19 جون 1992 یومِ سیاہ پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن جس دن ملک کی تیسری اور سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایم کیو ایم کے خلاف بد ترین فوجی آپریشن کا آغاز ہوا جو آج دن تک جاری ہے.
#یوم_سیاہ_19_جون
ایم کیو ایم نے مذہب کی بنیاد پر دیوبندی، بریلوی، شیعہ، وہابی، وغیرہ کی تفریق کو ختم کر دیا تھا، اور یہ ایم کیو ایم کی بنیادی تبلیغ کا حصہ ہے کہ کوئی فرقہ وارانہ لڑائی نہیں ہوگی #Altafhussain#MQM#Karachi#Punjab#Pakisatn#Muhajir
ایم کیو ایم نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ پاکستان صرف ایک اسلامی ملک نہیں، بلکہ ایک جمہوری پاکستان ہے، جہاں ہر شخص کا حق ہے، چاہے وہ عیسائی ہو، ہندو ہو، یا کسی بھی مذہب سے ہو الطاف حسین
#Altafhussain#MQM#Karachi#Pakisatn#Punjab
ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، حق کی سحر ہو کر رہتی ہے۔ 19 جون 1992ء کے سیاہ ترین دن شروع ہونے والا جبر کا سلسلہ مہاجر قوم کے فولادی عزم کو ختم کرنے میں ناکام رہا۔ ہم اپنے اسلاف اور شہیدوں کے مشن پر قائم ہیں۔
#TruthAboutOperationBlueFox#MQM#Muhajir#Karachi#Pakisatn
بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں پر جوظلم وستم ڈھایاجارہا ہے کیا اس سے پاکستان کی سلامتی وبقاء ہوگی یا یہ عمل پاکستان کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا؟
بندکمرے اور چاردیواری کے اندر یوم تاسیس منانار کیک کاٹنا کیا دہشت گردی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپوزیشن جماعتوں سے حکومتی رویہ:
اپوزیشن کی جماعتوں کے رہنما اگر اظہار رائے کا حق استعمال کریں تو ریاستی ادارے اور حکومت ان کے ساتھ ایسا سلوک کرتی ہے جیسے وہ ملک کے شہری نہیں ہیں،تحریک انصا ف کے سربراہ عمران خان صاحب اور ان کی جماعت پر قدغن عائد کی گئیں، عمران خان کو تین برسوں سے جیل میں بند کیا ہوا ہے۔ اسی طرح اصل ایم کیوایم پر 11 برسوں سے پابندی لگارکھی ہے، ایم کیوایم کا مرکز نائن زیرو، خورشید بیگم میموریل ہال، پبلک سیکریٹریٹ، ایم پی اے ہاسٹل، زونل، سیکٹر اوریونٹ دفاتر پر تالے ہیں اور الطاف حسین کی تحریر، تقریر پر بھی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ میں ن لیگ کے سربراہ اور ان کی جماعت کے لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا میاں نوازشریف عدالت عظمیٰ سے سزایافتہ نہیں ہیں؟ کیا عدالت عظمیٰ نے ان کی تحریرتقریرپرپابندی نہیں لگائی؟کیانوازشریف پر سیاست میں حصہ لینے پرتاحیات پابندی نہیں لگائی گئی؟میاں نوازشریف جیل میں قید تھے اور ایک معاہدے کے تحت علاج کی غرض سے لندن گئے تھے، کیا وہ معاہدے کے مطابق اپنا علاج مکمل کرواکر وطن واپس آئے؟کیا انہوں نے مفرور قیدی کی حیثیت سے جلاوطنی کے کئی سال لندن میں نہیں کاٹے؟کیا لندن میں قیام کے دوران میاں نوازشریف نے وڈیولنک کے ذریعے خطابات کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ،آئی ایس آئی کے سربراہان اور دیگر جرنیلوں کو برابھلا نہیں کہاتھا؟کیاان کی صاحبزادی مریم صفدر صاحبہ نے پنجاب کے جلسوں میں اپنی موجودگی میں ”مجھے کیوں نکالا“ اور ”یہ جودہشت گردی ہے…… اس کے پیچھے وردی ہے“ کے نعرے نہیں لگوائے؟
میں فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب، کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز اورفیلڈکمانڈرز سے پوچھتا ہوں کہ کیامیری بیان کردہ باتیں غلط ہیں؟ان تمام حقائق کے باوجود فوج کے جرنیل،میاں نوازشریف کو سرخ قالین پر لندن سے پاکستان لے آئے اوران کے مقدمات ختم کردیے گئے۔ یہ تمام حقائق فوجی جرنیل اورپاکستان کے عوام خوب جانتے ہیں کہ 8، فروری 2024ء کے انتخابات میں فوج کے افسران نے فارم 47 میں انتخابی نتائج تبدیل کرکے کامیاب امیدواروں کو ناکام اورناکام امیدواروں کو کامیاب بنایا۔ کیافوج کے افسران کو یہ کام کرنا زیب دیتا ہے؟
ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی آمریت پسندی:
مسلم لیگ میں جاگیردار، وڈیرے اور سرمایہ دار ہیں،ان کا عوام کی فلاح وبہبود سے قطعی تعلق نہیں ہے، ان کی سیاست کا مقصد اقتدار میں آکرملک کی دولت لوٹنا، عوام کوجھوٹے نعروں اوروعدوں سے بے وقوف بنانا ہے، اگر قومی خزانہ لوٹنے والے میاں نوازشریف کی صحیح دولت منظرعام پرلائی جائے تو ان کا شمار دنیا کے امیر ترین افراد میں ہوگا۔
اسی طرح پاکستان پیپلزپارٹی نے ابتداء میں ”روٹی،کپڑا اورمکان“ کا نعرہ دیا تھا، میرا سوال ہے کہ کیا جاگیرداروں اوروڈیروں کو روٹی، کپڑا اورمکان کی ضرورت ہوتی ہے؟یہ جاگیردار اوروڈیرے انعام کے طورپر انگریزوں کی عطاکردہ جاگیروں کے مالکان تھے اور ان کی عوام دشمنی اورکرپشن سب کے سامنے ہے۔ 1970ء کے عام انتخابات میں بنگالیوں کے رہنما شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ کوبھاری اکثریت سے کامیابی ملی تھی لیکن شیخ مجیب الرحمان کی فتح کو قبول نہیں کیاگیا،انہیں اقتدار منتقل نہیں کیاگیا اور ذوالفقار علی بھٹو نے فوج کے جرنیلوں کے ساتھ مل کر ”اِدھرہم اُدھرتم“ کا نعرہ لگایااورسابقہ مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے خلاف فوج کشی کی گئی جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوگیا۔ ذوالفقاربھٹو جنرل ایوب خان کو ڈیڈی کہاکرتے تھے، وہ فوجی جرنیلوں کے ساتھ ساز باز کرکے حکومتوں میں آتے رہے،پاکستان کے عوام پر ظلم وبربریت کرتے رہے، ملک کو نقصان پہنچانے والے کوٹہ سسٹم، نیشنلائزیشن اسکیم جیسے اقدامات کرتے رہے لیکن اقتدار کیلئے فوج جرنیلوں سے ہاتھ ملانے کے باوجود بھٹو کاانجام کیاہوا؟قدرت کامکافات عمل دیکھئے کہ جس جنرل ضیاء الحق کے ساتھ ملکر بھٹو نے اپنے اقتدار کو مضبوط کیا اسی جنرل ضیا نے بھٹو کوپھانسی پر لٹکادیا۔
ذوالفقارعلی بھٹو کی صاحبزادی بے نظیربھٹو نے جلاوطنی گزاری، ان کے بھائی میرشاہنواز بھٹواور میرمرتضیٰ بھٹو بھی جلاوطن ہوئے لیکن ان کی جاگیردارانہ ذہنیت تبدیل نہ ہوئی،بینظیربھٹوکو اقتدارمیں آنے سے پہلے یہ شرط رکھنی چاہیے تھی کہ وہ اس وقت تک اقتدارمیں نہیں آئیں گی جب تک ان کے والد کو پھانسی دینے والے جرنیلوں کا احتساب نہیں کیاجاتا لیکن افسوس کہ اقتدارکی خاطر بے نظیربھٹو بھی فوجی جرنیلوں سے ڈکٹیشن لیتی رہیں، ان کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلتی رہیں، 1/3
2/3
اس کے باوجود انہی فوجی جرنیلوں نے بے نظیربھٹو کوقتل کردیا۔بے نظیربھٹو کی نرینہ اولاد بلاول زرداری نے بھی کبھی یہ نہیں کہاکہ جب تک ان کے نانا ذوالفقارعلی بھٹو اور والدہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کرنے والے جرنیلوں کااحتساب نہیں ہوجاتا،وہ اقتدار کاحصہ نہیں بنیں گے اور اس مقصد کے لئے اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھیں گے لیکن ان جاگیرداروں کے ہاں نہ شرافت ہوتی ہے اورنہ اصول ہوتے ہیں، ان کامقصد صرف اقتدار اور شان وشوکت ہوتی ہے اور وہی بلاول زرداری نے کیا۔
سانحہ مشرقی پاکستان:
پاکستان کے فوجی جرنیلوں کو سانحہ مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کرکے یہ عہد کرنا چاہیے تھا کہ اب وہ کبھی پاکستان کی سیاست میں بلواسطہ یا بلاواسطہ مداخلت نہیں کریں گے اور اپنی غلطیوں کاازالہ کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں کبھی ایسانہیں ہواکہ ایک لاکھ فوج نے بغیر لڑے ہتھیار ڈال دیے ہوں۔پاکستان کی فوج نے 1971ء میں بھارتی فوج کے آگے ہتھیارڈالے، یہ سرینڈر فوج کے ماتھے پر کلنک کاٹیکہ تھااور فوج کو اس کا کفارہ ادا کرنا چاہیے تھا لیکن آج کیاہورہا ہے؟
فیلڈمارشل عاصم منیرصاحب کے نام!
