آپ پاکستان میں الیٹ کی موجیں دیکھیں
بزنس کلاس پر بیرون ملک سفر پر FED فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی تھی مثلاً امریکہ کے لیے 3.5 لاکھ روپے، یورپ/آسٹریلیا کے لیے 2.1 لاکھ روپے، مشرق وسطیٰ کے لیے 1.05 لاکھ روپے یہ مکمل ختم کر دی ہے
جبکہ اکانومی کلاس پر یہ 12500روپے ہے جو اب بھی موجود ہے مطلب الیٹ کلاس کو معاف عام بندا اکانومی پر وہ دے گا اور پھر ڈھول پیٹ رہے بجٹ میں ہم نے رلیف دے دیا ہے
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 7 کروڑ سے زائد آبادی شدید غربت میں زندگی بسر کررہی ہے جبکہ بینکوں کے منافعے 671 ارب روپے، کھاد کمپنیوں کے منافعے 141 ارب روپے، اور آئی پی پیز کے واجبات 1 ٹریلین روپے ہیں۔ آپ کی حکومت کی ترجیح عوام کی فلا و بہبود نہیں بلکہ اشرافیہ کی عیاشیاں ہیں۔
حکومت کے عوام دوست بجٹ کی جھلکیاں
* بیرون ملک سفر کے لیئے بزنس کلاس کے استعمال پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز
* غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ
* بیرون ملک ڈیبیٹ یا کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر پانچ فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے کی تجویز
مگر ناشکری عوام خوش نہیں ہوگی،حاسدین کہیں گے اشرافیہ کو ریلیف دیا جارہا ہے
مرزا غالب کہتے ہیں آم میں دو خوبیاں ہونی چاہئیں۔
"اوّل وہ میٹھے ہوں،دوم بہ کثرت ہوں“
علامہ اقبال کو لنگڑا آم بہت پسند تھا۔ ایک بار مشہور شاعر اکبر الٰہ آبادی نے علامہ اقبال کو لنگڑے آموں کا تحفہ بذریعہ ڈاک بھجوایا، علامہ اقبال نے پارسل کی رسید پر یہ یادگارمصرع لکھ بھیجا۔
اثر یہ تیرے اعجازِ مسیحائی کا ہے اکبر
الٰہ آباد سے لنگڑا چلا، لاہور تک پہنچا۔
لہذا آم ہوں۔
ڈھیر سارے ہوں۔
اور ٹھنڈے ہوں۔
خالق کو ہے مقصود کہ مخلوق مزہ لے
وہ چیز بنا دی کہ بوڑھا بھی چبا لے.
زینب مینگو فارم
وٹس ایپ رابطہ نمبر
03138867383
پٹرول قیمتوں میں اس کمی کو “بڑی کمی” کہنا پروپیگنڈا تو ہو سکتا ہے خبر نہیں ، مارچ میں پٹرول کی قیمت 266 روپے تھی جو اب 404 روپے ہے جس میں اب بائیس روپے کم کئے جا رہے ہیں یہ قیمت 266 سے کوسوں دور ہے! بڑی کمی تب ہو گی جب پاترول کی قیمت 200 روپے پر لائبجائیگی!!
