سہیل آفریدی جیسا بھی ہے، علی امین گانڈوپور اس سے بھی بڑا فوجی ٹٹا ہے، اور وہ آج کل جن لوگوں کا بیسٹ فرینڈ بنایوا ہے، ان کے منہ سے سہیل آفریدی کو ٹارگٹ کیا جانا قابل قبول نہیں
شکریہ آپ نے یہ ٹوئیٹ کر کے محسن نقوی کو جواب دیا۔
اب کیونکہ آپ کے پاس ٹوئیٹر کی ایکسس ہے تو ایک تو سہیل آفریدی صاحب کا وڈیو پیغام جاری کر دیں۔ دوسرا پلان اے بی سی وہ بھی جاری کر دیں۔
وقت تیزی سے گزر رہا ہے۔ خان قید تنہائی میں ہے۔ آپ لوگوں نے خود کہا تھا پلان اے بی سی ہے
پٹھانوں دشمنی ثبوت۔۔🚨🚨
پاکستان تحریک انصاف کے ورکر ہارون پر پولیس کا بےایمانہ تشدد۔۔!!
ملحظہ کریں کیا ایسا رویہ انہوں نے ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل گُلبشن کے ساتھ بھی نہیں کیا ہوگا۔۔!! 🥺💔
بریکنگ نیوز 🚨پیپلزپارٹی کے رہنما نبیل گبول کے اے آر وائی پر انٹرویو میں تہلکہ خیز بڑے انکشافات 🔥🔥
آئین جرنیل توڑتے ہیں اور نام ہمارا آجاتے ہے۔ گورنر راج اور ایمرجینسی نافذ کرنے کا فیصلہ ہمارا نہیں فیلڈ مارشل کا تھا۔ ہم اس پر راضی نہیں تھے۔ پھر صدر زرداری کو دھمکیاں دی گئیں کہ اگر تُم نے اس پر دستخط نہ کیے تو پھر تمہیں سندھ سے ہاتھ دھونا پڑے گا،نہروں کا پانی بھی چھین لیا جائے گا، صوبے بھی اپنے مرضی کے پھر ہم بنائیں گے۔ تمہارا حال وہی ہوگا جو ہم پی ٹی آئی کا کررہے ہیں اور جو پہلے بھٹو کے ساتھ کیا تھا۔ ہم مجبور تھے اس لیے پھر ہم نے ساتھ دیا۔
اگر تو سہیل آفریدی گنڈاپور کی طرح اس ہفتے میں باہر آ گیا اور 12ضلعوں والی سے ملتی جلتی کوئی کہانی سنا دی، بطورِ وزیر اعلیٰ بحال ہو جائےجو کہ وہ ابھی بھی ہے تو سمجھو شہباز گل ٹھیک کہہ رہا ہے
اگر نااہل ہو جاتا ہے، لمبی قید تنہائی میں جاتاہے فرعون کے عتاب میں آگیا تو یہ جھوٹ ہوگا
🚨🔴 بریکنگ نیوز | انتہائی اہم
⚖️ حماد اظہر کا آج لاہور کی عدالت میں جج کے سامنے انتہائی اہم بیان!
🔴 مکمل بیان پڑھیے اور اصل آڈیو سنیے۔
"میں نے پہلے وہ فیٹف (FATF) والا سارا کیس جو ہے، وہ آپ کے سامنے رکھ دیا کہ یہ کل ہمارے لیے جو ہو رہا ہے یہاں پہ، یہ ہمارے لیے اس فورم میں ایک پرابلم کریئیٹ کرے گا، اور جس طرح ہم اس فورم سے نکلے ہیں، میرے سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔
اور جو اس کے ہمارے اوپر سنگین نتائج آنے والے تھے، اور جہاں جہاں پہ پریشانی تھی اس چیز کی، وہ بھی میرے سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
خیر، بہرحال، وہ تو وہ جانیں اور فیٹف کا فورم جانے، لیکن یہ چیزیں جو ہیں، میں ہنڈرڈ پرسنٹ کہتا ہوں کہ یہ ہمارے حق میں نہیں جائیں گی۔
دوسری چیز یہ ہے کہ دیکھیں، میں بھی ایک وکیل ہوں۔ اس عدالت کا، لوگ آتے جاتے رہتے ہیں۔ کل میں یہاں پہ کھڑا ہوں، میری جگہ کوئی اور ملزم ہوگا۔ آپ جج ہیں، آپ کی جگہ کوئی اور جج ہوگا۔
لیکن اس عدالت کا جو وقار ہے، جو نیک نامی ہے اور جو احترام ہے، وہ قائم رہنا چاہیے۔
Institutions are more important than personalities.