میراسوال ہے کہ آپ کے دورمیں کیا تماشے ہورہے ہیں؟ کیا دھاندلیاں ہورہی ہیں؟ آپ حافظ قرآن ہیں کیا آپ کو قرآن مجیدمیں کوئی ایسی آیت نہیں ملی کہ مظلوموں پر ظلم نہ کرو؟آپ کو معلوم ہے کہ بلوچستان میں مظلوم بلوچوں، صوبہ خیبرپختونخوا میں پشتونوں اورکشمیرمیں کشمیریوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے؟کشمیرکے حالات آپ کے سامنے ہیں، آپ کہاں کہاں اور کتنے لوگوں کو گولیاں ماریں گے؟فوجی جرنیلوں کی جانب سے بلوچوں، پشتونوں اور کشمیریوں پر جوظلم وستم ڈھایاجارہاہے کیا اس سے پاکستان کی سلامتی وبقاء ہوگی یا یہ عمل پاکستان کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا؟
فیلڈمارشل صاحب میری بات لکھ کررکھ لیجئے، امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ آپ کو استعمال کررہے ہیں، کل جب پاکستان کی بقاء وسلامتی پرکوئی مشکل وقت آیا تو نہ ڈونلڈ ٹرمپ آپ کی مدد کریں گے اورنہ ہی امریکہ آپ کی مدد کیلئے آئے گا۔
بدقسمتی سے پاکستان ماضی میں بھی امریکہ اورمغربی قوتوں کے مفادات کے لئے استعمال ہوتارہااوراب بھی ہورہا ہے،پاکستان کی فوج نے امریکہ اور روس کی سرد جنگ کے دوران بلاوجہ ٹانگ اڑائی، افغان وار میں ملک کی فوج اورتمام وسائل کو امریکہ، برطانیہ اورمغربی ممالک کے مفادات کیلئے جھونک دیااورامریکی ڈالرز لیکر KPK میں جہادی مدرسے قائم کیے، طالبان بنائے لیکن آج اپنے ہی تشکیل کردہ طالبان کو دہشت گرد اور خوارج قراردیا جارہا ہے اوراپنی بنائی ہوئی افغان حکومت کو اپنا دشمن قراردیاجارہاہے۔پالیسی سازوں کویہ نہیں بھولناچاہیے کہ افغانستان کی طالبان حکومت اور روس کے درمیان دفاعی معاہدہ ہوچکا ہے۔
3/3
پرامن سیاسی کارکنوں پر دہشت گردی کامقدمہ:
پاکستان میں ظلم وجبر کاایسا نظام مسلط کردیا گیاہے کہ اب لوگ بند کمروں میں اپنی جماعت کا یوم تاسیس بھی نہیں مناسکتے،11، جون1978ء کو جامعہ کراچی میں مہاجرطلبہ کی تنظیم اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی گئی، 11، جون2026ء کو اے پی ایم ایس او کا 48 واں یوم تاسیس تھا، ہم نے تمام ساتھیوں کو ہدایت کردی تھی کہ کسی کھلی جگہ سڑک یا میدان میں یوم تاسیس کا کوئی پروگرام نہ رکھا جائے اورریاستی اداروں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ ایم کیوایم کے کارکنان نے قانون ہاتھ میں لیاہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب سے میرا سوال ہے کہ کیا بند کمروں میں یوم تاسیس منانا اور کیک کاٹنا بھی جرم بنادیاگیاہے؟پاکستان ٹائمزنیوز کے سینئر صحافی تحسین عباسی کے دفترمیں اے پی ایم ایس او کے یوم تاسیس کی تقریب رکھی گئی جس میں سینئر وبزرگ وکیل ادریس علوی ایڈوکیٹ، محمدسلمان ایڈوکیٹ،صحافی تحسین عباسی، ان کے 15 سالہ صاحبزادے حسین علی سمیت 11 کارکنان وہمدرد شریک تھے، پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترمیں چھاپہ ماراگیا اور تمام افراد کو گرفتارکر لیاگیا اور پاکستان ٹائمزنیوز کے دفترکو seal کردیاگیا۔ آج جب ان گرفتارشدگان کی ضمانت کیلئے ایم کیوایم کے وکلاء جج میر ساغرجان ابڑو کی عدالت میں پہنچے تو تفتیشی افسر نے ان گرفتارشدگان کے خلاف ایف آئی آر میں دہشت گردی کی دفعہ 7 ATAلگادی اوریہ کیس انسداددہشت گردی کی عدالت بھیج دیا۔ میرا فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے سوال ہے کہ بند کمرے اور چاردیواری کے اندر کیک کاٹنا کیا دہشت گردی ہے؟یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ گرفتارشدگان تحسین عباسی، ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ،، محمد ناصر، عمر ملک، مرزا وسیم، آفاق عالم، سید حمید پاشا، تسلیم شیخ، محمد حارث اور 15سالہ کم عمر حسین علی کوکراچی سینٹرل جیل میں عادی مجرموں کی بیرکوں میں رکھاگیاہے جبکہ یہ تمام افراد تعلیم یافتہ، وکلاء اور سیاسی قیدی ہیں لیکن انہیں سیاسی قیدیوں کی بیرکوں میں منتقل نہیں کیاگیا۔ وکلاء برادری اور کراچی بار ایسوسی ایشن سے اپیل کرتا ہوں کہ خدارا سینئر اوربزرگ وکلاء کی رہائی کیلئے احتجاجی مظاہرہ کریں۔
