Dear Bollywood,
Listen up and WATCH carefully. THIS is what a real Baloch looks like
No Arabic costumes.
No fake Bollywood steps.
No Hindi remix. This is pure Balochi music, pure Balochi attire, pure Balochi soul.
This is Balochistan. This is who we are. #Dhurandhar people… now feel ashamed and learn.
THIS is how real Baloch @AdityaDharFilms@RanveerOfficial@duttsanjay@akshayekhanna@YRF
Next time do your homework…
or better, come to Balochistan and learn from the originals. #RealBalochistan
#OriginalBalochiDance
#DhurandharExposed
#BalochCulture
#BalochistanZindabad
#PakistaniBaloch
#NotYourCostume
Breaking barriers from Balochistan to the world stage 🇵🇰
A massive moment of pride as Ms. Aqsa Mirwani wins the prestigious FAO 100 Women Heroes Award 2026 at the World Food Forum in Rome, Italy.
Representing the resilient spirit of Balochistan, she is the ONLY Pakistani selected among 100 women from 131 countries globally.
As a young farmer, social entrepreneur, and Chairperson of the Amma Naeema Foundation, she is leading a quiet revolution in rural development and agrifood systems.
From the Pride of Pakistan Award 2025 to global recognition by the UN FAO
she continues to uplift her community and make the entire nation proud.
A true trailblazer.
گوادر میں خواتین کا مبینہ خفیہ نیٹ ورک بے نقاب.
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں انتہائی رازداری سے کام کرنے والا ایک ایسا منظم اور خوفناک نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے جو معصوم خواتین کی ذہن سازی کر کے انہیں ہتھیار اٹھانے پر اکسا رہا ہے۔
اس نیٹ ورک کی جڑیں گوادر میں سب سے زیادہ مضبوط اور گہری بتائی جاتی ہیں، جہاں سے پراسرار طور پر متعدد خواتین اب گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کر رہی ہیں۔
یہ پورا نیٹ ورک مبینہ طور پر صرف اور صرف خواتین پر مشتمل ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پردے کے پیچھے سرگرم اس نیٹ ورک کے "بلوچ یکجہتی کمیٹی" (BYC) کے ساتھ انتہائی منظم اور مضبوط روابط ہیں۔
معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان روابط کی نوعیت محض ہمدردی کی نہیں، بلکہ یہ نیٹ ورک بی وائی سی (BYC) کی ہی ایک ذیلی تنظیم کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اس خفیہ ونگ کا صرف ایک ہی مخصوص اور خطرناک ہدف ہے: "خواتین کی اس حد تک ذہن سازی کرنا کہ وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔"
حساس اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور معمہ وہ رپورٹیں ہیں جن کے مطابق، بی وائی سی سے وابستہ اس نیٹ ورک کے جال میں پھنس کر اب تک درجنوں خواتین صرف گوادر کے علاقے سے اپنے گھر بار چھوڑ کر پہاڑوں پر جا چکی ہیں۔
یہ خواتین وہاں جا کر مسلح تنظیموں کا باقاعدہ حصہ بن رہی ہیں، جس نے بلوچستان کی شورش میں ایک بالکل نیا اور خطرناک موڑ پیدا کر دیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس نیٹ ورک کی اصل سرغنہ خواتین تک پہنچنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں اور گوادر سمیت مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گوادر کو سی پیک کا مرکز قرار دے کر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔
بلوچ کو پنجابیوں کے خلاف اکسانے والے اختر مینگل کی منافقت۔
