Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
Former Prime Minister Imran Khan in conversation at Adiala Jail - 24 July 2025
Note: This is a repost of the tweet from 24th July 2025
“We have knocked on every door, but no one has listened. I had asked for dialogue only once, and that too was conditional upon commissions to investigate the events of November 26th (2024) and May 9th (2023) being formed. It was Asim Munir who ordered the shooting of unarmed civilians on November 26th. I reiterate there is no longer any room for dialogue because this group has completely hijacked the entire system.
I have instructed Barrister Gohar, Salman Akram Raja, Ali Amin Gandapur, and Junaid Akbar to ensure the protest movement runs with full force. The objective of this movement must be the restoration of justice, the supremacy of law, and the protection of the Constitution. If we fail to raise our voices in the streets, this group of oppressors will gradually finish off our parliamentary party as well. I am standing firm; all of you must also stand firm.
Eighty percent of the people of Pakistan stand with me and we are entitled to fight for our rights. I am aware that 90% of the electoral fraud took place between polling and the compilation of results. I campaigned for the implementation of Electronic Voting Machines (EVMs) for two years. If EVMs had been used on February 8th (2024), the game would have ended there and then. I still say today: if transparent elections are desired, EVMs must be introduced, and rigging will end once and for all.”
پاکستانی کرکٹرز بھی میدان میں آ گئے، جاوید میانداد نے آواز بلند کر دی!🚨🚨
"میں خوب جانتا ہوں، عمران کبھی کھانے پینے والا انسان نہیں رہا۔ وہ ایک بے حد ایماندار شخص ہے، اسے فوری طور پر آزاد کیا جائے!" — جاوید میانداد جزبات پر قابو نہیں پا سکے۔۔
One World Cup. Two universities. Three cancer hospitals. Thirty years of political struggle and family sacrifice. Four bullets. Three years in jail. No crime. Still standing. One man. One eye. One mission. Zero surrender.
Imran Ahmed Khan Niazi, what a man. No one can be like you. ❤️
Adding my support here to GC and the other former international captains. I hope the court ordered medical assessment be allowed to run its course, and that family visits continue. I hope Imran Khan is treated with the dignity anyone deserves
"اس حمام میں سب ننگے ہیں "
آج اسلام آباد میں یونیورسٹی میں جو ہوا اس پر سب سے زیادہ تشویشناک بات نہ فوجی کا گولی چلانا ہے نہ طلباء کا کسی خاتون پر آواز لگانا یا فوجی کی پھینٹی لگانا ہے - ان دونوں باتوں سے زیادہ تشویشناک بات صحافیوں اور سوشل میڈیا پر فریقین کے سپورٹرز کے دلائل ہیں جو اس قدر متعصب اور جذباتی ہیں کہ ان کے درمیان سات سمندروں کا فاصلہ ہے - ایک طرف ایک گروپ کے دلائل میں اس واقعہ سے زیادہ وہ حالات نظر آتے ہیں جن کا اس ملک کو پچھلے کئی سال سے سامنا ہے تو دوسری طرف کے گروپ کے دلائل میں خوشامد اور "غیرت " کا وہ منجن نظر آتا ہے جس کے مطابق آرمی جو بھی کرتی ہے "قوم کے وسیع تر مفاد میں کرتی ہے " اور ایسا کرنا "غیرت کی نشانی " تھا -- یوں یہ یونیورسٹی کا یہ جھگڑا اس ملک میں سویلین اور عسکری اداروں کی لڑائی معلوم ہونے لگتی ہے -