پاکستان کے حکمرانوں کی کارکردگی دیکھنی تو بجلی کے گھن چکر میں دیکھ لیں پاکستان میں بجلی اسقدر مہنگی کہ لوگ اب کم سے کم بجلی استعمال کر رہے مگر جتنی وہ کم بجلی استعمال کرتے بل اتنے زیادہ بڑھتے کیونکہ ہم نے کپیسٹی پیمنٹ دینی ہوتی یہ حکمرانوں کا پھیلایا رائتہ ہے کہ بجلی کے کارخانے کم سے کم بجلی بنا کر زیادہ سے زیادہ رقم لے رہے ہیں اور صارف کم سے کم بجلی استعمال کر کے زیادہ بل دے رہا ہے
آپ کو دنیا میں حکمرانوں کی ایسی کارکردگی کہیں نظر نہی آئے گی
پاک سرزمین کا نظام
سنہ 2008 میں مظفرآباد میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور منصوبے کا آغاز کیا گیا۔ اس سے 969 میگاواٹ بجلی حاصل کی جانی تھی۔
اس پر 500 ارب روپے لاگت آئی۔ منصوبے کی یہ رقم پاکستان کے شہریوں سے بجلی کے بلوں میں مشہورِ زمانہ ”نیلم جہلم سرچارج“ کے نام سے ہر ماہ وصول کی گئی۔
سنہ 2018 میں یہ پروجیکٹ مکمل ہوا، اور سنہ 2024 سے یہ منصوبہ بند پڑا ہے کیونکہ ڈیزائن میں نقائص تھے اور پانی کو دریا سے ٹربائن تک لائن والی سرنگ بیٹھ گئی تھی۔
اس منصوبے کو نیسپاک والے کاپی پیسٹ انجینئرز نے ڈیزائن کیا تھا۔
قوم کے 500 ارب روپے ضائع کرنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے وزیراعظم نے گزشتہ برسوں میں کئی انکوائری کمیٹیاں بنائیں جو ”کمیٹی ڈال کر بیٹھ گئی ہیں“ اور تاحال کوئی بھی اس کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا۔
اپنا خیال رکھیے گا،
آپ کا اے وحید مراد
ہارڈ سٹیٹ کا کارنامہ: حکومت کی جانب سے 2 سال میں آئی ایم ایف سے 2,340 ارب روپے قرضہ لیا گیا جبکہ پٹرولیم لیوی کے نام پر عوام سے 2,725 ارب روپے بٹور لئے گئے۔ جیو نیوز میں عاطف شیرازی کی خبر کے مطابق آئی ایم ایف سے قرض رقم سے زیادہ رقم عوام سے پیٹرولیم لیوی کی مد میں حاصل کی گئی۔
دنیا میں سیاستدان ایک سٹیج کے بعد کینیڈین وزیراعظم کی طرح سیاست سے ریٹائرمنٹ لے کر زندگی انجوائے کرتے ہیں جبکہ قائد محترم تین دفعہ وزیراعظم رہ چکے ہیں،اب بھائی وزیراعظم اور بیٹی وزیراعلی ہے لیکن ریٹائر زندگی انجوائے کرنے کی بجائے صوفے کے کشن سے میچنگ پینٹ پہن کر میٹنگ کررہے ہیں
پچھلے سال جب پنجاب حکومت نے گندم کی امدادی قیمت مقرر کرنے سے انکار کر دیا اورُکسانوں کو پنجاب کے باہر گندم بیچنے بھی نہیں دی تو میں نے خبرادرا کیا تھا کہ اگلے سال گندم کا بحران ہو گا، اب کسان سے پینتیس سو کی گندم لی گئ ہے لیکن بازار میں گندم چار ہزار پر پہنچ گئ ہے اور جلد پینتالیس سو بھی ہو گی، آٹا بحران سر پر کھڑا ہے حکومت کو کمی پوری کرنے کیلئے یوکرائن سے گندم منگوانی ہو گی جس کی قیمت پانچ چھ ہزار سے کم ہر گز نہیں ہو گی، اس شاندار پالیسی کے خالق اس وقت باکو میں تندوروں پر روٹیاں لگا رہے ہیں اور تالیاں بجا رہے ہیں، حیران ہوں ایسے مسخرے کیوں عوام پر مسلط کئے جاتے ہیں جو پچاس سال سے ملک کو ناکام ریاست بنانے کا فرض ادا کر رہے ہیں؟
یہ کونسا فارمولا ہے کہ دو یونٹ بجلی استعمال کرنے پر 2362 روپے فکس چارجز اور اسپر 439 روپے جی ایس ٹی بھی ٹھوک دیا۔۔ اس قوم سے کس بات کا انتقام لے رہے ہیں اپنی نا اہلی کا ۔
جنید حفیظ کی آج پھر سماعت تھی۔ اُن کے بزرگ والد گھنٹوں کا سفر کر کے لاہور ہائی کورٹ پہنچے لیکن دونوں معزز جج صاحبان نے آج پھر مقدمے کی سماعت سے انکار کر دیا۔ عدالتیں یا وکلاء تنظیمیں ان جج صاحبان کو کن قوانین کے تحت پابند کریں کہ وہ مقدمہ سُننے کی ہمت کریں۔ جنید حفیظ گزشتہ سترہ سال سے عدالتوں کے رحم و کرم پر ہے، انسانی حقوق کی تنظیمیں خاموش اور ادارے بے بس ۔۔۔ انصاف کہاں ملے گا؟ #JusticeForJunaidHafeez
حکومت نے اپنا پیٹرول لیٹر 420 کیا ہے اور ہماری بھنڈی 20 روپے کلو کی ہے۔
پاکستانی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے آج پاکستانی زمیندار رو رہے ہیں اور اپنی ساری محنت و فصل کے ضائع ہونے پر افسوس کر رہے ہیں۔
@highlight
Hussain Rehar becomes the first Pakistani designer to appear on the #Cannes2026 red carpet, wearing a classic sherwani crafted in handwoven tissue silk, paired with an emerald-green amulet accessory. Classy.
