“مجھے دو سال پہلے کہا گیا کہ تین سال کے لیے پیچھے ہٹ جاؤں اور موجودہ نظام کو چلنے دوں، لیکن میں کسی یزید کے کہنے پر تین سال تو کیا تین منٹ بھی خاموش نہیں رہوں گا۔
مجھ پر چھبیسویں ترمیم کو قبول کرنے کا بھی زور ڈالا جا رہا ہے لیکن میری جدوجہد ہی قانون کی حکمرانی کی ہے اور چھبیسویں آئینی ترمیم عین اس کے منافی ہے۔
مجھ سے نو مئی کی معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے مگر معافی وہ لوگ مانگیں جنہوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی ہے، جنہوں نے عورتوں کی عزتیں پامال کیں، لوگوں کے گھروں کا تقدس برباد کیا، ہزاروں سیاسی ورکروں کو جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈالا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا۔ نو مئی کے کیسز کی ایک گھنٹہ بھی میرٹ پر سماعت ہو تو یہ بےبنیاد مقدمات فوری ختم ہو جائیں گے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں انصاف ہونا تو دور کی بات انصاف ہوتا نظر بھی نہیں آ رہا۔
ظلم سے قومیں کبھی ختم نہیں ہوتیں بلکہ نئے سرے سے بنتی ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے 13 سال مشکل ترین وقت کاٹا لیکن آپ ﷺ ڈٹے رہے اور بال��خر سرخرو ہوئے۔ لہٰذا ہم سب کو آپ ﷺ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے بحیثیت قوم ڈٹ کر آخری دم تک مقابلہ کرنا ہوگا۔
جب انصاف کا ہر دروازہ بند کر دیا جائے پھر پر امن احتجاج کے سوا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ تحریک انصاف سمیت پوری قوم کو پیغام دیتا ہوں کہ ملک گیر احتجاج کے لیے تیار رہیں۔
پاکستان میں قانون مکمل طور پر معطل ہے۔ یہاں عورتوں کی بھی عزت محفوظ نہیں ہے۔ میری اہلیہ بشریٰ بیگم صرف سہولت کاری کے الزام میں 14 ماہ سے قید تنہائی میں ہیں حالانکہ ان پر جرم ثابت بھی نہیں ہوا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد کینسر سروائیور اور بزرگ خاتون ہیں مگر ان کو بھی بے شرمی سے جعلی مقدمات میں پابند سلاسل کیا گیا ہے۔ میری ہمشیرگان، جن کی عمریں 65 سے 70 سال کے درمیان ہیں، ہائی کورٹ کے حکم پر جیل مجھ سے ملنے ��تی ہیں جو ان کا اور میرا بنیادی حق ہے مگر ایک کرنل ان کو روک دیتا ہے اور عدالت کا حکم ردی کی ٹوکری کی نذر ہو جاتا ہے۔ جنگل کے قانون کا یہ عالم ہے کہ میری بہنوں کو یہاں سے گر��تار کیا جاتا ہے اور چکری کے پاس آدھی رات کو لے جا کر بے یارو مددگار چھوڑ دیا جاتا ہے۔ جس ملک میں اپنی ہی خواتین کے ساتھ ایسا سلوک ہو وہاں کا اخلاقی معیار فوت ہو چکا ہے۔ مریم نواز کے لندن میں 5 فلیٹس نکلے تھے مگر ان کی ضمانت دو ماہ میں ہی ہو گئی تھی کیونکہ شریف خاندان ڈیل پر راضی تھا۔ جو فرعونیت کے آگے جھک جاتا ہے اس کے سب کیس معاف ہیں مگر جو حق پر کھڑا ہو وہ بے جرم بھی سزاوار ٹھہرتا ہے۔
دو سال میں بیرون ملک سے کوئی سرمایہ کاری اسی لیے نہیں آ سکی کیونکہ دنیا جانتی ہے یہاں قانون ایک کرنل کے جوتے کی نوک پر ہے۔ یاد رہے کہ سرمایہ کاری کے بغیر نہ ملک میں معاشی استحکام آتا ہے اور نہ ہی معیشت ترقی کر سکتی ہے۔ جب تک عدالتی احکامات کرنل کے اشاروں کے محتاج ہوں گے تب تک سرمایہ کاروں کے لیے اعتماد کی فضا ناپید رہے گی۔
پوری قوم انصاف کے لیے عدلیہ کی طرف دیکھ رہی ہے۔ مگر چھبیسویں آئینی ترمیم کر کے عدلیہ کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
اس ترمیم کے پیچھے دو ہی وجوہات ہیں:
ایک تو دھاندلی ذدہ الیکشن کا تحفظ کرنا، اور دوسرا مجھ سمیت تحریک انصاف کی لیڈر شپ و کارکنان کو جیل میں قید رکھنا اور احتساب کے خوف کے بغیر بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنا۔
چھبیسویں آئینی ترمیم کے براہ راست دو نتائج نکلے ہیں:
