راولاکوٹ غزہ کا منظر پیش کر رہا ہے- پاکستانی فورسز کس کی ایما ء پر قتل و غارت کر رہی ہیں- ریاستی دہشتگردی کسی صورت قبول نہیں- اندھیری رات میں بجلی بند کر کے شرکائے پُرامن احتجاجی دھرنا پر اسٹریٹ فائرنگ 7 افراد کی شہادت اور درجنوں زخمیوں کی اطلاعات ہیں-
پاکستانی فورسز کی فائرنگ سے مقامی پولیس کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات آ رہی ہیں-
ہم حکمرانوں کو متنبی کرتے ہیں کہ خون کی ندیاں بہانا بند کرتے ہوئے فی الفور ہمارے تسلیم شدہ جائز حقوق پر عملدرآمد کرو، پاکستانی فورسز کو فی الفور واپس کرو-
ہم اپنے جائز بنیادی حقوق سے کسی قیمت پر دستبردار نہیں ہو سکتے-عمر نذیر کشمیری
اسد طور اور پاکستانی صحافت
آپ کو ایک دن ایک میسج موصول ہو کہ تین مہینے بعد اگلا ڈی جی آئی فلاں شخص ہوگا پھر دو چار دن بعد ایک اور اکاونٹ سے اور پھر ایک اور اکاونٹ سے اور پھر وہ بات درست نکلے آئے آپ کیا سوچیں گے؟ اچھا پھر آپ کو اگلے چیف جسٹس کا بھی بتادیا جائے پھر؟ اچھا پھر آپکو ایڈوانس میں آئینی عدالتوں میں لگنے والے ججز کا بتایا جائے پھر؟ اچھا پھر آپکو کچھ خفیہ ملاقاتوں کی خبر بھی دی جائے پھر آپ کیا کریں گے؟ آپ کا تو پتہ نہیں آپ کیا کریں گے ، ادارہ ہذا ایسی خبروں کو کبھی پوسٹ نہیں کرتا کیونکہ ادارے کا کام خبر دینا نہیں ہے۔ دوسرا خطرہ یہ لاحق ہوجاتا ہے کہ اگر یہ والا چسکا پڑ گیا تو دو سیدھی خبریں دے کر تیسری کی دفعہ استعمال نا کرلیا جائے۔ لیکن محترم اسد طور ایسا ہرگز نہیں کرتے۔ ماضی میں انکی کئی خبریں اسی طرح یکسر غلط ثابت ہوچکی ہیں۔ جیسے کہ اگلے ڈی جی آئی کی خبر ، عارف علوی کے استعفی کی خبر ، فیصل نصیر کو لاحق کسی موذی مرض کی خبر الیکشن کی رات فلاں جنرل کی عمران خان سے ملاقات کی خبر اور اب علیمہ خانم کی محسن نقوی سے ملاقات کی جھوٹی خبر۔
یقیننا اسد طور کو ان خبروں کو بریک کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ استعمال انہی ذرائع نے کیا ہوگا جو ساتھ ساتھ سچی خبریں بھی دیتے ہوں گے اسی لیے اعتبار بھی کرلیا ہوگا۔ اب جو لوگ اسد طور کو استعمال کرتے ہیں وہ پاکستان میں اکثریتی صحافیوں اور “ خبر بریکرز” کو بھی استعمال کرتے ہیں۔ کبھی عمران خان سے مذاکرات کی خبر ، کبھی فوج میں دراڑ کی خبر ، کبھی فوج اور کٹھ پتلیوں میں تنازعات کی خبر ، کبھی اچھے جرنیلوں کی خبر اور ان سب خبروں کا مقصد بھی کبھی عوام کی توجہ ہٹانا ، کبھی کنفیوژن پھیلانا اور کبھی اپنے لیے ہمدردیاں لینا اور کبھی محض پراپگنڈہ۔
یہ پاکستانی صحافیوں کی معمول کی کاروائی ہے۔ انکے سورسز “ انتہائی اہم شخصیت “ ہوں گے لیکن دعوی وہی ہوگا جو کئی بھی کیا جاچکا۔ ابھی کچھ مہینے پہلے ایک صحافی بھائی نے عمران خان کی رہائی کی پوری ٹائم لائن جاری کردی تھی۔ اس پر ادارہ ہذا نے ازخود نوٹس لیا تو اچھا خاصا غصہ کرتے ہوئے پوسٹ ڈیلیٹ کی اور فرمایا سکرین شاٹ لے لیجیے گا۔ سکرین شاٹ نہیں لیا تھا کیونکہ معلوم تھا ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ ضروری نہیں کہ صرف استعمال ہی کیا جائے۔ دھونس دھاندلی اور منافقت بھی کر کروا لی جاتی ہے۔ آپ کو قبلہ مخدوم شہاب الدین یاد ہوں گے۔ انکو تحریک انصاف کے ٹکٹ پر اسمبلی پہچانے کی کوشش ہوئی ، بات نہ بنی تو غداران وطن والے پوشٹر پر شہر شہر لٹکایا اور انکے سامنے کھڑا ہوکر ویڈیو ریکارڈ کرنے کی بھی اجازت ملی۔ آج مخدوم صاحب کہاں بیٹھے ہیں دیکھنے کے لیے کرنل کی جھولی دیکھنا پڑتی ہے۔
