@AlboMP MORE BREAKING: RBA getting ready to increase interest rate because people have too much money. Please do not read this in connection to the tweet above.
@LindseyGrahamSC American people - next time you fill gas at double the normal price and get no medical care even though you pay income tax - remember this DICK as the cause.
بلیو پاسپورٹ پارلئمنٹیرینز کے بچوں کو نہیں ملتا اور نہ ہی ملنا چاھئے، جج، جرنل اور سیاستدانوں کے بچوں تک خصوصی مراعات تباہ کن ہوں گی، اس طرح ایک نیا پاسپورٹ کلب وجود میں آ جائگااور عام پاسپورٹ کی حیثیت مزید تباہ ہو گی، اس کلب میں شامل لوگ اپنے خاندانوں کو خصوصی پاسپورٹس دلوا کر باقی لوگوں سے مکمل بے پرواہ ہو جائیں گے اور اس کا شدید اثر ہمارے عمومی پاسپورٹ کی قدر پر ہو گا، پاکستان کا اصل مسئلہ Elite Club ہے اور اس کو ختم کرنا ہے نہ کہ اس گروپ کو مزید مراعات دی جائیں !
Absolutely correct decision a useless program that only used to pay servants of Sindhi Waderas and buy votes from Govt exchequer… instead convert this fund into a College loan and whoever comes up with job creation idea give him interest free loan…. #BISP
@soulat_pasha بڑی معذرت کے ساتھ، کدو شریف کا مارگریٹا، منجی، موڑہ، تربوز ٹھوک کر اندازہ لگانا کہ میٹھاا ہے یا نہیں، خربوزہ سونگھ کر بتانا کہ میٹھا ہے یا نہیں، بھری سڑک پر ایسی مہارت سے خاندانی ہیرے (خصیہ) کھجانا۔۔۔ حضرت آپ کا بعض آپ کو یہ اچیومنٹ نہیں دیکھنے دیتا!
@AlboMP "More free visits to GP". Wait a minute, now is this new normal? Considering the tax bracket I am on, shouldn't I be getting medical needs addressed?
موکھی شراب خانہ:۔
کراچی میں سب سے پہلے شراب فروخت کرنے والی دو عورتیں، ماں اور بیٹی تھیں۔ بیٹی کا نام موکھی اور ماں کا نام ناتر تھا، جن کی کہانی تقریباً ساڑھے تین سو سال پرانی ہے۔
وسطی ایشیا کے جو بھی قافلے گزرتے تھے، ان کی گزرگاہ کا راستہ سندھ سے ہوتا تھا، جسے 'کونکر' کہا جاتا تھا۔ ناتر نے اپنا مے خانہ (شراب خانہ) اسی گزرگاہ پر کھولا اور وہ موکھی کے ساتھ مل کر یہ ساقی خانہ چلاتی تھی۔ ناتر پہلے مومل رانی کے محل 'کاک محل' میں رہتی تھی، لیکن جلد ہی اس نے وہ محل چھوڑ دیا اور کراچی کے علاقے گڈاپ میں آ کر رہنے لگی۔ وہاں اس نے شراب خانہ کھولا، جسے بعد میں اس کی بیٹی موکھی چلاتی تھی۔ قدیم سندھ شراب کی پیداوار کے لیے مشہور تھا۔
موکھی کا مے خانہ پورے علاقے میں مشہور تھا۔ ایک دن 'متارا' نامی آٹھ دوستوں کا ایک گروہ اس شراب خانے میں آیا۔ بدقسمتی سے شراب کے تمام مٹکے خالی ہو چکے تھے۔ انہوں نے ضد کی کہ 'کچھ بھی کر کے ہمیں شراب لا کر دو'۔ موکھی نے مجبوری میں ایک پرانا پڑا ہوا مٹکا نکال کر انہیں پیش کر دیا۔ وہ دوست شراب پی کر مطمئن ہو کر جب واپس چلے گئے، تو موکھی نے صفائی کے دوران اس پرانے مٹکے میں سانپ کی ہڈیاں دیکھیں۔ موکھی کو یقین ہو گیا کہ جو لوگ ابھی شراب پی کر گئے ہیں، وہ یقیناً مر جائیں گے کیونکہ شراب زہریلی ہو چکی ہوگی۔
کچھ دنوں بعد وہ 'متارا' پھر آئے اور اس دن والی شراب کی تعریف کرتے ہوئے کہنے لگے: "آج پھر وہی شراب پلاؤ"۔ موکھی نے انہیں مٹکے سے تازہ اور بہترین شراب پیش کی، لیکن وہ اصرار کرنے لگے کہ ہمیں وہی شراب چاہیے جو پہلے پلائی تھی۔
جب موکھی نے انہیں اس دن کی حقیقت اور سچ بتایا، تو وہ آٹھوں افراد یہ بات سنتے ہی صدمے سے وہیں انتقال کر گئے۔
وہ آٹھوں متارا کیرتھر جبل کے درمیان گڈاپ کے مقام پر دفن ہیں۔ وہاں سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر موکھی کی قبر ہے، جسے مقامی لوگ "ساقی کی مزار" کہتے ہیں۔
موکھی کا ذکر شاہ عبداللطیف بھٹائی نے 'سُر یمن کلیان' میں بھی کیا ہے:
آڻي اُتر واءَ، موکيءَ مٽ اُپٽيا؛
مَتارا تنهن ساءَ، اَچن سِرَ سَنباهِيو۔
(شمالی ہوا چلی تو موکھی نے مٹکوں کے منہ کھول دیے؛ اس خوشبو پر متوالے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر چلے آئے ہیں۔)
موکي تون به مَرُ متارا مري ويا
تنهنجو ڏوس ڏمر ڪير سهندو تن ري۔
(اے موکھی! اب تو بھی مر جا کہ وہ پینے والے متوالے مر گئے؛ اب ان کے بغیر تیرا ناز اور غصہ کون سہے گا۔)
ٻہ سما، ٻہ سومرا، ٻہ چنا، ٻہ چھواڻ
موکي گهر مزمان ايندا ھئا اٺ ڄڻا ــــ
مجھے مکھی کے گڈاپ/کراچی کے مے خانے کے بارے میرے دوست انور پیرزادہ کے ساتھ ائے چند دوستوں نے بتایا تھا۔۔۔مجھے بہت دلچسپ کہانی لگی۔۔آج اقبال صاحب نے بھی کچھ تفصیل دی۔۔
@AlboMP Wage increase will be propotionaly adjusted by interest rate increase. You will give increase with left hand and take it away with right hand. Ironic isn't it?
@AlboMP Hmm.. Increase in interest rate, fuel prices and free gas to Japan. How is it helping to fight an average Joe with cost of living? Just curious.