اس شان کا جہاں میں کویٔ شیر نہی ہے
عباس(ع) کے تو نام میں بھی زیر نہی ہے
ام البنین نے بیٹے کوبیدار کر دیا
ہر جنگ فتح کرنے کو تیار کر دیا
عباس(ع) کو گلے سے لگا کے کیٔ دفع
اتنی دعایں دی کہ علمدار کر دیا
فرشتوں میں کھیلتی تھی وہ عرش کی پری تھی شام کے بازاروں میں وہ زندان میں مری تھی
کہتی تھی یہ زینب کہ نہ ماریوں تماچے
اے شمر سکینہ (ع) بڑے نازوں سے پلی ہے