سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلا اور میڈیا سے گفتگو:
“گھریلو خواتین کو سیاست میں گھسیٹ کر ان کا وقار مجروح کرنا ہماری معاشرتی ، اخلاقی اور مذہبی روایات کے منافی ہے۔ بشرٰی بیگم کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ محض مجھے دباؤ میں لانے کے لیے انہیں نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔ بشرٰی بیگم نے صرف میری اہلیہ ہونے کی بدولت صعوبتیں برداشت کیں۔ خواتین کو سیاست میں گھسیٹ کر نشانہ بنانا اخلاقی گراوٹ کی انتہا ہے-
میں ایک مرتبہ پھر سے واضح کر دوں کہ مجھ سمیت تحریک انصاف کے تمام کارکنان جیلیں کاٹنے کو یحیٰی خان پارٹ ٹو کی آمریت تسلیم کرنے پر ترجیح دیں گے۔ میں حقیقی آزادی کی جدوجہد پر کوئی سمجھوتا نہیں کروں گا چاہے یہ مجھ پر کتنا ہی دباؤ بڑھائیں۔ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں واضح درج ہے کہ یحیٰی خان نے اپنی کرسی بچانے کے لیے ملک دو لخت کیا ۔ آج بھی یحیٰی خان ٹو یہی کھیل کھیل رہا ہے-
جمہوریت کے نام پر پس پردہ آمریت میں پاکستان میں انسانی حقوق پامال ہیں ۔ ملٹری حراست میں قید افراد پر بدترین ذہنی اور جسمانی تشدد کیا گیا ہے اور اب بھی زیر حراست افراد سے کسی کو ملنے کی اجازت نہیں جو کہ انسانی حقوق اور آئین کے سخت منافی ہے ۔ ہمارے کارکنان اور سپورٹران کے گھروں پر صرف پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد کی تعداد میں چھاپے مارے گئے، ہزاروں بے گناہ کارکنان کو گرفتار کیا گیا ، عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں بخشا گیا۔ اس کے باوجود تحریک انصاف اپنی جگہ پر قائم ہے۔
اصولوں اور نظریات پر سمجھوتا وہ کرتے ہیں جو خوف کے سائے تلے رہتے ہیں۔ مجھے اللہ کی ذات کے سوا کسی چیز کا خوف نہیں۔ ایمان کی طاقت انسان کو جھکنے نہیں دیتی۔ جھکتے صرف وہ لوگ ہیں جن میں ایمان کی کمی ہو۔ دنیا کے عظیم ترین لیڈر حضرت محمد ﷺ نے اپنی حیات مبارکہ سے ہمیں عملاً یہ سبق دیا ہے کہ جس قدر ہی مصائب اور مشکلات کیوں نہ آ جائیں، حق اور اپنے مقصد کی ترویج کے لیے ڈٹ جانا چاہیے اور غیر اللہ کے سامنے سر نہیں جھکانا چاہیے۔
تحریک انصاف کی جدوجہد کا مقصد جمہوریت کی سربلندی،آئین وقانون کی حکمرانی،آزاد عدلیہ و میڈیااور بنیادی شہری حقوق کا تحفظ ہے اور ہم اس میں کامیاب ہوں گے کیونکہ یہی حق ہے۔ میں آخری سانس تک اس کے لیے جدوجہد کروں گا۔ میری قوم نے بھی پیچھے نہیں ہٹنا!