سردار اختر مینگل نے اپنی بیٹی کی شادی خود پنجابیوں میں کی اور بلوچ عوام کو پنجابیوں کے خلاف اکسانے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ شخص بلوچ عوام کا خیر خواہ نہیں ہے صرف مفاد پرست ہے۔یہ پاکستان کا دشمن ہے اسلام کا دشمن ہے یہ انسانیت کا دشمن ہے۔
نواب خیر بخش مری کی اولاد کی عیش و عشرت اور ان کا منافقانہ کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ان کا دولت مند بیٹا مہران مری اگر چاہتا تو کوہلو کے علاقے میں اپنے والد کے نام سے منسوب ایک بہترین ہسپتال قائم کروا سکتا تھا، جہاں مری قبیلے کے غریب لوگ مفت طبی سہولیات حاصل کر سکتے۔
مگر مہران مری نے اپنے مظلوم عوام کی فکر کرنے کے بجائے لندن کے پرتعیش محلات میں شاہی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔
دوسری جانب، ان کا بھائی حربیار مری خود تو برطانیہ کے پرامن اور محفوظ ماحول میں بیٹھ کر عیاشی کر رہا ہے، لیکن یہاں کے معصوم بلوچ نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما رہا ہے تاکہ وہ ریاست کے خلاف جنگ لڑیں۔
ان جاگیرداروں نے اپنے بزرگوں کے نام پر بلوچ عوام کی بھلائی کے لیے کبھی کوئی تعلیمی ادارہ یا شفا خانہ نہیں بنایا، بلکہ ان کے نام صرف عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ ہی جڑے رہے، کیونکہ یہ سردار کبھی نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن و امان قائم ہو اور ان کی بیرونی فنڈنگ کا کاروبار بند ہو جائے۔
سردار اختر مینگل کا عسکریت پسندوں کی کھلی حمایت پر مبنی پرانا بیان ایک بار پھر وائرل ہونے سے ان کا اصل چہرہ اور روایتی سرداری نظام کا دوہرا معیار عوامی اور صحافتی حلقوں میں پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس ویڈیو میں بی این پی کے سربراہ معصوم شہریوں کے قاتلوں اور کالعدم مسلح تنظیم (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کو نہ صرف دعائیں اور تھپکی دے رہے ہیں، بلکہ یہ کہہ کر ان کی علانیہ پشت پناہی کر رہے ہیں کہ وہ آپ کی آزادی کے لیے پہاڑوں پر گئے ہیں، ہمیں صرف بیٹھنا، تالیاں بجانا اور تقریریں نہیں کرنی ہیں بلکہ جب ہم سب ان کی قربانیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کریں گے تو وہ ہماری غلامی کا آخری دن ہوگا۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایک طرف تو یہ سردار اسمبلیوں اور سیاسی فورمز پر بیٹھ کر جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف بندوق اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سردار اختر مینگل نے آج تک بلوچ عوام کی خیر خواہی کے لیے اپنے نام پر نہ تو کوئی معیاری اسکول قائم کیا اور نہ ہی کوئی ہسپتال بنایا، جس کی وجہ سے غریب بلوچ عوام ہمیشہ بنیادی حقوق اور ترقی کو ترستے رہے، بلکہ ان کے نام اور اثر و رسوخ کے سائے میں صرف عسکریت پسند تنظیمیں ہی پروان چڑھیں۔
یہ مفاد پرست سردار کبھی نہیں چاہتے کہ بلوچستان سے دہشت گردی اور بدامنی کا مستقل خاتمہ ہو، کیونکہ صوبے میں امن قائم ہونے سے ان کی سیاسی اجارہ داری اور بلیک میلنگ کا دھندہ بند ہو جائے گا،
اسی لیے وہ ایک طرف دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں اور دوسری طرف اسی شورش کو برقرار رکھ کر لاپتہ افراد (مسنگ پرسنز) کے نام پر بیرونی اور حکومتی سطح سے لاکھوں کروڑوں کی فنڈنگ اور سیاسی مفادات سمیٹ کر ہضم کر جاتے ہیں۔
بلوچستان میں مسلح تنظیموں اور مقامی قبائل کے مابین تناؤ کی لہر شدت اختیار کر گئی۔
مگسی، بگٹی اور مینگل قبائل کی جانب سے مزاحمت کی رپورٹس کے بعد اب طاقتور رند قبیلہ بھی عسکری تنظیم کے سامنے ڈٹ گیا.
