین اکاؤنٹ پروموٹ کر رہے ہیں۔ آپ خود جا کر اکاؤنٹس کی تفصیلات دیکھ سکتے ہیں۔ دوسرا ان کو باہر بیٹھے کشمیری پراپیگنڈے کے ذریعے استعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ ان کی ٹوٹل آمدن 60 ارب روپے سالانہ آتا ہے لیکن لگتا 300 ارب روپیہ ہے 240 ارب روپے وفاق ان کو جیب سے ادا کرتا ہے عوام کے حقوق کی یہ جنگ ہے ہی نہیں۔ پورے پاکستان میں مہنگا ترین آٹا ملتا ہے ان کو سستا ملتا ہے بجلی سستی ملتی ہے ان کا بوجھ اسی وجہ سے اٹھایا جا رہا ہے کہ مستقبل میں ریفرنڈم کروایا جائے۔ اور پاکستان کو حق مل جائے۔
فرحان ملک
#جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان #کشمیر_میں_انتشار_نامنظور #ॐ_शं_शनैश्चराय_नमः
آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ 1947 میں چھ وزراء پر مشتمل تھی، جن میں دو مہاجر کشمیری وزیر غلام دین وانی اور ثناءاللہ شامیم بھی شامل تھے۔دونوں کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ شہید مقبول بٹ نے بھی مہاجر نشست پر الیکشن لڑا تھا مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان کے کشمیری ایک ہیں۔ان میں کوئی تفریق نہیں۔مہاجر کا مطلب مقبوضہ کشمیر سے آ کر پاکستان میں بسنے والا کشمیری ہے۔ کوئی نئی قوم کا بندہ نہیں ہے۔ اور وہاں سے آئے لوگوں کو ہی یہ بارہ نشستیں ملتی ہیں۔
ایسٹبلشمنٹ آزاد کشمیر کی عوامی ایکشن کمیٹی کا بارہ نشستوں والا مطالبہ کسی صورت تسلیم نہیں کرے گی، اس کمیٹی کی تمام قیادت کو گرفتار کر کے جیل میں قید کیوں نہ کرنا پڑ جائے کیونکہ وہ پاکستان کی فارن پالیسی کا مین آبجیکٹیو ہے اگر وہ بارہ نشستیں ختم ہوتی ہیں تو انڈیا کو فائدہ ہوگا اور پاکستان کشمیر کی حق خود ارادیت سے پیچھے ہٹ جائے گا۔ پاکستان نے کشمیر کیلئے شروع دن سے جو موقف دیا ہے وہ ختم ہو جائے گا اسی وجہ سے پاکستان نے شروع سے ہی مہاجرین کو نشستیں دے رکھی ہیں۔
آزاد کشمیر کی پہلی کابینہ 1947 میں چھ وزراء پر مشتمل تھی، جن میں دو مہاجر کشمیری وزیر غلام دین وانی اور ثناءاللہ شامیم بھی شامل تھے۔دونوں کا تعلق راولپنڈی سے تھا۔ شہید مقبول بٹ نے بھی مہاجر نشست پر الیکشن لڑا تھا مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر اور پاکستان کے کشمیری ایک ہیں۔ ان میں کوئی تفریق نہیں۔مہاجر کا مطلب مقبوضہ کشمیر سے آ کر پاکستان میں بسنے والا کشمیری ہے۔ کوئی نئی قوم کا بندہ نہیں ہے۔ اور وہاں سے آئے لوگوں کو ہی یہ بارہ نشستیں ملتی ہیں۔
پاکستان کا شروع دن سے یہی موقف رہا ہے کہ ریفرنڈم کرواؤ اور کشمیر کو آزادی دو۔ ان نشستوں کو ختم کرنے کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا کے آرٹیکل 370 کے نفاذ کو درست تسلیم کرنا جوکہ پاکستان نے ہر فارم پر تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کیخلاف آواز اٹھائی۔لیکن عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 میں سے 36 مطالبات کے تسلیم ہوئے وہ باقی عوامی مطالبات پر فوکس کرتی مگر ان کی تحریک کی مکمل توجہ انہیں بارہ نشستوں پر ہے کہ ان کو ختم کیا جائے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ اور اس کمیٹی کا ایکس اکاؤنٹ بھی پاکستان سے نہیں چل رہا۔