چلیں اس ب دلائل کا پوسٹمارٹم کرتے ہیں - کرنل صاحب کے حق میں دلائل دینے والے بہت سے صحافیوں اور سوشل میڈیا صارفین کی ایک یہ دلیل ہے کہ
"کسی کی بھی بیوی کو جب ایک گروہ تنگ کریگا تو اس کی غیرت کا تقاضہ ہے کہ پھر وہ ایسا ہی کرے جیسا کرنل صاحب نے کیا " -
ایسے ہی لوگوں کے ایسے غیرت والے "بے غیرت " قسم کے دلائل کی وجہ سے اس ملک سے "غیرت پر قتل " کا رواج آج تک قائم ہے کیوں کہ کوئی بھی غیر قانونی کام کرتے ہویے ان کی بھی یہی دلیل ہوتی ہے - غیرت کے علمبردار ان لوگوں سے مجھے یہ پوچھنا ہے کہ مئی 2023 کو ایک لڑکی طیبہ راجہ
@tayyabarajah
کے بال ایک رینجرز نے کیمروں کے سامنے کھینچے تھے اور اسکو گھسیٹتا ہوا سڑک کے ایک طرف لے گیا تھا -پورے پاکستان نے یہ منظر دیکھا تھا - وہاں اگر طیبہ کا باپ یا بھائی اس رینجر پر پستول تان لیتا یا ہوائی فائر مارتا تو اس کو بھی یونہی غیرت مند کا ٹائٹل ملتا ؟
ہر گز نہیں - اس کو دہشت گرد کہ کر اس پر انسدادی دہشت گردی کا مقدمہ چلتا' اس کا ملٹری کورٹ میں ٹرائل ہوتا اور اس کے بعد کوئی اس کی شکل نہ دیکھ پاتا - تو اگر غیرت بس فوجی کی بیوی یا بیٹی کی دفعہ ہی جاگتی ہے تو ایسے دلائل دینے والوں میں خود غیرت کا فقدان ہے جس کیلئے ان کو غیرت کے ٹیکے لگوانے چاہیے -
ایک اور مثال دیتا ہوں - نومبر 2024 میں اسی اسلام آباد میں کنٹینر پر ایک شخص نماز پڑھ رہا تھا - اس کو بغیر کسی دست درازی کے رینجرز نے اٹھا کر 25 فٹ کی بلندی سے نیچے پھینک دیا تھا - اس کو دیکھ کر اگر وہاں موجود مجمع "اسلامی غیرت " کے تحت ان رینجرز پر حملہ کر دیتا تو کیا آج بھی ان درباریوں اور حواریوں کی یہی دلیل ہوتی ؟ ہر گز نہی - تب ان لوگوں کو "آتنک وادی " اور "را کا ایجنٹ " کہا جاتا اور اس کے بعد وہ لاپتہ ہوجاتے -
سو یہ کیسی غیرت ہے کہ جو بس صاحب اختیار کی ہو تو " مرد کی غیرت" ' اور کمزور کی ہو تو "مال غنیمت " - اس غیرت والے منجن کی دلیل دے کر یہ لوگ مستقبل میں اس بات کی رواج پیدا کردینگے کہ جس کی بھی بہن پر کوئی ہوٹنگ کرے ؛ وہ کالج میں ڈسپلن کمیٹی کے پاس جانے کی بجاے بندوق لے کر ہوائی فائرنگ شروع کردے -
ان خاتون کو بھی وہاں کھڑی پولیس سے بات کرنا چاہیے تھی '- وہ ایک ڈاکٹر تھی ' پروفیسر تھیں - پروفیشنل تھیں - ان طلباء کے خلاف یونیورسٹی کی ڈسپلن کمیٹی بلانی چاہیے تھی پر انہوں نے بھی سیدھا ٹرپل ون بریگیڈ کو بلانا مناسب سمجھا جو ان کے اندر موجود اس احساس کا ترجمان ہے کہ "میرا شوہر کرنل ہے " - یونیورسٹی میں وردی پہن کر آنا غلط نہیں ' ایسا ہوسکتا ہے وہ کام پر جارہے ہوں اور وہاں سے آگیے ہوں - غلط اس وردی کا رعب جھاڑنا ہے اور اس کے زعم میں ہوائی فائر کرنا ہے جو سرحد پر زیادہ اچھے لگتے ہیں ' سویلین پر نہیں - ہر سڑک "ڈی چوک " اسلام آباد نہی ہوتی نہ ہر تاریخ نو مئی یا 26 نومبر ہوتی ہے - عادتیں بدلیں ؛ کہ اب لوگ بدلتے جارہے ہیں -
اس پورے واقعہ کا ایک اور پہلو وہاں موجود پولیس کی اس فوجی کو روکنے اور بندوق چھیننے میں ہچکچاہٹ بھی ہے کیوں کہ اس ملک کا ماحول ہی ایسا ہے کہ کوئی بھی وردی والوں پر ہاتھ ڈالنے سے ڈرتا ہے چاہے وہ کتنا ہی قانون کیوں نہ توڑے - وہ کوئی سیاست دان ہو ؛ یا جج ہو یا صحافی ہو یا پولیس والا - قانون توڑنے والے اس ہاتھ کو روکنے سے ڈرتا ہے کیوں کہ ان کو بعد میں اپنے انجام سے ڈرلگتا ہے - مجھے یقین ہے وہاں کھڑے ان پولیس والوں کو بہاولنگر میں آرمی کے ہاتھوں پولیس والوں کی ٹھکائی ضرور یاد آتی رہی ہوگی -
