ہاں میں پھول چنتی ہوں
روز تیری یادوں کے
کچھ حسین یادوں کے
دلنشین وعدوں کے
تیری میٹھی باتوں کے
رات کےاندھیرے میں چاندنی کےجوبن پہ
ستاروں کی مانگ بھرکر خوشبوئیں لٹاتی ہوں
آج بھی میں سجتی ہوں
تیری راہ تکتی ہوں
ہاں میں پھول چنتی ہوں
حسین آنکھوں کےسارےخواب حقیقت بنیں
گڈ نائٹ😴
کبھی کبھی دل چاہتا ہے۔۔۔
کہ دنیا کے اس جمیلے سے
زندگی کے شور اور میلے سے
ہم دور بہت دور چلیں
موسیٰ کی طرح کوہ طور چلیں
جہاں نہ ڈر ہو دنیا والوں کا
نہ فکر ہو زمانے کے سوالوں کا
مد ہوش ہو اپنے خوابوں میں
محبت بھرے سرابوں میں۔۔۔!
شاعر: شفیق بونیری
@shafiqbuneri76#قومی_زبان
اگر کبھی تم میرے اور کسی اور کے درمیان
فیصلہ کرنے میں الجھ جاؤ
تو مجھے مت چننا
کیونکہ محبت میں
جہاں دل کو انتخاب کرنا پڑے
وہاں احساس پہلے ہی تقسیم ہو چکا ہوتا ہے
یہ تحریر صرف ایک شخص کے لیے نہیں
بلکہ اس پورے زمانے کے لیے ہے
جہاں تعلق کم اور موازنہ زیادہ رہ گیا ہے
#قافلہ_ادب