القادر ٹرسٹ کے فیصلے نے دنیا میں پاکستان کے نظام عدل کا مذاق بنوایا ہے ۔ بکاؤ میڈیا پر اسے ایک sham ٹرسٹ کا لقب دیا گیا جو کہ حقائق کو بھونڈے انداز میں مسخ کرنے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ القادر ٹرسٹ نہ تو بلاول ہاؤس ہے اور نہ ایون فیلڈ ہاؤس ہے یہ طلبا کو سیرت النبی ﷺ سے روشناس کروانے کی ایک درسگاہ ہے۔ صاف نظر آتا ہے کہ ملک ریاض کو یہاں پر دھمکایا گیا جس کے پیش نظر ان کے بیٹے نے لندن میں 9 ارب کی پراپرٹی 18 ارب میں خریدی ۔پراسیکیوشن آج تک یہ ثابت نہیں کر سکی کہ یہ منی لانڈرنگ ہے۔ جبکہ میرے اور میری اہلیہ پر فرد جرم عائد کی گئی جنہوں نے ایک روپے کا مالی فائدہ نہیں لیا۔ اگر مجھ پر پبلک آفس ہولڈر ہونے کی بنا پر الزام لگایا گیا تو بشری بی بی جو ایک گھریلو خاتون ہیں انہیں کس کی ایما پر مجرم قرار دیا گیا؟ اس فیصلے کا ایک اور مضحکہ خیز پہلو یہ ہے کہ القادر یونیورسٹی کو حکومتی تحویل میں لے لیا گیا۔ کیا فرمائشی احمقوں کے اس ٹولے کو یہ بھی نہیں پتہ کہ یہ حکومتی پراپرٹی نہیں ہے؟ ٹرسٹ کی پراپرٹی کو حکومت کس قانون کے تحت اپنی تحویل میں لے سکتی ہے؟
نام نہاد “بند لفافے” کو حکومت اور تحقیقاتی ادارے کھول سکتے ہیں اسے کھولیں اس میں کیا لکھا ہے عوام کو بتائیں تا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے ۔ لیکن جب مقدمے کا مقصد محض پروپگنڈا کر کے صبح شام جھوٹ بولنا ہو تو کوئی چیز پبلک نہیں ہو سکتی ۔
آٹھ فروری کو پورے ملک میں یوم سیاہ منائیں گے- اس دن پاکستانی عوام کے مینڈیٹ کے ساتھ بری طرح کھلواڑ کیا گیا۔ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا مار کر فارم 47 کی جعلی حکومت مسلط کر دی گئی۔ اس حوالے سے علی امین گنڈاپور کو ہدایت کرتا ہوں کہ 8فروری کو پورے کے پی سے قافلے پشاور جمع ہو کر احتجاج کریں۔ اپنی وکلاء برادری بشمول انصاف لائرز فارم اور دیگر ونگز کو بھی اس دن بھرپور احتجاج کی ہدایت دیتا ہوں۔ تمام صوبوں کے اراکین اسمبلی اور پارٹی عہدے داران کے ساتھ ساتھ ہر مکتبہ فکر کے لوگ جمہور کی توہین کے اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر بھرپور طریقے سے منائیں-
ہم جوڈیشل کمیشن کے قیام کا ایک جائز مطالبہ کر رہے ہیں ۔ شفاف جوڈیشل کمیشن کا قیام حکومت اس لیے نہیں چاہتی کیونکہ وہ 9 مئی اور 26 نومبر میں خود ملوث ہے ۔ جب تک ان واقعات کے مجرمان کو سزا نہیں مل جاتی ملک میں استحکام آنا نا ممکن ہے-“
“سب سے پہلے تو آپ نے گھبرانا نہیں ہے-
میں اس آمریت کو کبھی تسلیم نہیں کروں گا اور اس آمریت کے خلاف جدوجہد میں مجھے جتنی دیر بھی جیل کی کال کوٹھری میں رہنا پڑا میں رہوں گا لیکن اپنے اصولوں اور قوم کی حقیقی آزادی کی جدوجہد پر سمجھوتہ نہیں کروں گا-
ہمارا عزم حقیقی آزادی، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی ہے، جس کے حصول تک اور آخری گیند تک لڑتے رہیں گے- کوئی ڈیل نہیں کروں گا اور تمام جھوٹے کیسز کا سامنا کروں گا-
میں ایک بار پھر قوم کو کہتا ہوں کہ حمود الرحمان کمیشن رپورٹ پڑھیں- پاکستان میں 1971 کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے- یحیٰ خان نے بھی ملک کو تباہ کیا اور آج بھی ڈکٹیٹر اپنی آمریت بچانے کے لیے اور اپنی ذات کے فائدے کے لیے یہ سب کر رہا ہے اور ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کر کھڑا کر دیا ہے-
آج القادر ٹرسٹ کے کالے فیصلے کے بعد عدلیہ نے اپنی ساکھ مزید تباہ کر دی ہے- جو جج آمریت کو سپورٹ کرتا ہے اور اشاروں پر چلتا ہے اسے نوازا جاتا ہے- جن ججز کے نام اسلام آباد ہائی کورٹ کے لیے بھیجے گئے ان کا واحد میرٹ میرے خلاف فیصلے دینا ہے-
یہ کیس تو دراصل نواز شریف اور اس کے بیٹے کے خلاف ہونا چاہییے تھا جنہوں نے برطانیہ میں اپنی 9 ارب کی پراپرٹی ملک ریاض کو 18 ارب میں بیچی- سوال تو یہ ہونا چاہیے کہ ان کے پاس 9 ارب کہاں سے آئے؟ پانامہ میں ان سے جو رسیدیں مانگی گئیں وہ آج تک نہیں دی گئیں۔ قاضی فائز عیسی کے ساتھ مل کر حدیبیہ پیپر ملز میں اربوں روپے کی منی لانڈرنگ معاف کروائی گئی۔
القادر یونیورسٹی شوکت خانم اور نمل یونیورسٹی کی طرح ہی عوام کے لیے ایک مفت فلاحی ادارہ ہے جہاں طلبأ سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے- القادر یونیورسٹی سے مجھے یا بشرٰی بی بی کو ایک ٹکے کا بھی فائدہ نہیں ہوا اور حکومت کو ایک ٹکے کا بھی نقصان نہیں ہوا-
القادر ٹرسٹ کی زمین بھی واپس لے لی گئی جس سے صرف غریب طلبأ کا نقصان ہو گا جو سیرت النبی ﷺ کے بارے میں تعلیم حاصل کر رہے تھے-
