ایران کے بعد بلوچستان کی باری آگئی!
اسرائیل اپنی تمام طاقت اب بلوچستان پر لگارہا ہے،بھارت اور افغان طالبان کے ذریعے بی ایل اے پر صَرف کررہا ہے۔
پاکستان میں چند دانشور حقائق جانے بغیر سوال تو اٹھارہے ہیں کہ اچانک بی ایل اے بلوچستان میں اتنی طاقتور کیسے ہوگئی،ان کے لئے جواب بھارتی کرنل کے اعتراف میں موجود ہے۔
یہ بھارتی کرنل راء کا ایک اثاثہ ہے،دنیا گھومتا ہے،راء کے لئے کام کرتا ہے،بیانیے کے محاذ پر راء کا ماؤتھ پیس ہے۔
وہ اعتراف کررہا ہے کہ موساد اور بھارت ملکر بی ایل اے،ٹی ٹی پی اور افغانستان کی مدد کررہے ہیں
اسی بھارتی کرنل نے چند ماہ قبل ہی بتادیا تھا کہ ایران کے فوری بعد اگلی باری بلوچستان کی ہے،اسرائیل وہاں تخریب کاری کرے گا کندھا بی ایل اے کا استعمال کیا جائے گا۔
یعنی بی ایل اے بلوچ حقوق کی نہیں بلکہ ''اسرائیل کی لڑائی لڑرہی'' ہے۔
بھارتی کرنل نے ایک اور خوفناک انکشاف کیا ہے کہ بی ایل اے اسرائیل کو یقین دہانی کراچکا ہے کہ جیسے ہی وہ بلوچستان کو توڑ کر الگ ملک بنائیں گے،وہ فوری اسرائیل کو بطور ریاست تسلیم کرلیں گے۔
یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ اسرائیل بی ایل اے کے ذریعے پورے پاکستان اور ایران پر نظر رکھ سکتا ہے
ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو زمین افغانستان دے رہا ہے،پیسہ بھارت دے رہا ہے،ٹیکنالوجی اسرائیل دے رہا ہے اور ٹارگٹ ایران اور پاکستان ہے۔
اب بہت سے دانشوروں کو حقائق معلوم ہوگئے ہوں گے کہ بی ایل اے اتنی طاقتور کیسے ہوگئی ہے؟مٹھی بھر نام نہاد پہاڑ کی اوڑھ میں چھپے اچانک حملہ آور کیسے ہوگئے؟
@911y3 These bearded misogynists r just hungry of power n money no matter through which means they get ..Their best means r sponsoring terrorism n begging on the name of local Afgs ....
الحمدللہ جنگ اور تباہی کے باوجود غزہ میں اجتماعی شادیوں کا اہتمام کیا گیا۔۔ سینکڑوں جوڑے نکاح کے رشتے میں بندھے اور ان کو خیمے اور گھر کا ساز و سامان دیا گیا۔۔ الحمدللہ پاکستان کے مسلمانوں کی خدمت بھی شامل ہے اس خوشی میں۔ 🇵🇰🇵🇸💕
When the hateful flags of the Balochistan Liberation Army (BLA) are being removed and crushed into the dust, it becomes clear that the Pakistan Army doesn't just eliminate its enemies, it also completely erases their identity.
اچھی خبر
بلوچستان کے علاقے اورماڑہ میں 20 ارب روپے کی لاگت سے بسول ڈیم مکمل ہو گیا ہے یہ ڈیم نہ صرف ہزاروں ایکڑ بنجر زمین کو قابلِ کاشت بنائے گا بلکہ اورماڑہ شہر اور جیوانی نیول بیس کو روزانہ 3 ملین گیلن پانی کی فراہمی بھی یقینی بنائے گا
مجھے حکومت سمجھا دے کہ وزیر داخلہ جو ملک میں موجود نہیں ہوتے کرکٹ کا ستیاناس بلوچستان کا ستیاناس خیبر پختون خواہ کا اور اب آزاد کشمیر کا ان سے کچھ پوچھا کیوں نہیں جاتا؟ ہمارے وزیر داخلہ عرف وزیر خارجہ پتہ نہیں کہاں ہیں ؟ ابصار عالم بہت غمزدہ ہیں بلوچستان واقعات پہ بشک پورا ملک غمزدہ ہے اللہ پاک ہماری افواجِ کی مدد فرمائیں آمین
ایکشن کمیٹی یاد رکھےوحدت کشمیر ،شہداء کشمیر اور نظریہ پاکستان پر کوئی کمپرومائز نہیں کرنے دیں گے:شمشیر خان
اِس پار ہے یا اُس پار ہے
بھارت کا جو یار ہے
غدار ہے غدار ہے
آزاد کشمیر میں ماضی کی JKLF کی سب سے بڑی لیڈر محترمہ طاہرہ توقیر گیلانی نے بھی ایکشن کمیٹی کی حقیقت سامنے رکھ دی۔
"ہم بیشک پاکستان کے الحاق کے مخالف ہیں لیکن اسکا مطلب یہ نہیں کہ اپنے ہی لوگوں میں فساد پھیلائیں، یہاں سو فیصد بیرونی ایجنڈا کاربند ہے۔"
اب جواب دو کن کتروں!
