ایف بی آر کو اگر بینک اکاؤنٹس سے رقم نکالنے کا اختیار دے دیا گیا تو لوگ بینکوں میں پیسے رکھنا بند کر دیں گے، جو بھی معاملہ ہو عدالتی حکم کے بغیر ایف بی آر کو یک طرفہ طور پراکاؤنٹس سے پیسے نکالنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے، وزیر اعظم @CMShehbaz کو فوری نوٹس لینا چاہئے
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif, alongside Chief of Defence Forces and Chief of Army Staff Field Marshal Syed Asim Munir, meets U.S. Vice President J.D. Vance on the sidelines of the High-Level Talks in Burgenstock, Switzerland, on the implementation of the Islamabad Memorandum of Understanding.
#PakistanForPeace
پاکستان کو ایران سے گیس اور تیل لینے میں کئی مصیبتوں کا سامنا کرنا ابھی باقی ھے
جو ایرانی کروڈ آئل ھے وہ مشکل سے صاف ھوتا پاکستانی آئل ریفائنریاں اسے صاف کرنے کی صلاحیت ھی نہیں رکھتیں لیکن اب انکو اپ گریڈ کیا جا رہا
گیس کا معاملہ عالمی عدالت میں ھے پاکستان ایران کے ساتھ عدالت کے باہر مفاہمت کی کوشش کرے گا یعنی پاکستان کو کچھ نا کچھ ہرجانہ دینا ھی پڑے گا
گیس کی جس قیمت پر آصف زرداری نے معاہدہ کیا تھا زیادہ ھے اس پر بھی ایران کو منانا پڑے گا کہ دوبارہ قیمت مقرر کرے
"سڈنی کی صبح اور اسلام آباد کا بے چین خواب
آج سڈنی میں ناشتے کے بعد میں کچھ دیر آرام کے لیے لیٹا تو ایک عجیب اور دل کو چھو لینے والا خواب دیکھا۔
میں نے دیکھا کہ خان صاحب جیل سے رہا ہو چکے ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر ابھی کسی کو اس کی خبر نہیں۔ میں اسلام آباد کے سیکٹر F-7 میں کسی عوامی مقام پر موجود تھا کہ اچانک میری ان سے ملاقات ہو گئی۔ جیسے ہی لوگوں کو ان کی موجودگی کا احساس ہوا، ہر طرف سے لوگ امڈنا شروع ہو گئے۔
اسی دوران میں نے اپنے مرحوم والد صاحب کو بھی دیکھا جو میرے چھوٹے بھائی خالد کے ساتھ خان صاحب سے مل رہے تھے۔ یہ منظر میرے لیے غیر معمولی طور پر جذباتی تھا، کیونکہ خواب میں ماضی اور حال ایک جگہ جمع ہو گئے تھے۔
بعد ازاں میں خان صاحب کے ہمراہ ایک بکتر بند گاڑی میں بنی گالا کی طرف روانہ ہوا۔ سفر کے دوران میں نے ان سے اپنی آزمائشوں، مشکلات، تنہائیوں اور گزشتہ عرصے میں گزرنے والی تلخیوں کا ذکر کیا۔ وہ خاموشی سے سنتے رہے۔
جب ہم بنی گالا پہنچے تو وہاں بھی لوگوں کو ابھی تک ان کی رہائی کا علم نہیں تھا۔ میں باہر ایک جگہ بیٹھ گیا تاکہ ایک ٹویٹ لکھ سکوں، لیکن میرے ہاتھ اور انگلیاں بری طرح کانپ رہی تھیں۔ میں الفاظ ترتیب دینے کی کوشش کر رہا تھا مگر انگلیاں ساتھ نہیں دے رہی تھیں۔ اسی کیفیت میں اچانک میری آنکھ کھل گئی۔
اس وقت میں سڈنی میں ہوں۔ وقت صبح 11 بج کر 06 منٹ ہے۔ خواب ختم ہو چکا ہے مگر اس کا اثر ابھی تک دل پر موجود ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ اس خواب نے مجھے پریشان نہیں کیا بلکہ ایک عجیب سی طمانیت، اپنائیت اور اندرونی سکون کا احساس دیا ہے۔ شاید اس لیے کہ اس میں جدائی کے بعد ملاقات تھی، آزمائش کے بعد رہائی تھی، اور سب سے بڑھ کر اپنے مرحوم والد کی جھلک تھی، جو ہر بیٹے کے لیے ہمیشہ ایک دعا اور ایک سایہ بن کر رہتے ہیں۔
BREAKING: JD Vance absolutely slams Netanyahu's government:
Over the last three months, two-thirds of the defensive weapons that have protected Israel have been built by American hands and paid for by American tax dollars.
