فیلڈ مارشل عاصم منیر کی خطے کے اندر جاری جنگ میں سفارتی کوششیں تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی جائیں گی انکی سفارتی کوششیں ہیں کہ آج ایران اور سعودی عریبیہ ایک میز پر مسائل کے حل کیلیے بات چیت کر رہے ہیں. دوسری طرف دروازے پہ کھڑی عالمی جنگ سے بچنے کیلیے راستہ تلاش کیا جارہا ہے
پیغام واضح ہے: دہشت گردی کے لیے کوئی رعایت نہیں، کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں۔
چاغی کے علاقے دگنان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک، بڑی تعداد میں زخمی
ضلع چاغی کے دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑی علاقے دگنان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک پیچیدہ اور منظم آپریشن کیا ہے۔
ISPR
Major Wajahat Waheed embraced shahadat.
Intelligence agencies reported the presence of multiple hideouts of Indian-sponsored Fitna Al Hindustan in the general areas of Shadi Kaur, Tehsil Pasni, District Gwadar, and Jattakabad, District Kalat, posing a threat to the local population. To safeguard the local populace and clear the area of terrorists, Security Forces are conducting operations in these areas.
In the first incident, on 18 October 2026, Security Forces conducted an intelligence-based operation in the general area of Jattakabad, District Kalat. During the operation, own troops effectively engaged the terrorists' location and, after an intense exchange of fire, four terrorists were Eliminated. A large cache of arms and ammunition was also recovered.
In the second incident, Security Forces conducted a series of clearance operations in the general area of Shadi Kaur, Tehsil Pasni, District Gwadar. During one of the operations, the lead force component, led by Major Wajahat Waheed (age 34, resident of Lahore), was targeted by an improvised explosive device. Major Wajahat Waheed, a son of the soil, made the ultimate sacrifice in the line of duty and embraced shahadat.
Sanitisation operations will continue to eliminate any other terrorists found in the area. The relentless counter-terrorism campaign under the vision of "Azm-e-Istehkam", as approved by the Federal Apex Committee on the National Action Plan, will continue at full pace. Security Forces and Law Enforcement Agencies remain committed to eliminating the menace of foreign-sponsored and supported terrorism from the country.
پیغام واضح ہے: دہشت گردی کے لیے کوئی رعایت نہیں، کوئی محفوظ ٹھکانہ نہیں۔
چاغی کے علاقے دگنان میں سیکیورٹی فورسز کا بڑا آپریشن، 3 دہشت گرد ہلاک، بڑی تعداد میں زخمی
ضلع چاغی کے دشوار گزار اور سنگلاخ پہاڑی علاقے دگنان میں سیکیورٹی فورسز نے ایک پیچیدہ اور منظم آپریشن کیا ہے۔
ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور امن و امان خراب کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی.
خیبر باڑہ چوک پر شرپسند عناصر کی ہنگامہ آرائی، پولیس نے صورتحال پر قابو پا لیا
آج باڑہ چوک، خیبر میں عبدالغنی آفریدی اقبال آفریدی اور شاہد خٹک کی سرکردگی میں شرپسند عناصر نے بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔ اس دوران سرکاری و عوامی املاک کو نقصان پہنچایا گیا
پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو کنٹرول کیا اور ملوث عناصر کو گرفتار کر لیا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق، ان عناصر میں بڑی تعداد غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ہے۔
ڈاکٹر حکیم لہڑی کے جنازے میں شریک ہونے والے جب دہشت گردوں کے جھنڈے میں لپٹی ہوئی میت کے ساتھ کھڑے ہوئے، تو انہوں نے دراصل اپنا فیصلہ خود کر دیا۔