۱: ایک یہ کہ عدلیہ نے اپنے آئینی و روایتی کردار کے برعکس انتظامیہ کے سامنے بالکل سرنڈر کر دیا ہے۔ ملٹری کورٹس کے حوالے سے سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 175 (3) کے متصادم ہے جو کہتا ہے کہ عدلیہ انتظامیہ سے الگ ہے مگر یہاں اس آرٹیکل میں ترمیم کیے بغیر ہی ایگزیکٹو کو عدلیہ کے تمام اختیارات سونپ دیے گ��ے ہیں۔ ملٹری کورٹس کے ساتھ ساتھ مخصوص نشستوں پر بھی بینچ بنا کر تحریک انصاف سے یہ نشستیں چھیننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ووٹ تحریک انصاف کو پڑا ہے مگر آئین کے بر خلاف یہ نشستیں دوسری جماعتوں کو دینے کی کوشش جاری ہے۔
۲: دوسرا یہ کہ عدلیہ اس قدر مفلوج ہو چکی ہے کہ اعلیٰ عدلیہ اور جج اپنی مرضی سے مقدمات لگا ہی نہیں سکتے۔ نتیجتاً مجھے بھی عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ کبھی میرے کیسز کے لیے بینچ مکمل نہیں ہوت تو کبھی سماعت نہیں ہوتی۔ جان بوجھ کر میرے مقدمات کو التواء میں رکھا جاتا ہے۔ میرے بنیادی انسانی حقوق بھی معطل ہیں۔ جیل مینوئل کے مطابق جو حقوق ایک عام قیدی کو حاصل ہوتے ہیں مجھے وہ بھی نہیں دئیے جا رہے۔ میرے بچوں سے میری بات نہیں کروائی جاتی، میری اہلیہ سے ہفتے میں ایک طے شدہ ملاقات بھی روک دی جاتی ہے اور تو اور میری کتابیں تک روک لی جاتی ہیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جا رہا ہے تاکہ میں ٹوٹ جاؤں۔
1/2
When acts of aggression begin with the targeting and destruction of masajid—a sacred symbols of Islam—it reveals a deep-rooted hostility toward the faith itself. Such actions serve as a stark reminder of our collective identity as one ummah. Every Muslim is called upon to uphold the principle of wala’ and bara’—loyalty and disavowal—by standing resolutely with their brothers and sisters in #Pakistan and #Kashmir in opposition to the #Hindu oppressors.
Allah says: "Those who disbelieve are allies of one another! If you (Muslims) do not do the same (become allies of one another), there will be fitnah (trial, oppression, shirk) and great fasad (corruption) in the land." (8:73)
This verse is unique in that nowhere else in the Qur’an are fitnah and fasad paired together, combined with fasad described as “great”—a warning that violating the banner of iman and its strongest bond, wala’ and bara’, leads to serious consequences.
Wherever Muslims are oppressed or under attack, our duty is simple and clear: to stand with them, unwaveringly.
Ahmad Musa Jibril
Dhu al-Qi'dah 9, 1446
سعد اللہ بلوچ، عادل بازئی ، عارف مبین جٹ، فیاض چھجڑا ، اویس جھگڑ ، شبیر قریشی پاکستان کے قومی ہیروز ہے جنہوں نے بدترین ظلم فسطائیت کا مقابلہ کی�� جن کی گھر خاندان کو جس طریقے سے تنگ کیا گیا اپ سوچ بھی نہیں سکتے قوم اَن ہیروز کو سلام پیش کرتی ہے
In the last few weeks there have been serious and concerning developments regarding my sons’ father, Imran Khan’s treatment in prison. The Pakistan authorities have stopped all visits to him by his family and his lawyers. They have also postponed all court hearings. In addition to cutting off in- person visits, and in defiance of a court order, his weekly calls to his sons, Sulaiman and Kasim Khan, who are British and who live in London, were stopped on 10th September. We have received reports that the authorities have now turned off the lights and electricity in his cell and he is no longer allowed to leave his cell at any time. The jail cook has been sent on leave. He is now completely isolated, in solitary confinement, literally in the dark, with no contact with the outside world. His lawyers are concerned about his safety and well-being.