پنجاب سے بلوچستان تک پانی کی فراہمی کا کچھی کینال منصوبہ بین الصوبائی تعاون اور زرعی ترقی کی اہم مثال ہے
پنجاب سے بلوچستان تک 80 ارب روپے کا 500 کلومیٹر طویل کچی کینال منصوبہ پنجاب سے پانی لا کر بلوچستان کی 7,13,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے۔ پنجاب کے حصے کے پانی سے بلوچستان میں ہریالی آ رہی ہے
اگر پنجاب کی طرف سے بھی پانی پر قوم پرستی ہوتی تو آج یہ خوشحالی نہ آتی یہ زرخیزی نہ ہوتی۔
صوبے الگ ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا مستقبل مشترکہ ہے۔ اتحاد ہماری طاقت اور ترقی ہماری منزل ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اسی بند مٹھی میں ہے جس میں تمام صوبے ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
بلوچستان کی نام نہاد رہنما مہرنگ بلوچ نے مظلومیت کا ایک ایسا اسکرپٹ پیش کیا ہے جس پر ہنسا جائے یا افسوس کیا جائے، سمجھ نہیں آتا۔
فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے لیے بڑی مشکلات جھیلیں، یہاں تک کہ اپنے کپڑے اور زیور تک بیچ دیے۔
سننے میں یہ داستان کتنی دردناک لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے چھپی منافقت کی کہانی اس سے بھی زیادہ عبرتناک ہے۔
واہ رے انقلابی فلسفہ, تعلیم کی فیس بھرنے کے لیے گھر کا سونا اور کپڑے تو بازار میں بک گئے، لیکن اپنے دہشت گرد باپ کی وہ کلاشنکوف اور بندوق نہیں بکی جس نے نہ جانے کتنے معصوم بلوچوں کے گھر اجاڑے۔
Resilience in the face of intimidation.
The recent abduction of Aurangzeb Majeed, the younger brother of Balochistan Assembly member and Sports Advisor @Meena_Majeed highlights the targeted tactics meant to silence democratic voices.
But the spirit of Balochistan's women remains unshakeable.
Guided by the visionary leadership of Meena Majeed, Baloch women are continuing to excel, lead, and shine in sports and every other professional arena. Progress cannot be intimidated.
The BLA-BYC nexus stands fully exposed.
Just hours after MPA Meena Majeed publicly declared that Mahrang Baloch’s legal conviction was on merit and that she aided BLA terrorists, the BLA abducted Meena’s brother, Aurangzeb.
This retaliatory kidnapping tears away any illusion of separation,
while the BYC poses as a peaceful civilian front, the BLA operates directly as its armed enforcement wing.
One talks, the other terrorizes.
MAJOR OPERATION IN BALOCHISTAN
24 KIDNAPPED WORKERS RESCUED BY SECURITY FORCES
PAK ARMY STRIKES BLA NETWORK IN KHUZDAR
The Pakistan Army's operation in Balochistan that left terrorists completely stunned.
In the mountains of Balochistan, the Pakistan Army has carried out such a courageous operation against hidden terrorists that it has shaken the entire network of the banned organization BLA .
Security forces have rescued 24 innocent laborers from the jaws of death, who had been abducted at gunpoint from a marble factory in the Nal Basar area of Khuzdar.
This is not just a rescue; it is an extremely important strategic breakthrough that has ground the terrorists' arrogance into the dust.
A few days ago, BLA terrorists raided the marble factory in Nal Basar under the cover of darkness and, taking 24 laborers hostage, vanished into unknown mountain ranges.
The terrorists believed they could use these laborers as human shields to blackmail the state, but they had no idea that the Pakistan Army's intelligence network was monitoring their every move.
As soon as the commandos received the signal, forces locked down the terrorists' escape routes using communication systems and modern technology.
Security forces tightened the cordon under the cover of night along extremely difficult mountainous paths.
According to sources, the moment security forces targeted the terrorists' hidden hideout, the BLA operatives were completely blindsided. Faced with the sudden and highly effective action by the forces, all the terrorists' tactics failed, and they were forced to flee for their lives, abandoning their hostages.
As a result of the operation,
all 24 laborers have been safely recovered without any harm.
The safe return of the laborers has proven that Pakistani forces possess the full capability to deal with any challenge.
گوادر میں خواتین کا مبینہ خفیہ نیٹ ورک بے نقاب.
بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں انتہائی رازداری سے کام کرنے والا ایک ایسا منظم اور خوفناک نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے جو معصوم خواتین کی ذہن سازی کر کے انہیں ہتھیار اٹھانے پر اکسا رہا ہے۔
اس نیٹ ورک کی جڑیں گوادر میں سب سے زیادہ مضبوط اور گہری بتائی جاتی ہیں، جہاں سے پراسرار طور پر متعدد خواتین اب گھروں کو چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کر رہی ہیں۔
یہ پورا نیٹ ورک مبینہ طور پر صرف اور صرف خواتین پر مشتمل ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ پردے کے پیچھے سرگرم اس نیٹ ورک کے "بلوچ یکجہتی کمیٹی" (BYC) کے ساتھ انتہائی منظم اور مضبوط روابط ہیں۔
معاملے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان روابط کی نوعیت محض ہمدردی کی نہیں، بلکہ یہ نیٹ ورک بی وائی سی (BYC) کی ہی ایک ذیلی تنظیم کے طور پر کام کر رہا ہے۔
اس خفیہ ونگ کا صرف ایک ہی مخصوص اور خطرناک ہدف ہے: "خواتین کی اس حد تک ذہن سازی کرنا کہ وہ بندوق اٹھانے پر مجبور ہو جائیں۔"
حساس اداروں کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور معمہ وہ رپورٹیں ہیں جن کے مطابق، بی وائی سی سے وابستہ اس نیٹ ورک کے جال میں پھنس کر اب تک درجنوں خواتین صرف گوادر کے علاقے سے اپنے گھر بار چھوڑ کر پہاڑوں پر جا چکی ہیں۔
یہ خواتین وہاں جا کر مسلح تنظیموں کا باقاعدہ حصہ بن رہی ہیں، جس نے بلوچستان کی شورش میں ایک بالکل نیا اور خطرناک موڑ پیدا کر دیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے ادارے اب اس نیٹ ورک کی اصل سرغنہ خواتین تک پہنچنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں اور گوادر سمیت مختلف علاقوں میں سرچ آپریشنز اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔ یہ انکشاف ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب گوادر کو سی پیک کا مرکز قرار دے کر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں ۔
بلوچستان سے اب تک جتنی خواتین لاپتہ ہوئی ہیں ۔ ان سب کا تعلق بی وائی سی سے رہا ہے اور یہ خواتین بی وائی سی کے پروگرامات میں بھی شریک ہوتی رہی ہیں ۔ بتایا جارہا ہے کہ گوادر میں باقاعدہ تربیتی کیمپس موجود ہیں جہاں سے ان خواتین کو پہاڑوں پر بھیجا جارہا ہے ۔
یہ ویڈیو بی وائی سی کے پیج سے لی گئی ہے جس میں ایک خاتون نے ماتھے پر مسلحہ تنظیم کے جھنڈے کی پٹی باندھ رکھی ہے ۔
بلوچ کو پنجابیوں کے خلاف اکسانے والے اختر مینگل کی منافقت۔
سردار اختر مینگل نے اپنی بیٹی کی شادی خود پنجابیوں میں کی اور بلوچ عوام کو پنجابیوں کے خلاف اکسانے میں لگے ہوئے ہیں۔
یہ شخص بلوچ عوام کا خیر خواہ نہیں ہے صرف مفاد پرست ہے۔یہ پاکستان کا دشمن ہے اسلام کا دشمن ہے یہ انسانیت کا دشمن ہے۔