اگر افغان طالبان دہشت گردوں کو عورتوں کے بیچ میں بٹھائیں تو وہاں بھی ان کو نشانہ بنانا چاہیے معاف نہیں کرنا چاہیے یہ کون سا طریقہ ہے کہ اپ پاکستان میں لوگوں کو مارتے رہیں اور خود پھر وہاں جا کر دہشت گردوں کو عورتوں یا بچوں میں بٹھائیں کہ اب اس کو کوئی ہٹ نہیں کر سکے گا اور یہ مزید لوگوں کو قتل کرتا رہے گا ان کو وہاں مارا جائے اور اس کے ساتھ جو کولٹرل ڈیمج ہے اس کی ذمہ دار افغان طالبان ہو نگے
بچوں کی ذہنی اور اخلاقی نشوونما کے لیے سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے خطرات کو روکنا اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں مل کر اپنی نسلِ نو کو ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات سے بچانا ہوگا تاکہ ان کا مستقبل محفوظ ہوسکے
آپ اس فوٹیج کا بغور جائزہ لیں
آپ کو سنجیدگی دیکھ کر اندازہ ہوگا کہ بلوچستان کے حوالے سے سخت فیصلے ہوچکے ہیں۔
وزیر اعظم،فیلڈمارشل،مشیر قومی سلامتی و ڈی جی آئی ایس آئی،کور کمانڈر سمیت تمام چھوٹی بڑی سول ملٹری قیادت بلوچستان میں موجود ہے۔
سر جوڑ کر مشاورت کے بعد یہ فیصلہ سنادیا گیا ہے کہ بلوچستان میں مسلط کی گئی بھارتی جنگ جسے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی پراکسی بن کر لڑرہی ہے عبرت ناک شکست ہوگی۔
ریاست کا مزاج اب غضب ڈھائے گا اور پہاڑوں میں چھُپے ایک ایک کو چنُ چُن کر کیفرکردار تک پہنچائے گا۔
سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان کا ایکشن کمیٹی کو منہ توڑ جواب!
بند مطلب بند لاقانونیت بند،نظریاتی انتشار بند فوج کے خلاف سازشیں بند،پاکستان مخالفت بند
ریاست کے خلاف ہر فتنہ بند،قومی یکجہتی کو نقصان پہنچانے والی ہر کوشش بند،اور نظریۂ الحاق پاکستان کے خلاف سازشیں بند
بلوچستان میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی علماء کرام نے شدید مذمت کرتے ہوئے اسے دینِ اسلام کے منافی قرار دیا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور ڈیوٹی پر مامور پولیس اہلکاروں کا قتل کسی بھی صورت میں شرعی طور پر جائز نہیں، کیونکہ اسلام ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔
مجاہد اول سردار عبد القیوم کا کشمیری نوجوانوں کے لیے پیغام
👈مجاہد اول سردار عبد القیوم مرحوم کا کشمیری نوجوانوں کے نام پیغام آج بھی انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ اگر پاکستان کمزور ہوا تو آزاد کشمیر کے لوگ مشکلات کا شکار ہوں گے، مگر مقبوضہ کشمیر کے بھائی بہن بے موت مارے جائیں گے۔
یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ پاکستان کی طاقت ہی کشمیر کی بقا کی ضمانت ہے۔ نوجوان نسل کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے اور پاکستان کے ساتھ یکجہتی کو مضبوط کرنا چاہیے۔
#پاکستان_کشمیر_یک_جان_دو_قلب
The moral of the DG ISPR is high and he is full of confidence because being a seasoned military officer he knows that the terrorists have been strongly engaged and are heading towards a final defeat.
