پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دے سکتی ہے ، پنجاب حکومت خزانے سے 11 ارب روپے بلوچستان کو دے سکتی ہے، پنجاب کے خزانے سے گلگت کو موبائل کلینک گفٹ کر سکتی ہے
مگر پنجاب میں اساتذہ کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں.
سوال کرو تو کہتے ہیں تم لوگ پراپیگینڈا کرتے ہو 😊
برکت صرف پیسوں کی نہیں ہوتی.
یہ بھی برکت ہے کہ سالوں ڈاکٹر کے پاس نہ جانا پڑے
تمہارے پاس موجود چیزیں ضائع ہونے کی بجائے تمہارے استعمال میں آ جائیں
اور یہ بھی برکت ہے کہ
کم کھائو اور کم سوئو تو بھی بھوک اور نیند پوری ہو جائے۔
سوشیالوجی کا اُستاد ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ پیپر چیک کرتے ہوئے بندے کو اُکتاہٹ نہیں ہوتی اور بندہ مسلسل مسکراتا ہی رہتا ہے
سوال تھا کہ "جدید دور میں اولاد اور والدین کے درمیان فاصلے بڑھتے چلےجا رہے ہیں "
تبصرہ کیجیے
ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے مضمون میں بہت ہی شاندار دلائل کے ہمراہ لکھا کہ
" جدید نسل اور والدین کے درمیان بڑھتے فاصلے ایک زندہ حقیقت ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے اپنے والدین کی شادیاں سولہ ، سترہ یا بیس سال کی عمر میں ہو گئی تھیں
جبکہ جدید نسل کو چوبیس سال کی عمر تک تعلیم کے بہانے اکیلا رکھا جاتا ہے اور اس کے بعد اچھی نوکری حاصل کرنے میں تین چار سال مزید لگ جاتے ہیں، جدید نسل اپنے بزرگوں کی چالاکیاں خوب سمجھتی ہے
خود تو اپنے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں بھی دیکھ رہے ہیں اور دوسری طرف جدید نسل دیر سے شادی ہونے کی وجہ سے شاید ہی اپنی اولاد کو بھی جوان ہو کر برسرِ روزگار ہوتا دیکھ سکے
والدین اگر چاہتے ہیں کہ اُن کی اولاد خوش رہے تو والدین کو اپنے بزرگوں کے طرزِ عمل کو اپناتے ہوئے اپنے بچوں کی دوران تعلیم ہی شادی کر دینی چاہیے تا کہ جدید نسل اور والدین کے درمیان خوشگوار ماحول قائم ہو سکے ۔ جہاں تک بات رزق کی ہے ، اس کی گارنٹی تو ڈگری کے بعد بھی نہیں .
😁😉
ابھی اس بہن کا کمنٹ پڑھا تو دل خون کے آنسو رونے لگا یہ بچارے STI بھرتی ہوے تھے ، ایم فل، پی ایچ ڈی کرکے، ڈگریاں ہاتھوں میں لیے نوجوانوں کا مستقبل؟؟
ایک سوالیہ نشان ہم سب کے لیے، ریاست کے لیے بھی؟
سارے نعرہ بلند کرو
پنجاب حکومت زندہ🥲🙏
#Inflation#unemployment@Ammarysaggu
ایک مہینہ پہلے جماعت دھم کے رزلٹ میں سرکاری اسکولز کے طلباء کی شاندار کامیابی پر ہم چپ کا روزہ رکھ لیتے ہیں، ایک مہینہ بعد نہم کے رزلٹ جس میں 1 سال میں نہم کرنے والے سرکاری اسکولز کے طلباء اور 2 سال میں نہم کرنے والے پرائیویٹ اسکولز کے طلباء کے کم رزلٹ پر منافقت دکھاتے ہیں
میں نے نوٹ کیا ہے کہ پاکستانی جنرلز ایک کام consistency سے کرتے ہیں۔
ہر چند سال بعد ایک شوشا چھوڑتے ہیں جسے گیم چینجر Game Changer کہتے ہیں۔۔۔اور کہہ کہہ کر ہمارے کان کھا لیتے ہیں۔
عوام کی تو کوئی گیم چینج نہيں ہوتی ان کی ہوجاتی یے۔ یہ ملک پر نئے قرضے چڑھاتے ہیں۔ خود کمشن لیتے ہیں اور کینڈا امریکہ برطانیہ نکل جاتے ہیں۔ سب یہی کرتے ہیں۔
ان کے ہر گیم چینجر کا مطلب کمشن کھانا ہی ہوتا ہے۔
🧵 تھریڈ:
"ایک صوبہ استاد بھرتی کر رہا ، دوسرا سکولوں سے جان چھڑا رہا ہے... تعلیم کا سپاہی کون !"
