یہ راجہ بازار پنڈی ہے، وہی راجہ بازار جس کو خوبصورت بنانے پر کروڑوں روپیہ خرچ کیاگیا لیکن سیوریج کے حالات یہ ہیں کہ بارش کا پانی سنبھالنے کے قابل نہیں۔
یاد رہے یہ ندی بارش کے پانی نے بنا دی ہے اس میں میڈم وزیراعلی کی نام نہاد گڈ گورننس کا کوئی قصور نہیں، نام نہاد گڈ گورننس تو خود اس ندی میں بہہ گئی ہے۔۔۔
پارٹی سیکریٹریٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت اور ساتھیوں کے ساتھ ملاقات۔ اہم امور پر گفتگو، باہمی مشاورت اور جمہوری جدوجہد کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کے ساتھ۔ 🇱🇾🇵🇰
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی سے پاکستان پیپلز پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات برائے سوشل میڈیا سید طاہر عباس اور چیئرمین پاکستان بارڈر ٹریڈ کونسل سید جواد حسین کاظمی نے گورنر ہاؤس پشاور میں ملاقات کی۔
@fkkundi#PPPDigitalKP
ممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخوا محترمہ فرزانہ شیرین نے (World Humanitarian day)
عالمی یومِ انسان دوست خدمت کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ **انسانیت کی خدمت ایک عظیم فریضہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔**
#PPPDigitalKP
صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ایوانِ صدر میں ملاقات۔
صدر مملکت کو بلوچستان کی مجموعی صورتحال اور صوبے میں جاری ترقیاتی اقدامات پر بریفنگ۔
@AAliZardari#PPPDigitalKP
محسن نقوی کی جانب سے سسٹم کے کولیپس کی بات انتہائی اہم ہے۔ اگر اشارہ موجودہ نظام کی طرف ہے تو سوال یہ ہے کہ نظام ہی خطرے میں ہو تو اختلاف کی گنجائش کہاں رہ جاتی ہے؟ اور اگر 1973 کے آئینی نظام کی بات ہے تو اسے چلنے ہی کب دیا گیا؟
@BBhuttoZardari@AseefaBZ#PPPDigitalKP
چیئرمین بلاول بھٹواپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ملنے پہنچ گئے۔۔
چئیر مین بلاول بھٹوزرداری کی یہ خیرسگالی بھی کمال ہے اور ایسی غیر مشروط خیر سگالی بھی صرف پیپلز پارٹی کی قیادت کا خاصہ ہے
سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر رابطے کے دروازے بند نہیں ہونے چاہئیں۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
@BBhuttoZardari@fawadchaudhry
انسانیت کی خدمت، بلا معاوضہ اور بلا تفریق
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے تحت سندھ حکومت گردوں کے مریضوں کو بلا معاوضہ، بلا تفریق اور عالمی معیار کی طبی سہولیات فراہم کرنے کے عزم پر قائم ہے۔
#PPPDigitalKP
اگر ہر علاقے کے لوگ ہمارے صوبے میں اسطرح دہشت گردوں کے خلاف نکلیں تو ہمارا صوبہ بیت جلد امن کا گہوارہ بن جاے گا آج نجم دین صاحب نے حب الوطنی کو وہ مثال قائم کی ہے جس کی ضرورت ہر پاکستانی کو ہے ۔ہم سب کو اس پر عمل کرنا چاہے
جب ریاست یا صوبائی ادارے دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے بجائے درپردہ ان کی حمایت کر رہے ہوں جب ریاست چالیس ہزار دہشت گردوں کو واپس لا کر آباد کرے تو ایسے موقع پر مقامی لوگوں کا فرض بن جاتا ہے کے وہ اپنے اپنے بچوں پر امن مستقبل کے لیے نکلیں
دیر کے لوگ پہلے دیر کے لوگ ہیں سیاست اس کے بعد آتی ہے
ریاست کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے مگر کسی سیاسی و قومی مشران کا اپنےلوگوں کے ساتھ امن برقرار رکنے کے لیے کھڑے ہونے میں آپ کو تکلیف کیوں
اور پنجابی جرنیل والی زبان آپ کا اپنا بیانیہ خراب کرتی ہے ا
سٹیٹ پالیسی پر جتنی سخت تنقید کرنی ہے کیجیے مگر قومیت کا رنگ دینے سے آپ کسی اور چکر میں ہیں
اسی لیے یقین رکے کہ دیر میں آپ کے بیانیے کے لیے کوئ سپیس نہیں- اس پر دیر کی عوام بہت کلیر ہے
کیا خیبرپختونخوا پر پچھلے 13 سالوں سے نافذ تبدیلی سرکار پختونخوا کے بچوں کو ایسی سہولیات فراہم کر رہی ہے ؟ ‼️
جبکہ پی پی پی سندھ حکومت بچوں کو جدید، معیاری اور مفت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
#PPPDigitalKP
مگر بڑے میاں صاحب 1990 پوری دہائی پیپلز پارٹی کی مخالفت اس لیے کرتے رہے کے ان کے نزدیک عورت حکمرانی نہیں کرسکتی آج عورت کی حکمرانی جاہز بھی ہوگی اور وہ کر بھی سکتی ہے منافقو اس کا جواب دع سے سوال ہے
@PalwashaAbbasi0@S_T_A18
ہمیں یہ سب معلوم ہے۔ جس بات کو آپ نے 2024 میں آ کر مانا اس کا علم اور شعور میرا دادا 70 دہائ میں بھی رکھتا تھا
مگر یہی بات اپنے والد صاحب کو بتائیں جنہوں نے بھاڑے کے مولوی رکھ کر عورت کی حکمرانی کو کُفر قرار دلوایا
مگر بڑے میاں نوزشریف تو کہا کرتے تھے عورت کی حکمرانی جائز نہیں اور اگر عورت حکمران ہو تو ملک میں نحوست ہوتی ہے ۔پلیز یہ بتا دیں کے میاں صاحب بدل گے پہلے قوم کو بیوقوف کیوں بناتے رہے ہیں آج اپنی بیٹی کے کے اہے ہیں
ہمیں یہ سب معلوم ہے۔ جس بات کو آپ نے 2024 میں آ کر مانا اس کا علم اور شعور میرا دادا 70 دہائ میں بھی رکھتا تھا
مگر یہی بات اپنے والد صاحب کو بتائیں جنہوں نے بھاڑے کے مولوی رکھ کر عورت کی حکمرانی کو کُفر قرار دلوایا
پاکستان کو آزاد ہوئے 79 سال ہوگئے ہیں، صرف 21 سال بعد ہم اپنی آزادی کی سنچری منائیں گے۔
مگر
آزادی صرف سرزمین حاصل کرنے کا نام نہیں تھا
یہ حقوق کا وعدہ تھا
پاکستان کے لوگوں سے ۔۔ اُن علاقوں اور ریاستوں سے
جنہوں نے پاکستان کے ساتھ جڑنے کا فیصلہ کیا
ہم نے اس وعدے کو اپنے آئین میں لکھا
ہم اسے بار بار دہراتے بھی ہیں
مگر
ہمیشہ نبھاتے نہیں
2047تک ہماری نسل کا کام ہے اُس آئینی وعدے کو ہر گھر تک پہنچانا
تاکہ محنت کی کمائی سے گھر چل سکے
نوجوانوں کو عزت کا روزگار ملے
ہر ووٹ کا احترام ہو
اور ہر علاقے کو پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ ملے
آزادی ہر گھر تک
جشن آزادی مبارک
پاکستان کھپے
پاکستان پائندہ باد