گلیوں میں کھڑا بارش کا پانی گدھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ جس طرح اس ملک کے پورے ڈھانچے کو تباہ کیا گیا ہے اسکو دیکھنے کے کیے انسانی شعور درکار ہے۔ حکمران ووٹ لیکر نہیں آئے اس لیے انہیں جوابدہی کا ڈر نہیں۔ سکول اور ہسپتال ٹھیکے پر چڑھا دیے۔ صفائی ستھرائی کو ٹھیکے پر چڑھا کر اسکا بل دوکانداروں کو بھجوا دیا گیا۔ کچھ ہی وقت گزرے گا آپ کے بجلی کے بل میں تعلیم اور صحت کا الگ سے سرچارج لگ کر آیا کرے گا۔ کیونکہ موجودہ ٹیکس تو صرف عیاشیوں کے خرچے پورے کرسکتا ہے۔
اس ملک کی سب سے بڑی بدنصیبی یہ ہے کہ اس ملک کے عوام نے تباہی اور بربادی کو اپنا نصیب سمجھ لیا ہے۔ نہیں شریف انسانو نہیں ! یہ نصیب نہیں ہے ، تمہاری مجرمانہ خاموشی کا جرمانہ ہے۔
ملک شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، مہنگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے، نجی شعبے کے لاکھوں ملازمین کی تنخواہیں جمود کا شکار ہیں، کاروبار بند ہو رہے ہیں اور عام پاکستانی دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہے۔
مگر وفاقی حکومت کی ترجیح ایک بار پھر اپنی بیوروکریسی ثابت ہوئی۔
وفاقی حکومت نے:
▪️ گریڈ 1 تا 22 کے وفاقی ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 15٪ اور 10٪ ایڈہاک الاؤنس ضم کر دیے۔
▪️ نظرِ ثانی شدہ بنیادی پے سکیل پر 7٪ اضافہ منظور کر دیا۔
▪️ گریڈ 1 تا 22 کے ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 50٪ اضافہ کر دیا۔
▪️ گریڈ 17 تا 22 کے افسران کے لیے ایگزیکٹو الاؤنس کی بھی منظوری دے دی۔
▪️ تمام اضافوں کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔
سوال یہ ہے کہ جب عام پاکستانی مہنگائی، بے روزگاری اور گرتی ہوئی قوتِ خرید سے لڑ رہا ہے، تو کیا حکومت کی پہلی ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہونی چاہیے یا سرکاری مراعات میں مزید اضافہ؟
#Pakistan #Economy #Inflation #Budget2026 #CivilService
"یہ فرعون ہیں۔ انہوں نے کیا تماشہ لگا رکھا ہے عمران خان کے سارے حقوق معطل کردئیے ان کو قید تنہائی میں ڈال کر ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے یہ عدالتیں انصاف نہیں دینگی اب لوگ صرف خیبرپختونخواہ سے نہیں پورے پاکستان سے آئیں گے ۔جب تک ہم پریشر نہیں ڈالیں گے عمران خان کے حقوق بحال نہیں ہونگے"۔ علیمہ خان
سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ میں باہر اندر سے ایک ہوں اس لیے میری عمران خان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ سہیل آفریدی نے بالکل درست کہا ہے ، یہ باہر اندر سے ایک جیسا بے شرم ہے۔ اے سی والے کمرے میں بیٹھ کر ، فوج کو بجٹ سرپلس دے کر ، ڈرون حملوں پر خاموش ، ریلیوں کا سلسلہ ختم کرکے ، ایسے دعوے اندر باہر کی بے شرمی کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
اگر علیمہ خانم زیادہ متحرک ہوئیں یا عوام کو موبلائز کیا تو یقیننا انہیں گرفتار کرلیا جائے گا یا نظر بند کردیا جائے گا۔ فوج انہیں دبانے کی ہر ممکن کوشش کرے گی۔ لیکن اسکی ایک قیمت ہوگی اور وہ قیمت تحریک انصاف کی قیادت ، پختونخواہ حکومت اور اراکین اسمبلی ادا کریں گے۔
علی محمد خان کا قد سوا چھ فٹ سے نکلتا ہے۔ رنگ اناروں جیسا سرخ ہے۔ بال اس قدر سلیقے سے تراشے ہوئے کہ کسی فلمی ہیرو کا گمان ہوتا ہے۔ ہر کوئی وزیراعظم بننے سے رہا علی محمد خان نے سیاست کی معراج دیکھ رکھی ہے۔ لگاتار ایم این اے بن جانا ، وفاقی وزیر ہوجانا ، پورے ملک میں شناخت بن جانا ہی سیاست کا عروج ہوا۔ اتنا وقت سیاست میں گزارنے کے بعد علی محمد فن تقریر سے بخوبی آشنا ہے۔ نہ فمبل کرتا ہے نہ اٹکتا ہے ، نہ لہجے میں کوئی علاقائی چھاپ آتی ہے۔ ولایت پلٹ ایل ایل ایم بھی اپنے ساتھ بیرسٹر لکھتے ہیں ، صرف امتحان پاس کرکے باقی منازل طے کیے بغیر بھی خود کو بیرسٹر ہی کہتے ہیں۔ معلوم نہیں علی محمد کس کیٹگری والا بیرسٹر ہے لیکن بہرحال بیرسٹر ضرور ہے۔ یعنی یہاں بھی ایکسپوژر تو کچھ نا کچھ ہوا۔
