تصور کریں ، بی اے ہسٹری کے بعد سی ایس ایس کرنے والے سرکاری افسران کو سیاسی جماعتیں کیسے ذاتی وفادار بناتی ہیں، پاکستان میں لاکھوں سرکاری ملازم اوسطا ساٹھ، ستر ہزار ہاؤس رینٹ الاؤنس لیتے ہیں جبکہ من پسند افسران کو پندرہ بیس کروڑ کا گھر دیا جاتا ہے
It’s literally a verbal bloodbath every time Tucker Carlson sits down to talk to people now. Seems to be pretty hard to box him into a corner when only one person is talking off a script. 🤷🏼♂️
@BasharatRaja786 عبداللہ بن زبیر نے اپنی دورے خلافت میں کعبہ کی تعمیر نو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل نقشے کے مطابق کی، لیکن بعد میں حجاج بن یوسف نے 74ھ میں اسے دوبارہ قریشی نقشے پر کر دیا۔
@BasharatRaja786 جیسے کبعہ کے اندر نفل پڑنا۔ اِسی میں اللّٰہ تعالیٰ کی حکمت چھپی تھی۔
حضور پاک کی اپنی خوائش بھی یہی تھی، نقشہ ابراہیم کے مطابق بنے لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا..
Lesson on how “to profit” from a crisis?
There is a shortfall in tax revenue collection. The Gulf crisis happened. Not a litter of fuel purchased yet at the higher prices. But PDL & price of existing stocks of fuel are raised to increase tax collection & profits! 👍
@maheenghani_ PTI trolls resort to foul language hence we will not sympathise with their leader who is being persecuted just because after his acquittal this might become a normal thing while threatening judges with leaking their private videos is the highest level of virtue.
عمران خان کی بہن نورین نیازی زیر تعمیر نالہ میں گر گئیں بتایا جا رہا ہے کہ نماز کے لئے داہگل پر عمارت کے اندر جانا چاہتی تھیں نورین نیازی داہگل ناکہ پر نالہ پار نہ کر سکیں نورین نیازی کو نکالنے کی کوششیں جاری
1/12 Why did a foreign agent have easy access to sensitive Pakistan-Saudi coordination on Yemen?
Convicted sex trafficker Jeffrey Epstein was briefed on a “covert deal” for Pakistan to deploy elite commando units known as the Black Storks to Saudi Arabia’s border with Yemen to support Riyadh’s war on the Houthis. A Justice Department email dated April 7, 2015 reveals how a UN official funneled this intelligence directly to Epstein through a Norwegian diplomat. This network shows how private financiers are looped into classified military arrangements between sovereign nations.
Decades ago, Benazir off-aired SKMCH's donation adds because IK refused her wish to inaugurate the hospital. And today, SKMCH Karachi's fundraiser was cancelled.
PPP was and is a vile trash, and no amount of fake edgy crowd babying it is going to hide it.
لاہور میں بسنت
تحریر: اویس حمید
قسط نمبر 4
پیچا کرنے، پِنا پکڑنے کے ضوابط