بلیو پاسپورٹ پارلئمنٹیرینز کے بچوں کو نہیں ملتا اور نہ ہی ملنا چاھئے، جج، جرنل اور سیاستدانوں کے بچوں تک خصوصی مراعات تباہ کن ہوں گی، اس طرح ایک نیا پاسپورٹ کلب وجود میں آ جائگااور عام پاسپورٹ کی حیثیت مزید تباہ ہو گی، اس کلب میں شامل لوگ اپنے خاندانوں کو خصوصی پاسپورٹس دلوا کر باقی لوگوں سے مکمل بے پرواہ ہو جائیں گے اور اس کا شدید اثر ہمارے عمومی پاسپورٹ کی قدر پر ہو گا، پاکستان کا اصل مسئلہ Elite Club ہے اور اس کو ختم کرنا ہے نہ کہ اس گروپ کو مزید مراعات دی جائیں !
Pakistan has socialism for the rich where the poor are deprived of basic necessities to compensate the ruling classes. The Rs. 120 per litre levy is imposed on the public to facilitate this tiny, parasitic elite feasting upon the nation's wealth. Disgusting and unsustainable.
پاکستان خصوصاً پنجابی اور سندہ میں رہنے والے واضع رہیں کہ قبائلی اسلام نافذ کرنے کی کوششیں پاکستان کو افغانستان بنا دیں گی، افغانستان اور افغانستان سے ملحقہ پختونخواہ کے علاقوں میں قبائلی مذھبی طبقات ایک دوسرے کو اسلام کے نام پر مار رہے ہیں، ان کے نزدیک ان کے اپنے علاوہ سب مرتد اور کافر ہیں، عورتوں کو پھیڑ بکریاں سمجھا جاتا ہے اور بچوں سے ظلم روا ہے، ایسے ماحول سے بچنے کیلئے قبائلی مذھبی تشریح اے سے دور رھنا ہو گا، کئ مذھبی منافق پاکستان کو افغانستان بنانے کی مذموم آئیڈیالوجی سے متاثر ہو کر پاکستان میں اسلام کے نام پر پسماندہ قبائلی روایات کے محکوم کرنا چاھتے ہیں جہاں بچیوں کی خریدو فروخت کو قانونی تحفظ ہو، جہاں بنوں کے جیسے میلے لگیں ، جہاں فرقے کے نام پر لوگ مرتد ڈیکلئر ہوں اور عورتوں کو پردے کے نام پر محبوس کیا جائے مذھب کی ایسی تشریح سوسائٹی کو تباہ کر دے گی کیا وجہ ہے کہ قبائلی جنگوں کو مسجد اور مدرسے سے کنٹرول کیا جا رہا ہے؟ خودکش حملہ آور مذھبی بیانئے کا ہتھیار ہیں ۔۔اگر ہم نے انصار عباسی اور ان کے جیسے مذھبی جاھلین کو سختی سے مسترد نہ کیا تو ہم افغان اور ملحقہ علاقوں کی طرح غربت، جہالت اور بد امنی کی دلدل میں دھنستے چلے جائیں گے، ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے جو اسلام کو جدید دنیا کی ضد سمجھتے ہیں اور قبائلی افغان معاشرے کو اسلامی معاشرہ قرار دے کر وہاں کے رواج کو قانون اور آئین بنانا چاھتے ہیں !!