آزاد جموں کشمیر کی اسمبلی میں کل 53 نشستیں ہوتی ہیں 33 مقامی نشستیں ہیں 12 مہاجرین کی ہوتی ہیں جو (Act VIII of 1974) میں مہاجرین کی نمائندگی بنیادی طور پر Article 22 کے تحت طے کی گئی ہے، اس میں 6 جموں ڈویژن اور 6 کشمیر ڈویژن کے لیے مخصوص ہیں۔ 5 خواتین 1 علماء 1 ٹیکنوکریٹ 1 بیرون ملک کشمیری کی ہوتی ہیں۔
اگر یہ بارہ نشستیں ختم کر دی جاتی ہیں تو انڈیا کے normalcy اور development والے بیانیے کو تقویت ملے گی کہ پاکستان کی طرف سے اب کوئی چیلنج نہیں ہے۔ کیونکہ 2019 میں انڈیا نے Article 370 ختم کر کے Jammu & Kashmir کو دو UTs میں تبدیل کیا انڈیا نے کہا کہ اب کشمیر کا مسئلہ ختم ہو چکا ہے۔نشستیں ختم ہونے سے انڈیا کے پاس دلیل ہوگی کہ پاکستان بھی عملی طور پر تقسیم قبول کر رہا ہے یعنی AJK مقامی بن رہا ہے اور پورے ریاست کے دعوے سے دستبردار ہو رہا ہے۔جوکہ پاکستان کبھی بھی دستبردار نہیں ہوا۔
اصل میں یہ نشستیں UN resolutions اور plebiscite کے بیانیے سے پاکستان نے جوڑ رکھی ہیں، کیونکہ مہاجرین کو بھی مستقبل کے کسی ریفرنڈم میں شامل کیا جائے گا۔ ان کے خاتمے سے پاکستان کا او آئی سی اور یونائیٹڈ نیشنز کے مستقبل کے ریفرنڈم میں موقف کمزور ہو جائے گا پاکستان کیخلاف تاثر بن جائے گا کہ پاکستان کشمیر کاز کی سیاسی جہت کو کمزور کر رہا ہے اور مہاجرین کو الگ تھلگ کر رہا ہے۔ انڈیا بھی کہے گا جس نے ابھی سے کہنا شروع کر دیا ہے کہ کشمیر میں plebiscite کا کوئی معاملہ نہیں، یہ پاکستان کی تیار کردہ صورتحال ہے۔ پاکستان خود اپنے موقف سے پیچھے ہٹ رہا ہے اور مہاجرین کی نمائندگی ختم کر کے حق خود ارادیت کے دعوے کو خود ہی کمزور کر رہا ہے۔ اس سے پاکستان کا موقف کسی صورت مظبوط نہیں رہے گا۔ اور کشمیر پاکستان و انڈیا کا ورائٹی ایشو بھی ختم ہو جائے گا۔ جس سے پاکستان کئی سالوں کی جنگ ہار جائے گا۔
تحریر: فرحان ملک
#کشمیر_میں_انتشار_نامنظور #جی_بی_کا_کپتان_عمران_خان #کشمیر_میں_انتشار_نامنظور
U.S. forces intercepted multiple Iranian ballistic missiles and drones launched by Iran toward the Strait of Hormuz and Gulf neighbors, June 5.
Iran fired seven ballistic missiles toward Kuwait and Bahrain hours after U.S. Central Command (CENTCOM) shot down four Iranian one-way attack drones that were launched toward the Strait of Hormuz. The attack drones posed an immediate threat to regional maritime traffic. U.S. forces subsequently struck Iranian coastal surveillance radar sites in Goruk and on Qeshm Island to defend against further maritime attacks.
Initial assessments indicate six of the missiles launched by Iran were intercepted and a seventh did not reach its intended target. There are currently no reports of harm to U.S. personnel, and Iranian claims of damaging U.S. 5th fleet headquarters in Bahrain are false.
CENTCOM forces remain vigilant and postured to continue responding to unwarranted Iranian aggression in self-defense.