فیلڈ مارشل صاحب امریکہ اورایران میں صلح ضرورکرائیں لیکن اپنے ملک میں مصالحت کیوں نہیں کرتے؟ آپ بلوچوں، پشتونوں، کشمیریوں، مہاجروں اوردیگرمظلوموں سے مصالحت اور مفاہمت کیوں نہیں کرتے؟ خدارا کشمیریوں کے زخموں پر مرہم رکھیں، بلوچستان کے عوام کو ان کے جائز حقوق دیں، KPK میں ڈرون حملے بند کرائیں اورمہاجروں پر ظلم وستم کاسلسلہ بند کرائیں۔ ہمسایہ ممالک سے برادرانہ اوردوستانہ تعلقات قائم کریں کیونکہ گولہ باردو سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پالیسی سازوں کوچاہیے کہ وہ امریکہ کی صورتحال سے سبق حاصل کریں، امریکہ کوبھی بہت زعم تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ ایران پر حملہ کرکے 24 گھنٹے میں ایران کو ہتھیار ڈالنے پرمجبور کردے گا لیکن دنیا نے دیکھا کہ کئی دہائیوں سے معاشی پابندیوں کا نشانہ بننے والے ایران نے سپرطاقت امریکہ کے سامنے کھڑے ہوکر اور جرات و ہمت سے اس کاسامنا کرکے امریکہ کا غرور خاک میں ملادیا۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیر سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ایم کیوایم،پی ٹی آئی اورکشمیری کارکنوں کو رہا کریں اور ملک میں سیاسی مفاہمت کاآغاز کریں۔ ایم کیوایم کے کارکنوں پر دہشت گردی کامقدمہ فی الفورختم کیا جائے اور پرامن سیاسی کارکنوں پردہشت گردی کامقدمہ قائم کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے،نثاراحمد پنہور، ان کے صاحبزادے محسن پنہور، پریس فوٹو گرافر فیصل مجیب سمیت کراچی اورحیدرآبادکے لاپتہ کارکنان کو بازیاب کرایاجائے اور تمام گرفتارشدگان کورہا کیاجائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر416ویں فکری نشست سے خطاب
15، جون2026ء
حق مانگنے پر کشمیریوں کوغدار،ملک دشمن اورانڈین ایجنٹ قراردیناشرمناک ہے۔الطاف حسین
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#11JuneAltafHai#RightsMovementAJK
اگرحق مانگنے والے سب ہی غدار، ملک دشمن، غیرملکی ایجنٹ اوردہشت گرد ہیں توپھرمحب وطن اورامن پسند کون ہے؟
پاکستان میں ہروہ قوم یاگروہ جواپنے حقوق مانگے اوراسٹیبلشمنٹ کی پالیسیوں پر تنقید کرے اسے غدار، ملک دشمن،دہشت گرد اور غیرملکی ایجنٹ قر اردیدیاگیا ہے اور جب سب ہی غدار، ملک دشمن، اور غیرملکی ایجنٹ اوردہشت گرد ہیں تو پھرمحب وطن اورامن پسند کون ہے؟
جوبھی حق کے لئے آوازاٹھائے، پرامن احتجاج کے لئے گھرسے باہرنکلے تواس کے لئے لاٹھی چارج، آنسوگیس، گرفتاریاں، جبری گمشدگیاں، ٹارچرسیلوں میں اذیتیں اور ماورائے عدالت قتل ہیں۔ ظلم اتنا بھی بڑھایاگیااورماورائے عدالت قتل کے واقعات اتنے بڑے پیمانے پرہوئے کہ مقتولین کو اجتماعی طورپر خاموشی سے دفنایاگیا۔ اجتماعی قبریں بھی برآمدہوئیں۔ جب یہ سلسلہ طویل ہونے لگے تو ظلم کانشانہ بننے والے مزاحمت کرتے ہیں ایسے لوگوں کوحکومت اورادارے دہشت گرد قراردیتے ہیں لیکن مظلوم عوام انہیں حریت پسند یافریڈم فائٹر کہتے ہیں۔
