🚨 ہار ماننا تاریخ نہیں، بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور بنیادی حقوق کی بحالی تک مزاحمت ہمارا حق ہے! 🚨
جب ظلم حد سے بڑھتا ہے، تو مٹ جاتا ہے... لیکن جب غیرت مند قومیں اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہوتی ہیں، تو تاریخ کا رخ بدل جاتا ہے!
بانی پی ٹی آئی صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں، بلکہ اس ملک کی خودداری، حقیقی آزادی اور قانون کی بالادستی کی علامت ہیں۔ انہیں دیوار سے لگانے اور قید میں رکھنے کی ہر کوشش ناکام ہوگی، کیونکہ سچائی اور عوام کی طاقت کو کبھی مغلوب نہیں کیا جا سکتا۔
🔥 ہماری جدوجہد کے بنیادی مطالبات اور مزاحمت کے مقاصد:
فوری اور باعزت رہائی: تمام سیاسی اور بے بنیاد مقدمات کو ختم کر کے بانی پی ٹی آئی کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
طبی حقوق اور ذاتی معالجین تک رسائی: بانی پی ٹی آئی کی صحت پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں۔ حکومت کو فوری طور پر ان کے ذاتی معالجین (Personal Doctors) کو ان سے ملنے اور مکمل معائنے کی اجازت دینی چاہیے۔
آنکھوں کے علاج کی فوری فراہمی: بانی پی ٹی آئی کی آنکھ کے علاج کے حوالے سے لاپرواہی برتنا سراسر ناانصافی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کی مرضی کے ڈاکٹرز سے ان کی آنکھ کا فوری اور تسلی بخش علاج کروایا جائے، یہ ان کا بنیادی قانونی اور انسانی حق ہے۔
اصولوں کی بقا کے لیے: مفاہمت کا مطلب اپنے بنیادی بیانیے کا سودا کرنا ہے، اور بانی پی ٹی آئی نے ہمیشہ سکھایا ہے کہ مصلحت کے آگے سر نہیں جھکانا۔
آئین کی بالادستی کے لیے: یہ جدوجہد پاکستان میں قانون کے احترام، ووٹ کی عزت اور آئین کی حکمرانی کے تحفظ کے لیے ہے۔
عوامی مینڈیٹ کا دفاع: عوام کے فیصلے پر ڈاکہ ڈالنے والوں کے خلاف مستقل، پرامن اور بے خوف آواز اٹھانا ہی حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہے۔
"حقیقی آزادی نہ تو مانگنے سے ملتی ہے اور نہ ہی مصلحتوں کی پلیٹ میں رکھ کر دی جاتی ہے۔ یہ چھیننی پڑتی ہے، اور اس کا واحد راستہ آئینی حدوں میں رہتے ہوئے پرامن اور بے خوف مزاحمت ہے۔"
📢 ہمارا عہد:
جب تک بانی پی ٹی آئی کو باعزت رہا نہیں کیا جاتا، ان کے علاج معالجے کے بنیادی انسانی حقوق بحال نہیں ہوتے، اور عوام کے حقیقی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کیا جاتا، ہمارا آئینی اور سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ ہم قانون کی بالادستی کی اس جنگ میں نہ جھکنے والے ہیں اور نہ ہی پیچھے ہٹنے والے ہیں!
فوجی کا غریب عوام کے نام پیغام!!
انڈیا کے لوگ اپنی افواج کے خلاف بات نہیں کرتے تم لوگ کیوں کرتے ہو, اور ہمیں کوئی پرواہ نہیں آپکی باتوں کا, یہ ناکرے دشمن سے اسکو فائدہ ہوتا ہے!!
لیکن فوجی صاحب!! آنڈین فوج نے کبھی مارشل لاء نہیں لگایا، نا آنڈین فوج نے سیاست میں مداخلت کی ہے!