1/
سندھ حکومت نے 93,118 اساتذہ بھرتی کیے
شفاف میرٹ، خواتین، اقلیتیں، معذور افراد سب شامل
یہ نہ صرف روزگار ہے، یہ نسلوں میں علم کا بیج ہے۔
👇
اب ذرا پنجاب کا حال دیکھیں…
2/
پنجاب حکومت 13,000 سرکاری اسکول نجی ہاتھوں میں دینے جا رہی ہے!
جی ہاں، ریفارمز کے نام پر عوامی اثاثے آؤٹ سورس ہو رہے ہیں۔
ہر بچے پر چند روپوں کی سبسڈی دی جائے گی۔
مگر استاد؟
وہ غیر یقینی، پریشانی اور محرومی کی حالت میں ہے۔
3/
یہ سکیم “Public Private Partnership” کہلاتی ہے۔
نہ اساتذہ کی مشاورت لی گئی، نہ والدین کی۔
4/
یہ صرف اسکول دینا نہیں
یہ ریاست کی تعلیم سے “جان چھڑانے” کی کوشش ہے۔
ایک طرف سندھ استاد بنا رہا ہے
دوسری طرف پنجاب “شاید” یہ مان چکا ہے
کہ وہ تعلیم کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
5/
سوال یہ نہیں کہ کونسا ماڈل بہتر ہے،
سوال یہ ہے کہ:
📍 استاد کی عزت کہاں ہے؟
📍 مستقل روزگار کس کے ہاں ہے؟
📍 پائیدار پالیسی کون دے رہا ہے؟
📍 اور تعلیم کو کاروبار کون بنا رہا ہے؟
6/
پنجاب کا استاد اس وقت بےیقینی کا شکار ہے۔
نہ نئی بھرتی
نہ واضح اپ گریڈیشن پالیسی
نہ تحفظ
نہ آواز
بس کیمرے، شو، وزٹ اور تصویری مقابلے۔
7/
یہ محض پالیسی فرق نہیں
یہ نیت کا فرق ہے!
سندھ تعلیم کو قومی فرض سمجھتا ہے
پنجاب اسے "فائلز کا بوجھ" سمجھ کر بانٹ رہا ہے
8/
اگر پنجاب نے یہی روش جاری رکھی،
تو آنے والے وقت میں سرکاری اسکول
صرف "ڈسپلے آئٹمز" رہ جائیں گے
اور استاد؟
یا تو نجی ہاتھوں میں جھکے گا
یا بے روزگار ہو جائے گا۔
9/
یہ وقت ہے جاگنے کا —
ہم کسی جماعت کے ساتھ نہیں
ہم استاد، طالبعلم، اور تعلیم کے ساتھ ہیں۔
👇👇👇
10/
تعلیم قوم کا مستقبل ہے
اسے PEF کے ٹھیکیداروں، NGO مالکان، یا کارپوریٹ اسکول چینز کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے۔
اگر سندھ سر اٹھا سکتا ہے
تو پنجاب کو سر جھکانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
11/
📢 ہم مطالبہ کرتے ہیں:
1. آؤٹ سورسنگ اسکیم فوری روکی جائے
2. مستقل اساتذہ کی بھرتی کا اعلان کیا جائے
3. استاد کو پالیسی کا پارٹنر بنایا جائے
4. اسکول، طلبہ، والدین اور معاشرہ — ان سب کو سنجیدگی سے سنا جائے
12/
ہم سیاست نہیں، خدمت چاہتے ہیں
ہم واہ واہ نہیں، عزت چاہتے ہیں
ہم تصویر نہیں، نظام چاہتے ہیں
📌 اگر تعلیم صرف کیمرہ ہے
تو استاد ایک خاموش احتجاج ہے
جس کی آواز اب گونجے گی!
