اس وقت تو مجھے بھی لگا - کہ شاید غصے میں کہہ دیا مگر گزشتہ چالیس ماہ کے واقعات نے بارہا اس تلخ حقیقت کو آشکار کیا - یہ صرف جھوٹ بولتے ہیں! خدا کی ایسی لعنت ہے کہ سچ بول ہی نہیں سکتے! جب آپ کو لگے کہ کوئی سینیر افسر سچ بول رہا ہے: ہمیشہ رول نمر:۱ چیک کریں: یہ ہمیشہ جھوٹ بولتے ہیں
@SHABAZGIL ڈاکٹر صاحب کیا یہ والا حافظ بھی 70 ہزار لوگوں کو جنت میں لے کر جاوے گا؟ اس حافظ کے کرتوتوں کو دیکھ کر تو لگتا ہے یہ بھول ہی گیا کہ مر کر جنت بھی جانا یہ تو گیراج کو ہی جنت سمجھ بیٹھا
محمد حنیف کی کتاب پھٹتے آموں کا کیس بڑا دلچسپ ناول ہے۔ اگر نہیں پڑھی تو لازمی پڑھیں میں ساری کہانی سنا کر آپ کا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا لیکن اس کا کلائمیکس سین یہ ہے کہ موت چاروں طرف سے جنرل ضیاءالحق کو گھیر لیتی ہے۔ جیسے وہ شاہ رخ خان اوم شانتی اوم میں کہتا ہے کہ اتنی شدت سے میں نے تمہیں پانے کی کوشش کی ہے، کہ ہر ذرے نے مجھے تم سے ملانے کی سازش کی ہے تو کلائمیکس سین میں ہر ذرہ جنرل صاحب کو پانے کے لیے بیتاب ہوتا ہے۔ کہانی کا کوئی ایسا کردار رہ نہیں جاتا تو جنرل صاحب کی موت کا سبب نہیں بنتا۔
آجکل کے حالات میں بھی محمد حنیف کی کتاب ایبسٹریکٹ پیرائے میں اسی صورتحال کی منظر کشی کرتی ہے۔ کوئی ایک پہلو کوئی ایک شعبہ ایسا رہ نہیں گیا جسے اس قابض ٹولے نے تباہ نہیں کیا۔ کسان الگ برباد ، معیشت کی تباہی الگ ، بجلی کے بلوں کا بوجھ ، پٹرول گیس کی قیمتیں ، افغانستان سے تجارت بند ، کشمیر اور بلوچستان میں حالات سخت خراب ، امن و امان کی صورتحال یہ کہ پاکستان دہشتگردی کا شکار دنیا کا بدترین ملک ، امارات سے تعلقات تباہ کرلیے ہیں۔ اگرچہ محمد حنیف کے ناول کے برعکس ہر کوئی فیلڈ مارشل صاحب کو مارنے کی کوشش تو نہیں کررہا لیکن اس ملک کا ہر ایک طبقہ ان سے جان چھڑانے کی دعائیں ضرور کررہا ہے۔۔
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
@MoeedNj استادی قوم کھسی نہیں ہے 8 گھنٹے مسلسل نہتے سنائپر کی گولیاں کھاتے رہے اور شہید ہوتے رہے یہ ناممکن سی بات لگتی پر یہ سب ہوا اور آنکھوں سے دیکھا سچ یہ ہے کے کھسی قیادت کے نام پر جو نمونے ملے ہیں یہ سب بغیر اجازت کے واشروم بھی نہیں جاتے
سہیل آفریدی کبھی کونسلر نہ بنتا ، سلمان اکرم راجہ کینٹ بار کا سیکرٹری جنرل نہ بنتا ، بیرسٹر گوہر یونین کونسل کا چئیرمین نہ بنتا ، محمود اچکزئی کی زندگی کا سب سے بڑا عہدہ عمران خان کے مرہون منت ہے ۔ خدا کے لیے ہمارے اوپر اپنے اوپر رحم کرو۔ کچھ کر نہیں سکتے تو نظام کو کندھے دینا بند کردو۔ گھر چلے جاؤ۔
@MoeedNj استادی قوم کھسی نہیں ہے 8 گھنٹے مسلسل نہتے سنائپر کی گولیاں کھاتے رہے اور شہید ہوتے رہے یہ ناممکن سی بات لگتی پر یہ سب ہوا اور آنکھوں سے دیکھا سچ یہ ہے کے کھسی قیادت کے نام پر جو نمونے ملے ہیں یہ سب بغیر اجازت کے واشروم بھی نہیں جاتے
No! Congressman, It was a sick Joke! Generals used “Supreme Court” like a condom to fool the world. Instead of admitting him in Shiffa International Hospital (as ordered by court) they took him to a Govt controlled hospital, declared him fit and put him back in his prison cell @RepHuizenga