سینٹ کام کے مطابق امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز کی جانب آنے والے چار ایرانی ڈرونز کو مار گرایا۔
ایرانی ڈرونز نے علاقائی سمندری ٹریفک کے لیے فوری خطرہ لاحق کر دیا۔اس کے بعد امریکی افواج نے مزید حملوں سے بچاؤ کے لیے گوروک اور جزیرہ قشم میں ایرانی ساحلی نگرانی کے ریڈار سائٹس کو نشانہ بنایا۔
امریکی افواج اپنے دفاع میں بلاجواز ایرانی جارحیت کا جواب دینے کے لیے چوکس رہتی ہیں۔
ایکشن کمیٹی کالعدم ہوگئی ہے بس معاملات افہام و تفہیم کیساتھ سلجھائیں۔ پاکستان کیلئے اتنے محاذ نہ کھولیں۔ بہتر کی ہوئی جیو پولیٹیکل پروفائل بھی اس کے نتائج کو برداشت نہیں کرسکے گی۔
ملٹری و سول ایسٹبلشمنٹ کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ اگر کوئی انٹیلی جنس ہیں بھی سہی تب بھی اس بارڈر کیساتھ کوئی ایڈوانچر سرانجام نہ دیا جائے ہارڈ سٹیٹ بنانے کے چکر میں نقصان کا ازالہ ممکن نہیں ہو پائے گا۔پاکستان کا بارڈر کسی ایک طرف تو محفوظ رہنے دیا جائے۔
آزاد جموں کشمیر میں رینجرز کی تعیناتی یا ایکشن کمیٹی کے لوگوں کی گرفتاری یا پھر عام عوام پر لاٹھی چارج کی بجائے ان کو آرام سے آنے دیا جائے سیکیورٹی دی جائے۔ اگر ان کا پرامن احتجاج نہ ہوا اور کسی ایجنڈے پر نہ ہوئے تو عام لوگوں میں جائیں ان کی بات سنیں ان کو اپنے مسائل سنائیں اور شیئرنگ کر کے درمیان کا راستہ نکالا جائے۔
امریکہ و ایران کے درمیان ایک نئی اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔صدر ٹرمپ نے یورینیم معاملے پر 60 روز کی ڈیڈ لائن تجویز کی ہے جبکہ ایران 90 روز کا وقت چاہتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران میں منجمد فنڈز اور ٹائم فریم پر اختلافات برقرار ہے۔
وٹکوف اور کشنر نے جوہری ماہرین سے ملاقات کی۔ملاقات میں شریک بعض ماہرین وینزویلا یورینیم ریکوری آپریشن کا حصہ رہ چکے ہیں اور مذاکراتی ٹیم میں اعلیٰ جوہری ماہرین شامل ہیں۔
امریکی ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ واشنگٹن کو ایرانی مذاکرات کاروں سے مثبت اشارے ملے ہیں اور امریکا ایران کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔ایران سے مذاکرات کے لیے 100 جوہری ماہرین پر مشتمل خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے۔
#Iran #USA #NuclearTalks #Diplomacy #MiddleEast #BreakingNews #SamaaTV
امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ایران عرب امارات اور چین کی متعدد کمپنیوں کے ایک نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں جو ایران سے چین کو تیل کی ایکسپورٹ میں ملوث ہیں۔
محکمہ داخلہ آزاد جموں و کشمیر نے جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیم قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی دونوں کے نام فرسٹ شیڈول میں شامل کر دیے گئے ہیں۔
#کشمیر_میں_انتشار_نامنظور #CDFShapesPeace #GBMainTeerChaleyGa #PakForGlobalPeace #گلگت_کتاب_کا
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کا فیصلہ پہلے کر دینا چاہئےتھا۔معاملہ پہلے افہام و تفہیم کیساتھ سلجھانے کی کوشش کی گئی مگر انھوں نے ایسے حالات خود پیدا کئے ہیں۔
زبردستی لوگوں کی دوکانیں بند کر رہے ہیں اور عوام میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں ریاست کو بلیک میل کرنے والوں کو ہمیشہ کچل دینا چاہئے۔ یہ بلیک میلنگ والا معلوم نہیں کھیل کب تک کھیلا جائے گا۔
#کشمیر_میں_انتشار_نامنظور #CDFShapesPeace #GBMainTeerChaleyGa #PakForGlobalPeace #گلگت_کتاب_کا
پرو تحریک انصاف صحافی حبیب اکرم وضاحتیں دے رہے ہیں کیونکہ تیروں کا رخ ان کی طرف ہو چکا ہے۔
حبیب اکرم نے کہا کہ لوگ پتہ نہیں میرے سروے کو کس چیز سے جوڑ رہے ہیں لیکن میرے خیالات آج بھی وہی ہیں جن کی وجہ سے میں نوکری سے نکالا گیا ۔ جب 2018 اور 2024 میں پورے پاکستان کا سروے ہو رہا تھا سب سے ذیادہ پریشن مجھ پر ہی تھا۔
اسرائیلی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا کہ جے ڈی وینس نے موساد کا کرد جنگجوئوں کو ایران کے خلاف استعمال کرنے کا منصوبہ ترک صدر کو لیک کیا.
اردگان نے معلومات ملنے کے بعد ٹرمپ پر منصوبہ روکنے کیلئے لابنگ کی، ٹرمپ نے ترک صدر کے خدشات کے بعد کردوں سے متعلق آپریشن ویٹو کر دیا۔
جے ڈی وینس کے پریس سیکرٹری نے اسرائیل کی اس رپورٹ کو یکسر مسترد کردیا اور اسرائیلی اخبار کو بغیر تصدیق خبر لگانے پر آڑے ہاتھوں لیا۔