اپناحق مانگنےپربلوچوں،سندھیوں، مہاجروں اور پختونوں کودہشت گرد اورملک دشمن اورغیرملکی ایجنٹ قراردے دیاگیااوراب کشمیری عوام نے اپناحق مانگا توانہیں بھی ملک دشمن، دہشت گرد اورحتیٰ کہ انڈین ایجنٹ قراردیدیاگیا۔ جنہیں کل تک پاکستان کی شہ رگ کہاجاتاتھاآج وفاقی حکومت کے وزراء ملک دشمن اورانڈین ایجنٹ قراردے رہے ہیں جوانتہائی شرمناک ہے۔ یہی نہیں بلکہ جس طرح فوجی آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے رہنماؤں کے سروں کی قیمت لگائی گئی اسی طرح اب کشمیری رہنماؤں کے سروں کی بھی قیمت لگادی گئی ہے۔، یہ سراسرظلم ہے۔ان کاجرم یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کے لئے حق مانگ رہے ہیں۔ کشمیریوں پر ظلم وستم بڑھاتے ہوئے وہاں خوراک، سبزیاں جانے والے راستے بھی بند کردیے گئے ہیں۔ اس سے بڑاظلم کیاہوگاکہ جوکشمیری مظاہرین پولیس اورسیکوریٹی فورسز کی اہلکاروں کی وحشیانہ فائرنگ سے شہید ہوئے ہیں ان کی لاشیں تک نہیں دی جارہی ہیں اوران کے اہل خانہ سے کہا جارہاہے کہ وہ پہلے لکھ کردیں کہ ان کے بیٹے غیرملکی ایجنٹ تھے، پھر لاشیں حوالے کی جائیں گی۔ میں پیراملٹری فورسزکی جانب سے کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کی شدیدمذمت کرتاہوں اوروفاقی حکومت اورتمام دفاعی اداروں سے کہتاہوں کہ وہ یہ مظالم بندکریں اورکشمیریوں کو مکمل طورپر دیوار سے لگانے کاعمل بند کردیں۔اس ظلم سے کشمیریوں میں اند ر ہی اندر لاوا پک رہاہے جوکسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس طرح کاظلم کرکے کشمیری عوام کوپاکستان سے دورکیا جارہا ہے۔
میں کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی اور ہمدردی کااظہارکرتاہوں، انہیں اپنی غیرمشروط حمایت کایقین دلاتا ہوں اور پاکستان کے تمام مظلوم عوام سے کہتاہوں کہ وہ متحد ہوکران مظالم کے خلاف احتجاج کریں اورکشمیریوں سےیکجہتی کااظہار کریں ۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 415 ویں فکری نشست سے خطاب
14 جون 2026ء
2/2
اور اس کے کچھ ماہ بعد ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیااورحقیقی کے نام سے گروپ بناکرمہاجروں کے اتحاد کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی۔ میں 34 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اورجلاوطنی میں رہتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کی جدوجہد میں دن رات مصروف ہوں۔
بدقسمتی سے پاکستان دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا ملک بن کررہ گیا ہے اورغریب عوام غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔پاکستان میں دہرا نظام رائج ہے، ملک کے 98 فیصد غریب عوام اردوبولتے اورپڑھتے ہیں لیکن پاکستان کاعدالتی نظام اورپورا نظام حکومت انگریزی زبان میں چلایاجارہا ہے۔ دہرے تعلیمی نظام کے باعث ایچی سن اورگرائمر اسکولوں میں صرف دولت مندخاندانوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور ان اسکولوں میں غریبوں کے بچوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے جاگیرداروں اورجرنیلوں کی اولادیں ہی اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتی ہیں جبکہ پاکستان کے غریب عوام 79 سال سے محنت مشقت ہی کررہے ہیں۔ انہیں پانی، گیس، بجلی اورصحت وصفائی کی سہولیات میسر نہیں ہیں اوروہ کئی کئی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی باوجود گیس،بجلی کے بھاری بل اداکرنے پر مجبورہیں۔
الطاف حسین آج بھی وہی بات کررہا ہے جو 48 سال قبل کیاکرتا تھا،عمران خان جب میدان سیاست میں آئے تو انہیں فوج کی سپورٹ حاصل تھی، 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے انہیں احساس ہوا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اوربیوروکریسی ہی ملک کی اصل بیماری ہے۔ آج عمران خان بھی وہی بات کررہے ہیں جو الطاف حسین 48 سال سے کرتاچلاآرہا ہے، جب عمران خان نے نظام کی تبدیلی کی بات کی توپاکستان کو لوٹنے والوں نے انہیں بھی نہیں چھوڑا اوروہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جوفرسودہ نظام کے خلاف آوازاٹھائے گا اس کامقدر جلاوطنی،شہادت یا جیل کی قیدہوگی۔
