پیٹرول 4 روپے 42 پیسے، ڈیزل 6 روپے 10 پیسے مہنگا
ایک طرف نام نہاد ریلیف کے اعلانات، دوسری جانب پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرکے عوام کی جیبوں سے مزید پیسے نکالے جا رہے ہیں۔ خدا کا خوف کریں، عوام کو مزید کتنی مشکلات میں ڈالیں گے؟
خدا کے بندو خدا سے ڈرو
سعودی عرب پر یمن اور عراق سے ہونے والے خطرناک حملے افسوسناک ہیں۔ ا افسوسناک یہ بھی ہے کہ کسی تحقیق کے بغیر ایران کو ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔ پھر یہ کہ۔پاکست میں بعض شیعہ ذاکر کتنے ہی بدزبان کیوں نہ ہوں ، ایرانی مسلمانوں کو بعض بدبخت مجوسی یعنی کافر کیسے قرار دے رہے ہیں؟ کافر قرار دینے کی شرائط بہت سخت ہیں ۔ جو لوگ اس کے مرتکب ہیں ، وہ اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کی حکمت عملی یہ ہے کہ۔مسلمان آپس میں لڑ مریں۔ بعض بد بخت ملا اور ذاکر اس کار خیر میں دانستہ یا نادانستہ امریکی اور اسرائیلی صیہونیوں کی مدد کر رہے ہیں۔
خدا کے بندوں، خدا سے ڈرو
نواز لیگ حکومت اور کچھ کرے یا نہ کرے، پیٹرول ڈیزل دھیان سے مہنگا کرتے ہیں، آج پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا کیا ہے۔۔۔ 4 روز میں 24 روپے 93 پیسے لیٹر مہنگا ہوا، ڈیزل 4 روز میں 20 روپے لیٹر مہنگا ہوا۔ ایسی عوام دشمن حکومت تاریخ میں نہیں آئی
7ستمبر، 12 روپے 90 پیسے مہنگا
8 ستمبر، 5 روپے 58 پیسے مہنگا
9 ستمبر، 3 روپے 40 پیسے مہنگا
حکومت روزانہ پیٹرول بم مارتی ہے، کبھی قائد ایک روپیہ مہنگا ہونے پر کمرے سے نکل جاتے تھے، اب کچھ بھی نہیں کرتے
بہاولنگر میں مسلم لیگ ن کے رہنما عدیل افضل نے اپنے خلاف شکایت درج کرانے والی خاتون کو تھانے کے اندر ایس ایچ او کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کا ہاتھ توڑ دیا۔
یہ ہے ہماری ریاست اور قانون کی رٹ جو ان امیروں کے سامنے بے بس ہو چکی ہے!
#مزاحمت_بڑھاؤ_خان_چھڑاؤ
ہیلتھ کارڈ:
خیبرپختونخوا میں حکومت 2890 روپے فی خاندان انشورنس کمپنی کو ادا کرتی ہے
ہرشادی شدہ فرد کا الگ خاندان تصور ہوتا ہے
یعنی چھ بھائی ہے ہیں اور سارے شادی شدہ ہیں تو انہیں ساٹھ لاکھ کی ہیلتھ کوریج ملتی ہے
یعنی حکومت کی جانب سے دیے گئے 2890 روپے کے عوض ہر خاندان کو انشورنس کمپنی سے ایک ملین تک کی کوریج ملتی ہے
خیبر پختنواہ میں چورانوے لاکھ فیملیز رجسٹر ہیں جس کا سالانہ بجٹ 25 ارب بنتا ہے
پہلے او پی ڈی شامل نہیں تھی اب اوپی ڈی بھی شامل کی گئی ہے ، کئی بیماریاں پہلے شامل نہیں تھیں اب شامل ہیں جیسے شوگر کا علاج بھی اب ہیلتھ کارڈ پہ ہوتا ہے
جب آپ داخل ہوتے ہیں تو ڈسچارج کے وقت پندرہ دن کی ادویات بھی ہیلتھ کارڈ پہ ملتی ہیں
ٹیکسی کے پیسے بھی انشورنس کمپنی ادا کرتی ہے
اگر اسپتال کی فارمیسی میں کوئی دوائی موجود نہیں ہے تو باہر سے دوائی لانے کے لیے مریض کے اٹینڈنٹ کو کیش دیتے ہیں کہ باہر سے میڈیسن لے آئیں
سوچیں کہ خیبرپختونخواہ کے چورانوے لاکھ خاندانوں کو سرکار کے 25 ارب روپے سے صحت کی مفت سہولیات مل رہی ہیں
جکہ صرف پمز کو سرکار نے 22 ارب روپے ادا کیے ہیں
تو کیا ہیلتھ کارڈ اتنا برا ہے ؟؟
اب رہا سوال کرپشن کا تو اگر کوئی کرپشن کرے بھی تو حکومت کا نقصان نہیں ہوتا، انشورنس کمپنی کا ہوتا ہے اور انشورنس کمپنی اتنی آسانی سے اپنا نقصان ہونے نہیں دیتی
نوٹ: یہ کچھ عرصہ پہلے تک کا ڈیٹا ہے ہو سکتا ہے اب اس میں اگر کچھ ردوبدل یا اضافہ ہو گیا ہو۔ لیکن ہیلتھ کارڈ کی افادیت بڑھی ہے کم نہیں ہوئی
آئی پی پیز نے قومی خزانہ خالی کر دیا۔ عوام کو کنگال کر دیا۔ لیکن بجلی پھر بھی دستیاب نہیں۔ چھ سے بارہ گھنٹے روزانہ کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ اس سے بڑا اسکینڈل اور کیا ہوگا؟