کسی بھی دوسرے کھیل کی طرح پتنگ بازی کے بھی کچھ مروجہ اصول و ضوابط ہیں۔ پیچا محض دو گڈوں یا پتنگوں میں مقابلہ نہیں بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس میں ڈور سے لے کر پتنگ کے سائز تک ہر چیز کے کچھ ان کہے اصول اپنائے جاتے ہیں۔ پیچے کے اصول کیوں طے کرنا پڑے؟ کیونکہ مخالف پتنگ اس وقت کٹتی ہے جب آپ اپنی پتنگ کا وزن زیادہ اور دوسرے کی پتنگ کا ہلکا کرنے میں کامیاب ہو جائیں یعنی اسے ’بے ہوائی‘ کر سکیں۔ یہ مقصد قانونی طریقوں سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے اور غیر قانونی ہتھکنڈوں سے بھی۔ اس لیے پیچے کو چالاکی کی بجائے مہارت سے کاٹنے کے لیے اصول وجود میں آئے۔ سب سے پہلے تو یہ یاد رکھئے کہ پتنگ کا پیچ پتنگ اور گڈے کا گڈے سے ہوتا تھا۔ اگر کوئی گڈے والا پتنگ سے پیچ لڑا لیتا تو اسے بدتمیزی خیال کیا جاتا اور ایسا کرنے والے کی سرزنش بھی کی جاتی۔ دوسرا پیچے میں دونوں گڈیوں کے سائز کا بھی خیال رکھا جاتا یعنی ساڑھ کا پیچا ساڑھ سے ہوتا، پنج گٹھی کے ساڑھ سے پیچے کا مطب پنج گٹھی والے کو پیچا شروع ہونے سے پہلے ہی واضح برتری دینا ہوتا۔ اسی طرح تاوے کے مقابلے میں ڈیڑھ تاوے کو بھی واضح برتری حاصل ہوتی۔ اس لیے یقینی بنایا جاتا کہ ایک ہی سائز کی گڈیوں کا پیچا کیا جائے تاکہ کسی کو غیرقانونی فائدہ نہ مل سکے اور فیصلہ خالص مہارت پر ہو۔ مخالف کا گڈا 'چھتل' کرنے کا مطلب یقینی کامیابی ہوتی۔
پیچے میں پہلا داؤ مارنے والا فائدے میں رہتا ہے اس لیے یقینی بنایا جاتا کہ دونوں کھلاڑی برابر کھڑے ہوں یعنی ایک آگے اور دوسرا پیچھے نہیں ہونا چاہئے۔ آگے کھڑا ہونے والا ’ہاتھ کے نیچے‘ آنے سے خسارے میں رہتا ہے اور حریف اسے مرضی کا داؤ لگا سکتا ہے۔ پیچے باز دورانِ پیچا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو کر بھی غیر قانونی فائدہ حاصل کر سکتا تھا اس لیے گیموں کے دوران اس کا اپنی جگہ سے ہلنا ممنوع ہوتا۔ زیادہ سختی کرنا پڑتی تو دونوں پیچے بازوں کو سٹول پر کھڑا کر دیا جاتا تاکہ وہ اپنی پوزیشن نہ بدل سکیں۔ پیچے باز جتنا ایک دوسرے سے دور ہوں گے، پیچے کا فیصلہ اتنا جلدی ہونے کا امکان ہو گا کیونکہ ’قینچی‘ پڑتے ہی دونوں پتنگیں اپنی اصل ہوا میں جانے کی کوشش کریں گی جس سے زور بڑھے گا اور فیصلہ جلد ہو گا۔ پیچے باز جتنا قریب کھڑے ہوں گے ’قینچی‘ اتنی قریب ہو گی اور پتنگیں زور پکڑنے میں زیادہ وقت لیں گی جس سے پیچا ’انّے‘ لگنے کا امکان بڑھ جائے گا۔ بعض اوقات پیچا اتنا لمبا ہو جاتا کہ پتنگیں نظر آنا بند ہو جاتیں، اس موقع پر دونوں پیچے باز ایک دوسرے کے قریب آتے، ایک پیچے باز دونوں ڈوریں پکڑ لیتا جس سے ’قینچی‘ ہاتھوں تک آ جاتی اور پنے یا چرخیاں گھما کر پیچا چھڑا لیا جاتا۔