پنجاب کے نوجوانوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ پاکستان انگریزوں کے ایجنٹ چند مخصوص خاندانوں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام کاپاکستان ہے لہٰذا پاکستان کے اصل مالک ومختار اور ملک کو چلانے والے بھی غریب مزدور، ہاری، کسان اورمحنت کش ہی ہونے چاہئیں۔ ہمیں انگریزوں کی غلامی کا طوق اتارپھینکنا ہوگا، ہمیں ایساتعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں غریبوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، ہماراعدالتی نظام بھی ایسا ہوناچاہیے جس میں عوام کوسستااورفوری انصاف میسرہو،جس میں کوئی غریب بھی مہنگے وکیل کی فیس نہ ہونے کے باعث سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ خودلڑکرانصاف حاصل کرسکے۔
میں سمجھتاہوں کہ 2 فیصد کرپٹ جاگیرداروں اورلٹیروں سے نجات میں ہی پاکستان کی سلامتی و بقاء ہے، جب تک ملک کو ان چوروں اورڈاکوؤں سے آزاد نہیں کرایا جائے گا اس وقت تک ہمیں آزادی کاپھل نہیں مل سکتا۔ اگرپاکستان کے مظلوم عوام فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو بدلنے کیلئے میدان عمل میں نہیں آئے تو 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام نسل درنسل محنت مزدوری ہی کرتے رہیں گے،ان کی حالت کبھی نہیں بدلے گی اورملک کانظام حکومت کبھی ان کے ہاتھ میں نہیں آئے گا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئے غریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے۔
ایم کیوایم ملک میں غریبوں کاانقلاب برپاکرناچاہتی تھی اسی لئے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کرکے اسے کوختم کرنے کی کوشش کی گئی،ایم کیوایم کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے گئے لیکن ظلم وجبرسے ایم کیوایم کوختم نہیں کیاجاسکا، ایم کیوایم کے چاہنے والے پنجاب سمیت پورے ملک میں موجود ہیں۔ غداری کے سرٹیفکیٹ دیکر اور بہتان تراشی کرکے پنجاب کے عوام کو بہت بے وقوف بنالیا لیکن اب منفی پروپیگنڈوں اورجھوٹے الزامات لگاکر پنجاب کے نوجوانوں کو الطاف حسین سے متنفرنہیں کیاجاسکتا۔
میں ایم کیوایم پنجاب کے وفاپرست کارکنوں کو رات دن محنت کرنے اورتحریک کاپیغام پھیلانے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس مناکر ثابت کردیا کہ پنجاب میں کل بھی ایم کیوایم کے سچے نظریاتی ساتھی موجود تھے اور تمام ترمشکلات کے باوجود آج بھی موجود ہیں اور انہوں نے تحریک کے مشن کو جاری رکھا ہواہے۔ انشااللہ یہ جدوجہد رنگ لائے گی اورایک وقت آئے گاجب پورا پنجاب ایم کیوایم کے پرچموں سے سجا ہوگا۔
الطاف حسین
15، جون2026ء
اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اور اسٹیٹس کوتوڑا۔ الطاف حسین
#11JuneAltafHai
ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہےلیکن اب ہم اس سسٹم کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سےخطاب
اے پی ایم ایس او واحد طلبہ تنظیم ہے جس نے سیاسی افق پر ایم کیوایم کوجنم دیا۔ آجAPMSO کی جدوجہد کو48 سال ہوگئے جس پر میں اپنے تمام تحریکی ساتھیوں اورعوام کومبارکباد پیش کرتاہوں۔
