عمیر بھائی نے بالکل درست بات لکھی تھی۔۔۔۔
میں کراچی اپنے خرچے پر گیا
ایئرپورٹ میں جب سہیل آفریدی کی پروٹوکول کے ڈالے پر کھڑا ہو کر ویڈیو بنا رہا تھا
تو مجھے ذلیل کر کے نیچے اتر دیا گیا لیکن نیا پاکستان کی ٹیم میمبر کو نہیں اترا گیا
مجھے کراچی میں جدھر جگہ ملتی بیٹھ جاتا
حیدرآباد کراچی میں بائک پر گھومتا رہا
جب سہیل آفریدی ہری پور ائے تو تب بھی میں نے سہیل آفریدی کے ایک ڈالے میں کھڑے ہو کر ویڈیو بنائی تو دوبارہ سے نیچے اتار دیا گیا
میں نے بولا کہ مجھے نیچے اترا ہے تو باقی لوگوں کو بھی نیچے اُتارو، لیکن نہیں اترا گیا
ڈالے میں نیا پاکستان کی ٹیم میمبر اور سہیل آفریدی کی سوشل میڈیا ٹیم میمبر تھے
میں نے سہیل آفریدی سے شکایت کی تو سہیل آفریدی نے الٹا مجھے ہی بتاتیں سنا دی تھی
جب سہیل آفریدی مانسہرہ گئے تو میں ڈالے کے ایک footrest پر ایک پاؤں رکھا اور دوسرا پاؤں سہیل آفریدی کی گاڑی کے footrest پہ رکھا اور عوام کی ویڈیو بنا رہا تھا
سہیل آفریدی کے گارڈ نے اتنے زور سے لات ماری کے میں نیچے گرتے گرتے بچا۔۔۔۔۔
یہ چند واقعات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ ایک ورکر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ کے ساتھ ایسا سلوک اور ایک یوٹیوبر کی ٹیم کے ساتھ الگ سلوک؟
اس کا مقصد تو صاف ہے،
سہیل آفریدی نے اپنی ٹیم بنائی ہوئی تھی اور نیا پاکستان بھی ٹیم کا حصہ ہیں اور اسی وجہ سے کے پی کے حکومت سے فائدے لیتے رہے۔۔۔۔۔
ہندوستان میں دیکھیں کس طرح بچے اپنے حقوق کے لئے نکلیں اور مودی کو انہیں حقوق دینے پڑے، ان بچوں پر لاٹھی چارج ہوا تو حکومت نے معافی مانگی اور ایک منسٹر نے استعفی دیا۔
یہاں تو کوئی بے شرم استعفی بھی نہیں دیتا
علیمہ خان آن فائر 🔥
علیمہ خان کے خلاف پارٹی کے اندر ٹاوٹس کو چھوڑا گیا ہے کیونکہ علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان کی رہائی کے لئے سڑکوں پر نکلی ہے۔
علیمہ خان کو آپ جتنا سپورٹ کرو گے اتنا ہی ٹاوٹس کو شدید تکلیف پہنچے گی 🔥
پاکستانیو، آپ نے صبح ہر حال میں بڑی تعداد میں نکلنا ہے,صرف ووٹ ڈلوانے نہیں بلکہ رزلٹ آنے تک پولنگ سٹیشن کے باہر رہ کر ووٹ کی حفاظت کی بھی ذمہ داری لینی ہے!
2 دسمبر کو جب ڈاکٹر عظمی کی عمران خان سے 20 منٹ کی آخری ملاقات ہوئی تھی تو تب عمران خان کا یہ پیغام باہر آیا تھا
اور اس پیغام کے بعد نظام اس قدر خوفزدہ ہوگیا کہ آج تک انھوں نے عمران خان سے ملاقات نہیں کروائی اور عمران خان اب بھی مسلسل قید تنہائی میں ہیں
سلمان اکرم راجہ جی۔۔۔۔
پنجاب کی تنظیمیں کام کیوں نہیں کر رہی ہیں۔؟
ابھی تک تنظیمیں غیر فعال کیوں ہیں؟
جواب دیں گے یا صرف لیکچر ہی سنائیں گے یا کہانیاں لکھیں گے؟
@salmanAraja
قید تنہائی کاٹنا انتہائی تکلیف دہ عمل ہے لیکن میں یہ صرف اپنی قوم کی خاطر برداشت کر رہا ہوں۔ جب تک قوم خود غلامی کی زنجیریں نہیں توڑتی، پاکستان پر مسلط مافیاز ایسے ہی اس کا استحصال کرتے رہیں گے۔ ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا، مینڈیٹ چور مافیا ہر ایک اس قوم کو تب تک غلام بنا کر رکھے گا جب تک کہ یہ قوم خود اٹھ کھڑی نہیں ہوتی۔ آپ آج ان کے غلام ہیں، آپ کی نسلیں ان کی نسلوں کی غلام ہوں گی اگر اس چکر کو توڑنا ہے تو قوم کو خود غلامی کی زنجیریں توڑ کر “حقیقی آزادی” کے لیے کھڑا ہونا ہے۔
عمران احمد خان نیازی
2 دسمبر 2025
@ImranKhanPTI
سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے چیف آف آرمی سٹاف کو دوسرا کھلا خط:
”میں نے ملک و قوم کی بہتری کی خاطر نیک نیتی سے آرمی چیف (آپ) کے نام کھلا خط لکھا، تاکہ فوج اور عوام کے درمیان دن بدن بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کیا جا سکے مگر اس کا جواب انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری سے دیا گیا۔
میں پاکستان کا سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے مقبول اور بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہوں- میں نے اپنی ساری زندگی عالمی سطح پر ملک و قوم کا نام روشن کرنے میں گزاری ہے۔ 1970 سے اب تک میری 55 سال کی پبلک لائف اور 30 سال کی کمائی سب کے سامنے ہے- میرا جینا مرنا صرف اور صرف پاکستان میں ہے۔
مجھے صرف اور صرف اپنی فوج کے تاثر اور عوام اور فوج کے درمیان بڑھتی خلیج کے ممکنہ مضمرات کی فکر ہے، جس کی وجہ سے میں نے یہ خط لکھا۔
میں نے جن 6 نکات کی نشاندہی کی ہے ان پر اگر عوامی رائے لی جائے تو 90 فیصد عوام ان نکات کی حمایت کرے گی-
ایجینسیز کے ذریعے پری پول دھاندلی اور الیکشن کے نتائج تبدیل کر کے اردلی حکومت قائم کرنا، عدلیہ پر قبضے کے لیے پارلیمینٹ سے گن پوائنٹ پرچھبیسویں آئینی ترمیم کروانا اور پاکٹ ججز بھرتی کرنا، ظلم و جبر کے خلاف اٹھنے والی آوازوں کو بند کرنے کے لیے پیکا جیسے کالے قانون کا اطلاق کرنا، سیاسی عدم استحکام اور “جس کی لاٹھی اس کی بھینس” کی ریت ڈال کر ملک کی معیشت کی تباہی، ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو مسلسل ریاستی دہشتگردی کا نشانہ بنانا اور تمام ریاستی اداروں کا اپنے فرائض چھوڑ کر سیاسی انجینئیرنگ اور سیاسی انتقام میں شامل کرنا ناصرف عوامی جذبات کو مجروح کر رہا ہے بلکہ عوام اور فوج میں خلیج کو بھی مسلسل بڑھا رہا ہے-
فوج ملک کا ایک اہم ادارہ ہے مگر اس میں بیٹھی چند کالی بھیڑیں پورے ادارے کا نقصان کر رہی ہیں۔ ایسا ہی ایک شخص اڈیالہ جیل میں بیٹھا کرنل بھی ہے جو جیل کے سٹاف کو کنٹرول کرتے ہوئے ناصرف آئین، قانون اور جیل مینول کی دھجیاں بکھیر رہا ہے بلکہ انسانی حقوق بھی پامال کر رہا ہے۔ وہ عدالتی احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے ایسے عمل کرتا ہے جیسے “قابض فوج” کرتی ہے۔ پہلے اڈیالہ جیل کے فرض شناس سپرنٹنڈنٹ اکرم کو اغواء کیا گیا اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ قانون کی پاسداری کرتا تھا اور جیل قوانین پر عمل درآمد کرتا تھا، اب بھی تمام عملے کو ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے۔ بنیادی انسانی حقوق پامال کرتے ہوئے مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے ایک کرنل کی ماتحت جیل انتظامیہ نے مجھ پر ہر ظلم کیا ہے۔ مجھے موت کی چکی میں رکھا گیا ہے۔20 دن تک مکمل لاک اپ میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی تک نہیں پہنچتی تھی۔ پانچ روز تک میرے سیل کی بجلی بند رکھی گئی اور میں مکمل اندھیرے میں رہا۔ میرا ورزش کرنے والا سامان اور ٹی وی تک لے لیا گیا اور مجھ تک اخبار بھی پہنچنے نہیں دیا گیا۔جب چاہتے ہیں کتابیں تک روک لیتے ہیں۔ ان 20 دنوں کے علاوہ مجھے دوبارہ بھی 40 گھنٹے لاک اپ میں رکھا گیا۔ میرے بیٹوں سے پچھلے چھ ماہ میں صرف تین مرتبہ میری بات کروائی گئی ہے۔ اس معاملے میں بھی عدالت کا حکم نہ مانتے ہوئے مجھے بچوں سے بات کرنے نہیں دی جاتی جو میرا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ میری جماعت کے افراد دور دراز علاقوں سے مجھ سے ملاقات کے لیے آتے ہیں مگر ان کو بھی عدالتی آرڈز کے باوجود ملاقات کی اجازت نہیں ملتی۔ پچھلے چھ ماہ میں گنتی کے چند افراد کو ہی مجھ سے ملوایا گیا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے واضح احکامات کے باوجود میری اہلیہ سے میری ملاقات نہیں کروائی جاتی۔میری اہلیہ کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔
گن پوائنٹ پر کروائی گئی چھبیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے عدالتی نظام پر قبضے اور کورٹ پیکنگ کا مقصد انسانی حقوق کی پامالیوں اور انتخابی فراڈ کی پردہ پوشی اور میرے خلاف مقدمات میں من پسند فیصلوں کے لیے “پاکٹ ججز” بھرتی کرنا ہے تا کہ عدلیہ میں کوئی شفاف فیصلے دینے والا نہ ہو۔ میرے سارے کیسز کے فیصلے دباؤ کے ذریعے دلوائے جا رہے ہیں۔ مجھےغیر قانونی طور پر 4 سزائیں دلوائی گئی ہیں۔ میرے خلاف فیصلہ دینے کے لیے جج صاحبان پر اتنا دباؤ ہوتا ہے کہ ایک جج کا بلڈ پریشر 5 مرتبہ ہائی ہوا اور اسے جیل اسپتال میں داخل کروانا پڑا۔ اس جج نے میرے وکیل کو بتایا کہ مجھے اور میری اہلیہ کو سزا دینے کے لیے "اوپر" سے شدید ترین دباؤ ہے۔
1/2
پوری دنیا کو یہ دکھائیں کہ پاکستان میں جب عوام اپنے حقوق کے لئیے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے پرامن احتجاج کے لئیے نکلتے ہیں تو ان پر سیدھی گولی چلائی جاتی ہے اور نظام سے جڑے الُّو اس طرح ہنسی اڑاتے پھرتے ہیں کہ ہاں بھئ چلائی ہے گولی کیا کر لو گے۔!
انیس ستی شہید کو میری انکھوں کے سامنے 26 نومبر کو شہید کر دیا گیا تھا اب مجھے دھمکایا اور ڈرایا جا رہا ہے کہ انیس کا نام اپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم یا کہیں بھی نہ لیں یہ اسٹام لکھ کر دیں میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ اپ ادارے کی جانب سے ایک اسٹام لکھ کر دیں کہ اپ ائندہ کسی بے گناہ نہتے نوجوان پر گولی نہیں چلائیں گے اپ نے میرے بھائی کو شہید کر دیا اب میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے اپ نے مجھے مارنا ہے مجھے مجھے قتل کر دیں لیکن میں ایک ہی بات کروں گا کہ میرے بھائی کو میرے انکھوں کے سامنے گولی کیوں ماری گئی مجھے اس کا جواب چاہیے ہم نے دو ڈھائی سال سے بہت برداشت کر لیا اب ہمارے گھروں کے اس پاس اگر یہ بے غیرت نامعلوم دم ہلاتے نظر ائے تو یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ پھر قانون کو ہاتھ میں لیں گے اور انیس ستی کے انصاف کا فیصلہ خود کریں گے زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے ہمیں موت سے ڈر نہیں لگتا ہمیں ان اداروں سے نفرت نہیں تھی اس ادارے نے ہمارے بھائی کو بے گناہ شہید کر کے ہمارے دلوں میں نفرت پیدا کی اور اب انشاءاللہ رہتی دنیا تک ہماری نسل بھی اپ سے نفرت کرتی رہے گی
@OfficialDGISPR