دوسری طرف یہ بھی ٹھیک نہیں ہوا کہ پورا مجمع ایک عورت اور ایک پروفیسر پر جملے بازی کرے - احتجاج کی حد تک ٹھیک تھا ' زبان درازی اگر ہوئی تو اس کی توجیح ہر گز نہیں دی جاسکتی اور ایسے سٹوڈنٹس کے خلاف بھی ڈسپلن کمیٹی کی کاروائی اور سسپینشن بنتی تھی - اگر ان سٹوڈنٹس نے بھی اس عورت کو محض اس لیے ہوٹنگ کا نشانہ بنایا کہ وہ ایک آرمی کے کرنل کی بیوی تھی تو یہ بھی انتہائی پست ذہنیت کی عکاسی ہے - سٹوڈنٹس کو اپنے غصے اور جذبات میں اس وقت کے واقعات کو حاوی رکھنا چاہیے ' کسی پرانے بغض یا اس عورت کے رشتے یا تعلقات کو نہیں - یہ جذباتی کمزوری (Emotional cowardice) کی نشانی ہے جو قابل مذمت ہے -
اس پورے معاملے میں زیادہ ذمے داری کرنل صاحب پر عائد ہوتی ہے - وہ اس لئے کہ وہ ایک ادارے کا یونیفارم پہن کر یہ سب کر رہے تھے - وہ ادارہ جس سے لوگ ویسے ہی نالاں ہیں - غصے میں ہیں - یہ ان کا کینٹ نہیں تھا بلکہ ایک یونیورسٹی تھی جہاں جھگڑا ہو بھی جائے تو آرمی نہی آتی ' پولیس آتی ہے - وہاں پولیس موجود تھی - ان پولیس والوں کے سامنے پہلے لڑکے کو تھپڑ مارنے میں پہل کرنا ' سٹک سے مارنا اور پھر وردی میں آ کر پستول چلانا سیدھا سیدھا اختیارات کا ناجایز استعمال اور اپنی وردی کا غرور تھا ' کوئی غیرت یا سیلف ڈیفینس نہی -- یہ حرکت کسی سویلین تو دور کسی پولیس والے نے بھی آرمی والوں کے ساتھ کینٹ میں کی ہوتی تو اس کا ووہی حال ہوتا جیسا دو سال قبل بہاولنگر میں ہوا تھا جہاں آرمی کی پوری پلٹن نے جا کر پولیس والوں کو وردی میں ٹھڈوں سے مارا تھا اور بعد میں اس پر معافی بھی آئ جی پنجاب نے مانگی تھی -
یہ بات کہ اس کرنل کو کورٹ مارشل کا سامنا کرنا پڑیگا اور ملٹری اس کو سزا دے گی ' یہ تو اور بھی زیادہ قابل تنقید کیوں کہ یہ "کونفلیکٹ آف انٹرسٹ " "Conflict of interest" ہے - جب ایک سویلین کسی کینٹ میں جا کر کوئی دنگا فساد کرتا ہے تو اس کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں ہوتا ہے - رائٹ؟ ہم نے تو اس ملک کی عدالتوں سے یہی سیکھا ہے - تو پھر جب ایک کرنل کسی سویلین یونورسٹی میں جاکر وردی کا غلط استعمال کر کے ہوائی فائر کرتا ہے تو اس کو کسی تھانے میں کیوں نہیں بند کیا جاتا ' کسی سویلین کورٹ میں جہاں تاریخ بھی مہینوں بعد آتی ہے ' وہاں کسی فزیکل کسی جوڈیشل ریمانڈ پر کیوں نہیں دیا جاتا ؟ اگر میری بات میں وزن نہی تو وضاحت کردیں -
اس پورے واقعہ نے صرف ہماری آرمی نہیں بلکہ ہر صاحب اختیار آدمی کی ذہنیت آشکار کی ہے - میں محض آرمی میں موجود چند آئین شکن افراد کے بغض میں یہ ہر گز نہی کہونگا کہ ایسا بس ہماری آرمی والے ہی کرتے ہیں - یہاں کوئی سیاست دان یا وڈیرہ بھی ہوتا ؛ کوئی بیوروکریٹ یا کمشنر بھی ہوتا ؛ کوئی ایس پی یا آئ جی بھی ہوتا ' وہ بھی ایسی ہی رعونت دکھاتا ' ایسے ہی اختیار یا وردی کا رعب جھاڑتا کیوں کہ اس ملک میں قانون اور آئین یا صرف کتابوں میں رٹا مارنے کیلئے ہیں یا پارلیمنٹ اور عدالتوں میں "شکن " ہونے کیلئے ہیں - - حقیقت میں قانون سامنے نیلی وردی میں کھڑا بھی ہو تو اختیار والا اپنی خاکی وردی کا رعب جھاڑنا نہیں بھولتا اور اس حمام میں کیا فوجی ؛ کیا ایس پی ' کیا چوہدری ' کیا ایڈووکیٹ ' کیا کمشنر کیا منسٹر -- ہم سب ہی ننگے ہیں -
"قلم کی جسارت وقاص نواز "
-------------------------------------------------------
Prime Minister @andyburnham and Foreign Secretary @Ed_Miliband : how much longer will Britain remain silent?
For three years the father of my two sons, and Pakistan’s former Prime Minister, Imran Khan, has been brutally penalised by his political opponents, in a personal vendetta by Army Chief, Asim Munir, which according to the UN, amounts to torture and which is now taking a potentially fatal toll on his physical and mental health.
He has endured 3 years of solitary confinement. For nearly ten months now his family has been denied contact with him. He has been deprived of the most basic human contact, denied access to books, lawyers and doctors.
The international human-rights standards are unequivocal. Under the UN’s Nelson Mandela Rules, solitary confinement lasting more than 15 consecutive days is prohibited and amounts to torture.
He has endured this treatment not for 15 days, but for three years.
Pakistan’s own Supreme Court has now intervened: ordering comprehensive medical treatment, access to his personal doctor, regular family visits and twice-weekly calls with his sons.
Yet those orders are being defied.
This is no longer simply a Pakistani political matter. It is a human-rights emergency.
He has deep and lifelong ties to Britain. He studied at Oxford University, captained Oxford University cricket and spent years playing county cricket in England. His relationship with this country stretches back more than half a century. His charitable activities were internationally recognised, and include building the only free cancer hospital in Pakistan as well as a university.
His sons, my two boys, Sulaiman and Kasim, are British citizens. They have been forced to watch their father’s health decline from thousands of miles away, prevented from visiting him, denied visas, publicly threatened by government officials with arrest themselves, and even denied court-mandated regular phone calls.
I have repeatedly appealed to the UK government to intervene. Purported attempts at back channelling have evidently failed. The previous Foreign Secretary @DavidLammy informed me in writing that Britain would not intervene if my sons, British citizens, are arrested when they travel to Pakistan to visit their father.
@FCDOGovUK: Britain must now speak out publicly and unequivocally. Demand that Pakistan comply with its own Supreme Court; restore Imran Khan’s medical access, his right to see his family, end his prolonged isolation and uphold his fundamental human rights.
Pakistan is a Commonwealth country. Britain has a long and proud tradition of standing against arbitrary detention, inhumane treatment and the denial of fundamental rights. Those principles mean very little if we invoke them only selectively and neglect them when inconvenient.
This an appeal to the new Burnham government to please now do the right thing.
"میرا یار زندہ ' صحبت باقی" (تحریک انصاف کے مایوس سپورٹرز کو یہ کالم پورا پڑھنا چاہیے )
کل کے ہسپتال ٹرانسفر ساگا میں مجھے کچھ ایسا نہی نظر آتا جس سے تحریک انصاف کے لوگوں کا مایوس ہونا چاہیے- میں اپنی بات کی وضاحت کر دیتا ہوں :
کل کے حکومتی ڈرامے کے دوران عمران خان کی ایک بہن کی ان سے ملاقات اور آج ان کی پریس کانفرنس سے جو میرے لئے سب سے تسلی بخش بات ہے وہ یہ ہے کہ عمران خان حیات ہیں - ان کی صحت الحمد الله ٹھیک ہے - سیاست اور حکومت گئی تیل لینے ' میرے لئے سب سے اہم بات یہ ہے کہ عمران خان جن کو نو ماہ سے کسی نے دیکھا بھی نہی تھا ؛ وہ جسمانی طور پر ویسے نہی تھے جیسے بہت سے یوٹیوبرز ان کو بنا کر پیش کر رہے تھے -
میرا یار زندہ ' صحبت باقی -
اب آتے ہیں اس کے دوسرے پہلو کی طرف - بلاشبہ یہ ٹوپی ڈرامہ کرکے حکومت نے ووہی کیا جس کی ان سے توقع کی جارہی تھی - میں پہلے ہی لکھ چکا ہوں کہ مسلم لیگ نواز کی حکومت کا گریس ' ظرف اور آئین کی پاسداری سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا
جواد احمد کا شائستگی سے ،
خواجہ آصف کا امور وزارت دفاع سے—
چاہت فتح علی کا سروں اور ساز سے --
ہماری عدالتوں کا انصاف سے—
اور ہماری اسٹبلشمنٹ اور فوج کا اپنے حلف سے ہے-
کل بھی انہوں نے ووہی کیا جیسے کسی محلے کے کن ٹٹے ' نومی ' پومی ' شادا' مادہ یا اچھو ' کرتے ہیں - یعنی جھوٹ ' دھوکہ ' فریب ' اور وہ بھی محض سپریم کورٹ نہیں بلکہ سو سے زیادہ لوکل چینلز ' انٹرنیشنل میڈیا' شفا کے ڈاکٹروں سمیت پچیس کروڑ اس عوام کے ساتھ جو بیچاری وہاں راستوں میں پھول بچھا رہی تھی یا بیرون ملک سے میری طرح پھول بھجوا رہی تھی - لیکن اس معصومیت اور سادگی پر پاکستان کے عوام کو اپنے آپ کو بالکل بھی بدھو اور "naive" نہیں سمجھنا چاہیے کیوں کہ جو بھی ہوجاے سادگی اور معصومیت کبھی بدمعاشی کا نعم البدل نہیں ہوسکتی -
اس سارے ڈرامے میں مجھے جو روشنی کی پہلو نظرآتے ہیں وہ یہ ہیں :
1 . سب سے بڑھ کر خان حیات ہے - الحمد لللہ - جسمانی طور پر ابھی بھی اتنا توانا ہے کہ ان کی بینڈ بجا سکتا ہے -
2 . شفا شپتال کی جگہ پمز بھیجنے کی یہ بچگانہ حرکت کرکے اور ڈاکٹر فیصل کو شفا بھیج کر خان کو چیک کرنے والے ڈاکٹروں میں ان کو نہ شامل کرکے حکومت نے کھلم کھلا سپریم کورٹ کے آرڈر کی خلاف ورزی کرکے کم سے کم اپنے خلاف "توہین عدالت " فائل کرنے کا فورم ضرور مہیا کردیا ہے -
3 . ایک ہی رات میں عمران خان کی جیل واپسی نے غریده فاروقی جیسے بہت سے ان "دانش وڑوں" کے اس بیانیے کو بھی دفن کردیا ہے کہ عمران خان کسی "ڈھیل یا ڈیل" کے چکر میں ہیں - ساتھ میں رائٹرز (Reuters ) کو دیے گیے زلفی بخاری کے بیان کو بھی کلئیر کردیا ہے جس کو توڑ مروڑ کر حکومتی میڈیا یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا تھا کہ "خان اب باہر آئیگا تو آرمی چیف پر تنقید نہی کریگا " یعنی یہ سب کسی ڈیل کا نتیجہ ہے -
