صوبائی وسائل کو پولیس کی بہتری کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ سال 2025 اور 2026 میں سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کے لیے 14 ارب 82 کروڑ روپے کا اعلان تو ہوا، لیکن نہ جدید اسلحہ ملا اور نہ ہی کوئی تربیت فراہم کی گئی۔
#PTI_DestroyedKP
خیبر پختونخوا کے پاس صرف 17 بلٹ پروف گاڑیاں ہیں، جبکہ پنجاب کے پاس 76 اور بلوچستان کے پاس 42 ہیں۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاق کی طرف سے ملنے والی گاڑیاں صرف اپنے سیاسی قائد کے عشق میں واپس کر کے پولیس کو غیر محفوظ کر دیا۔
#PTI_DestroyedKP
پی ٹی آئی حکومت کی دانستہ بدانتظامی عوام کی جان کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ دسمبر 2025 کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کی 3,844 منظور شدہ آسامیوں میں سے 19 فیصد خالی ہیں اور صرف 3,113 اہلکار تعینات ہیں۔ سیکورٹی پر یہ لاپرواہی ناقابلِ معافی ہے۔
#PTI_DestroyedKP
سہیل آفریدی کے آتے ہی صوبے میں منشیات کا دھندا عام ہو گیا۔ سال 2026 کی پہلی سہ ماہی میں پولیس نے 5,695 کلو چرس، 210 کلو ہیروئن، 847 کلو آئس اور 275 کلو افیون برآمد کی۔ منشیات کا یہ پھیلاؤ صوبائی حکومت کی ناکامی ظاہر کرتا ہے۔
#PTI_DestroyedKP
یوتھیا سرکار کی ناکامی کی وجہ سے خیبر پختونخوا میں بدامنی عروج پر ہے۔ جنوری تا ستمبر 2026 میں 680 دہشت گرد حملے ہوئے، جبکہ 2025 کی اسی مدت میں 508 حملے ہوئے تھے۔ یہ دہشتگردی میں 33.9 فیصد کے خوفناک اضافے کا ثبوت ہے۔
#PTI_DestroyedKP
پی ٹی آئی کی نااہلی کا خمیازہ پولیس اہلکار اپنی جان دے کر بھگت رہے ہیں۔ سال 2026 کی پہلی ششماہی میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ 2025 میں 63 شہادتیں ہوئی تھیں۔ یعنی ایک سال میں پولیس شہادتوں میں 93.7 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔
#PTI_DestroyedKP
پی ٹی آئی کا دورِ حکومت خیبر پختونخوا کے لیے مسلسل تنزلی کا سبب بنا ہے۔ سہیل آفریدی کے دور میں صوبے میں بدانتظامی، منشیات، اسمگلنگ اور دہشتگردی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں اور عوام بے یار و مددگار ہیں۔
#PTI_DestroyedKP
منشیات اور اسمگلنگ کی بڑی کھیپوں کی برآمدگی کے بعد ان کے اصل مالی سرپرستوں کو پکڑنا ضروری ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسمگلنگ اور منشیات گروہوں کی سرپرستی میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بھائیوں اور مینا خان کا نام سامنے آ رہا ہے۔
#PTI_DestroyedKP
دہشتگردی اور عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے صوبائی حکومت لانگ مارچ اور دھرنوں میں مصروف ہے۔ پولیس کی مکمل بھرتیاں نہ کرنا اور سیاسی ڈرامے رچانا صوبے کی گورننس اور انفراسٹرکچر کی تباہی کا اصل سبب بن چکا ہے۔
#PTI_DestroyedKP
خیبر پختونخوا میں اسمگلنگ مافیا کو کھلی چھوٹ حاصل ہے۔ جولائی 2026 میں صرف دو ہفتوں کے دوران 1 ارب 16 کروڑ روپے سے زائد کا اسمگل شدہ سامان ضبط ہوا۔ تحقیقات کے مطابق اس مافیا کو پی ٹی آئی کی حکومتی مشینری کی سپورٹ حاصل ہے۔
