یہ تصویر آج پشاور میں سیکورٹی کی بیفنگ پہ ریلیز کی گی ہے اس تصویر میں صرف فوجی ہیں، جانے والا DG MI ہے اور DG ISI اور پشاور کا سیکٹر کمانڈر سوٹ پہنے بیٹھا ہے۔
واضح ہے کہ سیکورٹی کا سار دھندہ ان حضرات کا ہے لیکن ہر ناکامی پہ سوال خیبر پختونخواہ کی حکومت سے کیا جاتا ہے جن کے نیچے تو IG KP بھی نہیں !
محمد رضوان کا موبائل واپس کیا جائے، ان کی تذلیل بند کی جائے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے۔۔۔۔محمد رضوان، پشاور کا سپوت، پاکستان کا فخر اور قومی ہیرو ہیں۔ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کو موبائل فون چھینے جانے کے واقعے کو تین ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، جبکہ انہیں میچ فکسنگ کے تنازع میں ملوث کرنے کی کوششوں کی بات بھی سامنے آ رہی ہے۔ محمد رضوان پابندِ صوم و صلوٰۃ، بہترین شہرت کے حامل اور اصول پسند پروفیشنل کرکٹر ہیں۔ ماضی میں انہوں نے اپنی شرٹ پر Betting Company (جوا/شرط لگوانے والی کمپنی) کا لوگو لگانے سے بھی انکار کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا نمازِ جمعہ کے لیے کسی مسجد جانا، مسجد میں تبلیغی بیان کرنا یا اس میں شرکت کرنا کوئی ایسا جرم یا ڈسپلن کی خلاف ورزی ہے جس کی سزا موبائل ضبط کرنا اور پھر کسی کھلاڑی کو جوئے، Betting Company یا میچ فکسنگ کے معاملات میں ملوث کرنے کی کوشش ہو؟ اگر کوئی الزام یا ڈسپلنری کارروائی ہے تو اسے واضح شواہد اور شفاف تحقیقات کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ محمد رضوان کا موبائل واپس کیا جائے، ان کی تذلیل بند کی جائے اور ان کی ساکھ کو بلاجواز نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے۔
سینیٹر(ر) مشتاق احمد خان
پاکستان رائٹس موومنٹ
اگر کسی پولیس والے کی اولاد کو یہ لگتا ہے کہ انکے ابا جی حرام نہیں کھاتے تو پھر اولاد اپنے ابا جی کو جانتی نہیں۔ اگر یوتھیوں کو لگتا ہے کہ اس طرح کی ویڈیوز سے کسی ایک بھی پولیس والے کو شرم آجائے گی تو پھر آپ اس سسٹم کو سمجھتے نہیں۔
فضل شکور کے بھائی میجر انور عزیز کے مدعیت میں نامعلوم افراد کے خلاف 365 PPC کے تحت مقدمہ درج۔۔
کے پی پولیس کے جوان ایک سخت ترین آزمائش سے گزر رہے ہیں اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ ان کی قربانیوں کو سلام! لیکن فضل شکور اور شکیل خان کے ساتھ پیش آنے والے واقعات میں اصل مجرموں تک پہنچنا اور آزادنہ تحقیقات کرنا کے پی پولیس کے افسران بالا کا امتحان ہے
انہیں فیصلہ کرنا ہوگا کہ کیا انہیں قانون پر چلنا ہے یا ننگی طاقت کے آگے سرنگوں ہونا ہے
شوکت خانم جیسی عظیم ماں کی گود میں پلنے والے یہ لوگ صرف رشتوں سے نہیں، کردار سے پہچانے جاتے ہیں۔ یہ وہ اولاد ہے جس نے مشکل کو کمزوری نہیں، بلکہ طاقت بنایا؛ آزمائش کو شکست نہیں، بلکہ استقامت میں ڈھالا۔
یہ بہادری نعروں کی نہیں، برداشت کی ہے… یہ حوصلہ تقریروں کا نہیں، قربانیوں کا ہے… جب وقت نے دیواریں کھڑی کیں، تو انہوں نے سر جھکانے کے بجائے سینہ تان کر کھڑا ہونا سیکھا۔ ماں کی تربیت کا اثر یہی ہوتا ہے کہ اولاد حالات کے سامنے نہیں بکھرتی، بلکہ تاریخ کے سامنے کھڑی ہو جاتی ہے۔