اے پی ایم ایس او نے پاکستان کے ایلیٹ کلچر میں ایک ایسی تنظیم کی بنیادرکھی جوغریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھتی ہے، جس کامنشورتمام قوموں کے غریب ومتوسط طبقہ کے عوام کوانکے حقوق دلاناہے، اے پی ایم ایس اونے پاکستان کے فرسودہ نظام کوللکارا اوراسٹیٹس کوکوتوڑتے ہوئے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ غریب ومتوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کوملک کی اسمبلیوں میں بھیجا۔پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کاسربراہ خود کئی کئی نشستوں سے الیکشن لڑتاہے لیکن ایم کیوایم کے سربراہ نے اپنے کارکنوں کوایوانوں میں بھیجا اورخود الیکشن نہیں لڑا۔ایم کیوایم نےمذہبی منافرت کی مخالفت کی اوریہ پیغام دیاکہ پاکستان صرف مسلمانوں کانہیں تمام مذاہب کے ماننے والوں کاوطن ہے، پاکستان میں آباد عیسائی، ہندو، سکھ اورتمام غیرمسلم بھی برابرکے پاکستانی ہیں، پاکستان کے شہری کی حیثیت سے ان کابھی پاکستان پر برابر کاحق ہے اوران کے ساتھ مذہب کی بنیادپر امتیازنہیں برتاجاناچاہیے، اسی طرح شہریوں میں فقہ اورمسلک کی بنیادپر بھی لوگوں میں آپس میں نفرت نہیں ہوناچاہیے اورہمیں کسی کواس کے فقہ یامسلک کی بنیادپر کافر قرار نہیں دیناچاہیے، ایم کیوایم نے کاروکاری جیسی فرسودہ رسومات کی بھی کھل کی مخالفت کی اوراس کاشکارہونے والی لڑکیوں کے لئے اپنے دروازے کھولے اورانہیں اپنے مرکزمیں پناہ دی، ایم کیوایم نے غیرمسلم لڑکیوں کے اغوااور ان سے جبراً مذہب کی تبدیلی اور جبری شادیوں کے خلاف آوازاٹھائی۔ پاکستان میں رائج اس اسٹیٹس کو اور اس ظالمانہ نظام کے خلاف آوازبلند کرنے پراسٹیبلشمنٹ نے مجھے غدارقراردیا گیا۔ بدقسمتی سے پاکستان میں جس کسی نے بھی اسٹیٹس کو اورکرپٹ فوجی جرنیلوں کی پالیسیوں کے خلاف آوازبلند کی تواس کی قسمت میں یا توپھانسی، یاقیدہوتی ہے یاجلاوطنی ہوتی ہے۔ مجھے جلاوطن ہونے پر مجبورکردیا گیا، عمران خان کابھی قصور یہ ہے کہ اس نے کرپٹ جرنیلوں اوران کے آقاؤں کوللکارا۔
ہماری جدوجہدانصافیوں کے خلاف ہے، 53سال گزرجانے کے باوجود کوٹہ سسٹم جیساغیرمنصفانہ نظام آج بھی رائج ہے جوسندھ میں شہری اوردیہی عوام کوتقسیم کرتاہے، جس کی بنیادپر شہری علاقوں کے عوام کے ساتھ ناانصافیاں کی جاتی ہیں۔ ہم کوٹہ سسٹم کے خلاف اب تک مطالبات کرتے رہے لیکن اب ہم اس کے ساتھ زندہ نہیں رہ سکتے، اس ظالمانہ اورغیرمنصفانہ سسٹم کواب ختم ہوناچاہیے۔ میں غریب سندھیوں، ہاریوں اورمزدوروں سے بھی کہتاہوں کہ وہ بھی اس سسٹم کے خلاف آوازاٹھائیں کیوں کہ اس سے غریب سندھیوں کونہیں بلکہ وڈیروں کو فائدہ پہنچ رہاہے، یہ وڈیرے غریب سندھیوں پر بھی ظلم ڈھاتے ہیں اورانکی بچیوں تک کواٹھالے جاتے ہیں۔ غریب سندھیوں کوچاہیے کہ وہ ان وڈیروں سے نجات کے لئے میدان عمل میں آئیں۔میں تمام غریب اورپڑھے لکھے سندھی نوجوانوں کوبھی دعوت دیتاہوں کہ وہ الطاف حسین کے قافلے میں شامل ہوجائیں، ہم متحد ہوکراس فرسودہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کے خلاف جدوجہد کریں گے۔
میں یوم تاسیس منانے کے لئے جمع ہونے پر ایم کیوایم لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئربزرگ رکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، یوٹیوبرتحسین عباسی، ان کے بیٹے اوردیگربزرگ کارکنوں کی گرفتاریوں کی شدیدمذمت کرتا ہوں۔ میں سوال کرتاہوں کہ کیاکسی سیاسی جماعت کایوم تاسیس منانا جرم ہے؟ اسی طرح ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپہنور، ان کے بیٹے محسن پہنور، فیصل مجیب اوردیگرساتھی بھی کئی ماہ سے لاپتہ ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ ان تمام کورہا کیاجائے اوریہ ظلم وستم بند کیاجائے۔