#PTI_DestroyedKP
ایک طرف خیبر پختونخوا کی پولیس کو جدید بلٹ پروف گاڑیوں کی شدید ضرورت ہے اور دوسری طرف وفاق کی جانب سے ملنے والی بلٹ پروف گاڑیاں واپس کر دی جاتی ہیں۔ صوبے کی سیکورٹی کو سیاسی ضد اور نااہلی کی نذر کر دیا گیا ہے،#PTI_DestroyedKP
خیبر پختونخوا میں منشیات کا دھندا بے قابو ہو چکا ہے! صرف 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 5,695 کلوگرام چرس، 847 کلوگرام آئس، 275 کلوگرام افیون اور 210 کلوگرام ہیروئن کا برآمد ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ صوبائی انتظامیہ منشیات فروشی کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی۔ #PTI_DestroyedKP
کسٹمز کی جولائی 2026 کی رپورٹ نے کے پی حکومت کے گورننس کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ صرف دو ہفتوں کے قلیل عرصے میں 1 ارب 16 کروڑ 30 لاکھ روپے کا اسمگل شدہ سامان اور گاڑیاں ضبط ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اسمگلنگ مافیا کو کتنی کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ #PTI_DestroyedKP
اسمگلنگ اور منشیات کے وسیع نیٹ ورک، مالی سرپرستوں اور منتظمین کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے حکومتی مشینری خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ جب تک ان مافیاز کی پشت پناہی کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جائے گا، صوبے کا مستقبل داؤ پر لگا رہے گا۔ #PTI_DestroyedKP
مسلسل بڑھتے ہوئے دہشت گرد حملے، جانی و مالی نقصان، اور پولیس میں خالی اسامیاں کے پی میں تباہ شدہ انفراسٹرکچر اور بگڑتی گورننس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے صرف سیاسی مارچوں اور دھرنوں میں مصروف رہنے سے خیبر پختونخوا بدحالی کے اندھیروں میں ہے #PTI_DestroyedKP
خیبر پختونخوا میں بدانتظامی، منشیات اور دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے صوبے کے امن و امان کو شدید تباہ کیا ہے، جبکہ عوام کے تحفظ کے بجائے سیاسی ڈرامے بازیوں پر توجہ دی جا رہی ہے۔
#PTI_DestroyedKP
جولائی 2026ء کی کسٹمز رپورٹ کے مطابق محض دو ہفتوں میں 1 ارب 16 کروڑ سے زائد کا اسمگل شدہ سامان ضبط ہوا! پی ٹی آئی سرکار کی مبینہ سرپرستی میں اسمگلنگ مافیا بے لگام ہو چکا ہے۔
#PTI_DestroyedKP
خیبر پختونخوا میں بدامنی اور نااہلی کا راج صوبے کے عوام دہشت گردی اور منشیات کی نار میں جل رہے ہیں جبکہ حکمران احتجاجوں، دھرنوں اور سیاسی ڈرامے بازیوں میں مصروف ہیں۔
#PTI_DestroyedKP
منشیات اور اسمگلنگ کے نیٹ ورکس میں طاقتور سیاسی شخصیات کی سرپرستی کا انکشاف! صوبے میں بڑھتے ہوئے اس گھناؤنے کاروبار کے پیچھے موجود مرکزی کرداروں کو قانون کے کٹہرے میں لانا ہوگا۔ #PTI_DestroyedKP
2026ء کی پہلی ششماہی میں 122 پولیس اہلکار شہید ہوئے، جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 63 تھی۔ قیمتی جانوں کے ضیاع میں 93.7 فیصد کا خوفناک اضافہ پی ٹی آئی کی تباہ کن حکمرانی کا واضح ثبوت ہے! #PTI_DestroyedKP