پھر سیاستدانوں کی ایک کیٹگری وہ ہوتی ہے جو اچانک دولت کے زور سے یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے یا اپنے کسی سابقہ عہدے کی وجہ سے سیاست میں آجاتے ہیں۔ وہ تمام جتن کرکے بھی خود کو خاندانی سیاستدان یا خاندانی رئیس قرار نہیں دے پاتے اور ان کا احساس کمتری کہیں نا کہیں جھلکتا رہتا ہے۔ علی محمد خان کے خاندان کے لوگ اگر ملکی سطح نا سہی اپنے علاقے کی حد تک جانے پہچانے لوگ ہیں۔ یعنی علی محمد خان کو قدرت کی جانب سے پریمیم سبسکرپشن والا ایک مکمل پیکج ملا۔
نوازشوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ رجیم چینج کی رات علی محمد خان کی ایک تقریر نے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ علی محمد خان اور قاسم خان سوری رجیم چینج کے وقت ہیرو بن کر ابھرے۔ چھوٹے شہروں کی ریلیوں میں انہیں سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچتے۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اب آزمائش کا وقت تھا۔ مشکلات اور سختیاں تھیں۔ فریق دو ہی تھے۔ ایک عمران خان اور دوسرا اسکو شکست دینے کے درپے طاقتیں۔ قدرت نے فیصلے کا اختیار علی محمد کی سوجھ بوجھ کو دیا۔ علی محمد خان ہر روز عمران خان کو شکست دینے کی کوششیں کرنے والوں کیساتھ کھڑا نظر آیا۔ معلوم نہیں لالچ ہے یا دباؤ ، سختیوں سے بچنے کی کوشش ہے یا بیچارہ تھا ہی یہی کچھ ، ہر روز کی ذلت ، ہر روز کی رسوائی۔ نشستیں فارم سینتالیس پر بھی مل جاتی ہیں۔ وزارتیں بھی مل جاتی ہیں۔ سیاستدان کی عزت وہ ہے جو عوام کے دل میں ہوتی ہے۔ علی محمد اس سے محروم ہوچکا۔
پاک فوج قوم کا اربوں کھربوں کھا جاتی ہے۔ آٹھ سو ارب روپے کی تو سالانہ پنشن کھا جاتے ہیں۔ اسکے باجود پاکستان کی سڑکیں محفوظ کیوں نہیں؟ بارڈرز محفوظ کیوں نہیں؟ کیوں ڈیڑھ لاکھ لوگ دہشتگردی کے ہاتھوں مر گئے ؟ کیوں بھارت پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز بنا رہا ہے؟
Yesterday, our family met with KP ministers at the Islamabad High Court. We held a detailed discussion on the steps being taken to restore all of Imran Khan’s legal and lawful prison rights.
During the meeting, Ministers provided the following update:
1. There will be no surplus budget, as Imran Khan has consistently directed that all available funds be utilized for the development and uplift of the people of Khyber Pakhtunkhwa.
2. The KP Government will not sign any agreement to transfer the Rs. 175 billion requested by the Federal Government unless the following demands are met:
• Khyber Pakhtunkhwa must receive its full share for the merged districts (formerly FATA) for the current fiscal year, amounting to approximately Rs. 300 billion. These funds are essential for the economic development and stability of the merged areas.
No agreement will be signed until all of Imran Khan’s legal and lawful rights are fully restored, including
1. The immediate transfer of Imran Khan to Shifa International Hospital for proper diagnosis, examination, and treatment by qualified specialists.
2. An immediate end to Imran Khan’s eight-month isolation and solitary confinement.
a) Restore weekly meetings with 6 family members, 6 members of his legal team, and 6 friends (political associates)
b) Restore his weekly phone calls with his sons.
c) Restore his access to books, newspapers, and other reading material.
These are the basic legal and human rights that must be respected and restored without further delay.