اب ہم یہاں پہ کر کیا رہے ہیں؟ اس میں یہ دیکھیے۔
ساڑھے تین سال بعد پراسیکیوشن نے اپنا ورژن بدل لیا۔ پہلے خود مان رہے ہیں ایف آئی آر میں کہ حماد اظہر موقع پہ موجود نہیں۔ ایف آئی آر کے اندر جو لوگ موقع پہ موجود ہیں، ان میں میرا نام ہی نہیں ہے۔
ساڑھے تین سال سے کسی جگہ انہوں نے ذکر نہیں کیا۔ اُس دن میں گکھڑ منڈی میں موجود تھا، جو کافی سو کلومیٹروں کے فاصلے پر ہے لاہور سے۔
آج انہوں نے میرے سے ڈنڈا اور وہ بھی برآمد کر لیا، پٹرول بم۔
مطلب یہ کہ ہم تھوڑا سا تو احترام کریں اس عدالت کا اور اس کے قانون کا، جس کو ہم اس طرح blatantly misuse and abuse کر رہے ہیں۔
پچھلی دفعہ میں آیا تو یہاں پہ مجھے بڑی اچھی طرح یاد ہے کہ انہوں نے کہا کہ جی ابھی کچھ ریکور نہیں ہوا۔
آج کہہ رہے ہیں کہ پچھلی دفعہ ہی ریکور کر لیا تھا ہم نے۔ یعنی اپنی پچھلی دفعہ کی اسٹیٹمنٹ بدل لی اور ایک contemptuous قسم کی حرکت کی انہوں نے۔
چلیں، آخری چیز آ جاتے ہیں۔
سترہ دن سے میں ریمانڈ میں ہوں۔ پولیس کے، نہیں، سترہ دن پچھلے، اس سے پہلے اکیس دن، ٹھیک ہے؟
پچھلے سترہ دن کا میرے سیل کے اوپر لگا ہوا ہے کیمرہ۔ نکال کے دیکھیں، کوئی بندہ میرے پاس آیا ہے تفتیش کرنے؟ میرے سیل کا دروازہ کھول کے مجھے کوئی باہر لے کے گیا ہے؟
ریکارڈ موجود ہے، منگوا لیں۔ ابھی بات سچ کا سچ اور جھوٹ ثابت ہو جائے گا۔
اور اگر میں سچا ثابت ہوتا ہوں تو کیا کل جھوٹی ایف آئی آر کے اوپر جو قوانین ہیں...
مجھے سپریم کورٹ کے ایک جج نے بڑا عرصہ پہلے کہا تھا۔ وہ مجھے ملے، انہوں نے مجھے کہا کہ حماد بیٹا، جب بھی تم اگلی دفعہ آؤ اقتدار میں، تو سپریم کورٹ کے میرے اس جج کی اس بات کو یاد رکھنا کہ جعلی ایف آئی آر کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے، اور جعلی گواہی دینے کے اوپر سخت سے سخت سزا ہے۔
اس کو تم نے ضرور لاگو کرنا ہے، کیونکہ جب تک اس کو تم لاگو نہیں کرو گے، یہ ہمارا سسٹم ٹھیک نہیں ہوگا۔
یہ ایسے ہی ایف آئی آرز میں نمبر دے دیتے ہیں، ایسے ہی ٹھپے لگا کے آگے، کیا نام ہے، کبھی ایک بیان دے دیا، کبھی دوسرا بیان دے دیا۔
اچھا، آپ بندہ خود لاجکلی سوچیں، چلیں میں ملزم نہیں ہوں۔
ساڑھے تین سال گزر گئے اس واقعے کو، نو مئی کے۔ پٹرول بم اور ڈنڈا، یہ چیزیں اب برآمد ہو سکتی ہیں؟