سردار اختر مینگل کا عسکریت پسندوں کی کھلی حمایت پر مبنی پرانا بیان ایک بار پھر وائرل ہونے سے ان کا اصل چہرہ اور روایتی سرداری نظام کا دوہرا معیار عوامی اور صحافتی حلقوں میں پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس ویڈیو میں بی این پی کے سربراہ معصوم شہریوں کے قاتلوں اور کالعدم مسلح تنظیم (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کو نہ صرف دعائیں اور تھپکی دے رہے ہیں، بلکہ یہ کہہ کر ان کی علانیہ پشت پناہی کر رہے ہیں کہ وہ آپ کی آزادی کے لیے پہاڑوں پر گئے ہیں، ہمیں صرف بیٹھنا، تالیاں بجانا اور تقریریں نہیں کرنی ہیں بلکہ جب ہم سب ان کی قربانیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کریں گے تو وہ ہماری غلامی کا آخری دن ہوگا۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایک طرف تو یہ سردار اسمبلیوں اور سیاسی فورمز پر بیٹھ کر جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف بندوق اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سردار اختر مینگل نے آج تک بلوچ عوام کی خیر خواہی کے لیے اپنے نام پر نہ تو کوئی معیاری اسکول قائم کیا اور نہ ہی کوئی ہسپتال بنایا، جس کی وجہ سے غریب بلوچ عوام ہمیشہ بنیادی حقوق اور ترقی کو ترستے رہے، بلکہ ان کے نام اور اثر و رسوخ کے سائے میں صرف عسکریت پسند تنظیمیں ہی پروان چڑھیں۔
یہ مفاد پرست سردار کبھی نہیں چاہتے کہ بلوچستان سے دہشت گردی اور بدامنی کا مستقل خاتمہ ہو، کیونکہ صوبے میں امن قائم ہونے سے ان کی سیاسی اجارہ داری اور بلیک میلنگ کا دھندہ بند ہو جائے گا،
اسی لیے وہ ایک طرف دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں اور دوسری طرف اسی شورش کو برقرار رکھ کر لاپتہ افراد (مسنگ پرسنز) کے نام پر بیرونی اور حکومتی سطح سے لاکھوں کروڑوں کی فنڈنگ اور سیاسی مفادات سمیٹ کر ہضم کر جاتے ہیں۔
نواب خیر بخش مری کی اولاد کی عیش و عشرت اور ان کا منافقانہ کردار اب کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ ان کا دولت مند بیٹا مہران مری اگر چاہتا تو کوہلو کے علاقے میں اپنے والد کے نام سے منسوب ایک بہترین ہسپتال قائم کروا سکتا تھا، جہاں مری قبیلے کے غریب لوگ مفت طبی سہولیات حاصل کر سکتے۔
مگر مہران مری نے اپنے مظلوم عوام کی فکر کرنے کے بجائے لندن کے پرتعیش محلات میں شاہی زندگی گزارنے کو ترجیح دی۔
دوسری جانب، ان کا بھائی حربیار مری خود تو برطانیہ کے پرامن اور محفوظ ماحول میں بیٹھ کر عیاشی کر رہا ہے، لیکن یہاں کے معصوم بلوچ نوجوانوں کو ورغلا کر ان کے ہاتھوں میں بندوقیں تھما رہا ہے تاکہ وہ ریاست کے خلاف جنگ لڑیں۔
ان جاگیرداروں نے اپنے بزرگوں کے نام پر بلوچ عوام کی بھلائی کے لیے کبھی کوئی تعلیمی ادارہ یا شفا خانہ نہیں بنایا، بلکہ ان کے نام صرف عسکریت پسند تنظیموں کے ساتھ ہی جڑے رہے، کیونکہ یہ سردار کبھی نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن و امان قائم ہو اور ان کی بیرونی فنڈنگ کا کاروبار بند ہو جائے۔