گزشتہ روز ہماری فیملی نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں خیبر پختونخوا کے وزراء سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں عمران خان کے تمام قانونی اور جائز جیل حقوق کی بحالی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران وزراء نے درج ذیل پیش رفت سے آگاہ کیا:
1۔ کوئی اضافی (سرپلس) بجٹ نہیں ہوگا، کیونکہ عمران خان نے ہمیشہ ہدایت دی ہے کہ تمام دستیاب وسائل خیبر پختونخوا کے عوام کی ترقی، فلاح و بہبود اور خوشحالی پر خرچ کیے جائیں۔
2۔ خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکومت کی جانب سے طلب کردہ 175 ارب روپے کی منتقلی کے لیے کسی بھی معاہدے پر اس وقت تک دستخط نہیں کرے گی جب تک کہ درج ذیل مطالبات پورے نہیں کیے جاتے:
• خیبر پختونخوا کو ضم شدہ اضلاع (سابق فاٹا) کے لیے موجودہ مالی سال کا مکمل حصہ فراہم کیا جائے، جو تقریباً 300 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ فنڈز ضم شدہ علاقوں کی معاشی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہیں۔
• عمران خان کے تمام قانونی اور جائز حقوق مکمل طور پر بحال ہونے تک کسی بھی معاہدے پر دستخط نہیں کیے جائیں گے، جن میں شامل ہیں:
1۔ عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے تاکہ ماہر ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا مکمل طبی معائنہ، تشخیص اور علاج ممکن بنایا جا سکے۔
2۔ عمران خان کی گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری غیر قانونی تنہائی اور عملی طور پر سولیٹری کنفائنمنٹ کا فوری خاتمہ کیا جائے، جس میں:
الف) ہر ہفتے 6 اہلِ خانہ، 6 وکلاء اور 6 دوستوں (سیاسی ساتھیوں) سے ملاقات کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ب) ان کے بیٹوں کے ساتھ ہفتہ وار ٹیلیفونک رابطے کا حق فوری طور پر بحال کیا جائے۔
ج) کتابوں، اخبارات اور دیگر مطالعے کے مواد تک ان کی رسائی فوری طور پر بحال کی جائے۔
یہ کوئی خصوصی مراعات نہیں بلکہ بنیادی قانونی اور انسانی حقوق ہیں، جن کا احترام اور فوری بحالی مزید کسی تاخیر کے بغیر یقینی بنائی جانی چاہیے
We have received reports that Imran Khan was again taken to PIMS in the early hours of 15 June. We found out through a tweet by Barrister Gohar on the morning of 15 June.
We reject any medical report generated by PIMS regarding Imran Khan’s condition. The same institution has previously made questionable claims, including the assertion that Imran Khan had recovered 90% of his eyesight. Imran Khan himself rejected these claims when his lawyer later met him at Adiala Jail.
A fundamental question remains unanswered: Why does Imran Khan require a fifth injection?
We do not accept the government’s version of events. We demand that Imran Khan be examined and treated by independent, qualified specialists at Shifa International Hospital, Islamabad. This is an urgent and immediate priority.
A full bench court order permits six family members to meet Imran Khan every Tuesday. Yet over the past eight months, the authorities have largely violated this order. My sister, Dr. Uzma Khan, has only been allowed to meet him a few times, and her last meeting took place on 2 December, 2025.
We reject the government’s continued use of isolation and deprivation as tools of pressure against Imran Khan. Today, we expect all six family members to be allowed to meet him in accordance with the court’s order.
The denial of Imran Khan’s rights is not merely a political issue; it is a clear violation of both the jail manual and High Court orders.
According to the jail manual, Imran Khan is entitled to:
1. A weekly telephone call with his sons.
2. A weekly meeting with family members.
3. A weekly meeting with his legal counsel.
4. Access to books and reading material.
5. Access to television and newspapers.
6. Access to proper medical treatment and regular medical check-ups.
7. Notification to immediate family members before any medical procedure is carried out.
In addition, High Court full bench orders provide that:
1. Imran Khan must be allowed to speak with his sons by telephone.
2. Six family members and six lawyers may meet him every Tuesday.
3. Six friends, including party representatives, may meet him every Thursday.
We demand the immediate restoration of all of Imran Khan’s lawful rights as a prisoner, with access to independent and professional medical treatment in presence of family as the highest and most urgent priority.
ہمیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ 15 جون کی علی الصبح عمران خان کو ایک بار پھر پمز اسپتال منتقل کیا گیا۔ ہمیں اس بارے میں 15 جون کی صبح بیرسٹر گوہر کی ایک ٹویٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔
ہم عمران خان کی صحت سے متعلق پمز کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی طبی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں۔ یہی ادارہ ماضی میں بھی مشکوک دعوے کر چکا ہے، جن میں یہ دعویٰ بھی شامل تھا کہ عمران خان کی بینائی 90 فیصد بحال ہو چکی ہے۔ بعد ازاں جب ان کے وکیل نے اڈیالہ جیل میں ان سے ملاقات کی تو عمران خان نے خود ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
ایک بنیادی سوال اب بھی جواب طلب ہے: عمران خان کو پانچویں انجیکشن کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
ہم حکومت کے مؤقف کو قبول نہیں کرتے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ عمران خان کا معائنہ اور علاج اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آزاد اور مستند ماہر ڈاکٹروں سے کرایا جائے۔
فل بینچ عدالتی حکم کے مطابق عمران خان سے ہر منگل کو خاندان کے چھ افراد ملاقات کر سکتے ہیں۔ تاہم گزشتہ آٹھ ماہ کے دوران حکام نے مسلسل اس عدالتی حکم کی خلاف ورزی کی ہے۔ میری بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کو صرف چند مرتبہ ملاقات کی اجازت دی گئی، جبکہ ان کی آخری ملاقات 2 دسمبر 2025 کو ہوئی تھی۔
ہم عمران خان پر دباؤ ڈالنے کے لیے حکومت کی جانب سے تنہائی اور بنیادی حقوق سے محرومی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔ آج ہم توقع رکھتے ہیں کہ عدالتی حکم کے مطابق خاندان کے تمام چھ افراد کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے گی۔
عمران خان کو حقوق سے محروم کرنا محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ جیل مینول اور ہائی کورٹ کے احکامات کی صریح خلاف ورزی ہے۔
جیل مینول کے مطابق عمران خان درج ذیل حقوق کے حقدار ہیں:
1۔ اپنے بیٹوں سے ہفتہ وار ٹیلیفونک گفتگو۔
2۔ خاندان کے افراد سے ہفتہ وار ملاقات۔
3۔ اپنے وکلاء سے ہفتہ وار ملاقات۔
4۔ کتابوں اور مطالعے کے مواد تک رسائی۔
5۔ ٹیلی ویژن اور اخبارات تک رسائی۔
6۔ مناسب طبی علاج اور باقاعدہ طبی معائنوں تک رسائی۔
7۔ کسی بھی طبی عمل یا طریقۂ علاج سے قبل قریبی اہلِ خانہ کو اطلاع دینا۔
اس کے علاوہ ہائی کورٹ کے فل بینچ کے احکامات کے مطابق:
1۔ عمران خان کو اپنے بیٹوں سے ٹیلیفون پر بات کرنے کی اجازت دی جائے۔
2۔ خاندان کے چھ افراد اور چھ وکلاء ہر منگل کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
3۔ چھ دوست، جن میں پارٹی نمائندگان بھی شامل ہوں، ہر جمعرات کو ان سے ملاقات کر سکتے ہیں۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ عمران خان کو بطور قیدی حاصل تمام قانونی حقوق فوری طور پر بحال کیے جائیں، اور خاندان کی موجودگی میں آزاد اور پیشہ ورانہ طبی علاج تک رسائی کو سب سے اعلیٰ اور فوری ترجیح بنایا جائے
جب تک خانصاحب کو ہسپتال منتقل نہیں کیا جاتا ، بہنوں سے ملاقات نہیں کروائی جاتی:
1- آپ نے سر پلس بجٹ پاس نہیں کرنا
2- اربوں روپے جنرلز کو نہیں دینے
3- بجٹ ایک یا مہینے سے زیادہ پاس نہیں کروانا
سب باتیں چھوڑ کر اس ایک بات پر فوکس کرنا ہے ہم سب نے۔
𝙒𝙝𝙚𝙧𝙚 𝙞𝙨 𝙄𝙢𝙧𝙖𝙣 𝙆𝙝𝙖𝙣?
When a leader with millions of supporters can be effectively disappeared from public view, denied transparency and cut off from the world, silence becomes complicity.
#WhereIsImranKhan?
#EndKhansIsolationNow
PTI leadership has requested opposition leader Mehmood Khan Achakzai that, if there is a time frame on the gathering outside Adiala Jail on Tuesday, they can mobilize 10,000 people. We welcome this proposal and have accepted their request.
On Tuesday, 16 June, we will gather outside Adiala Jail from 3:00 PM to 7:00 PM.
A strong gathering of 10,000 people outside Adiala should create the necessary pressure to end Imran Khan’s prolonged isolation and ensure that his eye condition is properly examined and treated at Shifa International Hospital, Islamabad, in the presence of his family and personal physician.
This is a humanitarian and legal demand. The basic rights of a former Prime Minister and political prisoner must be respected.
June is the only window available to PTI to build sufficient pressure to end Imran Khan’s isolation and ensure he is transferred to Shifa International Hospital for proper medical treatment in the presence of his family and personal doctors.