مطلب وہ ساڑھے تین سال پٹرول بم اور ڈنڈا سنبھال کے رکھے گا؟
مطلب ایک کامن سینسیکل سی بات ہے، لاجیکل بات ہے۔
مجھے ابھی یہاں، میں بیٹھا ہوا تھا کرسی پہ، تو میرے وکیل بتا رہے تھے کہ یہاں پہ جو دوسرے میرے کولیگز آئے ہوئے ہیں، پارٹی کے بھی، وہ مجھے بتا رہے تھے کہ آپ کا جو کیس ہے، اکیس دن کا فزیکل ریمانڈ اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ، بعد میں اڑتیس دن بنتے ہیں۔
وہ سپریم کورٹ کے بار روم میں بھی ڈسکس ہو رہا تھا کہ ایسے کبھی پہلے ہوا ہی نہیں کہ ایک پرچہ، جو سیاسی پرچہ، جس کا سب کو پتا ہے کہ جعلی تھی، جس کے اندر موقع پہ ملزم بھی موجود نہیں ہے، اس کو ہم نے اکیس دن اور سترہ دن کا فزیکل ریمانڈ دے دیا۔
اور آج اوپر سے اس کے اوپر ایک اور سونے پہ سہاگہ یہ جو contemptuous چیز ہوئی ہے کہ جو برآمدگی اپنی طرف سے شو کر رہے ہیں، جو پچھلی دفعہ شو نہیں کی تھی، یعنی وہ رپورٹیں بھی بدل گئی ہیں۔
میرا فرانزک ٹیسٹ ہوا ہے کافی دن پہلے، ہفتہ دس دن ہو گئے ہیں، وہ جو سارا سوشل میڈیا...
کہاں ہے اس کی رپورٹ؟
نکالیں میرا جیو ٹیگنگ، گکھڑ منڈی کی نکلے گی۔
نکالیں میری اس کے اوپر فرانزک کی رپورٹ۔ کیا میرا کوئی میچنگ ہو رہی ہے وہاں پہ جو لوگ وہاں موجود تھے، ان کے ساتھ؟
نہیں ہو رہی۔
تو پھر ہم کیوں اس عدالت کا بھی وقت ضائع کر رہے ہیں، اس عدالت کا وقار بھی تباہ کر رہے ہیں؟
دیکھیں، کل میں اکثر یہ افسروں کو بھی یہ بات کہتا ہوں کہ کل یہ ایکسکیوز نہیں مانی جائے گی کہ اوپر سے پریشر تھا۔
بھائی، بات یہ ہے کہ اگر آپ اتنے بدنصیب ہیں کہ اپنی چھوٹی سی نوکری بچانے کے لیے آپ جھوٹی گواہیاں دینے کے لیے تیار ہیں، آپ بے گناہوں پہ ناانصافی کرنے کے لیے تیار ہیں، تو آپ سے بدنصیب آدمی کوئی نہیں۔
کل روزِ حشر یہ قلم گواہی دے گا، یہ کاغذ گواہی دیں گے، آپ کا حلق گواہی دے گا۔
یہی ایسی عدالت لگے گی، صرف فرق یہ ہے کہ میرے علاوہ سب کٹہرے میں کھڑے ہوں گے۔ میں بھی کٹہرے میں کھڑا ہوں گا، باقی سب بھی۔
اس دن میرا پورا یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ کہے گا اُس دن، اُس دن اللہ تعالیٰ کہے گا کہ اُس دن جو تم کہتے تھے کہ اپنی نوکری بچانے کے لیے اوپر سے مجھے پریشر تھا، اور میں نے...