جھوٹی خبروں اور دو نمبر تجزیوں سے پرہیز کریں ، اچھے کی امید ضرور رکھیں لیکن اس چکر میں چ بننے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ اسد طور سے خصوصی محبت اس لیے ہے کہ وہ کھم دوسرے صحافیوں اور یوٹیوبرز بالخصوص وہ جو ماضی میں انکے نظریاتی حریف رہے کی تضحیک کرتے ہیں۔ خود کو کھم پارسائی کے اعلی درجے پر محسوس کرتے ہوئے انتہائی تلخ زبان استعمال کرتے ہیں تو کھم انکو یاد سے یہ سب یاد کروادیا جاتا ہے۔
🚨BREAKING: For the first time, the original Pakistani cypher — cable I-0678, the document that triggered the removal of former Pakistani Prime Minister Imran Khan — is being released in full by Drop Site.
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
Palestinian owner of grape trees field is shocked after Israeli occupation forces uprooted hundreds of his grapes in the occupied West Bank city of Al Khaleel
🔴 ایران سے پاکستان کے صوبہ بلوچستان تک جانے والے اسمگل شدہ ایندھن کے قافلوں کی تصاویر سامنے آئی ہیں۔
امریکی پابندیوں کے باعث سمندری برآمدات محدود ہونے سے ملک میں ایندھن کا ذخیرہ بڑھ گیا ہے۔
عمران خان کی آنکھ چلی گئی؟
پختونخواہ حکومت جاتی ہے تو جائے
بیرسٹر گوہر کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
سلمان اکرم راجہ کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
محمود اچکزئی کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
علامہ ناصر عباس کا عہدہ جاتا ہے تو جائے
پندرہ بیس درجن اراکین اسمبلی جاتے ہیں تو جائیں
اگر احتجاج مشکل ہے تو اسمبلیوں سے استعفے دیں ، اس نظام کو کندھا دینا تو بند کریں۔ جیل نہیں جانا نا جائیں ، گھر تو جائیں۔ جس عوامی نفرت کا رخ عمران خان کی یہ حالت کرنے والوں کی طرف ہونا چاہیے وہ یہ اپنی طرف کیے بیٹھے ہیں ؟ کیوں؟ اگر عہدوں سے بڑے ہیں تو عہدے چھوڑ دیں۔
لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ان کا قد کاٹھ ، ان کی شناخت ، ان کی پہچان یہ عہدے ہی تو ہیں۔ بیرسٹر گوہر کی سیاسی حیثیت یا تاریخ کیا ہے؟ سلمان اکرم راجہ کی سیاسی حیثیت یا تاریخ کیا ہے؟ محمود اچکزئی اس سے پہلے کتنی مرتبہ لیڈر آف دی اپوزیشن بنے ہیں؟ علامہ ناصر عباس کتنی دفعہ سینٹر بنے ہیں؟
پاکستان دوست و همسایه خوب ماست اما واسطه مناسبی جهت مذاکرات نیست و اعتبار لازم را برای واسطهگری ندارد. آنها همیشه مصلحت ترامپ را در نظر میگیرند و برخلاف میل آمریکاییها حرفی نمیزنند بطور مثال حاضر نیستند به دنیا بگویند که آمریکا ابتدا پیشنهاد پاکستان را پذیرفت اما بعد زیر حرفش زد. نمیگویند که آمریکاییها در موضوع لبنان یا اموال بلوکهشده تعهداتی داشتند اما به آن عمل نکردند. میانجی باید بیطرف باشد نه اینکه همیشه به یک سمت غش کند.
پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کرنے والی سکروٹنی کمیٹی کے دو ممبران کو سکندر سلطان راجہ نے نواز دیا،جب تک یہ افسران ای سی پی میں رہیں گے سپیشل سیکرٹری رہیں گے جب جائیں گے ان کی پوسٹس ڈی جی کی ہوجائے گی،خوفناک ترین انکشافات کا پارٹ 1
میری ایکسکلوسیو خبر
گزشتہ روز کے جلسے میں سہیل آفریدی نے فرمایا کہ میں نے اپنا سیاسی سٹیک داؤ پر لگا کر ہر میٹنگ میں جارہا ہوں اور انہیں بتا رہا ہوں کہ آئین و قانون کی پاسداری کریں ووٹ کا احترام کریں۔
سہیل آفریدی پتہ نہیں کس کو الو بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آپ نے اڈیالہ جیل جا کر اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر نہیں لگایا۔ آپ نے پختونخواہ اسمبلی سے کوئی قانون منظور کرکے اپنا سیاسی مستقبل داؤ پر نہیں لگایا۔ آپ نے ڈرون حملوں پر مقدمات درج کرکے اپنا مستقبل داؤ پر نہیں لگایا۔ معدنیات کے ٹرکوں کے ٹرک وزیرستان سے نکل رہے ہیں آپ نے انکا ذکر کرکے اپنا مستقبل داؤ پر نہیں لگایا۔
ان کیساتھ ہر میٹنگ میں بیٹھنا انکی خواہش ہے۔ وہ اس نظام کو چلتا ہوا دکھانا چاہتے ہیں۔ اس لیے وہ پی ایس ایل کے نام پر تین دن میں دو دفعہ آپ کو ساتھ بٹھاتے ہیں اور پھر پی ایس ایل کا میچ بھی پشاور میں نہیں ہونے دیتے۔ آپ ان کیساتھ بیٹھ کر ، اپنی حکومت محفوظ بنا رہے ہیں۔ آپ کچھ داؤ پر تب لگاتے جب وہ آپ کے سر پر کسی مقدمے میں نااہلی کی تلوار لٹکاتے لیکن اس کے باوجود آپ اپنی طاقت اور اختیار کو استعمال کرتے۔
انہیں آپ کے سمجھانے یا نہ سمجھانے سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ اپنی وزارت اعلی داؤ پر لگائیے ، اڈیالہ جائیے ، بجٹ سرپلس ختم کیجیے، اسمبلی سے قانون منظورکروائیے۔ شکریہ۔
ہمارے میڈیا کا یہ حال ہے کہ میں فریحہ ادریس کے پروگرام میں گیا،
میں نے مریم صفدر پر تنقید کی۔ جہاز کا پوچھا ویانا کون گیا جب کہ کفایت شعاری چل رہی ہے،
میرا وہ کلپ ہی پروگرام سے کاٹ دیا گیا،
اب تو مریم صفدر بھی اس ملک میں مقدس گائے بنتی جا رہی ہے جس پر تنقید نہیں کر سکتے۔ شفیع جان
🚨BREAKING: Israeli aircraft targeted a group of Palestinian police officers last night in Khan Younis, southern Gaza Strip, killing three officers: Saad Abu Hilal, Majed Abu Mousa, and Darwish Al-Attal.
According to local sources, Al-Attal had become engaged one day prior to the strike and was preparing for his wedding.