سردار اختر مینگل کا عسکریت پسندوں کی کھلی حمایت پر مبنی پرانا بیان ایک بار پھر وائرل ہونے سے ان کا اصل چہرہ اور روایتی سرداری نظام کا دوہرا معیار عوامی اور صحافتی حلقوں میں پوری طرح بے نقاب ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر گردش کرتی اس ویڈیو میں بی این پی کے سربراہ معصوم شہریوں کے قاتلوں اور کالعدم مسلح تنظیم (بی ایل اے) کے دہشت گردوں کو نہ صرف دعائیں اور تھپکی دے رہے ہیں، بلکہ یہ کہہ کر ان کی علانیہ پشت پناہی کر رہے ہیں کہ وہ آپ کی آزادی کے لیے پہاڑوں پر گئے ہیں، ہمیں صرف بیٹھنا، تالیاں بجانا اور تقریریں نہیں کرنی ہیں بلکہ جب ہم سب ان کی قربانیوں کا ساتھ دینے کا فیصلہ کریں گے تو وہ ہماری غلامی کا آخری دن ہوگا۔
یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ ایک طرف تو یہ سردار اسمبلیوں اور سیاسی فورمز پر بیٹھ کر جمہوریت کا راگ الاپتے ہیں اور دوسری طرف بندوق اٹھانے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سردار اختر مینگل نے آج تک بلوچ عوام کی خیر خواہی کے لیے اپنے نام پر نہ تو کوئی معیاری اسکول قائم کیا اور نہ ہی کوئی ہسپتال بنایا، جس کی وجہ سے غریب بلوچ عوام ہمیشہ بنیادی حقوق اور ترقی کو ترستے رہے، بلکہ ان کے نام اور اثر و رسوخ کے سائے میں صرف عسکریت پسند تنظیمیں ہی پروان چڑھیں۔
یہ مفاد پرست سردار کبھی نہیں چاہتے کہ بلوچستان سے دہشت گردی اور بدامنی کا مستقل خاتمہ ہو، کیونکہ صوبے میں امن قائم ہونے سے ان کی سیاسی اجارہ داری اور بلیک میلنگ کا دھندہ بند ہو جائے گا،
اسی لیے وہ ایک طرف دہشت گردی کو ہوا دیتے ہیں اور دوسری طرف اسی شورش کو برقرار رکھ کر لاپتہ افراد (مسنگ پرسنز) کے نام پر بیرونی اور حکومتی سطح سے لاکھوں کروڑوں کی فنڈنگ اور سیاسی مفادات سمیٹ کر ہضم کر جاتے ہیں۔
بلوچ قوم پرستی کا دعویدار سردار اختر مینگل دراصل خاندانی انگریزوں کا پالتو نکلا، نواب بننے کا خواب انگریزوں کی نوکری سے شروع ہوا
آج بھی دشمن کے بیانیے کا سب سے بڑا ترجمان۔
بلوچستان میں مسلح تنظیموں اور مقامی قبائل کے مابین تناؤ کی لہر شدت اختیار کر گئی۔
مگسی، بگٹی اور مینگل قبائل کی جانب سے مزاحمت کی رپورٹس کے بعد اب طاقتور رند قبیلہ بھی عسکری تنظیم کے سامنے ڈٹ گیا.
پنجاب سے بلوچستان تک پانی کی فراہمی کا کچھی کینال منصوبہ بین الصوبائی تعاون اور زرعی ترقی کی اہم مثال ہے
پنجاب سے بلوچستان تک 80 ارب روپے کا 500 کلومیٹر طویل کچی کینال منصوبہ پنجاب سے پانی لا کر بلوچستان کی 7,13,000 ایکڑ اراضی کو سیراب کر رہی ہے۔ پنجاب کے حصے کے پانی سے بلوچستان میں ہریالی آ رہی ہے
اگر پنجاب کی طرف سے بھی پانی پر قوم پرستی ہوتی تو آج یہ خوشحالی نہ آتی یہ زرخیزی نہ ہوتی۔
صوبے الگ ہو سکتے ہیں، مگر ہمارا مستقبل مشترکہ ہے۔ اتحاد ہماری طاقت اور ترقی ہماری منزل ہے۔ پاکستان کی مضبوطی اسی بند مٹھی میں ہے جس میں تمام صوبے ایک دوسرے کا سہارا بنتے ہیں۔
روزی روٹی کی خاطر گھر سے نکلنے والے غریب مزدوروں کو گاڑیوں سے اتارنا، ان کی جیبیں لوٹنا اور بھتہ نہ دینے پر ان کے خون پسینے کی کمائی (گاڑیوں) کو آگ لگا دینا یہ کون سی آزادی کی جنگ ہے؟
بی ایل اے نے بلوچستان کی شاہراہوں کو غریب محنت کشوں کا مقتل بنا دیا ہے۔ یہ آزادی پسند نہیں، یہ دھرتی کے اور غریبوں کے قاتل ہیں.