بلوچستان پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے، بلوچ عوام جان چکی ہے کہ ان کی حفاظت کی پہلی دیوار افواجِ پاکستان ہیں۔
زیارت کے ہسپتال میں عوام کی جانب سے افواجِ پاکستان کے حق میں گونجتے فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج کے ناپاک عزائم اور مذموم پروپیگنڈے کے منہ پر زوردار طمانچہ ہیں۔۔
یہ پاکستان میں بھی ڈیٹا سینٹر بنانے جا رہے ہیں۔
نہ صرف یہ کہ یہ کروڑوں گیلن پانی پی جاتے ہیں ان کی ریڈییشن اور ان سے نکلنے والی اوازیں پورے ماحول کو اسیب زدہ کر دیتی ہیں۔۔
پاکستان کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہے ان ڈیٹا سینٹر سے۔
یہ بڑی بڑی ارٹیفیشل انٹیلیجنس اور سوشل میڈیا کی ملٹی نیشنل کے مفاد میں ہے۔
پوری دنیا میں ان کے خلاف مزاحمت ہو رہی ہے۔
لہذا یہ پاکستان میں لا کر ان کو لگانا چاہتے ہیں۔
قطر اور افغانستان پاکستان میں ملکر دہشتگردی کروا رہے ہیں،،،
وہ فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج جو ہمارے جوانو کو شہریوں کو آئے روز شہید کررہے ہیں ان کو شہید کرنے والوں کو قطر کا چینل الجزیرہ عرصہ دراز فریڈم فائٹر کہ کر پاکستان خلاف پراپیگنڈہ کررہا ہے،،
بلوچستان کی بربادی کا بازار: آزادی کے نام پر عام بلوچ کی قربانی 🚨🚨
بلوچستان، وہ سرزمین جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہے مگر ترقی کی راہ میں رکاوٹوں کا شکار، آج ایک بار پھر تشدد کی بھٹی میں جھلستی نظر آ رہی ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی (BLA) سمیت دیگر دہشت گرد گروہوں کی کارروائیوں نے صوبے کو خوف و ہراس کا گھیرا بنا دیا ہے۔ یہ گروہ "آزادی" کا نعرہ لگاتے ہوئے شہری علاقوں، بینکوں، اسکولوں، ہسپتالوں اور کاروباری مراکز کو نشانہ بناتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی گولیوں اور بموں کا سب سے بڑا شکار عام بلوچ عوام ہی بن رہے ہیں۔
حالیہ 2026 کے coordinated attacks میں BLA نے صوبے بھر میں درجنوں جگہوں پر حملے کیے۔ Quetta، Gwadar، Mastung، Nushki، Pasni اور Kharan سمیت علاقوں میں بینکوں، مارکیٹوں، اسکولوں اور پولیس سٹیشنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ نتیجہ؟ درجنوں عام شہری، بچے، خواتین اور مزدور ہلاک ہوئے۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کے نام پر یہ "جنگ آزادی" لڑی جا رہی ہے۔
ایک بچہ سوچتا ہے: کل اسکول جاؤں گا، پڑھوں گا، مستقبل بناؤں گا۔ مگر BLA کے حملے نے اسکول کو تباہ کر دیا۔ تاجر سوچتا ہے: آج دکان کھول کر گھر چلاؤں گا۔ مگر بینک لوٹ لیا گیا، کاروبار جل گیا۔ مزدور سوچتا ہے: آج مزدوری کروں گا، بچوں کو روٹی دوں گا۔ مگر سڑکیں بند، مارکیٹیں ویران۔ بلوچستان کی معیشت، جو پہلے ہی پاکستان کا سب سے غریب صوبہ ہے—سب سے کم literacy rate، سب سے زیادہ poverty اور infant mortality—اب مزید پیچھے دھکیل دی گئی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ BLA جیسی تنظیمیں، جو CPEC، Reko Diq اور Gwadar جیسے پروجیکٹس کو "استحصال" قرار دیتی ہیں، خود اسی سرزمین کو تباہ کر رہی ہیں جسے وہ بچانے کا دعویٰ کرتی ہیں۔ 2025-26 میں ان کے حملوں نے نہ صرف سیکیورٹی فورسز بلکہ civilians، ٹیچرز، ڈاکٹرز اور عام تاجروں کو نشانہ بنایا۔ ایک طرف وسائل کی لوٹ مار کا الزام، دوسری طرف خود ان وسائل کی راہ میں رکاوٹ بننا۔ نتیجہ؟ ہزاروں خاندان بے گھر، تعلیم متاثر، روزگار ختم، اور ترقی کا سفر رک گیا۔ Balochistan کی GDP contribution کم، جبکہ potential بہت زیادہ—مگر تشدد اس potential کو نگل رہا ہے۔یہ فتنہ صرف بیرونی طاقتوں کا نہیں، بلکہ اندرونی خود غرضی کا بھی ہے۔ BLA کی کارروائیاں بلوچ قوم کو تقسیم کر رہی ہیں۔ ایک طرف وہ نوجوان جو امن اور تعلیم چاہتے ہیں، دوسری طرف وہ جو بندوق اٹھا کر "آزادی" کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ مگر تاریخ گواہ ہے: تشدد سے آزادی نہیں ملتی، بلکہ مزید غلامی ملتی ہے—غربت، جہالت اور خوف کی غلامی۔بلوچستان کا حقیقی مستقبل تشدد میں نہیں، بلکہ امن، تعلیم، ترقی اور استحکام میں ہے۔ جہاں بچے اسکول جائیں، تاجر کاروبار کریں، مزدور مزدوری کریں، اور صوبہ اپنے وسائل سے فائدہ اٹھائے۔ اور سیکیورٹی فورسز کی قربانیاں اسی امن کی ضمانت ہیں، مگر اصل حل سیاسی، معاشی اور سماجی اصلاحات میں ہے۔بلوچ عوام کو فیصلہ کرنا ہوگا: کیا وہ "آزادی" کے نام پر بربادی کا شکار بننا چاہتے ہیں، یا امن کی راہ پر چل کر اپنے بچوں کا روشن مستقبل بنانا چاہتے ہیں؟ وقت آ گیا ہے کہ فتنہ پرستوں کو الگ تھلگ کیا جائے، اور بلوچستان کو ترقی کی منزل کی طرف لے جایا جائے۔ تباہی کا بازار بند ہونا چاہیے—اب امن کی دکان کھلنی چاہیے۔
#Balochistan