"بیٹا، چاٹ لے، اپنی ماں کی پھدی چاٹ لے، مجھے نہیں پتہ تھا تو ایسے میری پھدی چوسے گا، ماں صدقے جائے، کل سے veet کریم سے پھدی چمکا کے رکھوں گی���� جب میرے بچے کا دل ہو، ��ب چوسے، اتنی شدت اور شوق سے تو ہی ماں کو پیار کر سکتا ہے"
بڑے بھائی کا لنڈ چھوٹی بہن کے لیئے ایک خواب سے کم نہیں ہوتا، کیونکہ بہت جلدی اُس کی بھابی لنڈ پر قبضہ جما کر چھوٹی کے خواب چکنا چور کر دیتی ہے۔ ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ چھوٹی بہن اپنی کم آشکار نسوانیت سے بھائی کے اتنے بڑے لنڈ کو اپنی طرح متوجہ کر لے۔
"بیٹا مہرین، داماد جی کیا کر رہے ہیں اندر، باہر بُلا لو۔"
مہرین نے جھجکتے ہوئے اندر جا کر ہلکا سا کمرے کا دروازہ کھولا، بلال ساسو ماں کی پھدی مارتے ہوئے یک دم رُک گیا"
ساس نے جلدی سے داماد کا لنڈ پھر اندر لے لیا "بیٹا، آپ کریں، آپ کا حق سے، مہرین ابھی بچی ہے"
ماں کچن میں بیٹے کے ساتھ بوس و کنار میں مصروف تھی
بولی "اچھا، بس کر، تیری خالہ آئی ہوئی، دیکھے گی تو بولے گی بوڑھیا کے کام دیکھو"
لیکن بیٹے کے سخت لنڈ کا لمس ملتے ہی پھر بیٹے کا ساتھ چمٹ جاتی۔ بیٹا بھی ماں کی بھری بھری گانڈ کے ہاتھ بھر بھر کر مزے لے رہا تھا۔
"رات میں کیوں سویا،"
"ابھی آ جاؤ،تھوڑیدیر کے لیئے امی، دیکھو کیسے سخت ہے لنڈ"
"یہ میرا مسئلہ نہیں،پاجامہ نیچے نہ کر،کوئی آ جائے گا"
"ایک بارآ کے منہ پر بیٹھ جاؤ پانچ منٹ کے لیئے"
"پھرتو باہر نہیں آنے دے گا مجھے، جاب کا ٹائم ہو رہا، تیار ہو جا، سب گھر ہوں تو ایسے ضد نہ کیا کر"
کزن کی شادی پر چار دن کے لیئے فارم ہاؤس بُک تھا۔چاچی ناصرہ مہندی کے سٹیج پر لوڑے کے آگے ساڑھی میں لپٹی گانڈ سٹا کے کھڑی رہی
رات کو کمرے میں آ کرلوڑا چوسنےلگ گئی۔
"شام سے لوڑا کھڑاکر کے چاچی کی گانڈ میں لگا رہا،اپنی موٹی گانڈ سے لوڑا نچوڑ لوں گی، تاکہ تومجھےلوگوں میں بدنام نہ کرے
امی سامان لینے اوپرسٹور میں گئیں، میں بھی پیچھے پیچھے چلا گیا اور امی کو بانہوں میں بھر کر دو تیں ہونٹوں پر بوسے لیئے، اور امی کے چوتڑوں کو ننگا کر لیا، امی کے بوسے لیتے، لنڈ ڈالنے کی خواہش کا اظہار کیا،
"نہیں بابو، یاسمین کے ساتھ بازار جانا ہے، رات کو دیکھیں گیں کھانے کے بعد"
عمیر، آپی حجاب کو آفس سے پِک کرنے کچھ ��یر سے پہنچا۔
آفس خالی تھا، اور حجاب فائل روم میں باس کا لنڈ چوسنے میں مصروف تھی۔ حجاب نے اپنی ڈورا کی پنٹی نیچے کی، اور باس نے جی بھر کر اُس کی موٹی ملائم گانڈ چاٹی،
"*میرا بونس کل صبح سائن ہو جانا چاہیے، بھائی آ گیا ہو گا، میں چلتی ہوں*"
بھائی کا جوان لنڈ، جو ہر وقت سیدھا ہی رہتا ہے، اور بہن کی روئی کے گالوں سے بھی نرم پھدی، جس میں کنڈ پھسلنے کے لیئے تڑپ رہا ہوتا ہے، لیکن یہ گرم جوان ذہن خوب مہارت سے خود پر قابو رکھتے ہیں، اور جوان بہن کا جانگیا ہو وقت بھائی کی منی سے بھرا رہتا ہے۔
بہن چھ مہینے بعد ہاسٹل سے واپس آئی، چھوٹے بھائی کے چودنے کی خواہش سے خوب واقف تھی۔موقع ملتے ہی بھائی کے لنڈ پر سوار ہو گئی اور بوائے فرینڈ والی زبردست تابڑتوڑ چدائی کا مزہ بھائی کو بھی دیا، اور بھائی بھی چھ مہینے کے اندر تجربہ کار رنڈی کی طرح چدوانے کی بہن کی قابلیت پر حیران تھا۔
شروع میں نخرے کرنے والی بہن کو جب بھائی کے لوڑے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ یہ لنڈ وہاں تک جا سکتا ہے جہاں میری انگلی بھی نہیں پہنچ سکتی، تو خوب مسکے سے لنڈ کو پیار کرتی ہے اور کیوٹ بننے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بھائی کے آگے پوری گھوڑی بن جاتی ہے۔
امی کو پتا تھا کہ اُن کی چدائی کے لیئے میں نے آج جاب سے چھٹی کی ہے۔ امی صبح سب کے جانے کے بعد نہانے چلی گئیں لیکن دروازہ کھلا رکھا۔ میں نے جا کر امی کی چکنی بُنڈ پر دو تین تھپڑ مار کر موڈ چیک کیا، امی چدائی کے لیئے بالکل تیار تھیں۔
رومیسا خالہ اسلام آباد سے کچھ دن کے لیئے گھر آئیں۔ موقع ملنے پر رات میں خوب چدائی کی۔ صبح جاب پر جانے لگا، تو خالہ نے کہا،
"ہاں، میں نے بھی سوچا کام کاج کو لوں، اوپر صفائی کرنے جا رہی ہوں"۔
میں بھی خالہ کے پیچھے پیچھے اوپر چلا گیا اور جاب ��ے چھٹی ہو گئی۔
سالگرہ کا کیک کاٹتے وقت سب تالیاں بجا رہے رھے تھے،میرا ایک ہاتھ والدہ کی موٹی بُنڈ میں تھا۔کیک کاٹنے کےبعدامی وعدے کے مطابق کمرے میں آئی اورمیرا لُلا چوس کرسالگرہ کا تحفہ دیااوربہت دُعائیں دی"تیری لمبی زندگی ہو،ماں تو سفید بالوں کے ساتھ بھی سالگرہ والی رات تیرےبسترمیں آجائے گی"
رات دو بجے ٹی وی لاؤنج کے صوفے پے بیٹھا تھا، امی کو دیکھ کے گھبرا گیا، لیکن امی نیچے سے بالکل ننگی تھیں، لن سیدھا کر کے اوپر بیٹھ گئیں اور کہا "ہاں، سب سو رہے اور لاؤنج کو بھی لاک کر دیا ہے"۔
میں نے کہا "آ جا امی،تیری نرم نرم موٹی چوتڑوں کو اپنے لنڈ کی سواری کرواؤ."