اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ
اے الله!🤲 قرآن کو میرے دل کی بہار اور سینے کا نور اور میرے غم کو دور کرنے والا اور میری فکر کو لے جانے والا بنا دے
آمـــــين ثم آمـــــــين يارب العالمـــــــين
مہاجر نشستیں کشمیری کاز کو مضبوط کرتی ہیں
ان نشستوں کی موجودگی عالمی سطح پر یہ پیغام دیتی ہے کہ آزاد کشمیر کی اسمبلی میں صرف مقامی ہی نہیں بلکہ مہاجرین بھی نمائندگی رکھتے ہیں۔ یہ پاکستان کے مؤقف کو تقویت دیتی ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی ہم اپنی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔
مہاجرین کے حلقوں کے لیے علیحدہ بجٹ مختص ہوتا ہے جو تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور روزگار کے منصوبوں پر لگایا جاتا ہے۔ اگر کہیں بدانتظامی ہوئی ہے تو یہ پورے سسٹم کی خامی ہے، نہ کہ ان نشستوں کے وجود کی۔
دنیا بھر میں مخصوص نشستوں یا مہاجرین کے لیے ووٹنگ کے نظام میں ووٹوں کی تعداد ہمیشہ کم ہوتی ہے، کیونکہ وہ مخصوص حلقوں پر مبنی ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین اور اقلیتوں کی نشستیں بھی کم ووٹوں سے اسمبلی میں آتی ہیں، مگر ان کی افادیت کم نہیں کی جا سکتی۔
مہاجرین جموں و کشمیر کی 12 نشستیں آئینِ آزاد کشمیر 1974 کے تحت ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ وہ لوگ جو مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان کے مختلف حصوں میں آباد ہیں، ان کی آواز بھی قانون ساز اسمبلی میں موجود ہو۔ یہ کسی کا ذاتی فائدہ نہیں بلکہ قومی کاز ہے۔
جب تک کشمیر متنازع ہے اور مہاجرین پاکستان میں آباد ہیں، ان کی نمائندگی ختم کرنا خود کشمیری عوام کی تحریک کو کمزور کرنے کے مترادف ہوگا۔
مودی کاز کو شکست ہوگی
اگر ان 12 نشستوں کو ختم کیا جائے تو اس کا مطلب ہوگا کہ مہاجرین کی کوئی سیاسی حیثیت نہیں، جو کہ ایک طرح سے ان کی قربانیوں کی توہین ہے۔
یہ ہی مودی چاہتاہے
اس وقت پورا گودی میڈیا ایکشن کمیٹی کو نان سٹاپ کوریج دے رہا ہے اور پرائم ٹائم جو کہ سب سے مہنگا وقت ہوتا ہے اس میں اشتہاروں کے بغیر کیمرہ کٹ کئے لگاتار اور بار بار چیخ کر پاک فوج کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے اور یہ ایک واضح ثبوت ہے کہ اس ڈرامہ بازی کا پروڈیوسر کوئی اور نہیں مودی ہے
جس شخص کو پاکستان کے وجود سے تکلیف ہے
جس شخص کو پاکستان کے نام سے جلن ہے
جس شخص کے دل میں پاکستان کیلئے نفرت ہے
وہ اپنا پاکستانی پاسپورٹ شناختی کارڈ جلائے اور مودی کی گودی میں بیٹھ جائے
یہ سب سے آسان اور بہترین حل ہے
ابصار عالم کا تجزیہ ہمیشہ سچ اور حق پر مبنی ہوتا ہے اور انہوں نے جس طرح یوٹیومر مافیا کو بے نقاب کیا تھا آج کشمیر میں جاری رنگ بازی کی ہنڈیا بھی بیچ چوراہے میں پھوڑ رہے ہیں اس پوری گفتگو میں اہم ترین ایشو وہی ہے کہ فیلڈ مارشل صاحب کو اپنی منجی تھلے ڈانگ پھیرنی ہوگی
ایران نے حملہ کیا تو یوتھیے دیگ پر دھمال ڈالتے رہے
افغانستان نے حملہ کیا تو یوتھیے اسی دیگ پر لنگی ڈانس کرتے رہے
ہندوستان نے حملہ کیا تو یوتھیے اسی دیگ پر تھے
