Yes, beauty can rescue the eyes
Caged in profanity; drowned in ordinary sights
As filthy as a rotten absurdity,
As doomed as a forgotten word
Ahmed Javaid
مسجد کے مینار سے اذان کی صدا نہیں، فریاد بلند ہو رہی ہے۔ مؤذن کی آواز لرز رہی ہے، جیسے ہر لفظ دل کی گہرائیوں سے نکل کر آسمان تک چیر رہا ہو۔
"اے اللہ،
زمین سے ہماری ہر مدد منقطع ہو چکی ہے۔
اب اس مٹی میں کوئی ہمارا نہیں رہا۔
نہ رشتہ، نہ سہارا، نہ آسرا۔
یہ زمیں اب اجنبی ہے، اور ہم مسافر،
جن کی منزل بس تیرا در ہے۔"
فضا میں سناٹا ہے، پر اذان کی یہ صدا آسمان کو بھی رُلا رہی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے خود مسجد کے در و دیوار بھی اس فریاد میں شریک ہیں۔
ایک ایسی پکار، جو انسانوں سے نہیں، اب صرف خالق سے مخاطب ہے۔
“Similarly, my experience of serving in Balochistan during the 1980s convinced me that Baloch chiefs like Nawab Khair Baksh Marri, Nawab Bugti and Sardar Ataullah Mengal were not financially corrupt leaders of their clans.” https://t.co/RuFrZ3Cjt4
آج صبح 5:30 بجے پولیس اور دیگر ریاستی اداروں نے دھرنے پر حملہ کر دیا، مظاہرین سے شہداء کی لاشیں چھین لیں اور بلوچ یکجہتی کمیٹی کی مرکزی رہنما، ڈاکٹر ماہرنگ بلوچ کو ان کے ساتھیوں سمیت گرفتار کر لیا۔ شہید نوجوانوں کی لاشیں بھی زبردستی اپنی تحویل میں لے لی گئیں۔ اس کے علاوہ، خواتین اور بچوں کے خلاف بھی کریک ڈاؤن کیا گیا۔
ریاست بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکی ہے اور بلوچستان میں پہلے سے بھڑکتی آگ کو مزید ایندھن فراہم کر رہی ہے۔ ایسے وحشیانہ اقدامات سے لوگ خوفزدہ نہیں ہوں گے بلکہ مزید مزاحمت اور انتشار جنم لے گا۔
The war criminal has reverted to what he excels at: killing children, babies. The conscience of the Western 'democratic', rules-based order is dead; it allows this genocide. What can you say when children/babies are murdered in such large numbers with such impunity.
Thousands of people in AJK are protesting against the draconian Presidential Ordinance that restricts the right to protest. Despite government repression, the protests continue to grow. Kashmiris are once again showing us how to confront state violence with courage and dignity.