ان کی بہادری ایک لفظ میں بیان کرنی ہو تو وہ ہے: استقامت
اور استقامت وہ طاقت ہے جو وقتی نہیں، نسلوں تک مثال بنتی ہے۔
کچھ لوگوں کی حیرت ہی ختم نہیں ہوتی۔
“ یہ کیا پاگل ہوگئے ہیں ؟ یہ کیا گھبرا گئے ہیں ؟ یہ کیا خوفزدہ ہیں؟ “
جیسے سوالات شروع کردیتے ہیں فوج کچھ نیا نہیں کررہی۔ وہی کررہی ہے جو مریدکے میں کیا ، کشمیر میں کیا ، ڈی چوک میں کیا ، بلوچستان میں کیا ، سوات اور قبائلی علاقوں میں کیا ، مشرقی پاکستان میں کیا۔ اگر آپ حیرت زدہ ہیں تو منافق ہیں یا بیوقوف۔
اگر میں نے قانون کی وائلیشن کی تو اپ کو انے کی ضرورت نہیں پڑے گی میں خود تھانے حاضر ہو جاؤں گا لیکن نقاب پہن کر بغیر وردی میرے سامنے کھڑے ہوں گے تو ہم دشمن دار لوگ ہیں ایسی مزاحمت ہوگی کہ زندگی بھر یاد رکھو گے ایم این اے اقبال آفریدی
جو لوگ پاکستان تحریک انصاف پر انتشاری یا پرتشدد ہونے کا الزام لگاتے ہیں، وہ دراصل ایک کھوکھلے اور بے بنیاد بیانیے کا حصہ ہیں۔
پی ٹی آئی کوئی 'تخریبی قوت' نہیں، بلکہ یہ وہ واحد لڑی ہے جس نے چاروں اکائیوں کو جوڑ کر وفاقِ پاکستان کو متحد رکھا ہوا ہے۔ یہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد انصاف اور اعتدال پسندی کے نظریے پر قائم ہے۔
عمران خان کسی شدت پسندی کی نہیں، بلکہ عوام کے حقوق، آئین کی بالادستی اور جمہوریت کی جنگ لڑ رہے ہیں، اور ایک جابرانہ نظام کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔
انتشار کا رونا رونے والوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب ریاست خود سیاسی لوگوں سے عدالتوں میں انصاف مانگنے کا حق چھین لے، انتخابات میں ان کا واضح عوامی مینڈیٹ چوری کر لے، اور اظہارِ رائے کے لیے پرامن سیاسی سرگرمیوں تک کے دروازے بند کر دے، تو کیا ریاست خود ایک پرامن سیاسی جماعت کو دیوار سے لگا کر انتشار کی راہ ہموار نہیں کر رہی؟
ملک کی دو تہائی آبادی کی نمائندہ اور ایک پرامن جمہوری تحریک کو انتشاری یا شدت پسند قرار دینا نہ صرف عوام کے شعور کی توہین ہے، بلکہ اپنے ہی پیدا کردہ ریاستی جبر و انتشار پر پردہ ڈالنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔
In a recent interview with Sky News, Imran Khan's son, Kasim Khan, made alarming disclosures🚨
Kasim Khan stated that his cousins and paternal aunts were picked up from their homes in the middle of the night by masked, armed individuals and moved to an undisclosed location.
The current rulers are severely terrified of Imran Khan's public popularity and are crossing all limits to stay in power.
Imran Khan faces severe threats to his life in prison and is being subjected to mental and physical torture.
An appeal is made to the public and the international community to raise their voices against all these illegal actions and human rights violations!