کشمیریوں کوحق دینے کے بجائے لاشیں دی جا رہی ہیں، اب کشمیری ”کشمیربنے گا پاکستان“ کا نعرہ کیسے لگائیں گے؟ الطاف حسین
#شہ_رگ_کا_سانس_بند_نہ_کرو#کشمیریوں_کا_خون_بہانا_بند_کرو#11JuneAltafHai#RightsMovementAJK
فو ج نے ماضی میں کشمیریوں کے نام پر دنیا بھر سے کھربوں ڈالر وصول کئے، مذہبی جماعتوں نے کشمیریوں کے لئے کیمپ لگا کر عوام سے چندے لئے، اربوں روپے جمع کئے، کشمیری عوام کونعرہ دیاگیا کہ”کشمیربنے گا پاکستان“ لیکن آج 80 سال ہونے کے باوجود کشمیریوں کو ان کاحق نہیں دیاگیا، کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا، لیکن جب کشمیریوں نے اپناحق مانگا تو کشمیریوں کوغدار کہا جارہا ہے، کشمیریوں کی تنظیم عوامی ایکشن کمیٹی کوانڈین ایجنٹ قراردیدیا گیا۔
11جو ن 1978ء کواے پی ایم ایس او کاپرچم بلند ہوا، مہاجروں اورتمام مظلوموں کے حقوق کی بات کی، کرپٹ فوجی جرنیلوں کے خلاف آوازاٹھائی، توپنجابیوں، پشتونوں، کشمیریوں، سب نے کہاالطاف حسین غدار ہے، الطاف حسین غداری کے ان الزامات پر صبرکرتارہا، سب کے طعنے سنتارہا، کراچی سے غداری کے سرٹیفکیٹ جاری ہونا شروع ہوئے لیکن پھرجس نے حق کی بات کی اسے انڈین ایجنٹ کہا گیا، اب کشمیریوں نے حق مانگا توانہیں بھی غدارقراردے دیا گیا۔ وہ اپنے حق کے لئے احتجاج کررہے ہیں تو کشمیری عوام پر فوج کشی کی جارہی ہے۔پورے کشمیرخصوصاًراولاکوٹ میں رینجرز اور پولیس نے گھروں میں گھس کرلوٹ مار کی، دکانوں کولوٹا، پرامن مظاہرین پر اسٹیٹ فائرنگ کی،کتنے ہی کشمیری شہید کئے گئے، انٹرنیٹ سروس بند کردی گئی۔ کشمیرمیں صرف ہی مرد ہی شہید نہیں ہوئےبلکہ چھوٹے چھوٹے بچے تک شہید ہوئے۔آج جس طرح کشمیر میں مظالم کئے جارہے ہیں، کیا یہ ظلم وستم دیکھ کرکوئی کشمیری پاکستان میں شامل ہوناچاہے گا؟ کل تک کشمیر ی آپ کاساتھ دیتے تھے، آپ کےلئے جانیں دیتے تھے، ”کشمیر بنے گا پاکستان“ نعرے لگاتے تھے، لیکن آج آپ انہیں ان کاحق دینے کے بجائے گولیاں اورلاشیں دے رہے ہیں، پھر” کشمیربنے گا پاکستان“ کا نعرہ کیسے لگے گا؟ کشمیری اب یہ نعرہ لگانانہیں چاہتے، اب کشمیری عوام صرف آزاداورخودمختار ریاست کشمیر چاہتے ہیں، وہ بھارت یا پاکستان، کسی کاحصہ بننا نہیں چاہتے۔ میرا کشمیریوں کویہی پیغام ہےکہ وہ اپنی بہن بیٹیوں کی عزت وناموس کے لئے کسی کا حصہ بننے کے بجائے آزاد وخودمختار کشمیر بنائیں۔الطاف حسین نے کشمیریوں کی ہمیشہ حمایت کی، آج پھر میں کشمیری عوام کویہ یقین دلاتا ہوں کہ جب تک الطاف حسین کی جان میں جان ہے، وہ کشمیریو ں کی حمایت کرتا رہے گااورعمل کے میدان میں کشمیریوں کے لئے جوکرسکتاہے،کرتا رہے گا۔
میں حکومت پاکستان اور فوج کے جرنیلوں سے کہوں گا کہ وہ خدارا ہوشمندی سے کام لیں، کشمیریوں پر ظلم بند کریں اوراس بات کوسمجھیں کہ جہاں عوام پر حق مانگنے پر ظلم وستم ڈھایاجائے، وہاں کاجغرافیہ تبدیل ہوجاتا ہے۔
میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب سے کہوں گا کہ آپ امریکہ اورایران میں ثالثی کرارہے ہیں، لیکن اپنے ملک میں عوام کے ساتھ مفاہمت کے بجائے ان پر ظلم ہورہا ہے، بلوچوں پر ظلم ہورہاہے، پشتونوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، پنجاب میں پی ٹی آئی سے ہمدردی رکھنے والوں کوانتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، عمران خان کوقید میں رکھا گیا، گلگت بلتستان میں محرومیاں ہیں، سندھ میں لوگ احتجاج کررہے ہیں، مہاجروں کو ریاستی مظالم کا نشانہ بنایا جارہا ہے، یہ عمل نفرتوں کی آگ پر مزید تیل چھڑکنے کے مترادف ہے۔ خدارا یہ ظلم بند کرایاجائے۔
الطاف حسین
لندن میں اے پی ایم ایس او کے 48ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
13جون 2026ء