جب آپ اچانک ایک اِیسے شخص میں تبدیل ہو جائیں ، جو کِسی پر الزام نہیں لگاتا ، فضول بحثوں سے گُریز کرتا ہے اُن لوگوں کو دیکھتا ہے جو اُسے چھوڑ کر جارہے ہیں ، پھر بھی ایک مشکوک خاموشی سے اُن زخموں کو قبول کرتا ہے ، تو جان لیں کہ ؛ آپ پُختگی کے اعلیٰ درجے پر پُہنچ چُکے ہیں!
میں نے اپنی زندگی سے یہ سیکھا ہے کہ انسان کو کبھی بھی حساس نہیں ہونا چاہیئے
ایک حساس انسان سب سے زیادہ مشکلات اپنی ذات کے لیے پیدا کرتا ہے
ایسی ایسی باتوں پر گھنٹوں سوچتا اور روتا ہے جو شاید کسی نارمل انسان کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتیں.
انسان اپنے ساتھ جو سب سے برا سلوک کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ اُن لوگوں سے دُور ہونے کا فیصلہ نہ کر پائے جو اُسے ذہنی تکلیف پہنچاتے ہیں ، اکیلے ہونے کے ڈر سے بے قدروں کے ساتھ جڑا رہے اور پھر اِس اُمید پر جیتا رہے کہ شاید وہ کبھی بدل جائیں گے
زندگی اس وقت حقیقی سانحے اور دکھ سے آشنا ہوتی ہے جب دو انمول نعمتوں ماں اور باپ میں سے کوئی ایک نعمت چھن جاتی ہے۔
دنیا کا کوئی قلم اس دکھ کو نہیں لکھ سکتا اور دنیا کا کوئی فلسفہ اسے کم نہیں کر سکتا۔ ان نعمتوں کی زندگی میں قدر کریں