Maryam Ibrahim Dan-Azumi, a pupil from Nigeria, has secured a prize of 120 million naira, equivalent to approximately 80,000 dollars, at the 46th King Abdulaziz International Qur’an Recitation Competition held in Makkah, Saudi Arabia.
Originating from Gombe State, she obtained the leading position in the division devoted to the memorisation of 60 Hizb of the Qur’an together with Tajweed and Tafsir, achieving a score of 97.70.
She took part among 334 competitors representing 133 nations, and the event marked the inaugural occasion on which female participants were admitted in the competition’s forty-six-year existence.
Maryam attends the Abubakar Siddiq Community School for Qur’an Memorisation situated in Gombe.
@s0nhri_sn0w تصویر میں اسکو عمودی سمت میں نصب کیا گیا ہے جو کہ میرے حساب سے صحیح نہیں ہے۔
چونکہ کہ ہوا افقی سمت میں سفر کرتی ہے اس لیے اسے بھی اس سمت میں نصب کرنا چاہیے ورنہ اس کے چلانے کے امکانات کم ہوں گے۔
@s0nhri_sn0w پہ چل سکتی ہے۔
مزید براں میرا مقصد یہ ہے کہ اسکو سولر پینل کہ ساتھ نصب کیا جائے تاکہ دن اور رات میں آندھی طوفان کہ وقت یا ویسے اگر دھوپ کم ہو اور ہوا چل رہی ہو تو اس وقت یہ متبادل ذرائع کے طور پہ استعمال کیا جا سکے ۔
ایک عرب بیوہ نے شادی کی عمر کو پہنچی ہوئی اپنی حسین و جمیل بیٹی کیلیئے حق مہر کا مطالبہ
مبلغ پانچ لاکھ ریال کر رکھا تھا۔
کئی خواہشمند اتنا حق مہر سن کر ویسے ہی
دستبردار ہو چکے تھے۔
اپنی ضد کا پکا ایک لڑکا بمشکل تین لاکھ ریال اکٹھے کر پایا۔
پیسے لیکر مزید کی مدد مانگنے کیلیئے سیدھا اپنے باپ کے پاس پہنچا اور کہا: ابا جی، میرا کچھ کر لو، میں اس لڑکی پہ فدا ہو گیا ہوں، مگر اس کی ماں ہے کہ پانچ لاکھ ریال حق مہر سے ایک فلس کم پر بھی بات کرنے کو تیار نہیں۔ اب آپ ہی کچھ کیجیئے۔
باپ نے بیٹے کی سنجیدگی کو دیکھا اور کہا: ٹھیک ہے پُتر، چل لا پیسے۔ کچھ کرتے ہیں تیرا بھی۔
دونوں باپ بیٹا پیسے لیکر بیوہ کے گھر پہنچے۔ سلام و دعا کے بعد باپ نے خاتون سے کہا: میں آپ سے بات کرنے کیلیئے حاضر ہوا ہوں۔ میری آپ سے ایک گزارش ہے کہ کہ جب تک میں اپنی بات مکمل نہ کر لوں آپ میری بات نہ کاٹیں۔
خاتون نے کہا: جی بسم اللہ ، کہیئے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: میرا بیٹا آپ کی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہے اور یہ ایک لاکھ ریال نقد حق مہر ساتھ لایا ہے۔
خاتون نے گڑبڑاتے ہوئے کہا؛ مگر مجھے اپنی بیٹی کے حق مہر میں پانچ لاکھ ریال سے ایک فلس کم بھی قبول نہیں ہے۔
لڑکے کے باپ نے کہا: محترمہ آپ سے گزارش کی تھی کہ آپ مجھے بات پوری کرنے دیجیئے گا۔
خاتون نے معذرت کرتے ہوئے کہا: جی پوری کیجیئے اپنی بات۔
لڑکے کے باپ نے کہا: آپ بذات خود ایک انتہائی خوبصورت اور جوان جہان عورت ہیں۔ میں آپ کو بھی ایک لاکھ ریال حق مہر ادا کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میرے حق شرعی میں آ جائیے۔
خاتون کی خوشی سے باچھیں کھل کر کانوں کو جا لگیں۔ بمشکل اپنے جذبات کو دباتے ہوئے کہا: اللہ آپ کا آنا قبول کرے۔ مجھے آپ کی دونوں شرطیں قبول ہیں۔
باپ بیٹا خوشی خوشی باہر نکلے تو ہمسائیوں نے پوچھا: ایسا کیسے ہوگیا؟ یہ تو ناممکن نظر آتا تھا۔
لڑکے کے باپ نے کہا: مال تھوک میں خریدتے ہوئے اور پرچون میں خریدتے ہوئے آخر ریٹ میں کچھ تو فرق پڑتا ہے ناں۔
لڑکے نے ہلکا سا گلا صاف کرتے ہوئے باپ سے کہا: ابا جی، وہ ایک لاکھ ریال جو بچ گئے ہیں، پھر وہ تو مجھے واپس دے دیجیئے۔
باپ نے کہا:
ناں پُتر اوئے، ابھی ایک بڑا اور اہم مرحلہ تو باقی پڑا ہوا ہے۔ یہ ایک لاکھ ریال جا کر تیری ماں کو دینا پڑے گا تاکہ وہ بھی تو راضی ہو۔
@haniabatool9 Iske bawjood assembly mein bethe parliamentarians ki degree nikalti h. Ye cheez to us idarey ko verify krwani chahiye jo is bnde ko higher kre. Na k bnda khud tasdeeq krwata phirey apni sachai ko.
BREAKING:
🇰🇷🇮🇱 South Korea's president slams Israel after a video of IDF soldiers throwing a young Palestinian off a rooftop
He says that "there is no difference between this and the Japanese wartime sexual slavery issue we raise, the massacre of Jews, or wartime killings."
Israel's Foreign Ministry responded that his post was "unacceptable" but President Lee obviously and courageously chose to double down