بیس سال پہلے ٹھیک آج کے دن ایک سیاہ فام نوجوان "گائے گوما" آئی ٹی کی جاب کے لیے بی بی سی کے دفتر پہنچا۔ وہ اپنی باری کا منتظر تھا کہ ایک شخص نے آکر پوچھا، آپ آئی ٹی سے ہے؟ کیا آپ ہی مسٹر گائے ہیں؟ گائے گوما نے اثبات میں سر ہلایا۔ وہ نوجوان انھیں ایک کمرے میں لے گیا۔
چند منٹ بعد ایک خاتون وہاں آئیں۔ گائے گوما کو لگا کہ انھیں کہیں دیکھا ہے۔ کسی نے نوجوان سے پوچھا کہ میک اپ کروائیں گے؟ ابھی وہ صورتحال سمجھنے کی کوشش کررہا تھا کہ انٹرویو شروع ہوگیا۔ وہ بی بی سی ٹی وی پر لائیو انٹرویو تھا۔
گائے گوما کو احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہوگیا ہے۔ لیکن اس نے حواس بحال رکھے۔ خاتون اینکر نے ایک آن لائن میوزک کیس کے عدالتی فیصلے کے بارے میں دو سوالات کیے۔ گائے گوما نے سکون سے ان کا جواب دیا۔ جوابات غلط نہیں تھے لیکن اینکر کو بھی احساس ہوگیا کہ کچھ مسئلہ ہے۔ اس نے انٹرویو فورا ختم کردیا۔
بعد میں پتا چلا کہ اینکر نے آئی ٹی ایکسپرٹ گائے کیونی کا انٹرویو کرنا تھا۔ پہلا نام یکساں ہونے کی وجہ سے غلطی ہوئی۔ بہرحال وہ بھنڈ منظر عام پر آیا اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا۔ بعد میں بی بی سی نے خود بھی اسے دوبارہ نشر کیا۔
آج اس بھنڈ کے بیس سال ہونے پر نیویارک ٹائمز نے تفصیل سے پوری کہانی چھاپی ہے اور بی بی سی کے اس کلپ کا لنک بھی شئیر کیا ہے۔
میں نے جیو میں کم از کم دو بھنڈ ایسے ہوتے دیکھے ہیں۔ عام طور پر اسائنمنٹ ڈیسک کے پاس ایک فون ڈائریکٹری ہوتی ہے جس میں ان تمام لوگوں کے فون ہوتے ہیں، جن کا کبھی انٹرویو کیا ہو یا کرنا پڑجائے۔ سیاست دان، سرکاری حکام، ترجمان، کھلاڑی، فنکار، تجزیہ کار، سب نام ہوتے ہیں۔ جب کسی کا بیپر، یعنی لائیو انٹرویو کرنا ہو تو اسائنمنٹ ڈیسک سے ہی نمبر مانگا جاتا ہے۔
پی سی آر، وہ جگہ جہاں پینل پروڈیوسر اور آڈیو انجینر بیٹھے ہوتے ہیں، کئی فون رکھے ہوتے ہیں جن سے انٹرویو کے لیے کال ملائی جاتی ہے۔ ایک بار اسائنمنٹ ڈیسک نے کوئی غلط نمبر دے دیا۔ بریکنگ نیوز کی جلدی تھی۔ ایسوسی ایٹ پروڈیوسر نے کال ملاکر لائن اندر اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کردی۔ آن ائیر جانے کے بعد معلوم ہوا کہ کال غلط شخص کو ملادی گئی ہے۔
پہلی بار یہ غلطی ایسوسی ایٹ پروڈیوسر سے ہوئی۔ دوسری بار اس وقت جیو دبئی کے بیورو چیف ایم کے عباس نے بھنڈ مارا۔ پرویز مشرف کا دور تھا۔ کسی اہم معاملے پر چوہدری شجاعت حسین کا لائیو بیپر کرنا تھا۔ وہ حسب عادت بھاگے بھاگے آئے اور پی سی آر کے فون سے خود کال ملاکر اسٹوڈیو میں ٹرانسفر کی۔ اینکر نے سوال پوچھا تو پتا چلا کہ فون غلط ملایا گیا۔ چوہدری شجاعت کے بجائے کسی عام آدمی کا فون مل گیا تھا۔
میں اسائننمٹ ڈیسک پر کم بھروسا کرتا تھا۔ جب میں نے جیو چھوڑا تو میری اپنی فون ڈائریکٹری میں ڈھائی ہزار نمبر تھے۔ وائس آف امریکا میں وہ ذخیرہ بہت کام آیا۔ لیکن ایک دن مجھ سے بھی غلطی ہوئی لیکن چونکہ وہ لائیو انٹرویو نہیں تھا اس لیے بھنڈ نہیں تھا۔
میں نے کسی معاملے پر ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی سے رائے لینا چاہی۔ فون بک میں خالد مقبول کا نام دیکھ کر کال ملائی۔ پوچھا کہ خالد مقبول صاحب بات کررہے ہیں؟ کال ریسیو کرنے والے نے تصدیق کی۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور سیاسی سوال پوچھا۔ وہ صاحب ہنسے اور کہا، میں وہ خالد مقبول نہیں ہوں۔میں نے فون بک دوبارہ کھولی اور کہا، معذرت چاہتا ہوں جنرل صاحب۔
وہ مشرف کے سابق ساتھی اور سابق گورنر پنجاب جنرل خالد مقبول تھے۔