These actions come in the context of ongoing targeting of Imran’s family, as well as his party (PTI) members and supporters in an attempt to silence them and all political opposition in Pakistan. Imran’s nephew, Hassan Niazi, a civilian, has been detained in military custody since August 2023. More recently, Imran Khan’s sisters, Uzma and Aleema Khan, who have continued to speak out on his behalf, have also been arrested as they made their way peacefully to a demonstration and they are currently being held in jail, despite there being no proper or lawful basis for their imprisonment.
In June this year the UN Working Group on Arbitrary Detention found that Imran is unlawfully and arbitrarily detained and called for his immediate release.
As a matter of urgency , we are calling for Imran Khan’s release, and for the release of his sisters and nephew as well as for his sons’ contact with their father to be re-established, so that they may have assurance first-hand that he is well and not being mistreated.
شام سے ایک تشنگی ہے۔ آپکے ٹوئیٹ آپکی فیڈبیک پڑھ کر دل بوجھل ہے۔ بہت کوشش کی نہ لکھوں۔ لیکن پھر لگا لکھنا چاہئیے۔
آپ سب تکلیف میں ہیں۔ کیونکہ آپ عمران خان سے بے لوث محبت کرتے ہیں۔ آپ کو لگتا ہے عمران خان نے جو کچھ اس ملک کے لئے کیا بدلے میں اس کے ساتھ اس ملک ، سسٹم عدالتوں ملٹری، بیوروکریسی اور اس کی اپنی پارٹی ، میرے سمیت ، نے انصاف نہیں کیا۔ سبھی عمران خان کے مجرم ہیں۔
آپ تکلیف میں ہیں آپ کے زہن میں بہت سارے سوال ہیں۔ یقین کریں میرے زہن میں بھی کئی سوال ہیں۔
میری آپ سے ایک ہی گزارش ہے عمران خان اس ملک اس کی عوام خصوصا اس ملک کے غریب کا بڑا ہی وفادار اور غمگسار ہے۔ میں جتنا وقت ان کے ساتھ رہا انکو عام آدمی کے لئے فکرمند پایا۔
مجھ جیسے انسانوں کی کوتاہیوں کی سزا عمران خان کے نظرئیے کو نہیں ملنی چاہئیے۔ میری آپ سے گزارش ہے کہ عمران خان کا سب سے بڑا ہتھیار کو��ی پارٹی لیڈر نہیں ہے بلکہ وہ آپ ہیں ، آپ کا عمران خان پر یقین اعتماد مان بھروسہ ہے۔ آپ کی اس سے بے لوث محبت ہے۔ آپکا اس کے نظرئیے سے رشتہ ہے۔ اس لئے مجھ سمیت کسی کی بھی کوتاہیوں کی سزا اس نظرئیے کو نہیں ملنی چاہئیے۔
عمران خان کے مخالف صرف ایک صورت میں جیت سکتے ہیں اور وہ صورت ہے آپ کو نا امید کرنا۔ آپکا حوصلہ توڑنا۔ آپکا اعتماد ختم کرنا۔ آپکے جنون کو ٹھیس پہنچانا۔
خدارا یہ کبھی نہ ہونے دئجئیے گا۔ کچھ بھی حالات ہوں - کوئی کچھ بھی کرے کچھ بھی کہے آپ نے حوصلہ نہیں ہارنا۔
آپ عمران خان کی امید ہیں۔ شان ہیں مان ہیں۔ آپ نے اپنے لیڈر کو تنہا نہیں چھوڑنا۔ اس نے آپ کے لئے اپنا سب کچھ، زندگی عزت خاندان سیاست اقتدار آسانی صحت سب داؤ پر لگا دیا ہے۔
اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے بد دل ہو کر بیٹھنا ہے یا پھر سے کمر باندھ کر جستجو کرنی ہے۔
مجھے پتہ ہے میں آپکے سوالوں کے جواب نہیں دے پایا۔ معذرت خواہ ہوں لیکن صرف اتنا کہوں گا۔ آپکا کپتان آخری گیند تک لڑتا ہے۔ آپ نے ��ھی لڑنا ہے۔
اللہ آپکا اور آپکے کپتان خان کا حامی و ناصر ہو