As Pakistan’s government arrests opposition leaders and suspends an elected provincial government, President Trump continues to embrace its military chief.
The United States should stand with the Pakistani people, not enable political repression. We must press for the release of political prisoners, including Imran Khan.
https://t.co/evitvY5gwk
آج وزرات خارجہ کے کرپٹ مافیا میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔۔اربوں کی کرپشن کا راستہ بند۔
وزرات خارجہ نے تصدیق کا نظام ڈیجٹل کرکے بہت اچھا کر دیا۔
Good job @MIshaqDar50 sb..
بیرسٹر گوہر ڈٹ جائیں ، پتہ پتہ بوٹا بوٹا یہ بات جانتا ہے کہ کے پی کے عوام اپ کے ساتھ ہیں۔
کیا میں اپوزیشن کو ایک حقیراور سستا مشورہ دینے کی جسارت کر سکتا ہوں۔
فوری طور پور پر کے پی کےKPK بچاؤ, پاکستان بچاؤ! تحریک شروع کرنی ہو گی۔
یہ ملک بہت قیمتی ہے ، اس ملک کو بچانا ہے یہ امانت ہے اور اس کو بحفاظت بخیریت اگلی نسل تک پہچاناہے۔ اس ملک کو بھرتی کئیے گئے دماغوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ ایسے لوگ پاکستان توڑنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔
کاش! کل ہی اسلام آباد میں تمام اپوزیشن جماعتیں ( پی ٹی آئی ، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامُی ، علامہ ناصر عباس، محمود خان اچکزئی ) سب کو فورا" مل بیٹھ کر ایک اتحاد بنانا ہو گا۔
مولانا فضل الرحمن کو قیادت سونپنی ہو گی اور اس 16اکتوبر بروز جمعہ KPK( کے پی کے) کو ہر شہر کی مرکزی مسجد سے جلوس نکالنا ہو گا۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ عوام جوق در جوق اس تحریک میں شامل ہو نگے اور اپنے صوبہ اور ملک کو اقتدار کے حریصوں سے نجات دلوائیں گے
کیا عجب اتفاق کہ پچاس سال پہلے 1977 میں مولانا فضل الرحمن کے والد گرامی مفتی محمود صاحب رحمتہ اللہ کی قیادت میں نو جماعتی اتحاد نےملک گیر تحریک نظام مصطفے چلائی تھی۔
غالبا" ان عمر بھی اس وقت ست سال کے لگ بھگ تھی۔
تاریخ ہمیشہ خود کو دہراتی ہے، پاکستان کی خون آشام تاریخ پچپن سال بعد پھر اپنے کو دہرانے کو۔
اہل سیاست اور اہل دانش بُرا نہیں منانا ایک بار پھر سستے بک گئے ہو۔ماذضی کی طرح اپنے اپنے مفادات کے سوداگر بن چکے ہو۔ آپ کو بتانا ہے آپ کو یاد دلانا ہے، یادش بخیر 25 مارچ 1971 کو دہشت گردوں کی آڑ میں مقبول ترین سیاسی جماعت کے خلاف فوجی آپریشن ہوا اور پھر اُس کے نتیجہ میں پاکستان ٹوٹ گیا۔
مجھے کوئی بتائے کہ کو 16دسمبر 1971 میرا ملک
کس نے توڑا، کس کے ہاتھ پر مشرقی پاکستان کا لہو تلاش کروں۔
25 اور 26مارچ1971 کی درمیانی رات ، مشرقی پاکستان کی مقبول ترین جماعت کے خلاف بوول شخصے ایک کامیاب ملٹری آپریشن شروع کیا گیا جس میں عوامی لیگ کے تمام بڑے بڑے رہنما فوری طور پر گرفتار کر لئیے گئے۔
آپریشن کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ پورے مشرقی پاکستان کے طول و عرض میں ڈھاکہ سمیت تمام بڑے بڑے شہر وں سمیت مجال ہے کسی ایک ذی نفس نے ، ایک شخص نے بھی لآپریشن کے خلاف احتیجاج کیا ہو بلکہ مشرقی پاکستان کے طول عرض میں عوام الناس کروڑوں کی تعداد میں جوق درجوق مساجد میں جا کر شیخ مجیب سے نجات پر شکرانے کے نوافل ادا کرتے دیکھے گئے پائے گئے۔
27 مارچ 1971کے تمام اخبارت آپریشن کے اوصاف حمیدہ اور غدار عوامی لیگ کے مذموم مقاصد و پراگندہ ایجنڈا کی تفصیلات سے بھرے تھے، اخبارات میں نمایاں طور پر چسپاں تھا کہ آپریشن کامیاب رہا پورے ملک میں تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے ہو گئے ہیں اور مشرقی پاکستان میں مثالی امن قائم ہو چکا ہے۔
سونے پر سہاگہ موافق حالات اور عوام کی بھرپور حمائت سے متاثر ہو کر ستمبر 1971 میں مشرقی پاکستان کی قومی اسمبلی کی 78 پر ضمنی الیکشن کروا دئیے گئے کیا۔ عوامی لیگ کو ہمت نہ ہوئی کہ ایک امیدوار بھی میدان میں اتار پاتی۔ قومی اسمبلی کی 78 نشستوں میں سے 63 پر امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے: جماعتِ اسلامی 15، پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی 12، مسلم لیگ کونسل 7، نظامِ اسلام پارٹی اور مسلم لیگ کنونشن6, 6، مسلم لیگ قیوم گروپ اور پاکستان پیپلز پارٹی نے 5,5، جبکہ آزاد امیدواروں نے 7 نشستیں حاصل کیں۔ باقی 15 نشستوں پر پولنگ مقرر تھی، مگر جنگ نے رنگ میں بھنگ ڈال دی اور پھر الیکشن کیا ہوتے ملک ہی ٹوٹ گیا۔
یعنی آپریشن تو کامیاب رہا مگر بدقسمتی سے مریض کو نہ بچا سکے مریض مر گیا۔
کیا آج کے پی کے KPK میں من وعن پھر تاریخ اپنے آپ کو دہرا نے کو ہے؟
آگ ہے، اولادِ ابراہیمؑ ہے، نمرُود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصُود ہے!
میرے منہ میں خاک ، اب کوئی جادوگر بھی کے پی کے کو بچا کے دیکھائے؟
اے میرے ملک کے منتظمین اعلی۔
ابتدائے عشق ہے "ہوتا" ہے کیا
آگے آگے دیکھیے ہو تا ہے کیا
یا اللہ مدد۔ میرے ملک کو مفاداتیوں سے محفوظ رکھ۔