القادر ٹرسٹ کا ایسا فیصلہ ہے جس کا پہلے ہی سب کو پتہ تھا- چاہے فیصلے کی تاخیر ہو یا سزا کی بات سب پہلے ہی میڈیا پر آ جاتا ہے- عدالتی تاریخ میں ایسا مذاق کبھی نہیں دیکھا گیا- جس نے فیصلہ جج کو لکھ کر بھیجا ہے اسی نے میڈیا کو بھی لیک کیا-
میری اہلیہ ایک گھریلو خاتون ہیں جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے- بشرٰی بی بی کو صرف اس لیے سزا دی گئی تاکہ مجھے تکلیف پہنچا کر مجھ پر دباؤ ڈالا جائے- ان پر پہلے بھی گھٹیا کیسز بنائے گئے- لیکن بشرٰی بی بی نے ہمیشہ اسے اللہ کا امتحان سمجھ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ میرے کاز کے ساتھ کھڑی رہی ہیں-
مذاکرات میں اگر 9 مئی اور 26 نومبر پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر کوئی پیش رفت نہیں ہوتی تو وقت ضائع کرنے کا کوئی فائدہ نہیں- بددیانت لوگ (cheaters) کبھی نیوٹرل ایمپائرز کو نہیں آنے دیتے- حکومت جوڈیشل کمیشن کے مطالبے سے اسی لیے راہ فرار اختیار کر رہی ہے کیونکہ وہ بد دیانت ہے۔” - سابق وزیراعظم عمران خان کا اڈیالہ جیل سے پیغام
“First and foremost, you must not lose hope.
I will never accept this dictatorship, and I am prepared to remain in a prison cell for as long as it takes in the struggle against this tyranny. I will not compromise on my principles or the fight for the true freedom of the nation.
Our commitment is to real freedom, democracy, and the rule of law. We will fight until the last ball to achieve this. I will not strike any deals and will face all the baseless cases against me.
Once again, I urge the nation to read the Hamoodur Rahman Commission Report. The history of 1971 is being repeated in Pakistan. Yahya Khan destroyed the country, and today, the dictator is doing the same to protect his dictatorship and personal gains, pushing the country to the brink of destruction.
Following the dark verdict in the Al-Qadir Trust case, the judiciary has further eroded its credibility. Judges who support tyranny and act on directives are rewarded. The judges nominated for the Islamabad High Court have only one qualification: delivering rulings against me.
This case should have been against Nawaz Sharif and his son, who sold their 9-billion-rupee property in the UK to Malik Riaz for 18 billion rupees. The question should be, where did they get the 9 billion rupees? The receipts demanded from them in the Panama case have never been produced. Alongside Qazi Faez Isa, they had billions of rupees in money laundering pardoned in the Hudaibiya Paper Mills case.
The Al-Qadir University, like Shaukat Khanum Hospital and Namal University, is a free charitable institution for the public, where students were being educated about the life of the Prophet Muhammad (PBUH). Neither I nor Bushra Bibi gained a single penny from the Al-Qadir University, nor did the government incur any loss.
Even the land of the Al-Qadir Trust has been taken back, which will only harm the underprivileged students who were studying about the life of the Prophet Muhammad (PBUH).
The outcome of the Al-Qadir Trust case was known to everyone beforehand. Whether it was the delay in the verdict or the discussions regarding punishment, everything was leaked to the media in advance. Such mockery has never been witnessed in the history of the judiciary. The same person who dictated the verdict to the judge also leaked it to the media.
My wife is a homemaker with no connection to politics. Bushra Bibi was punished solely to cause me pain and exert pressure on me. She has previously been implicated in baseless cases but has always faced them as a test from Allah and remained steadfast in supporting my cause.
If there is no progress in the negotiations regarding the establishment of a judicial commission for the events of May 9 (2023), and November 26 (2024) then continuing the talks would be pointless. Dishonest individuals never allow neutral umpires to intervene. The government is avoiding the demand for a judicial commission because it is dishonest.” -
Former Prime Minister Imran Khan’s Message from Adiala Jail – 17th January 2025