پیچے کے داؤ پیچ ہوا کی شدت کے حساب سے بدل جاتے۔ مناسب ہوا میں جو ’کِھچ‘ مارنے جیسے جو داؤ غیر قانونی سمجھے جاتے، تیز ہوا میں جائز بن جاتے۔ پیچے کے دوران ’دَمّیاں‘ اور ’چَھڑکّے‘ سب سے مقبول تکنیکی لائحہ عمل ہوتے۔ پیچے کے دوران ’ہاتھ روکنا‘ بھی قابلِ اعتراض حکمت عملی قرار پاتی۔ پیچا کاٹتے ہی پتنگ ایک دم زور پکڑتی تو اسے دَمّیاں دے کر ٹھہرانا پڑتا۔ کھلے مقامات میں گیم کے دوران پیچا کاٹنے والا آگے کی جانب بھاگ کر بھی پتنگ کی بپھری طبیعت میں ٹھہراؤ لانے کی کوشش کرتا نظر آتا۔ پتنگوں اور گڈوں کے برعکس شرلے اور پریوں وغیرہ کا پیچا زیادہ تر ’ہتھ پھیرنے‘ کی جلدباز تکنیک پر منتج ہوتا۔ اس کی وجہ ڈور کی کمی تھی جو گٹھ یا چھوٹی پنی کی شکل میں ہوتی۔ شرلے یا پری کا پیچا لمبا ہونے کی صورت میں پتہ ہی نہ چلتا کہ کہ کب ڈور ختم ہوئی اور یہ ہاتھ سے نکل کر یہ جا وہ جا۔ اگر حاضر دماغ بچے ڈور ختم ہونے کا حساب رکھ لیتے تو پھر اس کا آخری سرا پکڑ کر پیچے کے دوران ہی ’کھینچے‘ مارنے کی وادات شروع کر دیتے۔
چرخی پکڑنا تو کوئی مشکل کام نہیں، اس کے مقابلے میں پِنا پکڑنا مخصوص مہارت کا متقاضی ہوتا۔ جیسے کسی بھی عمدہ کلاسیکل گلوکار کو طبلے پر اپنے اتار چڑھاؤ سمجھنے والے فنکار کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی پیچا کرنے والا بھی اپنی پسند کے پِنا پکڑنے والے ساتھی کو ترجیح دیتا۔ پِنا پکڑنے کی سائنس کا اہم ترین جُز اس کی ’پیڑھی‘ اچھلنے سے بچانا ہوتا۔ اگر پیڑھی اچھل جاتی تو پیچے کے دوران ڈور تو روکی نہیں جا سکتی تھی، یہ ’گُنجل‘ بن کر آگے نکل جاتی جس سے اکثر ڈور ہی ٹوٹ جایا کرتی تھی۔ اگر اچھلی ہوئی پیڑھی ہاتھ سے آگے جا کر کھل جاتی تو پتنگ بے ہوائی ہو کر توازن کھو بیٹھتی۔ پِنا پکڑنے والے کی دوسری اہم ترین مہارت رواں پیڑھی کے بعد آنے والی پیڑھی کا حساب لگانا ہوتی تھی۔ کسی سمجھدار سے پوچھنا پڑتا کہ اگلی پیڑھی کون سی ہے۔ اس حساب میں چُوک کا نتیجہ پِنا ہاتھ سے اچھل کر زمین پر گرنے کی صورت میں نکلتا جس سے پیچا تو خراب ہو ہی جاتا اس کے علاوہ ڈور پر جگہ جگہ ’کڑکیاں‘ لگنے سے یہ بے کار ہو جاتی۔ پھر جن پیڑھیوں پر کڑکیاں لگنے کا شک ہوتا انہیں پِنے سے اتار کر ضائع کر دیا جاتا۔ ہم بچوں کے لیے کڑکیوں سے بھری یہ ڈور بھی کسی نعمت سے کم نہ ہوتی کہ یہ شرلا اڑانے کے کام آ جاتی۔ کبھی کبھار پِنا ہاتھ سے گر کر چھت پر کہیں کھڑے پانی میں جانے سے مکمل طور پر ضائع بھی ہو جایا کرتا۔ اس لیے پِنا پکڑنا ہر کسی کے بس کی بات نہ تھی۔ پیچ کٹنے پر اکثر پنا پکڑنے والا گرفت میں آجاتا کہ تم نے پنا ٹھیک نہیں پکڑا۔ پنا پکڑنے سے مشکل کام پنا کرنا تھا۔ زمین پر پڑی ڈور سے پیڑھی کو متوازن اور ٹائٹ رکھنا انتہائی مشکل امر تھا۔
بچے پنا ختم ہونے کا انتظار بھی کرتے کیونکہ آخری پیڑھی کے بعد شروع ہونے والا ڈور کا جال عام طور پر پیچے میں کم ہی استعمال ہوتا اور بچوں کے حوالے کر دیا جاتا۔ پیچے کے دوران پِنا ختم ہونے کی صورت میں اس کے ساتھ نیا پِنا باندھنا بھی خاصا مشکل آرٹ تھا۔ ایک تیسرا شخص فٹا فٹ آخری پیڑھی کی ڈور کھینچ کر کھولتا جاتا اور جسے ہی یہ ختم ہوتی، اسے توڑ کر نئے پِنے کے ساتھ باندھ دیا جاتا۔ اس افراتفری میں بعض اوقات گِرہ درست نہ لگنے سے ڈور ہاتھ سے ٹوٹ جاتی یا گُنجل بھی پڑ جاتے۔ تحریر اویس حمید
(جاری ہے)
#Pakistan #Punjab #Basant2026 #BasantFestival #BasantReturnsInPunjab