4. پاکستان کے عوام کا یوں کھلم کھلا مذاق اڑا کر اس حکومت نے اپنے خلاف اس نفرت کو مزید تڑکا لگادیا ہے جو پہلے ہی بام عروج پر تھی - لوگوں کو اس بات کا اور بھی یقین ہوگیا ہے کہ یہ صبح جھوٹ بولتے ہیں ' دوپہر میں کوڑ بکتے ہیں اور شام کو بھی بکواس ہی کرتے ہیں - ان میں نہ اخلاق ہے نہ احساس اور نہ آئین کی پاسداری - مجھے لگتا ہے یہ غصہ اگلے مہینے ہونے والے ستمبر 27 کے احتجاج کو نئی زندگی دیگا -
5 . اس حرکت کے بعد لوکل اور انٹرنیشنل میڈیا میں مسلم لیگ کے اس موقف کے بھی پرخچے اڑ گیے ہیں کہ ہم صحت پر سیاست نہی کرتے - ہر جگہ ایک ہی سوال ہے کہ جب بقول خود ان کے تحریک انصاف حکومت کی سفارش پر نواز شریف جیل سے لندن علاج کیلئے گیے تھے ' تو اپنی دفعہ جب یہ عمران خان کو جیل سے باہر لے ہی آیے تھے تو ایسا کیا تھا کہ پرائیویٹ ہسپتال کی جگہ سرکاری ہسپتال لے کر گیے - ایسا کیا ہے جس کو چھپانا چاہتے ہیں اور ایسا کیا ہے جس کی انویسٹیگیشن سے ان کو ڈر لگتا ہے کہ اس کو چھپانے کیلئے عدالت سے بھی متھا لگالیا اور عوام سے بھی کھلے کھاے-
6 - اس دھوکے کی وجہ سے پارلیمنٹ میں اپوزیشن اتحاد بننے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے اور یہ ایک مہینے بعد ہونے والے احتجاج کیلئے مثبت ثابت ہوگا -
یہ سب پوائنٹس تحریک انصاف کے حق میں جاتے ہیں - عمران خان شفا ہسپتال میں آ بھی جاتے وہاں بھی کچھ دن بعد وہ خود واپس جانے کی طرف مائل ہوتے کہ وہاں ان کی اہلیہ بیمار ہیں اور وہ کبھی بھی ان کو یوں اکیلا نہ چھوڑتے - ہاں یہ ضرور ہے کہ اس ایک ہفتے میں ان کا کارڈیک ورک اپ ضرور ہوجاتا جو اب نہیں ہوا - پر یہ بھی ایک نکتہ ہے جو عدالتوں کے سامنے اور اگلے ماہ سڑکوں پر اٹھایا جاسکتا ہے -
سو میں مطمئن ہوں کہ کچھ بھی ایسا نہیں ہوا جس سے عمران خان یا تحریک انصاف کو نقصان ہوا ہو - ہاں البتہ اس نظام کے "نومی ' اچھو ' اور ان کے پیچھے بیٹھے شادے اور گامے " اور بھی ننگے ہوگیے ہیں جو ایسا موقع ڈھونڈتے ہیں جہاں اپنے منہ پر کالک مل سکیں اور پھر اتنی کالک ملتے ہیں اتنا گوبر لیپتے ہیں کہ بدبو کے بھبھوکے آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد فخر سے دلیل دے کر کہتے ہیں کہ گوبر میں نیچرل توانائی ہوتی ہے اسی لیے تو اس سے ایندھن جلتا ہے -
مایوس نہ ہوں اور عمران خان کا یہ کلپ سنیں جو ان کی مظبوط شخصیت اور فولادی عزم کی ترجمان ہے --
کیوں کہ میرا یار زندہ - صحبت باقی -
قلم کی جسارت وقاص نواز
--------------------------------------------------
@MirMAKOfficial@MoeedNj@ImranRiazKhan@soulful7867@SabeeKazmi786@agentjay2009
عزت اور ذلت الله کی طرف سے ہے اور بلاشبہ کامیابی اسی کے قدم چومتی ہے جس میں استحکام اور استقام ہوتا ہے -
آج کے یہ مناظر اس محبت کے غماز ہیں جو بندوق سے نہیں ملتی - جو اتھارٹی سے نہیں ملتی -
جو وردی سے نہیں ملتی -
جو کرسی سے نہیں ملتی -
جو چوغے سے نہیں ملتی -
جو کسی سٹوڈیو سے نہیں ملتی -
یہ وہ محبت ہے جو اس وقت ملتی ہے
جب آپ لوگوں کے ترجمان ہوتے ہیں -
بیماروں کے لئے ان کا خاندان ہوتے ہیں -
غریبوں کیلئے پناہ گاہ ہوتے ہیں -
بھوکوں کیلئے راشندان ہوتے ہیں -