یہ عمل اس بات کا کھلا اعلان تھا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں، عوام کے ساتھ نہیں۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، خیر جان بلوچ اور اے این پی کے صدر جیسے سیاست دان اس جنازے میں شریک ہوئے اور بی ایل اے کے پرچم کے سائے میں کھڑے ہو کر یہ ثابت کر دیا کہ انہوں نے نہ صرف عوام کا اعتماد بیچا بلکہ اپنے آپ کو دہشت گردوں کے سہولت کار کے طور پر پیش کیا۔
یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے اپنے ضمیر کو بیچ دیا اور دشمن کے ایجنڈے کو قبول کر لیا۔
عوام ��و اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ سیاست دان دہشت گردوں کے ساتھ کھڑے ہیں، اور اگلے الیکشن میں انہیں رد کرنا ہی اصل جواب ہے۔
یہ عناصر حقوق کے فورم نہیں، بلکہ کھلے علیحدگی پسند پلیٹ فارم ہیں جو پاکستان کو توڑنے کے لیے سرگرم ہیں۔ ان کی بلا تاخیر اور بے لاگ مذمت ہونی چاہیے۔
سندھودیش کے کارکن پاکستان کے اندر انصاف نہیں چاہتے۔ وہ سندھ کو ملک سے کاٹ کر الگ ریاست بنانا چاہتے ہیں، وفاق کو نسلی بنیادوں پر پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں، اور دریائے سندھ پر پاکستان کی خودمختاری کو قبضہ قرار دیتے ہیں۔ یہ سیدھی اور بے نقاب علیحدگی پسندی ہے۔
بی این ایم اور اس سے جڑے بلوچ علیحدگی پسند نیٹ ورک ترقی یا خودمختاری کے طلبگار نہیں۔
وہ بلوچستان کو پاکستان سے جدا کرنا چاہتے ہیں، اس کے ساحل اور وسائل چھیننا چاہتے ہیں، اور ریاستِ پاکستان کو غیر قانونی قابض بنا کر پیش کرتے ہیں۔ ان کی سیاست عرصے سے عام شہریوں، مزدوروں اور بنیادی ڈھانچے پر عسکری تشدد سے جڑی ہوئی ہے۔ انہیں پلیٹ فارم دینا دراصل ملک توڑنے کے منصوبے کو پلیٹ فارم دینا ہے۔
پی ٹی ایم بھی اسی مذمت کے دائرے میں آتا ہے۔ یہ خود کو لاپتہ افراد اور چیک پوسٹوں کے خلاف آواز بنا کر پیش کرتا ہے، مگر اس کی سیاست پرانے پشتونستان کے دعوے اور “بڑے افغانستان” کے ایجنڈے کو تقویت دیتی ہے، جس کا مقصد ڈیورنڈ لائن مٹانا ہے۔
یہ پشتون علاقوں میں پاکستانی ریاست اور فوج کو ناجائز ٹھہراتا ہے، سرحد پار قوم پرست بیانیہ دہراتا ہے، اور کھلے علیحدگی پسندوں کے ساتھ ایک ہی اسٹیج شیئر کرتا ہے۔ زبانی انکار حقیقت نہیں بدلتے۔ پشتون شکایات کو ریاست مخالف مہم میں بدل کر پاکستان کی اپنی سرزمین پر اس کی گرفت کمزور کرنا علیحدگی پسندانہ سیاست ہی ہے۔
جو کانفرنس سندھودیش، بی این ایم اور پی ٹی ایم کو ایک چھت کے نیچے لاتی ہے، وہ یکجہتی نہیں۔ یہ پاکستان کو ناجائز ثابت کرنے، نسلی تقسیم ��ے مطالبات کو عالمی سطح پر لے جانے، اور ملک کے ٹکڑے کرنے کو انسانی حقوق کے لبادے میں چھپانے کی منظم کوشش ہے۔ ان کا ایجنڈا پاکستان کا شیرازہ بکھیرنا ہے۔
اسے نرم الفاظ میں نہیں، بلکہ اسی کے اصل نام سے پکارا جانا چاہیے-علیحدگی پسندی.
میں کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر ہونے والے بزدلانہ دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔ یہ دہشت گرد بلوچستان میں امن اور سیاحت کو سبوتاژ کرنے کے لیے ہر برادری کو نشانہ بنا رہے ہیں، تاکہ عوام کی فلاح، ترقی اور معمولاتِ زندگی کو مفلوج کیا جا سکے۔
لیکن بلوچستان کو مفلوج نہیں کیا جا سکتا، یہ ترقی کرے گا۔ وقت آ گیا ہے کہ ہزارہ، پشتون، بلوچ اور پنجابی برادریاں دہشت گردوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑی ہوں۔
خصوصاً نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ ہمت اور عزم کے ساتھ دہشت گردی کو رد کریں اور ایک پُرامن و خوشحال بلوچستان کے مستقبل کا دفاع کریں۔
پاکستان پچیس کروڑ آبادی والے ملک کو چار بہت بڑے صوبوں کے ساتھ نہیں چلا سکتا۔ نظام عوام سے بہت دور ہے اور چند دارالحکومتوں میں مرکوز ہے۔
بلوچستان یہ بات سب سے واضح کرتا ہے۔ یہ رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے مگر آبادی کا صرف چھوٹا حصہ۔ کوئٹہ مکران، ژوب، قلات اور باقی علاقوں کا مؤثر انتظام نہیں کر سکتا۔
لوگ بنیادی صوبائی کاموں کے لیے سینکڑوں کلومیٹر سفر کرتے ہیں جبکہ ترقی غیر مساوی رہتی ہے۔