The problem for Israel is not Donald J. Trump, and anybody in Israel who thinks their biggest problem is the President of the United States needs to wake up and smell the reality of the situation that country is in.
انشاء ﷲ وزیراعظم، فیلڈ مارشل، وزیرخارجہ اور وزیرداخلہ کی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں کیونکہ ایران اور امریکہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بین الاقوامی تیل کی قیمتیں کم ہو رہی ہیں اور وزیراعظم نے ہدایت دی ہے کہ اس کا فائدہ عوام کو فوری طور پر منتقل کیا جائے۔ ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے تاکہ عوام کے لیے شفاف ہفتہ وار قیمتوں کا فارمولا وضع کیا جا سکے، تاکہ مستقبل میں جب بھی ضرورت ہو، عوام قیمتوں میں تبدیلی کی وجوہات کو سمجھ سکیں۔ یہ کام تمام سٹیک ہولڈرز سے مکمل مشاورت کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔ حکومت اپنے تمام شراکت داروں اور عوام کی شکرگزار ہے جنہوں نے اس چیلنج سے نمٹنے میں مدد فراہم کی، بغیر کسی سنگین رکاوٹ کے تیل کی سپلائی چین کو ذمہ داری کے ساتھ جاری رکھا۔ اس علاقائی چیلنج کی روشنی میں حکومتِ پاکستان اپنی توانائی کی سلامتی کے پیراڈائم کا بھی جائزہ لے رہی ہے اور آنے والے چند مہینوں میں ریاستی مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان زندہ باد!
دنیا میں پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے فخر کا تاریخی دن ۔۔۔ !!
اہم ترین اور تاریخی معاہدے پر امریکی اور ایرانی صدور کے دستخطوں کے بعد وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی بطور ثالث 'اسلام آباد مفاہمتی یادداشت' پر دستخط کر دیئے
گزشتہ سال امریکہ میں تھی تو وہاں سڑک بن رہی تھی تو اس پر بورڈ پر لکھا تھا کہ Your tax dollars at work، میں دیکھ کر ہنس رہی تھی کہ اگر پاکستان میں یہ سڑک بن رہی ہوتی تو بلاول بھٹو یا مریم نواز کی تصویر لگی ہوتی کہ ہمارا شکریہ ادا کریں، ہم سڑک بنا رہے ہیں، بینظیر شاہ
@Benazir_Shah
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
گلگت بلتستان کے انتخابات اور گذشتہ دنوں کوٹلی اور اس سے قبل راولاکوٹ میں دہرائے گئے ۲۶ نومبر اور مریدکے کی تاریخ سے ان عناصر کی خوش فہمی کا تو تدارک ہوگیا ہوگا جو سمجھتے تھے کہ خدائ کے دعویداروں کے سیاہ دلوں میں رحم کی کوئ رمق باقی ہوگی۔
اب اگر اپنے بھی شرک سے باز آکر ان پتھر دل صنموں سے بھلائ کی توقع چھوڑ کر اپنے بل پر کچھ کرنے کی ٹھان لیں تو شاید اس قوم کی تاریخ ہمیں اپنے غداروں میں نہ شمار کرے۔