آج بلاؤ اُس اوپر والے کو اور بچاؤ اپنے آپ کو اس عذاب سے جو میں تمہیں دینے لگا ہوں۔ اُس کو بلاؤ۔
تو یہ ایک فیکٹ ہے، فیکٹ ہے۔
تو یہ جناب، یہ ساری چیزیں ہو رہی ہیں۔ بڑے بدنصیب ہیں وہ لوگ جو آج بے گناہوں پہ ظلم کر رہے ہیں، ناانصافی کر رہے ہیں، صرف اپنی پوسٹیں بچانے کے لیے۔
مجھے بڑا دکھ ہوا، مجھے آج بڑا دکھ ہوا کہ پچھلی دفعہ جب مجھے، میں سمجھا کہ جی ٹھیک ہے، کسی چیز کی ریکوری نہیں ہوئی کیونکہ میں موقع پہ موجود نہیں تھا۔
آج ریکوری انہوں نے کیسے کر لی؟
یہ تو کیس اب بہت آگے جائے گا۔ یہ تو شاید کیس اب ہائی کورٹ تک جائے، سپریم کورٹ تک جائے گا، اور میں اس کیس کا پیچھا نہیں چھوڑوں گا۔
میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کیونکہ میرے پاس ثبوت موجود ہیں کہ میں وہاں پہ موجود نہیں تھا۔
کیسے انہوں نے یہ ریکوری ڈال دی ہے؟
تو جج صاحب، آپ پہ بھی احترام سے یہ ایک چیز، ذمہ داری لاگو ہوتی ہے کہ جہاں پہ اس طرح کا mala fide behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ اس طرح کا contemptuous behaviour شو ہوتا ہے، جہاں پہ عدالت کے سامنے ایسے جعلی دستاویز رکھے جاتے ہیں، جن کو چینج کیا جاتا ہے ایک کے بعد دوسری جگہ، جہاں پہ اس حد تک فورجری اور جھوٹ پیدا کیا جا رہا ہے کہ کامن سینسیکل بات ہی نہیں ہے کہ ساڑھے تین سال بعد پٹرول بم اور ڈنڈا جو ہے، وہ ریکور ہو سکتا ہے؟
اور کس نے تفتیش کی میرے سے؟
نکالیں ریکارڈنگ، نکالیں اس کی، میرے سیل کی۔
سترہ دن سے مجھے وہاں پہ آپ نے نکالا ہی نہیں دو ہفتے سے، تو آپ نے تفتیش کس نے کی میرے سے آ کے وہاں پہ؟
تو یہ سر ساری چیزیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اس عدالت کے وقار کو آج مجروح کیا گیا ہے۔ ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کو، جو کہتا ہے کہ بے گناہ کو ایک دن بھی فزیکل ریمانڈ نہیں دینا چاہیے، اس کو بھی مجروح کیا گیا۔
مجھے اڑتیس دن کے، اب الحمدللہ مجھے حوالات کے فرش پہ گھر سے بہتر نیند آتی ہے، وہ مجھے کوئی پرابلم نہیں ہے۔
لیکن جو اس ملک کے ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کے ساتھ کیا گیا، کیونکہ میں اس انسدادِ دہشت گردی کے قوانین کے ساتھ وابستہ رہا ہوں، میں پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ سے نکالنے میں ایک چھوٹا سا کردار ادا کر چکا ہوں، تو میں ان سارے قوانین کو جانتا ہوں۔
اور میں جانتا ہوں کہ اس کو کس طرح اب abuse کیا جا رہا ہے اور ہماری محنت کو تباہ کیا جا رہا ہے۔
شکریہ۔"
گل صاحب جو آج بتا رہے ہیں وہ میں 2023 جنوری سے بتاتا چلا آرہا ہوں کہ محسن نقوی بیرونی ایجنسیوں کا آلہ کار رہا ہے، تو پھر عاصم منیر دجال کا چیلا کیونکر نہیں ہوسکتا؟
پاکستان میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، اس کے پیچھے عاصم منیر کا ہاتھ ہے۔ اس کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ سہیل آفریدی اور اس کے ساتھیوں نے لڑے بغیر ہی سرنڈر کر دیا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اٹک پل سے آگے بڑھنے کی صورت میں کیا کچھ ہو سکتا تھا، لیکن کم از کم صوابی تک تو مزاحمت کرتے، عوام کے ساتھ کھڑے رہتے اور اپنا مؤقف ڈٹ کر پیش کرتے۔ اس فرعونیت کے سامنے اگر کوئی ڈٹ کر کھڑا دکھائی دیتا ہے تو وہ صرف عمران خان ہے۔ باقی سب کی بہادری کے دعوے اپنی جگہ، لیکن اصل امتحان مشکل وقت میں کھڑے رہنے کا ہوتا ہے۔
لاڈلوں، آپ کو بتایا و سمجھایا بھی تھا کہ جو مرضی منظر نامہ ہو، کسی صورت بھی توپوں کا رُخ اپنی ہی صفوں کی جانب ہرگز مت کرنا 👇 — ابھی بھی مشورہ وہی ہے؛ باقی تہاڈی مرضی!