نئے چھوٹے صوبے — بشمول موجودہ بلوچستان سے دو سے چار قابل عمل یونٹس — حکومت کو عوام کے قریب لائیں گے، احتساب بہتر بنائیں گے اور نظرانداز علاقوں کو وفاق میں حقیقی حصہ دیں گے۔ یہی منطق جنوبی پنجاب اور ہزارہ پر بھی صادق آتی ہے۔
یہ تقسیم نہیں، بہتر انتظام ہے۔ یہ کام پارلیمنٹ، قومی اتفاق رائے اور آئین کے ذریعے کیا جائے — نعروں سے نہیں۔ موجودہ صورتحال پہلے ہی ناکام ہو چکی ہے۔
فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے بلوچستان ورکشاپ سے خطاب کرتے ہویے درست طور پر بلوچستان کے ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز سے سوال اٹھایا ہے کہ وہ بی ایل اے کی دہشت گردی پر خاموش کیوں ہیں اور ریاستی بیانیے کو اپنانے یا آگے بڑھانے میں ناکام کیوں ہیں۔
یہ ایک جائز اور ا��م تشویش ہے جسے محبِ وطن بلوچستان کے عوام بھی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے منتخب نمائندوں سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دہشت گردی اور اس کے مرتکب افراد کا کھل کر مقابلہ کریں۔
منتخب نمائندوں کی ذمہ داری صرف عہدہ رکھنے تک محدود نہیں۔ عوام کی سیاسی آواز ہونے کے ناطے وہ منفرد حیثیت رکھتے ہیں کہ عوامی مباحثے کو تشکیل دیں، انتہا پسند پروپیگنڈے کو رد کریں اور تشدد کے متاثرین کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہوں۔
بی ایل اے کے بیانیے کا مقابلہ کرنا بنیادی طور پر سیکیورٹی فورسز کا کام نہیں، ان کا کردار عملی اور آپریشنل ہے۔ اصل سیاسی اور اخلاقی ذمہ داری عوام کے منتخب نمائندوں پر عائد ہوتی ہے۔
بدقسمتی سے، ان میں سے کئی نمائندے یا تو بی ایل اے سے خوفزدہ نظر آتے ہیں یا اسے خوش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کچھ تو اس سے بھی آگے بڑھ کر ریاست پر تنقید کرتے ہیں، حالانکہ ان کی اپنی برادری دہشت گردی کے نتائج بھگت رہی ہے۔
ایسی خاموشی یا دوغلا پن صرف دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کو کمزور کرتا ہے، عام شہریوں کو مایوس کرتا ہے اور انتہا پسند آوازوں کو غالب آنے کا موقع دیتا ہے۔
بلوچستان کے محبِ وطن عوام ایسے نمائندے چاہتے ہیں جو دہشت گردی کو کھل کر چیلنج کریں، امن و ترقی کے لیے ریاستی کوششوں کا ساتھ دیں اور کسی بھی صورت — چاہے خوف کی وجہ سے ہو یا سیاسی حساب کتاب کی بنا پر — ان لوگوں کو سیاسی تحفظ نہ دیں جو اپنے ہی عوام کے خلاف تشدد کا سہارا لیتے ہیں۔
پاکستان میں بڑی تعداد میں افغان طلبہ طالبان کی انٹیلی جنس ایجنسی جی ڈی آئی کے لیے کام کرتے ہیں۔
جو لوگ ان کے لیے ویزوں کا مطالبہ کر رہے ہیں، وہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہمارے جوانوں اور عام شہریوں کے بہائے گئے خون، اور پنجاب کو درپیش روزمرہ سیکورٹی خطرات کو نظرانداز کر رہے ہیں۔
جی ڈی آئی ان طلبہ کو نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے۔
میں افغان طلبہ کو ملک بدر کرنے کے حکومتی فیصلے کی حمایت کرتا ہوں۔ کوئی معذرت خواہانہ پالیسی ناقابلِ قبول ہے۔
ماہ رنگ بلوچ کا سیاسی بیانیہ دہشت گردوں کے موقف سے مشابہت رکھتا ہے۔ وہ مزاحمت کی بات کرتی ہیں اور ریاست کے خلاف مسلح تشدد کو بندوق کے ذریعے ’’جائز مزاحمت‘‘ قرار دیتی ہیں۔
ریاست نے انہیں اس شرط پر پرامن احتجاج ��ے لیے انگیج کیا کہ وہ دہشت گردی کا بیانیہ ترک کریں۔ حتیٰ کہ آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی جنرل ندیم انجم کی سطح پر بھی بات چیت ہوئی، مگر انہوں نے کوئی بات نہیں مانی۔
آج بھی جعفر ایکسپریس جیسے حملے ہوں یا دیگر دہشت گردی کے واقعات، ان کے نزدیک سب ’’مسنگ پرسنز‘‘ ہیں، کیونکہ وہ بندوق اٹھانے کو جائز مزاحمت سمجھتی ہیں۔ یہ بیانیہ دراصل دہشت گردوں کے سہولت کاروں اور ریکروٹمنٹ چین کو تقویت دیتا ہے۔
لہٰذا سوال یہ ہے کہ ایسے بیانیے کے ساتھ مذاکرات کس بنیاد پر کیے جائیں؟
ریاست پاکستان کے پاس چند ہزار بلوچ یا پشتون دہشتگردوں کے مقابلے میں لاکھوں گنا زیادہ طاقت ہے،جان اچکزئی
بی ایل اے یا ٹی ٹی پی کیساتھ نرمی کو کمزوری نہ سمجھا جائے
پشتونوں نے ریاست میں مضبوط مفادات قائم کرلئے ہیں،ان سے وہ "مزاحمت" کی توقع نہیں کی جاسکتی جو بعض لوگ چاہتے ہیں.