بُوڑھے خاوند کی بینائی بھی کوئی نہیں، ایک ہاتھ بھی نہیں، ایک ہی پُتر ہے وہ چھوڑ کے چلا گیا، اس عمر میں دوا غذا کو ترس رہے ہیں
لاکھوں بزرگ اسی حال میں ہیں، کر کے دکھاؤ ترقی، بوڑھے جو دنیا میں سال دو سال کے مہمان ہیں، رُل رہے ہیں اور آپ برکت ڈھونڈ رہے ہیں، کدی وی ناں
5 ہزار پہنچا
نچلا دھڑ بیکار ہو گیا ہے، آپریشن کامیاب نہیں ہو سکا، ریڑھ کی ہڈی ڈیمیج ہو گئی ہے، بیوی مجھے چھوڑ کے چلی گئی ہے
چار بچے ہیں اور میں معذور - میرا کیا بنے گا؟
جوان جہان لڑک�� کی آواز رندھیا گئی
اللّہ غیب سے مدد فرمائے - آسانیاں ہوں، رستے کُھلیں
چھ ہزار مدد بھی پہنچائی
ایکسیڈنٹ ہوئے سات سال ہو گئے لی��ن میں ابھی تک کوئی مزدوری کرنے کے قابل نہیں ہوا، بیوی فوت ہو گئی ہے، پانچ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ایک دو کچھ مزدوریاں کرتے ہیں اور ��وکھی سوکھی کھا لیتے ہیں
مدد کے مستحق بھائی کو پانچ ہزار مدد پہنچی
گرم آنڈےےےےےے - میرا ابو مزدور ہے، گھر کے خرچے پورے نہیں کر سکتا، میں انڈے بیچتا ہوں، ابو کی کچھ مدد ہو جاتی ہے
حمزہ کی کچھ مدد کی گئی، اللّہ آسانیاں دے
اللّہ شاد آباد خوشحال رکھے، اللّہ اتنا دے کہ بہت سے غریبوں کا بھلا کر سکو، مجھے پڑھنے والی بچیوں کیلئیے پانچ ہزار ملا ہے، انکے لئیے کاپیاں کتابیں وردی جوتے لے لوں گی
انکی دعائیں آپ لوگوں کو لگیں گی، ان شاء اللّہ
بیٹا فوت ہو گیا جسکے یہ بچے ہیں، ماں بھی چلی گئی، دو تین سو کما کر لاتی ہوں برتن مانجھ کر، اس سے یہ بچے پل رہے ہیں، اسکے علاوہ کوئی آمدن نہیں
کریم ب�� بی کی پانچ ہزار مدد ہو گئی
پُتر ویائے ورے گئے، میری وات کوئی نی لیندا
کبھی دھی کے گھر چلا جاتا ہوں کبھی کہیں
گردے مثانے کی پت��ریوں نے تین سال سے منجی پہ ڈالا ہوا ہے، یورین بیگ لگا رہتا ہے
پیسے ہون تے کسے پاسے لگاں
پانچ ہزار ہیلپ پہنچائی
نو سال سے بیوہ اور چار سال سے طلاق یافتہ
چھوٹے چھوٹے بچوں والی دو غریب مائیں جو سلائی جانتی ہیں، مشین نہ ہونے کی وجہ سے ہُنر آزمانے سے قاصر تھیں
دونوں کو چالیس ہزار کی نئی مشینیں پہنچ گئیں
سلائی مشین ایک باعزت ذریعہ روزگار ہے بشرطیکہ کہ خواتین کام جانتی ہوں
بچپن میں ہی معذور ہو گیا تھا، بھائی کی مہربانی اسنے رکھا ہوا ہے، ساتھ یہ کچھ سامان رکھا ہے جس سے مجھے دو سو کے قریب بچت ہو جاتی ہے
محمد اکرام معذور کو پانچ ہزار پہنچا
رشیداں بی بی غریب عورت جسکا کوئی کمانے والا نہیں، سرکاری ہسپتال میں کبھی باری آتی کبھی واپس بھیج دیتے، انہیں چکروں میں دو بیماریاں اور چمٹ گئیں
نمرہ ہسپتال شیخوپورہ میں تیس ہزار جمع کروایا تا کہ مہینہ بھر آرام سے ڈائیلسس ہوتے رہیں
میرے بچے کے اپنے نِکے نِکے بچے ہیں، وہ ہمیں کہاں سے دے؟ میرا نام نذر محمد ہے، ساری زندگی مٹی کے برتن بنا کے حلال روزی کمائی، اب بیوی بھی چارپائی پر ہے اور میری عمر اور حال دیکھ لو، سانو مدد دی ضرورت اے
دس ہزار مدد پہنچ گئی
بچوں کے پاس نہ قاعدہ ہے نہ بستہ نہ وردی، میں بیوہ انکی روٹی کماؤں یا سکولوں کے خرچے پورے کروں، تین گھروں کے برتن دھوتی ہوں، اس سے زیادہ ہمت نہیں
روبینہ بی بی کی پانچ ہزار مدد کی گئی