”پاکستان میں حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، عاصم منیر کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے ہیں کہ اب ملبہ کس پر ڈالا جائے۔ علیمہ خانم اور عمران خان کی بہنوں کی جانب سے جس تحریک کا آغاز کیا گیا ہے وہ آنے والے دنوں میں بہت بڑی ہو جائے گی۔ یہ بہنیں صرف عمران خان کی رہائی کیلئے سراپا احتجاج ہیں ورنہ نہ انہیں سینیٹر بننا ہے، نہ کوئی وزارت لینی ہے۔ “
عمران ریاض خان
@ImranRiazKhan
مستقبل آپ لوگوں کا ہے ہمارا نہیں ہے، ظلم کے خلاف کھڑے نا ہوئے تو ایک ایک کر کے سب کی باری آئے گی،
جب ارشد شریف کا قتل ہوا تو ہم نے صحافیوں سے کہا تھا، کہ ایک دن کے لیے تمام صحافی اپنے پروگرامز کا بائکاٹ کر دو، انہوں نے نہیں کیا تو ایک ایک کر کے پھر سب کی باری آئی، علیمہ خان
عمران خان کی ہمت اور استقامت نے اور ان کی بہنوں کی استقامت نے پوری قوم کو بھی یہ پیغام دیا ہوا ہے کہ اپنے حق کے لئے لڑنا پڑتا ہے اور جو لڑتے ہیں وہ کبھی مایوس نہیں ہوا کرتے-
اس لئے اپنے حق کے لئے سٹریٹ موومنٹ کی تیاریاں جاری رکھیں-
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر
اگر اپنے بھائی کے حق میں سڑکوں پر نکلنا مورثیت قرار دیا جاتا ہے، تو ایسی مورثیت اس غداری سے کہیں بہتر ہے کہ ووٹ اپنے قائد کے نام پر حاصل کیا جائے، مگر وفاداری جرنیلوں کے بنگلوں میں ادا کی جائے
اگر خون کا رشتہ نبھانا مورثیت ہے، تو سلام ہے ہر اُس بہن کو جو اپنے بھائی کو مصیبت میں تنہا چھوڑنے کے بجائے اس کے حق میں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی رشتے نبھانے والے تاریخ میں سرخرو رہتے ہیں، ضمیر بیچنے والے وقتی فائدہ تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن تاریخ ایسے لوگوں کو بے ضمیر دلال کے طور پر یاد رکھتی ہے
راولاکوٹ کی جلسہ گاہ میں حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن عمر نظیر کی اپیل پر خواتین اپنے بچوں کے ہمراہ بڑی تعداد میں شریک ہوئیں۔ بچوں نے اسکول یونیفارم پہن رکھی تھی جبکہ خواتین کے ہاتھوں میں سفید جھنڈے ہیں۔ بچوں نے "ہمارے مطالبات منظور کریں" سمیت مختلف مطالبات پر مبنی پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے ہیں۔ جلسے میں ملی نغمے، تقاریر اور دیگر سرگرمیاں جاری ہیں۔
دوسری جانب آزاد کشمیر حکومت کے ترجمان نے گزشتہ روز پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا تھا کہ حکومت کے مطابق کالعدم قرار دی گئی عوامی ایکشن کمیٹی خواتین اور بچوں کو احتجاج میں شرکت پر مجبور کر رہی ہے اور انہیں بطور ڈھال استعمال کرتے ہوئے انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
🚨اتنی آزادی عام پاکستانیوں کو حاصل نہیں ہےجتنی ان دہشت گردوں کو حاصل ہے دن دھاڑے بغیر کسی خوف کے دندناتے پھر رہے ہیں یہ کون لوگ ہیں اور انکو یہ حق کس نے دیا ہے ؟ عام شہری اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کریں توجیل میں؟
عاصم منیر مان جاؤ کہ تم حکومت کرنے کے ہر پہلو پر ناکام ہو چکے ہو، حتیٰ کہ ایک قیدی عمران خان بھی تمہارے آگے نہیں جھک رہا!!!
اتنی طاقت رکھنے کے باوجود تم ہار چکے ہو اور وہ جیل میں رہ کر بھی تم سے جیت رہا ہے-
#مزاحمت_توڑے_گی_ہر_زنجیر