یہ وہ محبت ہے جو کینسر سے ٹھیک ہونے والے کسی ایسے مریض کے ہاتھ اٹھانے سے ملتی ہے جو اس کینسر کا علاج کرانے کی طاقت نہی رکھتا تھا -
اس محبت کو آپ نہ خرید سکتے ہیں ' نہ چھین سکتے ہیں ' نہ مٹا سکتے ہیں ' نہ دبا سکتے ہیں -
خدا پاکستان کی اپنے خان سے اس محبت کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ان کو صحت کے ساتھ پھر سے اپنے عوام اپنے خاندان اور اپنے پاکستان کے درمیان کرے - آمین-
آج کے دن شکرانے کیلئے شوکت خانم میں صدقہ دینا مت بھولیے گا اور صدقہ دے کر اس کا سنیپ شاٹ اپنی ٹائم لائن پر لگائیں تاکہ یہ کیمپین جاری رہے کہ کسی ایک بھی کینسر کے مریض کی دعا عمران خان کیلئے ذریعہ نجات اور آسانی کا دروازہ بن سکتی ہے -
Link:
https://t.co/QiWeVnNopm
----------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@agentjay2009@SabeeKazmi786
-----------------------------------------------
آپ ان کا حال چیک کریں کہ کل رانا ثناالله سارا دن حامد میر کے شو میں کہتے رہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت متوازن ہے اور اس پر من و عن عمل ہوگا -
خواجہ سعد رفیق @KhSaad_Rafique نے تو پورا جذباتی کالم لکھ مارا کہ اچھا ہوتا کہ یہ فیصلہ حکومت کی طرف سے آتا - باقی اسیروں جن میں ڈاکٹر یاسمین کا بھی نام تھا ' ان کو بھی یہ طبی سہولت ملنی چاہیے"
اور آج کیا ہوا -- آج اسی حکومت نے اس سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی اپیل دائر کردی - ان کے وزرا طلال چوہدری ‘عطا تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اگر خان صاحب کو یہ سہولت دی تو پھر اس کی نظیر بن جائیگی اور باقی قیدیوں کو بھی یہ سہولت دینا پڑیگی "
اس تضاد اور اس دو رنگی پر مجھے ذرا بھی حیرت نہی ہوئی -کیونکہ مسلم لیگ نواز کا گریس (grace) اور ظرف سے اتنا ہی تعلق ہے جتنا جواد احمد کا شائستگی سے ،
خواجہ آصف کا امور وزارت دفاع سے—
چاہت فتح علی کا سروں اور ساز سے --
ہماری عدالتوں کا انصاف سے—
اور ہماری اسٹبلشمنٹ اور فوج کا اپنے حلف سے ہے-
یعنی نواز شریف کے جیل سے لندن ٹرانسفر کی باقی قیدیوں کیلئے نظیر نہی ہوگی کیونکہ ان کو خود تحریک انصاف کی حکومت نے بھیجا تھا -
اور جب کہا جائے کہ عمران خان کی صحت سے یوں نہ کھیلیں تو جواب آتا ہے ان کی حکومت نے ہمارے ساتھ صحت کے معاملے میں کھلواڑ کیا تھا --
یعنی ایسا ممکن نہی کہ یہ ایک سانس میں دو جملے بولیں اور ان میں تضاد ' کوڑ' جھوٹ اور دورنگی نہ ہو -
یہ ایسا موقع ڈھونڈتے ہیں جہاں اپنے منہ پر کالک مل سکیں اور پھر اتنی کالک ملتے ہیں اتنا گوبر لیپتے ہیں کہ بدبو کے بھبھوکے آنے لگتے ہیں اور اس کے بعد فخر سے دلیل دے کر کہتے ہیں کہ گوبر میں نیچرل توانائی ہوتی ہے اسی لیے تو اس سے ایندھن جلتا ہے -
آخ تھو ہے بھیی !
—————————————————-
@SdqJaan@MoeedNj@siasatpk@ImranRiazKhan
@enkidureborn اور ہم اسی پر خوش رہتے ہوے ایک دن کپتان کے حوالے سے کسی بوری خبر کو سنیں گے اور کچھ افسوس کریں گے اور بھر اپنے اپنے کاموں میں مصروف ھو جائیں گے