✊
🎯 تھریڈ: مراد راس vs رانا سکندر — تعلیم میں اصلاحات یا سوشل میڈیا کی چمک؟
1️⃣
جو لوگ آج رانا سکندر حیات کو مثالی وزیر تعلیم بنا رہے ہیں، وہ زیادہ تر وہی افراد ہیں جو سوشل میڈیا پر ہر تصویر، ویڈیو اور اعلان پر واہ واہ کرتے ہیں۔
جبکہ اصل کارکردگی وہ ہوتی ہے جو شور کے بغیر کی جائے — مراد راس نے یہی کیا۔
2️⃣
💡 مراد راس نے نظام کو ڈیجیٹل، شفاف اور میرٹ پر مبنی بنانے پر فوکس کیا:
eTransfer
eLeave
ePERs
SIS، HRMS
Ghost Enrolment کنٹرول
یہ سب سسٹم لیول پر اصلاحات تھیں — کوئی کیمرہ شو یا وقتی اعلان نہیں۔
3️⃣
📉 مراد راس نے PEF مافیا کو لگام دی، اسکولز کو آؤٹ سورس ہونے سے بچایا۔
جبکہ آج ہزاروں سرکاری اسکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں — اور اساتذہ مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ یہی پیسہ اگر گورنمنٹ سکولز پر خرچ کیا جائے سہولیات اور سٹاف کہ فراہمی کیلئے ؛اور داخلہ مہم وقت پر شروع کی جائے تو سکولز میں بہت بہتری کے امکانات ہیں
4️⃣
👥 اساتذہ کی تربیت ہو یا پالیسی سازی، مراد راس نے مساوات پر زور دیا۔
آج مخصوص سوشل میڈیا شخصیات کو پروٹوکول اور وی آئی پی عزت ملتی ہے —
باقی اساتذہ صرف احکامات کی زینت بنے ہیں۔
5️⃣
📚 مراد راس نے نئی بھرتی نہیں کی، بلکہ موجودہ اساتذہ کو ریشنلائز کرنے کی مؤثر کوشش کی، جو کچھ حلقوں کے دباؤ پر روک دی گئی۔
جبکہ رانا سکندر نے STI اسکیم شروع کی — صرف 2 ماہ کے لیے!
وہ بھی امتحانات کے دوران، بغیر ضرورت۔
یہ طلبہ اور نوجوان اساتذہ دونوں کے ساتھ ناانصافی تھی۔
6️⃣
📸 اسکول اپگریڈیشن جیسے کام مراد راس نے منصوبہ بندی سے کیے۔
آج یہ کام تصاویر، ویڈیوز اور ذاتی سفارشات پر ہو رہے ہیں۔
کوئی معیار، کوئی ترجیحی لسٹ، کچھ نہیں — صرف کیمرہ اور تعلق۔
7️⃣
🤲 کچھ لوگ "خیرات" کہہ کر موجودہ وزیر کے پیسے خرچ کرنے کا ذکر کرتے ہیں۔
یاد رکھیں!
اسلام سکھاتا ہے: زکوٰۃ و خیرات چپکے سے دو تاکہ لینے والے کی عزت محفوظ رہے۔
مراد راس نے بھی تعلیم میں خدمت کی — خاموشی اور خلوص کے ساتھ۔
نہ خودنمایی، نہ شہرت بازی۔
8️⃣
👩🏫 آج بھی اساتذہ بجٹ کٹ، پنشن اصلاحات، اور پرائیویٹائزیشن پر ناراض ہیں۔
مگر موجودہ قیادت صرف اُن کی سنتی ہے جو سوشل میڈیا پر تعریفوں کے پل باندھتے ہیں۔
کیا یہ سب کے لیے قیادت ہے یا صرف مخصوص چہروں کی سرپرستی؟
9️⃣
🏫 مراد راس نے انصاف آفٹر نون اسکولز کا پروگرام شروع کیا، تاکہ دور دراز علاقوں کے بچے، خاص طور پر بچیاں، اپنے علاقے میں دوسری شفٹ میں تعلیم حاصل کر سکیں۔
یہ غریب پرور اور بصیرت پر مبنی منصوبہ تھا — نمائشی نہیں۔
🔟
📈 پچھلی حکومتوں میں اساتذہ کو مجبور کیا جاتا تھا کہ وہ گھر گھر جا کر نئے داخلے لائیں۔
مراد راس نے اس عمل کو استاد کی تذلیل قرار دیا اور اس پر پابندی لگا دی۔
انرولمنٹ کی ذمہ داری اتھارٹیز اور کمیونٹی کو دی گئی —
یہ ایک عملی قدم تھا استاد کی عزت کے لیے۔
---
🎯 نتیجہ:
مراد راس کی قیادت میں تعلیم کا شعبہ سسٹم اصلاحات، ڈیجیٹل شفافیت، اور اساتذہ کے وقار کی طرف بڑھا۔
آج صرف "سوشل میڈیا ایکٹیوزم" ہے، زمینی حقیقتوں سے نظریں چرائی جا رہی ہیں۔
تعلیم پالیسی مانگتی ہے، پوسٹر نہیں۔
خلوص کا وزن، تصویر سے زیادہ ہوتا ہے۔
اہم ترین الرٹ 🚨 🚨
چار سالہ انس، شبقدر سے تعلق رکھنے والا معصوم بچہ، ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہے جس کی وجہ سے اس کا پیٹ روز بروز بڑھتا جا رہا ہے !!
والد ایک مزدور ہے اور کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، گھر میں نہ پنکھا ہے، نہ بیٹری، نہ ہی سولر۔ گرمی میں یہ بچہ تڑپتا ہے اور ڈاکٹرز نے علاج کے لیے لاہور جانے کا کہا ہے، مگر وسائل کی کمی آڑے آ رہی ہے۔ آئیے اس معصوم کی زندگی بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں !!