اپنے 73ویں یومِ پیدائش پر، ہمارے والد عمران خان اب بھی ایک ڈیتھ سیل میں قید ہیں - 790 دن اپنے خاندان، اپنے ڈاکٹروں اور اپنے وکلاء کے بغیر۔ مگر ان کا حوصلہ آج بھی قائم ہے۔
ہمیں ہار نہیں ماننی چاہیے، کیونکہ وہ کبھی ہار نہیں مانیں گے
“افغانوں اور قبائلی عوام کے ساتھ بھی نو مئی کی طرز پر ہی ایک فالس فلیگ رچایا جا رہا ہے۔ جب سے عاصم منیر کو چارج ملا ہے افغانستان کے ساتھ تعلقات جان بوجھ کر بگاڑے جا رہے ہیں اور انہیں مسلسل پاکستان سے جنگ شروع کرنے پر اکسایا جا رہا ہے، تاکہ موجودہ افغان حکومت کی مخالف لابی کو خوش کیا جائے اور مغرب کے سامنے ایک “نجات دہندہ” بننے کی کوشش کی جائے-
سب سے پہلے افغان حکومت کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، پھر مذہبی، اخلاقی اور پناہ گزینوں کے عالمی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تین نسلوں سے پاکستان میں مقیم افغان بھائیوں کو دھکے دے کر ملک سے نکالا گیا، اس کے بعد افغانستان کی سرزمین پر حملے کیے گئے اور اب یہ کہہ کر کہ “دہشت گرد آ گئے ہیں” قبائلی علاقوں میں آپریشن لانچ کر دئیے گئے۔
ان پالیسیوں کی وجہ سے ہر جانب ہمارے ہی لوگ شہید ہو رہے ہیں- پولیس اہلکار، فوجی اور عام بے گناہ لوگ جو شہید ہو رہے ہیں سب ہمارے اپنے ہیں۔ اس طرز عمل سے کبھی امن قائم نہیں ہوتا، پائیدار امن ہمیشہ بات چیت سے قائم ہوتا ہے۔
اب افغانستان اور قبائلی علاقوں میں امن کے قیام کے لیے تین فریقوں کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سب سے پہلے پاکستان کے قبائلی علاقوں کی عوام، دوسری افغان حکومت، اور تیسری افغانستان کی عوام- ان تین فریقین کی مدد کے بغیر کوئی کامیاب آپریشن یا پائیدار حل نہیں ہو سکتا۔
خیبر پختونخوا میں جو کچھ کرنے کی کوشش ہے وہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کو غیر مقبول کرنے کے لیے ہے۔ ملٹری آپریشن سے دہشتگردی مزید بڑہے گی اور جب پولیس اسی بڑھتی ہوئی دہشتگردی کو کنٹرول کرنے میں لگے گی تو گورننس اور امن و امان کا بیڑا غرق ہو جائے گا- ایسی ہی پالیسی اے این پی کی حکومت کے دور میں بھی اپنائی گئی تھی۔
خیبر پختونخوا کے تمام ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز وزیراعلی کے ساتھ بیٹھ کر وہاں کے مسائل کا جلد سے جلد حل نکالیں۔ خصوصی طور پر جن علاقوں میں سیلاب آیا ہے وہاں امن قائم رکھنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں۔
ہمارے اتحادی محمود خان اچکزئی کی قیادت میں ایک امن وفد لے کر افغانستان جائیں اور وہاں بات چیت سے مسائل کا حل تلاش کریں”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہل خانہ سے گفتگو (۱۵ ستمبر، ۲۰۲۵)
2/3
اسی طرح قوم تاریخ کی درست سمت میں کھڑے صحافیوں، وکیلوں اور سیاستدانوں کو بھی دیکھ رہی ہے کہ کون آئین، جمہوریت اور بنیادی انسانی حقوق کیساتھ کھڑا ہے اور کون بادشاہ سلامت کے حکم کی پیروی میں انہیں روند رہا ہے۔ جو سیاستدان لیلوں کی طرح اسٹیبلشمنٹ کی رسی سے لٹکے ہوئے ہیں قوم انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔”
چئیرمین پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء، کارکنان اور میڈیا سے گفتگو (۵ جون، ۲۰۲۵)
@SHABAZGIL@SHABAZGIL#shabazgil
ElSir my apky channel sy content lyta hn jisky waja sy apki trf sy copyright strike ai hai kindly strike remove krden my ek chota youtuber hn meri earning ka yhi ek zariya hai kindly meri help krden ap strike remove krden wrna mera you
@SHABAZGIL Sir my apky channel sy content lyta hn jisky waja sy apki trf sy copyright strike ai hai kindly strike remove krden my ek chota youtuber hn meri earning ka yhi ek zariya hai kindly meri help krden ap strike remove krden wrna mera channel 4 days my terminate hojaiga i request you
@SHABAZGIL@PAKPAC Channel name chup Q
https://t.co/W36LPb8LA7
Mera channel k link share kr rha hn 4 din my Mera channel terminate hojaiga please strike remove krden
@SHABAZGIL@PAKPAC@SHABAZGIL sir my apky channel sy content copy krta hn apky channel sy kafi strike mili hen kindly please strike remove krden my chota sa YouTuber hn meri earning ka yhi zariya hai please meharbani kr k meri help krden strikes remove krden
۹ مئی — عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف ایک منظم عسکری سازش
خود ہی ۹ مئی فالس فلیگ آپریشن کی سازش رچا کے بے گناہ شہریوں کو ملٹری ٹرائل کے ذریعے جج، جیوری اور جلاد بن کر سزا دینا انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے
عالمی تنظیموں کو ملٹری ٹرائل کے نام پر کیے گئے انصاف کے قتل کا نوٹس لینا چاہیے!!