عمران خان کی حکومت گرا کر، بہ زورِ طاقت اس کی پارٹی توڑ کر، پاکستان کی عوام سے ان کا اپنے حکمران چُننے کا حق چھین کر پاکستان میں جس عدم استحکام کی داغ بیل ڈالی گئی وہ سلسلہ دن بہ دن اور مزید واضح طور پر باقاعدہ وطن دشمنی ثابت ہورہا ہے۔ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس نہج پر عاصم منیر اور اس کے ماتحت کٹ پتلی حکومتیں پاکستان توڑنے کے ایجنڈے پر محرک ہیں۔ پورے پاکستان میں جس جبر کا ماحول گرم ہے اور نہتے کشمیریوں پر جس طرح گولیوں کی بوچھاڑیں کی گئیں جس کے باوجود وہ اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہیں، خیبر سے کراچی تک پاکستانی قوم کو کشمیر کے عوام کی آواز بن کر، ان کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرکے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر کسی جابر کی معرکہ آرائیوں کا شکار بننے سے روکنے کی سبیل کرنی چاہئے۔
آج عمران خان باہر ہوتا، آج عمران خان کو ان کے بنیادی انسانی حقوق میسر ہوتے اور ان کا پیغام باہر آسکتا تو انہوں نے یہی کرنا تھا۔ اس سے بڑھ کر کرنا تھا۔
میری اطلاعات کے مطابق پارٹی نے کل پارلیمان کے باہر احتجاج کی کال دی ہے ان سے بھی گزارش ہے کہ کشمیر کے ساتھ یکجہتی اور ملک کو بچانے کے لیے عمران خان کی رہائی پر گفتگو ہو۔ انشاءاللہ میرے حلقہ انتخاب میں، **۱۳ جون ۲۰۲۶ بروز ہفتہ دوپہر دو بجے مٹہ چوک** میں، کشمیر کی عوام کے ساتھ یکجہتی ان کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اور ملک بچانے کے لیے، عمران خان کی رہائی کے لیےاحتجاجی مظاہرہ ہوگا۔ سوات کے تمام کارکنان اس میں بھرپور شرکت یقینی بنائیں۔
یاد رکھیے!
اگر ہم آج ایک دوسرے کا بازو نہ بنے تو یہ ایک ایک کرکے ہمیں ایسے ہی ماریں گے جیسے ۲۵ مئی ۲۰۲۲ سے لے کر ۲۶ نومبر ۲۰۲۴ تک تحریک انصاف کو مارا، جیسے مریدکے میں مارا، جیسے کوٹلی اور راولاکوٹ میں مارا۔ جیسے برسوں سے بلوچستان فاٹا اور خیبر پختونخواہ میں مار رہے ہیں۔
جنید اکبر اور دیگر ایم پی ایز کو صوبے سے باہر بھیجنا نہ صرف سیاسی عدم برداشت کی واضح مثال ہے بلکہ اس سے خطے میں جمہوری عمل کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے۔
جنید اکبر اور ان کے ساتھی ایم پی ایز کا مقصد صرف انتخابی مہم کو منظم کرنا اور پارٹی کارکنان کو متحرک کرنا تھا۔ ان میں نہ کوئی حکومتی عہدہ رکھنے والا شخص شامل تھا اور نہ ہی وہ کسی سرکاری طاقت کے ساتھ آئے تھے، اس کے باوجود ان کے خلاف اس طرح کے اقدامات ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ آج یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پارٹی کے ساتھ جو زیادتیاں ہو رہی ہیں، وہ عوام بخوبی سمجھ چکے ہیں۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ کچھ عناصر اس بڑھتے ہوئے مومنٹم سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں گلگت بلتستان کے عوام بیدار نہ ہو جائیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ نوجوان، کارکن اور عام شہری الیکشن کے دن بغیر کسی دباؤ کے باہر نکل کر اپنی رائے کا آزادانہ اظہار کریں۔
ان کی کوشش یہ ہے کہ عوام کو خاموش رکھا جائے، سیاسی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے اور لوگوں کو یہ احساس نہ ہونے دیا جائے کہ اصل طاقت ان کا ووٹ ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ گلگت بلتستان کے لوگ اب باشعور ہو چکے ہیں اور وہ اپنے فیصلے خود کرنے کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