جب تم قتل عام کرتے ہو تو یزید کی نسل سے لگتے ہو
جب تم کشمیریوں پر گولیاں چلاتے ہو تو جنرل ڈائر کی نسل سے لگتے ہو
جب تم ماؤں بہنوں بیٹیوں کی بے حُرمتی کرتے ہو تو راجہ داہر کی اولاد لگتے ہو
تمہارے تکبر کو دیکھیں تو تُم فرعون کی نسل سے لگتے ہو
حامد میر صاحب، یہ محض کمزور تقابل نہیں بلکہ دانستہ حقائق کو مسخ کرنا ہے۔
بنیادی فرق واضح کیجیے:
بے نظیر بھٹو اور نصرت بھٹو فعال سیاسی قیادت تھیں، ریاستی جبر کے مقابل کھڑی رہنما۔
جبکہ عمران خان کی بہنیں غیر سیاسی شہری ہیں—نہ کوئی عہدہ، نہ کوئی تحریک کی قیادت۔
حقائق یہ ہیں:
عمران خان کے دور میں کسی خاتون کو 3MPO جیسے کالے قانون کے تحت نہیں اٹھایا گیا۔
آج غیر سیاسی خواتین کو 3MPO کے تحت گرفتار کیا جا رہا ہے—یہ کھلی شہری آزادیوں کی خلاف ورزی ہے۔
9 مئی کے بعد کی زمینی حقیقتیں بھی دیکھ لیں:
پنجاب میں 84 خواتین ایک سال تک جیلوں میں بند رہیں۔
ارکانِ اسمبلی کی بیٹیوں تک کو اٹھایا گیا—کیا وہ بھی سیاسی قیادت تھیں؟
اور سزاؤں کا تناسب دیکھیے:
ڈاکٹر یاسمین راشد کو ساڑھے تین سو سال کی مجموعی سزائیں سنائی گئیں۔
عالیہ حمزہ کو 10 سال،
صنم جاوید کو 5 سال،
عائشہ بھٹہ کو 7 سال،
خدیجہ شاہ کو 7 سال سزا سنائی گئی،
جبکہ فلک جاوید دو سال سے زائد عرصہ سے جیل میں ہیں۔
اس کے ساتھ:
عمران خان کی اہلیہ کو 10 سال قید سنائی گئی۔
ان کی بہنوں پر دہشتگردی دفعات لگا کر سینکڑوں مقدمات قائم کیے گئے۔
کم عمر بچوں تک کو نشانہ بنایا گیا۔
اب سوال سیدھا ہے:
آپ سیاسی رہنما خواتین اور غیر سیاسی گھریلو خواتین کو ایک ہی ترازو میں کیسے تول سکتے ہیں؟
یہ تقابل نہیں،
یہ ایک گمراہ کن اور منافقانہ بیانیہ ہے۔
حضور، آپ سے اس سطح کی منافقت کی امید نہیں تھی۔
ضیاء الحق کے دور میں گرفتار ہونے والی خواتین دانت کے درد کا علاج کروانے باہر چلی گئیں پانچ سال بعد واپس آئیں۔ عمران خان کے دور میں گرفتار ہونے والی شریف خاندان کی عورت اچھے کردار کی ضمانت کے طور پر چھ مہینے اکاونٹ بند کرکے گئی اور گندی ویڈیوز کے جلو میں واپس آئی۔ اب گرفتار ہونے والی نا خواتین ملک سے باہر جارہی ہیں نا انکا بھائی جارہا ہے۔ اللہ توفیق دے تو پورا لکھا کریں۔
قوم کو بے وقوف بنانا کتنا آسان ہے۔ یہ ملٹری جوکر۔ علیمہ خان کے حق میں ایک وڈیو بناتا ہے اور 9 ہزار لائیکس سمیٹتا ہے۔ یہ انہی کا پالتو ہے جنہوں نے علیمہ خانم کا اغواہ کیا ہے۔ یہ موقعہ اس کو دیا جاتا ہے تا کہ آپ اسے ہمدرد سمجھیں- اعتبار کر لیں۔ عقل کریں سانپ آپ کے نہیں ہوتے
قوم کو بے وقوف بنانا کتنا آسان ہے۔ یہ ملٹری جوکر۔ علیمہ خان کے حق میں ایک وڈیو بناتا ہے اور 9 ہزار لائیکس سمیٹتا ہے۔ یہ انہی کا پالتو ہے جنہوں نے علیمہ خانم کا اغواہ کیا ہے۔ یہ موقعہ اس کو دیا جاتا ہے تا کہ آپ اسے ہمدرد سمجھیں- اعتبار کر لیں۔ عقل کریں سانپ آپ کے نہیں ہوتے