کل، ہم نے پاکستان بنانے والے بنگالیوں کو غدار کہا
آج ، ہم پاکستان بچانے والے کشمیریوں کو غدار کہہ رہے ہیں
مگر دیکھ لیں،،،ریاست کی جانب سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے عمر نذیر کشمیری نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگوا دیئے
Do the Same who did this to them No other time Left ...Time is Important all Should be arrested & Punished immediately & then No police & no law abiding force .
جسٹس اطہر من اللہ کا پیغام :
اگر اس بادشاہت کے نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو ج��وں کا آزاد ہونا بہت ضروری ہےاور اُسکا ایک ہی حل ہے تحریک چلائیں سب مل کر
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
جان بوجھ کے پاکستانی ب��او میڈیا یہ خبر پھیلا رہا ہے کہ راولاکوٹ میں دھرنا ختم ہو گیا ہے
یہ راولاکوٹ کے تازہ ترین مناظر ہیں اور یہ صرف ایک عوامی اجتماع کے مناظر ہیں جب کہ راولاکوٹ کے گرد مختلف مقامات پر اس وقت لاکھوں لوگ موجود ہیں
آج صبح انتہا کی گرمی تھی، اور اتنی پیاس لگ رہی تھی کہ ٹھنڈے کمرے میں چھوٹے موٹے کام کرتے پتا نہیں کتنے گلاس ٹھنڈے پانی کے پی لیے،مگر پھر پیاس لگ جاتی اور پھر سے وہی حال ہو جاتا۔
کام نبٹا کر فریش ہو کر پھر ایک گلاس ٹھنڈا پانی ہاتھ میں تھا کہ فیس بک اوپن کرتے ہی پہلی نظر اس تصویر پر پڑی۔
پانی کا گھونٹ گلے میں اٹک کر رہ گیا۔
انتہا کی گرمی میں تپتی زمین پر پانی ملنے کے انتظار میں نڈھال یہ بچے دیکھ کر دل بھر آیا۔
سر زمین انبیاء کہ یہ معصوم بچے چند گھونٹ پانی کے لیے اس جھلسا دینے والی گرمی میں گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں اور پھر خالی برتن لیے اپنے خیموں میں لوٹ جاتے ہیں،
جہاں نا گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے سر پر کوئی چھت کا آسرا،نا پیٹ میں کھانے کا کوئی لقمہ،نا پیاس بھجانے کو پانی،
موسم کی شدت کا یہ ��ال ہے کہ ایک گھنٹہ پانی کے بغیر گزرے تو ایسے لگتا ہے جیسے حلق میں کانٹے اگ آئے ہوں۔
اور ان مظلوموں کا تپتے ہوئے خیموں میں معلوم نہیں دن کیسے گزرتا ہو گا۔
یا میرے مالک ان نیک پاک لوگوں کی مشکلیں آسان فرما دے انکی آزمائشوں کو ختم کردے اور ان پر اپنی رحمت کی بارش برسا دے آمین یارب العالمین۔
✍عاصمہ بِنْت شریف
اس خاتون کے لہجے اور اندازِ گفتگو میں جھلکتا غرور دیکھیے۔
زندگی میں خود انہوں نے ایک دن کی نوکری نہیں کی،
عوام کے ووٹ سے بری طرح ہاری لیکن آج بھی چھینے گئے مینڈیٹ کے سہارے ایسے بات کرتی ہیں جیسے یہ حکومت جہیز میں لائیں تھی۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بڑی انتخابی شکست کے بعد بھی یہ تکبر کہاں سے آ جاتا ہے!