بالکل، یہ رہی ایک متوازن مگر مضبوط فیس بک پوسٹ 👇
عوام کی آواز کبھی دبائی نہیں جا سکتی! ✊🇵🇰
ایمان مزاری اور ہادی علی صرف نام نہیں، یہ موجودہ دور کی مزاحمت، آئینی حق اور بنیادی آزادی کی علامت ہیں۔
جو سچ بولے، سوال اٹھائے اور ظلم کے سامنے کھڑا ہو—وہی معاشرے کو آگے لے کر جاتا ہے۔
امی کو ڈاکٹر کے پاس لے گیا۔
امی نے بتایا، لورالائی سے کچھ عورتیں آئی ہیں
کہہ رہی تھیں، “ہمارے ہاں نہ اسپتال ہے، نہ ڈاکٹر۔ تھوڑی سی بیماری کے لیے 350 کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔”
“ستر سال ہو گئے، نہ اسپتال بنا، نہ اسکول۔”
اور میں سوچتا رہا —
کچھ فاصلے صرف نقشے پر نہیں ہوتے