اور اب ہندوستان ایکشن کمیٹی کے حملہ پر وہی یوتھیے وہیں دھمال ڈال رہے ہیں
لیکن یاد رکھیں دیگ اس بار بھی پاکپتن ہی جانی ہے
بنگلہ دیش سری لنکا اور نیپال میں ہنگامے ہوئے تو پوری قوم یوتھ نے ناچ ناچ کر گھنگرو تروڑ دئیے اور پاکستان میں ایسی صورتحال کیلئے دعائیں مانگتے رہے اور آج وہی یوتھیے مٹھی بھر ہندوستان ایکشن کمیٹی کے مظاہروں سے انقلاب لانے کی امیدیں باندھ رہے ہیں
اوئے گوگی یاویو نچن الیاں دے منڈے کدی انقلاب نہیں لیا سکتے
رکھ کے لکھ لیں یا لکھ کر رکھ لیں
اصل کشمیری وہ ہیں جو اپنی کئی نسلیں آزادی کی تحریک میں گنوا چکے ہیں
اصل کشمیری وہ ہیں جو نہتے ہیں اور ہندوستانی بربریت کا مقابلہ کررہے ہیں
اصل کشمیری وہ ہیں جن کی مائیں بہنیں بیٹیاں اپنی عصمتیں حصول آزادی کیلئے قربان کرچکی ہیں
اصل کشمیری وہ ہیں جنہیں آزاد ہوا میں سانس لینے کی اجازت نہیں
یہ پین کے چُڈ ہندوستانی ایکشن کمیٹی والے پہاڑئیے اُن کشمیریوں کی مونچھ کے وال برابر بھی نہیں
اصل اور نقل کشمیریوں میں فرق جان کر جیو
چند ماہ سے پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑ رہا ہے اور تاریخ کے مشکل ترین دور میں سروائیو کررہا ہے اور اس بار یہ لڑائی چومُکھی ہے جس میں دشمن چار چفیرے سے اندروں باہروں بار بار حملہ کررہا ہے اور کچھ ہی عرصہ پہلے افغانستان نے حملہ کیا ایران نے میزائل حملہ کیا ہندوستان پوری قوت سے چڑھ دوڑا لیکن سلام ہے ہماری افواج کو جنہوں نے تینوں اطراف کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا اور دشمن امریکہ پہنچ کر جنگ بندی کروانے کے ترلے کرتا رہا اور اس فتح کے بعد پاکستان پوری دنیا میں ابھر کر سامنے آیا چین روس امریکہ پاکستان کو چومکھی جنگ جیتنے پر فرشی سلام پیش کررہے ہیں اور پاکستان اپنے گھر سے جیت کے بعد حرمین شریفین کا محافظ بن کر سامنے آیا اور آج میدان میں شکست کھانے کے بعد دشمن فتنہ الخوارج فتنہ الہندوستان اور ازادکشمیر سے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج دے رہا ہے لیکن مورخ پرامید ہے کہ اس بار بھی دشمن کا وہی حال ہو گا جو 10 مئی کو فجر کے وقت ہوا تھا
پاکستان زندہ باد
میں چار دن کا یہی بول رہا ہوں کہ بھائی جان انکے کوئی مطالبات نہیں، سارا ٹوپی ڈرامہ ہے۔
اصلی مقصد مقبوضہ کشمیر کی پاکستان میں نمائندگی ختم کرنا ہے۔
اب دیکھ لیں۔ وزیر اعظم وفد بھیج رہے ہیں اور وہ بول رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی نمائندگی ختم کرو اسمبلی سے۔
اسی کے تو پیسے ملے ہیں
محترمہ طیبہ ضیا چیمہ کو سلام!
یہ دلیر خاتون امریکہ میں موجود بدترین یوتھیا وائرس کے باوجود بھی حق کے ساتھ کھڑی ہیں۔ شوکت خانم ہسپتال کی بنیاد ان کے شوہر نے رکھی جو امریکہ میں اپنی پریکٹس چھوڑ کر پاکستان آئے اور ہسپتال بنایا۔
ایک سچے اوورسیز پاکستانی کے جذبات سنیں۔
#بھارتی_ایکشن_کمیٹی کے پرتشدد احتجاج کے خلاف عوام کی رائے واضح ہے کہ حقوق کے نام پر تشدد کرنا، انتشار کرنا، توڑ پھوڑ کرنا، سرکاری اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانا کوئی حقوق کی جنگ نہیں بلکہ بھارتی ایجنڈا ہے!!